17.10.2026, 06:04am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

عالمی اخبار کی سالگرہ ہے ۔از؛ سید انور ظہیر رہبر
02.11.2009, 07:00am , سوموار (GMT+1)

سید انور ظہیر رہبر, برلن، جرمنی

افسانہ نگار ، شاعرہ ، کالم نویس، عالمی اخبار کی نائب مدیرہ ڈاکڑ نگہت نسیم ( سڈنی ، آسٹر یلیا ) کا ٹیلی فونک انٹرویو)

عالمی اخبار کی سالگرہ قریب آتی جارہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ تہنیتی پیغام بھی لکھ بھیجا ، محبت کا بھی اظہار کر دیا ،لیکن ایک خلش تھی کہ اور بھی کچھ عالمی اخبار کی سالگرہ پر کیا جانا چاہیے، سو ایک خیال عود آیا کہ کیوں نہ عالمی اخبار کی ہر دل عزیز نائب مدیرہ ڈاکڑ نگہت نسیم، جو کہ اس اخبار کی سالگرہ پر اتنی محنت کررہی ہیں اور اتنے خوبصورت خوبصورت مضامین سے ہمیں نواز رہی ہیں ، کا انڑویو کیا جائے، یہ سوچ کر میں نے ہمت کی اور انکو فون کیا اور اپنا ارادہ ظاہر کیا ، وہ اچانک اس حملے کے لئے بالکل بھی تیار نہیں تھیں ، لیکن ہمیشہ ہنس کر بات کرنا انکی بڑائی اور محبت ہے تو اسے بھی ہنس کر ٹالنا چاہ رہی تھیں اور اصرار کررہی تھیں کہ پھر کبھی سہی، لیکن میں اصرار کرتا رہا کہ عالمی اخبار کی سالگرہ ہے اس سے اچھا موقع بھلا کیا ہوگا، بہر حال آخر انھیں ہتھیار ڈالنا پڑا۔

اب تک شاعر جمیل الدین عالی، ڈرامہ نگار انتظار حسین، بلراج کومل، فہمیدہ ریاض وغیرہ کا انڑویو کرنے کا اعزاز اس ناچیز کو ہو چکا ہے ۔ اب تک کہ ہر انڑویو میں انڑویو دینے والا میرے مگر سامنے ہی ہوتا تھا ، آج کا یہ پہلا انٹرویو ہے جوکہ میں نے ٹیلیفونک کیا ہے اس لحاظ سے اس انڑویو کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے ۔

آئیے اب انڑویو کی طرف چلتے ہیں۔ میرا ڈاکڑ صاحبہ سے پہلا سوال تھا

ایک ماہر نفسیات ایک ڈاکڑ، ایک ذمہ دار بیوی اور ایک ماں، ان سب کے ساتھ ایک اضافی ذمہ داری صحافی کی ، کیسے سب کچھ کرلیتی ہیں۔

کیسے کرلیتی ہوں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے خود بھی نہیں پتہ ، کوشش کرتی ہوں کہ کوئی وقت ضائع نہ ہو، اسپتال میں جب لنچ بریک ہوتا ہے ایسے میں سب گھوم رہے ہوتے ہیں، کھانا کھارہے ہوتے ہیں، میں اس وقت اپنے لکھنے کا کام کررہی ہوتی ہوں۔ گھر پر ایک مخصوص وقت اپنی فیملی کو دیتی ہوں ، پھر رات گئے تک اپنا کام کرتی رہتی ہوں۔ میرا یقین ہے کہ میں ا پنے وقت سے پورا پورا انصاف کرتی ہوں، اس لئے جب میں اپنی فیملی کے ساتھ ہوتی ہوں تو اْس وقت میں صرف اپنی فیملی کی ہوتی ہوں ، اسی طرح جب میں مریضوں کے ساتھ ہوتی ہوں تو مکمل طور پر مریضوں کے لئے موجود ہوتی ہوں اور جب لکھنے وغیرہ کا کام کرتی ہوں تو پھر صرف لکھنا ہی مقصود ہوتا ہے۔ ہر کام جو بھی کرتی ہوں مکمل اس کو وقت دیتی ہوں شائید اسی لیے برکت ہوجاتی ہے۔

