15.10.2026, 10:10am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » زرقا مفتی
 

ایک ہی لاحقہ ہے جو ایک مقناطیس ہے۔از۔زرقا مفتی
26.10.2009, 11:11am , سوموار (GMT+1)

زرقا مفتی۔لاہور
ایک عام مسلمان کی طرح میں موت کو برحق سمجھتی ہوں ۔ زندگی نے یہ بھی سکھایا ہے کہ موت کا وقت معین ہے یہ نہ عمر دیکھتی ہے ، نہ ضرور ت، نہ مصلحت ۔ شاید اسی لیے اپنے آپ کو بہادر سمجھتی ہوں۔ مگر لگتا ہے ہماری بہادری بھی چند روز کی مہمان ہے۔

شاید اچانک گھیر لینے والی ناگہانی موت کے خوف نے ہم سب کو بزدل بنا دیا ہے۔ پنجاب میں ایک ہفتے سے تمام تعلیمی ادارے بند تھے۔ آج صبح اپنے بیٹے کو سکول بھیجا مگر وہ دس منٹ بعد ہی واپس آ گیا کہ سکول بند ہے۔ سکول فون کرنے پر معلوم ہوا کہ دوپہر ایک بجے معلوم ہوگا کہ سکول کب کھلے گا۔

 دوپہر بارہ بجے ٹی وی پر خبر چلنے لگی کہ پولیس تعلیمی ادارے بند کروا رہی ہے۔ مانا کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور دشمن نا معلوم ۔ اب تک یہی سمجھتی تھی کہ جنگ میں فتحیاب وہی ہوتا ہے جو بے خوف و خطر ہو کر لڑتا ہے۔ ایک ہم ہیں کہ بے ہمتی کا شکار ۔۔۔

حکومت کے بے بصر ہونے کے کا فتویٰ تو ہر ذی شعور پاکستانی شہری دے رہا ہے مگر ایسی بھی کیا بے ہمتی کہ وہی کرنے لگیں جو دشمن کی خواہش ہو۔ وطنِ عزیز کے دشمن چاہتے ہیں پاکستان میں بے یقینی کی فضا قائم رہے ۔ اور یہ بے یقینی بڑھانے میں اس کی تائید و امداد کر رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے ایک ہفتے کے لیے بلا جواز بند کئے گئے۔

سوال یہ ہے کہ کیا تعلیمی ادارے بند کرنے سے آپ کا ملک حادثوں سے محفوظ ہو گیا ۔ تعلیمی اداروں کے بعد آپ کیا کیا بند کریں گے؟ بنک ۔۔دفاتر۔۔عدالتیں۔۔۔ اسمبلیاں ؟ کیا اپنے گھروں میں محصور ہو کر بیٹھ جائیں گے ؟اور شہر کی فصیل سے دشمن کے لشکر کا نظارہ دیکھیں گے۔یا پھر دشمن کے ہاتھوں طوقِ غلامی پہننے کو تیار ہیں۔ ہم اپنے نوجوانوں کو بہادری کی بجائے بزدلی کا درس دے رہے ہیں۔ نوجوانوں میں بے دلی پھیلا رہے ہیں۔

حکمرانوں کی بے ہمتی کی داد دینی پڑتی ہے۔کہ انہوں نے اپنے لیے ریڈ زون بنا لیے ہیں ۔ جہاں چڑیا کا پر مارنا بھی مشکل ہے ۔ بلٹ پروف گاڑیاں منگوا لی گئی ہیں ۔ خادم اعلیٰ کی گزر گاہوں پر پولیس کے چاک و چوبندمسلح جوان بیس بیس گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں۔ اور کیوں نہ ہو ۔ انہی عوام کے خادمین کا خون ہی تو قیمتی ہے ۔ روز جو بم دھماکوں میں مرتے ہیں وہ اولادِ آدم نہیں حشرات الارض ہیں ۔ ان کی اموات کی گنتی بے کار ہے۔ کیسی بے حسی ہے ۔

پچھلے ہفتے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں شادی کی تقریب تھی۔ اتنے بے وقعت ہم پہلے کبھی نہ تھے ۔ اپنے آپ کو معزز شہری سمجھتے تھے۔ اسی ہوٹل میں باعزت طور پر دروازے کے سامنے اترتے تھے بعد میں گاڑی پارکنگ میں لے جائی جاتی تھی ۔ اب کے یوں لگا جیسے ہم کسی پرائے ملک کے مشکوک شہری ہیں۔ خیر پہلے ہماری گاڑی کو کئی آڑی ترچھی میکانکی روکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ پھر عمارت سے دور پارکنگ میں اُترنا پڑا ۔ خیر ہوٹل والوں کی مہربانی ہے کہ میرے ساتھ میری ضعیف ساس کو دیکھ کر ایک کیب بھیج دی جو ہوٹل کے دروازے تک لے گئی۔

