اسلام و علیکم ،، آپ سب کو
""عالمی اخبار کی سالگرہ مبارک ""
جیسا کے میری غیر حاضری سے آپ سب کو معلوم ہو چکا ہو گا کہ میں آجکل معمول
سے زیادہ مصروف ہوں ،لیکن جیسے ہی وقت ملتا ہے میں ضرور نیٹ آن کر کے عالمی اخبار کو ضرور پڑھتی ہوں ۔۔ سب سے پہلئ تو شکریہ ادا کر لوں ۔۔۔
عالمی اخبار میں وہ تمام خبر مل جاتی جو کے ہماری آنکھوں سے پوشیدہ رہے جاتی ہیں یا پھر یہ کہے سکتے ہیں جن کو ہم نظر اندر کرلیتے ہیں مگر عالمی اخبار وہ ہی خبر اتنی معیاری اور اہم بنا کر لگاتا ہے کہ اسے یقین کے انداز سے پڑھا جاتا ہے ۔۔۔ بہت خوب عالمی اخبار ۔
میں تو یہ ہی کہو گی کے مجھے نیٹ پر کام کرنا عالمی اخبار نے ہی سکھایا ۔۔ بہت بہت شکریہ ۔۔
اتنی محبّت اور خلوص کا کہ لگتا ہے کہ آپ ( تمام دوستوں ) کا اور عالمی اخبار کا ساتھ رہا تو شاید میں بھی کچھ نہ کچھی لکھنا شروع کر ہی دوں ۔۔ ورنہ خود سے لکھنا بہت مشکل ہے ۔۔ امید پر دنیا قائم ہے ۔۔ اب میں نے عالمی اخبار تم سے امید لگا لی ہے کے شاید میں بھی کچھ کر لوں ۔دیکھو میرے امیدوں کا دھیان رکھنا ۔
سچی بات تو یہ ہے کہ جیسے ہی کوئی بھی نئی چیزایجاد ہوتی یا کوئی نئی چیز منظر عام پر آتی ہے تو اس کے ساتھ اس تیز رفتار زندگی میں ساتھ دینے کے اصول و ضوابط بھی تیار کے جاتے اور جب تک ان اصولوں پر کار بند نہ ھوں گے ۔ اس میں کامیابی نصیب نہ ہوگی یہ بات بھی تو سو فیصد سچ ہے یہ بہت مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے مگر پھر بھی اس کو طے کرنا پڑتا ہے . بلکل عالمی اخبار کے بھی کچھ پالیسی ہوگی اور ہوسکتاہے لوگوں کے نامناسب رویوں کے پیشے نظر بدلنا بھی پڑتی ہوگی مگربھی ادارےکو اس پر سختی سے تو کبھی نرمی سے ضرور عمل کرتا ہوگا کہ کسی دل آزاری نہ ہو ،کوئی دکھی دل سے رخصت نہ ہو ۔
میں نے تو بھی جب عالمی اخبار کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے تو اس کو بہت خوش دلی سے استقبال کرتا ہوا پایا ۔۔ اور اخبار کے آخری لفظ تک خوشی کا اظہار کرتا ہوا ہی دیکھا ہے ۔
آپ کے ساتھ ساتھ میں بھی ان تمام افراد کی احسان مند اور شکر گزارہوں جنہوں نے اس پل صراط کے سفر میں فراخ دلی سے آپ کا ساتھ دیا ۔ بابا جی صفدر ہمدانی صاحب آپ تو بانی عالمی اخبار ہیں آپ ہی کی محبّت و محنت سے یہ اپنا پہلا سال مکمل کرسکا ہے . آپ کو اور آپ کے رفقاء کو آج کا دن بہت بہت مبارک ہو ۔۔
سالگرہ مبارک عالمی اخبار ۔۔۔ سالگرہ مبارک عالمی اخبار