سوال ؛ کل عالمی اخبار کو ایک سال مکمل ہو جائے گا ، آپ اس کے لئے دن رات محنت کرتی ہیں ، یہ سب آپ کو کیسا لگتا ہےِ؟

یہ بالکل ایسا ہی جیسے آپ اپنے بچوں کو پروان چڑھاتے ہیں یا کسی نوزائدہ پودے کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں  ۔ عالمی اخبار  ایسے ہی  ایک پودے کے مانند ہے  جس کا بیج ایک سال پہلے ہم نے بویا تھا ، اب اسکی کلی اور شاخوں کی آبیاری کر رہے ہیں  ، اسکو سنوارنا ہی جیسے  نصب العین سا ہو گیا ہے ۔۔ میں  عالمی اخبار کو پودے سے  درخت  بنادیکھنا چاھتی  ہوں ہے ۔۔ سو اسے پروان چڑھتے دیکھ  کر بہت اطمینان اور خوشی ہو رہی  ہے ۔ میری خواہش ہے کہ  عالمی اخبار ایک ایسا درخت ہو جس کے سائے میں  جو بھی بیٹھے وہ دھوپ بارش سے بچا بھی رہے اور وہ اس کا پھل بھی کھائے  ۔۔

میرا اگلا سوال تھا ۔

آپ ایک افسانہ نگار ہیں، ایک شاعرہ بھی ہیں اور ایک کالم نویس بھی ، آپ کس کس کو کتنا کتنا وقت دیتی ہیں، وقت کو کیسے تقسیم کرتی ہیں؟

انور “اظہار “ میں وقت اور شعبوں کی تقسیم نہیں ہو سکتی ۔۔ بھلا محسوسات اور جذبات  کو وقت کے حصار میں  قید کیا جا سکتا ہے یا  اسے مختلف خانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے   ۔۔ میرا حال تو یہ ہے کہ بس جو بات دل کو “کھا “ گئی  وہی لکھ دی ۔۔  میرے لیئے تو لکھنا  ایک  دل  کا سودا ہے جس میں کوئی زبردستی نہیں ۔۔ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے اللہ پاک نے اظہار کے بہت سارے زرائع عطا کئے ہیں

میرا پہلا پیار افسانہ ہے، جب میں افسانہ لکھتی ہوں تو کردار کو اپنے اوپر طاری کر کے ۔۔لکھتی ہوں ، اور بغیر اپنے اوپر طاری کئے میں کوئی افسانہ نہیں لکھتی ہوں، اگر کہیں پر آکر کوئی کردار رک جاتا ہے تو میں ایک لمبی واک یر نکل جاتی ہوں ، لمبی چہل قدمی میں کردار کو اپنے میں ڈھالتی ہوں ، تب جاکر افسا نہ مکمل ہوتا ہے۔

شاعری کرتی ہوں تو اْسکے لیے خیال اور لفظ تلاش کرتی ہوں، بغیر محسوس کیے تو کوئی بھی شاعری نہیں ہوتی ، میں اپنے حالات سے بہت متاثر ہوتی ہوں اور میرے لیے ٹائم زون بہت اہمیت رکھتا ہے ، میں اْس ٹائم زون میں جاکر لکھتی ہوں وہ شاعری ہو یا افسانہ ، مثال کے طور پر اگر میں پرانے زمانے کی بات کررہی ہوں تو میں اس وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کردار چننوں گی اور اْسی زمانے کے نام بھی دوں گی،جیسے رشیدہ،  زاہدہ  ، تمام کردار اْس وقت کے لحاظ سے ہوتے ہیں تاکہ پڑھنے والا میرے ساتھ اسی ٹائم زون میں رہے ۔۔ میری تحریروں میں  ٹائم زون بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