ابھی اس عزت افزائی پر تھوڑا سا مسرور ہوئے تھے کہ پرس ایک مشین میں رکھوایا گیا اور ہمیں بھی ایک دروازے سے گزارا گیا ۔ دو بار ائیر پورٹ جیسی چیکنگ ہوئی اور پھر شادی کی تقریب تک باریابی ہو سکی۔ اتنے بے وقعت اور بے وقار ہم پہلے کبھی نہ تھے۔۔اسلام آباد میں ایسی چیکنگ کے قصے سنے تھے مگر یقین نہیں آیا تھا بے اعتباری سی بے اعتباری ہے۔سرکاری دفاتر میں اب شناختی کارڈ کے بغیر داخلہ ممنوع ہے ۔ کیا شناختی کارڈ اس بات کی ضمانت دے سکتا ہے کہ اس کارڈ کا حامل عسکریت پسند نہیں ۔ کچھ بعید نہیں کہ سرکار اپنی حفاظت کے لیے سائلوں کی قمیضیں بھی اُتروا کر دیکھنے لگے ۔وی آئی پیز کے لیے تو سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہیں اور عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت اگر گلیوں محلوں میں آہنی دروزے لگائے ہیں تو اُنہیں مسمار کر دیا جاتا ہے۔ کیسا دوہرا معیار ہے ؟

بے سکونی کا یہ عالم ہے کہ اپنے آرامدہ بستر پر بھی نیند نہیں آتی ۔ گھر کا کوئی فرد دفتر بازار یا سکول جاتا ہے تو اس کی بخیریت واپسی پر دل ہی دل میںاللہ کا شکر ادا کرتی ہوں ۔ ذہن پراک عجب سی اضطراری کیفیت طاری رہتی ہے۔ دل جمعی سے کوئی کام نہیں ہوتا ۔ بے حسی کہتی ہے کہ لا علمی ہزار نعمت ہے نیوز چینل مت کھولو اخبار کو تہہ کرکے ردی کی ٹوکری میں ڈال دو۔ سوچ کو سلا دو ۔ تمہارے سوچنے اور کڑھنے سے کیا ہوگا۔ دل کہتا ہے زور سے چلاؤ ۔ دوسروں سے کہو تمہاری آواز میں آواز ملائیں کاخ ِ امراءکے درو دیوار ہلا دیں ۔ کیسا اضطرار ہے کیسی بے سکونی ہے۔

جامعہ حفصہ میں نہ جانے کتنی بچیاں شہید ہوئیں ؟ اسلامی یونیورسٹی کی پندرہ طالبات کا خون بہا یا گیا ۔انہیں مارنے والے اگر اسلام پسند تھے تو اُنہوں نے کس آلے سے کس پیمانے سے جانچا تھا کہ یہ بچیاں اسلام پسند نہیں ۔ اگر انہیں مارنے والے پاکستان کے اسلام کے دشمن تھے تو انہیں مار کر اُن کا کونسا مشن پورا ہوا۔ آخر معصوموں کے خون سے کیا حاصل ہو گا ۔ مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ۔۔۔ زمیں کا رنگ لا ل اور آسماں کا کالا ہے ۔۔۔ہراک شخص وحشی ہے ظلم کا متوالا ہے۔کیا ہم سب بے دین ہیں ؟حکومت کہاں ہے وہ آئی ایس آئی جس سے امریکہ بھی پناہ مانگتا ہے کہاں ہے دشمن کا سراغ کیوں نہیں ملتا ۔ معصوموں کے لہو کا نشان کسی کے ہاتھوں پر تو ہو گا۔ کیسی بے عملی ہے کہ دشمن سے نمٹنے کی کوئی کارگر حکمت عملی ہی نہیں ۔

پچھلے چند روز میں کیری لوگر بل کے خلاف عوامی حلقوں میں بہت شور ہوا ۔ جماعتِ اسلامی نے تو اس کے خلاف عوامی ریفرنڈم بھی کروایا ۔ مگر اسمبلی میں حزبِ اختلاف کو اس پر بحث کا مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ اکثر دانشور تو یہ کہنے لگے کہ یہ قومی غیرت کہاں سے آئی ؟ غلامی اور غیرت دو متضادخصوصیات ہیںاکٹھی نہیں ہو سکتیں ۔ عجب بے غیرتی ہے کہ کوئی سوئی ہوئی غیرت کو جگانا چاہے تو بے غیرت گوارا نہیں کرتے ۔ سنا ہے کہ حکومت کیری لوگر بل سے امداد وصول کرنے کی مجاز نہیں امداد صرف این جی اوز کی جھولی میں ڈالی جائے گی۔ این جی اوز ویسے ہی غیرت کے نام سے بیر رکھتی ہیں ۔ اس لئے آئندہ پانچ سال میں بے غیرتی کو فروغ ملنے کا قوی امکان ہے۔

آج کچھ لکھنے بیٹھی ہوں تو لگتا ہے کہ ایک ہی لاحقہ ہے جو کسی مقناطیس کی طرح تمام الفاظ کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے ۔ ہم آنکھیں رکھتے ہیں مگر بے بصر ہیں۔ ہمارے سروں میں دماغ بھی ہے پر بے مغز ۔دل کے ہوتے ہوئے بے دلی کا شکار ہیں۔ تمام حسوں کی موجودگی میں بے حسی کا شکارہیں۔ بے سکونی ہے بے یقینی ہے بے اعتباری ہے ایک ہی لاحقہ ہے جو کسی لا علاج مرض کی طرح لاحق ہے۔

:دیگر مضامین
(16.10.2009) مسئلہ اپنی بقا کا ہے۔ از زرقا مفتی،لاہور
(09.10.2009) امریکہ کی ہمدردی ۔ ۔ ۔ ہماری سر دردی۔از؛ زرقا مفتی
(01.10.2009) سچ کے سفر پر عالمی اخبار کے ساتھ ۔ از؛ زرقا مفتی
(09.09.2009) ہنگامہ ہے کیوں برپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از زرقا مفتی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں