ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عالمی اخبار کا نام "علمی اخبار" ہوتا! پر میں جب ایک لفظ کی

گہرائی میں ڈوب کر دیکھتا ہوں تب پتہ چلتا ہے کہ اہلٍ تصوف کی بارگاہوں میں ایک حرف بڑا گونجتا ہے، اور وہ ہے "الف". سرکار سلطان باہو رح سے لیکر شاہ عبداللطیف بھٹائی تک سب اسی "الف" پر بڑا زور دیتے ہیں!
کہتے ہیں کہ اسی "الف" میں سب پنہاں ہے. ظاہر ہے وہ سب "الف" سے مراد "اللہ" جل جلالہّ سے لیتے ہیں، کہ جس کے وجود سے مبرا کوئی "مثقال ذرۃ" بھی نہیں. یعنی تمام کائنات. اور اسی تمام کائنات کا علم سموئے جب "علمی اخبار" کے پہلے لفظ میں اسی "الف" کا اظافہ ہؤا تب بنی "عالمی اخبار"!
آمدم بر سرٍ مطلب، کہ عالمی اخبار میں نہ صرف چلتی پھرتی خبروں کا ذکرٍ خیر بھی ہوتا ہے تو مجھے یہ بات یہاں کہنے دیجیے کہ واقعی یہ حقیقت ہے کہ اس کے بلاگوں میں "الف" سے لیکر "ی" تک تقریباّ سب موضوعات پر بحثا بحثی بھی ہوتی ہے.
اردو کے بلاگوں پر دیکھا جائے تو فی الحال تو وہ سب ایک نئے کھدے دریا کی مانند لگتے ہیں جس میں پہلے پہل تو صاف پانی نہیں آتا، اپنے ساتھ لکڑیاں، گند کچرا بھی لے کر ہی آتا ہے. لیکن ماشاء اللہ، عالمی اخبار نے تو چار چاند لگادیے. یعنی پہلا بہاؤ ہی صاف پانی لے کر آیا!
ایک گلدستے کی مانند، جہاں، اہلٍ ذوق بھی ہیں تو میری طرح گستاخ نام نہاد قلمکار بھی ہے! اور سلام ہے انتظامیہ کو جو ایک نرسری اسکول کی طرح سب کی دیکھ بھال بھی کر رہے ہیں تو انہیں یکجا ہونے میں بھی مدد دے رہے ہیں!
تو اس ہماری ہر دلعزیز عالمی اخبار کی سالگرہ ہے..... سبحان اللہ!
کیا کہا جائے؟
غالب میری وکالت کر سکے گا کہ:
تم سلامت رہو ہزار برس
اور ہر برس کے ہوں دن پچاس برس!
اللہ اللہ! یہاں واقعی سب جوہری ہی تشریف فرما ہیں، جو کہ چن چن کے کانوں سے گوہرٍ ناویدہ بر آمد کر کے ان کا رابطہ بحال کرتے ہیں.
ایک پل کو میں اپنے ماضی قریب میں تھوڑا جھانک کر دیکھوں تو میں کیا تھا؟
اور اس میری محسن عالمی اخبار کی انتظامیہ کی وجہ سے میں کہاں تک پڑھا جانے لگا؟
یہاں عالی مرتبت قبلہ منظور قاضی صاحب کا تذکرہ کروں جو کہ جرمنی میں تشریف فرما ہیں! یا ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کا جو شاید امریکا میں ہیں!
اپنے پیارے بھائی مصباح کا ذکر کروں جو آسٹریلیا میں ہیں.... سیدہ ثناء شاہ صاحبہ کا جو لندن میں ہیں!
نہ نہ......! ایسا مت سمجھیے گا کہ اس اخبار کے اصل روحٍ رواں محترمی عزت لائق صفدر ھمٰدانی صاحب یا میری "بڑے دل اور گردہ والی" بہن ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا تذکرہ نہیں کر رہا! ارے حضور میں تو فی الحال انکی "لیگ آف جینیس" کا تذکرہ کر رہا ہوں. وہ تو بڑے جوہر شناس ہیں، اور ہاں میری بہن زرقا مفتی تو انتہائی لائقٍ احترام ہیں.
آپ سب کو میری جانب سے اور میرے نزدیک میرا بھتیجا شاہد علی بھی بیٹھا ہے، اس کی بھی جانب سے بہت بہت سالگرہ مبارک ہو!
تمام میرے محترم دوست لکھنے والے قاری حضرات سن لیں یہاں، کہ ابھی میرے پاؤں میں دھول لگی ہوئی ہے، (اپنی واہیات انا کی شاید)، سو میں زیادہ دیر عالمی اخبار کے خوبصورت قالین کو مزید خراب کرنا نہیں چاہتا!
ہاں، بہت جلد، خود کو ایک آگ کے دریا سے گذر کر اگر بچ گیا تو آپکی برداشت کو پھر "حالتٍ امتحاں" میں ڈالنے کے لیے ضرور آؤنگا! (انشاء اللہ)
تب تک میں یہاں سندھی میں ایک اصطلاح ہے جو ہر سندھی رخصتی کے وقت اپنے رفیق کو کہتا ہے، کہ "اللہ تو آھر" (تمہیں اللہ کے سہارے دیتے ہیں)
سو میری بہن، ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ، محترمی ھمٰدانی صاحب اور تمام دوست میری تمام کوتاہیوں کو مہربانی فرما کر معاف کردیجیے گا. میں آپ سب سے بہت کچھ سیکھا ہوں!
اتنا کہ زندگی کم اور احسان اتنے کہ لاکھ جنم چاہییں مجھے...!