کالم ایک وقتی اور تاثراتی تحریر ہوتی ہے ، ایک جاندرا کالم وہ ہوتا ہے جس کو پڑھ کر قاری ایک تاثر لے کر اْٹھے، اْسکا کنیکشن اْس تاثر سے ہو، اور اس تاثر کا سلسلہ ماضی سے تقابلی طور پر جڑتا ہو اور اس میں  مستقبل کی نشاندہی بھی ہو ۔ میری خواہش ہے کہ میرے مرنے کے بعد بھی کوئی جب میرا لکھا کالم یا میری کوئی بھی تحریر پڑھے تو اْسے یہ تاثر ملے کہ جیسے  آج ہی یہ بات ہوئی ہے۔۔۔ اج ہی وہ اس احساس سے گزرا ہو ۔۔

میں درمیان میں بول پڑا ارے ارے آپ ابھی سے مرنے کی بات تو نہ کرئیں، ابھی تو آپ کو بہت کچھ کرنا ہے ، مثال کے طور پر میرے اگلے سوال کا جواب، اور یوں میرا اگلا سوال تھا ڈاکڑ صاحبہ سے کہ

عالمی اخبار نے ایک سال میں بڑا نام کمایا ہے ، کیا آپ عالمی اخبار سے مطمین ہیں؟

عالمی اخبار ابھی ایک پودا ہے ابھی مجھے اسے ایک درخت بنانا ہے ، میں اس سے مطمین ہوں ، اگر آپ ایک سال کی بات کرتے ہیں تو میں بہت مطمین ہوں ، لیکن مجھے دس سال بعد کا بھی دیکھنا ہے تو میں مطمین نہیں ہوں، طمانیت انسان کے سفر کو روک دیتی ہے ، میں اپنے سفر کو روکنا نہیں چاہتی ۔

عالمی اخبار کے سنورنے  میں ابھی بہت گنجائیش ہے ۔ اس میں لکھنے والوں کے لئے بہت گنجائیش ہے ، اب آپ ہی کی مثال ہے کہ اگر آپ جرمن ادب کا اردو میں ترجمہ کریں  ، اسی طرح یورپ کے دوسرے ممالک کے لوگ دوسری زبانوں کے ادب کا اردو میں ترجمہ کریں تو عالمی اخبار کتنا منفرد ہو جائے گا  ۔ اسی لیے ہم نے ملٹی کلچر کا نیا شعبہ ۔ایک نیا سفر شروع کیا ہے تاکہ ہم دنیا کو قریب سے دیکھ سکیں ۔۔ لٹریچر اپنے ملک کا سفیر ہوتا ہے ۔۔۔

مزید وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحبہ کہنے لگیں ۔۔ دیکھیں آج کل ہم لوگ ایک گلوبل ولیج میں رہتے ہیں ، اگر کئی زبانوں کے ادب کے ترجمعے شائع ہوں گے تو یہ اخبار کئی اخباروں سے بہت مختلف ہوگا ، میری خواہش ہے کہ عالمی اخبار واقعی عالمی ہوجائے اور میں چاہتی ہوں کہ دنیا کے تمام ادب پڑھنے والوں کو جب دوسری زبان کا ادب پڑھنا ہو تو وہ حوالے کو طور پر ہمارے اخبار سے رجوع کریں ۔۔ بلکہ   ادب اور کسی کہانی کو ہی نہیں بلکہ ہر خبر ہر رپورٹ ۔۔ ہر شعبے میں عالمی اخبار ، معیار کا ایک حوالہ ہو ۔۔ اور اس میں لکھنے والے خود کو خوش قسمت سمجھیں ۔۔۔۔  ہمارے اخبار سے پڑھیں۔ میں مطمئن ہوں کہ  اب تک جو  کام ہوا ہے وہ ایک سال کے لیئے بہت زیادہ ہے ۔۔ لیکن ابھی بہت کام اور کرنا ہے ۔۔ ۔۔۔اس وقت عالمی اخبار اردو نیٹ کا دوسرا بڑا اخبار ہے ۔۔اسے ابھی  پہلا بڑا اخبار بننا ہے ۔۔ اس میں ریڈیو کی نشریات شروع کرنی ہیں ۔۔ پرنٹ میڈیا کا کام ہے ۔۔ اسی کی ادارت سے ادب اور نشریات کا صحافتی ایوارڈ کا اجرا بھی شامل ہے ۔۔ تو  ابھی بہت دور تک چلنا ہے ۔۔ ۔

سوال ؛ صحافت میں آپ کس سے سیکھتی ہیں یا کس سے بہت متاثر ہیں؟

سیکھنے کے لئے ابھی بہت کچھ پڑا ہے ۔۔۔ میں آج ہی ایساکچھ سوچ رہی تھی کہ جو کوئی یہ بولتا ہے کہ اْس نے خود سے سب کچھ سیکھ لیا یا اس میں خداداد صلاحیت تھی تو اسے کسی سے سیکھنے کی ضرورت نہیں پڑی ۔۔  وہ ایمانداری سے کام نہیں لے رہا ہے ، کیوں کہ یہ غلط ہے ، ہم دوسروں سے ضرور سیکھتے ہیں، کوئی کسی کو روحانی اْستاد بنا لیتا ہے اور قسمت والوں کو سامنے ہی کوئی بیٹھا مل جاتا ہے ۔

مجے صحافت بابا (جناب صفدر ہمدانی) نے سکھائی ہے ۔۔۔ مجھ میں صلاحیت ہو گی اور وہ بھی خداد لیکن خدا گواہ ہے کہ مجھے اس کاادراک نہیں تھا  ۔۔ اس لحاظ سے بابا نے مجھے دریافت کیا ہے ۔۔ اشفاق صاحب کہا کرتے تھے کہ جو آپ کو آسانیاں عطا کریں وہ بابا لوگ ہوتے ہیں تو بابا اسی لیئے میرے بابا ہیں کہ انہوں نے مجھے آسانیاں عطاکی ہیں ۔۔۔

بحثیت نائب  بابا کے ساتھ ان کی ادارت میں کام کرنا ایسے ہے جیسے کسی یونیورسٹی میں پڑھتی ہوں اور اپنے معلم کی شیرجیسی نگاہ میں دن رات رہتی ہوں ۔۔۔بابا سے میں نے صحافت میں بہت سیکھا ہے ۔۔ میرا پہلا کالم " کیا میں ہی ایک بیکار ہوں" ایک دلچسپ واقعے سے شروع ہوا ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم القمر پر ہوا کرتے تھے ۔۔ فروری دو ہزار سات کے الیکشن ہونے والے تھے اور ہم سب مل کر پروگرام بنارہے تھے کہ اس کی کوریج کیسے کی جائے گی ۔۔۔ ایک دن  ہارون عباس، بابا اور میں  چیٹنگ سے اخبار کا پروگرام طے کررہے تھے ۔۔  بات چیت ہوتے ہوتے ہارون عبا س اور بابا آپس میں چیٹنگ کرنے لگے اور میں انتظار کرنے لگی کوئی بیس  منٹ تک میں انتظار کرتی رہی ۔۔ جب مزید صبر نہ کر سکی تو کہہ دیا   کہ " کیا میں ہی ایک بیکار ہوں" ۔ بابا نے کہا کہ ارے یہ تو بہت زبردست بات کہی ۔۔  اب ایسا کرو اس پر کالم لکھ دو ۔ پہلے تومیں حیران ہوئی کہ میں اور کالم ۔۔ لیکن بابا کی شفقت نے مجھ سے وہ کالم لکھو الیا ۔ ۔ بابا کو جب کوئی آیئڈیا پسند آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ  “لائین بہت مضبوط ہے ۔ " کیا میں ہی ایک بیکار ہوں"  ان کے نزدیک بہت مظبو ط لائن تھی ۔۔۔ اس کا ثبوت یوں ملا کہ میرا وہ کالم بہت مشہور و مقبول ہوا اور اب تک جوں کا توں پڑھا جاتا ہے ۔ اللہ کا بڑا شکر ہے کہ ابھی تک یہ سلسلہ چل رہا ہے۔

میں کالم لکھنے کے بعد اسے دس بارہ بار ضرور پڑھتی ہوں ، گھر میں کوئی جاگا ہوتا ہے میرا بیٹا یا میرے شوہر آفتاب تو پھر اْنکو سننا ہوتا ہے ، آفتاب کے بڑے بھائی “محبوب عالم “ ہیں انکو صحافت میں بڑی معلومات ہے ، وہ بہت اچھے ہیں انکو میں رات کے بارہ بجے بھی اٹھا دوں تو وہ کچھ نہیں کہتے بلکے بڑی دلجمعی سے میرے کالم کو سنتے ہیں اور مجھے بتاتے بھی ہیں کہ یہاں یہ لکھا ہوتا تو بات زیادہ اثر کرتی۔ کالم شائع کرنے سے پہلے بابا کو بھی ضرور بھیجتی ہوں ۔ بس مجھے سکون  ہو جاتا ہے کہ انہوں نے بھی دیکھ لیا ۔۔ یوں لگتا ہے جیسے سب کچھ سنور گیا ہے ۔۔ لکھے میں برکت پڑ گئی ہے  ۔۔ بس انور یوں سمجھ لیں کہ یہ سارے مراحل میری تحریر کا حصہ ہیں شائد اس لیئے کہ میں سمجھتی ہوں کہ جس کی ادارت اور شفقت میں لکھ رہی  ہوں ان کے نام کی عزت اور حرمت کا خیال رکھنا میری عبادت ہے ۔۔۔۔ اگر ہم کسی کو بڑا سمجھتے ہیں تو پھر ہم کو خود کو بہتر پیش کر کے انہیں  بہت بڑا کرنا ہوگا ۔ یقین جانئے یہ لکھنے سے زیادہ مشکل ہے ۔۔۔

سوال ؛ عالمی اخبار کے لکھنے والوں کو آپ بہت اہمیت دیتی ہیں اسکی خاص وجہ ؟

بات سنیں انور بھلا ٹیم ورک کس کو کہتے ہیں ۔۔  ٹیم کا کیا کام ہوتا ہے ۔۔ یہی نہ کہ اپنے پروجیکٹ کو آگے لے جانا ۔۔ سو  ٹیم میں چھوٹا سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا ہر آدمی اہم ہوتا ہے، کسی ایک کو ہٹا دو تو پوری ٹیم دھٹرام سے گر جاتی ہے۔۔ میرے لیئے  بہت اہمیت کے قابل ہیں جو لوگ بھی جو صرف ایک ہی لفظ لکھتے ہیں کہ آپ کا اخبار اچھا ہے اور  وہ لوگ  اس سے زیادہ قیمتی ہیں جو کالم لکھتے ہیں ۔ عالمی اخبار میں ہر لکھنے والا میری  سر آنکھوں پر ہیں۔۔  اْنکے بغیر تو اخبار کچھ بھی نہیں ۔۔ ان سب سے ہمارے خلوص اور اعتبار کے رشتے ہیں ۔۔

 اور میں رشتوں کی آبیاری پر یقین رکھتی  ہوں ، اس لئے یہاں لکھنے والوں کو بہت اہمیت دیتی ہوں ، سنیں انور ہم انہیں لکھنے کا معاوضہ  نہیں دیتے ، بجلی کا خرچ نہیں دیتے ، نیٹ کا خرچ نہیں دیتے ۔۔ اس کے باوجود  وہ پابندی سے لکھتے ہیں، کالم بھیجتے ہیں، ۔۔  اْن کا حق ہے کہ انھیں محبت ملے اور عزت بھی ملے۔ میں اْنکی بھی بلا مفاد مساعی پر تہہ دل سے ممنون ہوں اور ان کا ساتھ مجھے  عزیز تر ہے  ایسے ہی جیسے ہم سب ایک ہی گھر کے لوگ ہوں ۔

میرا آخری سوال تھا کہ
عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کو کو ئی پیغام۔۔؟

عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کو پیغام میں  دل چاہتا ہے کہ بہت کچھ کہوں۔ سب سے پہلے تو جی کرتا ہے کہ فردا فردا سب کی محبتوں کا شکریہ ادا کروں ۔۔۔ پھر اپنی دعا ، تمنا اور خواہش کا اظہار کروں  کہ اسکو پڑھنے والے اس سے محبت کریں اور اسکو آگے بڑھائیں، مشورہ دیں، نیک تمنائیں بھیجیں، اور سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ایک دوسر ےکے ساتھ درگزر کا رویہ رکھیں ۔۔  کوئی رنجش لیکر سلسلہ نہ توڑیں ۔۔  کمونیکیشن کا سلسلہ ختم نہیں ہونا چاہیے ۔۔  دیکھیں نہ ایک خاندان میں بھی تو ناچاقیاں ہوتی ہیں ، لیکن وہاں بھی تو سب کو ساتھ ہی لیکر چلا جاتا ہے، اگر ادارتی بورڈ سے کوئی شکایت ہے تو اپنی رنجش کا اظہار کریں، لیکن ہمارے ساتھ رہیں، ہمیں چھوڑ کر نہ جائیں، چھوڑ کر جانے کی بات سے تکلیف ہوتی ہے۔ جسطرح گھر کے اپنے خانوادے کی رنجشوں کو برداشت کرتے ہیں بالکل اسی طرح یہاں بھی اس رویے کو اپنائیں ۔

میرا دل چارہا تھا کہ ابھی اور بہت کچھ ڈاکڑ صاحبہ سے پوچھوں ، انکی باتیں دل کو چھو رہی تھیں ، لیکن مجھے اْنکے قیمتی وقت کا احساس تھا اور ویسے بھی میں اچانک سے آدھمکا تھا، لیکن بقول ڈاکڑ صاحبہ کے ہی کہ جب اچانک سے کہیں کچھ کہنا پڑے یا انڑویو دینا ہو تو وہاں صرف سچ ہی نکلتا ہے ، اور اسکی گواہی تو میں بھی دوں گا کہ جب وہ بول رہی تھیں تو ایسا ہی محسوس ہورہا تھا کہ یہ سب اْنکی اپنی باتیں ہیں دل کی سچی اور پیاری باتیں ۔


:دیگر مضامین
(02.11.2009) سر سے ہے پا ؤ ں دو قدم آ گے عالمی اخبار ۔از؛ فر یدہ لا کھا نی ۔سڈنی
(02.11.2009) جی اسی کو تو کہتے ہیں۔۔سایہ خدائے ذوالجلال
(01.11.2009) عالمی اخبار کی سالگرہ مبارک ہو ۔از؛ حسین افسر
(01.11.2009) عالمی اخبارعالمگیر سلسلہ عنکبوت کا جیتا جاگتا نمونہ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام
(01.11.2009) سالگرہ مبارک عالمی اخبار ۔۔ سالگرہ مبارک عالمی اخبار۔از؛ نزہت نسیم
(01.11.2009)  عالمی اخبار کا نام "علمی اخبار" ہوتا ۔از؛ فیاض امر
(01.11.2009) عالمی اخبار ہم سب کا ہے اور ہم سب کے دم سے ہے ۔از؛ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(01.11.2009) عالمی اخبار“ نے ایک سال مکمل کر لیا۔از؛ عبدالمناف
(31.10.2009) ہم سفر یہ عالمی اخبار کے۔۔۔۔۔ایک خصوصی وڈیو
(30.10.2009) عالمی اخبار ایک معیار کانام ہے ۔از ؛ڈاکٹر نگہت نسیم
(29.10.2009) عالمی اخبار کے پہلا برس کےسفر کے ابتدائی تین بلاگ۔از؛نگہت نسیم
(29.10.2009) پشاور میں ہولناک دھماکے۔چند تصاویر
(29.10.2009) عالمی اخبار میری شناخت اور میری پہچان ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(28.10.2009) یہ تمھارا اور ہمارا عالمی اخبار ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(27.10.2009) کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں کشمیری یوم سیاہ منارہے ہیں
(27.10.2009) وسیم اکرم کی اہلیہ کو لاہور میں سپرد خاک کر دیا
(27.10.2009) عالمی اخبار کے ایک برس کا ادبی سفرنامہ ۔از؛ نگہت نسیم
(26.10.2009) عراق میں ہولناک بم دھماکے
(24.10.2009) پاکستان کے قبائلی علاقےجنوبی وزیرستان میں فوجی کاروائی جاری ہے
(23.10.2009) پشاور حیات آباد اور کامرہ ایروناٹیکل کمپلیکس پر حملے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں