ہم ما سوا کی دا ستا ں کہا ں سے شرو ع کر یں ۔۔۔یعنی جب سے ہمیں عا لمی ا خبا ر کا
ایک سال مکمل ہو نے کا پتہ چلا ہے ،ہما ری عقل اس کے معیا ر کے برا بر کو ئی چیز سو چ کر نہیں دے رہی ۔سا لگر ہ کسی کی بھی ہو یہ ایک ایسا عمل ہے جسے آپ missed occassion / missed diagnos قرا ر نہیں دے سکتے۔
وہ دِن منا ئیں یا نہ منا ئیں ،آپ اسے بھو ل نہیں سکتے۔ہم کل سے سو چ رہے ہیں کہ ا گر کسی کو سا لگر ہ کا تحفہ دینا ہو تو کیا دیا جا ئے ؟ اور سو چتی بھی کیسے ؟ ہم خو د جہت و جستجو میں اپنا قد کو تا ہ پا تے ہیں ،لیکن ہم نے کبھی بھی اپنے قلم کو سمٹ سمٹ کر چلنا نہیں سکھا یا اور نہ ہی یہ سکھا یا کہ دو سروں کی تعر یف (جو جا ئیز مقا م کی حا مل ہو ) اس کا اعترا ف کر نے میں کو ئی کنجو سی بر تنی چا ہئے ۔
ہمیں ہمیشہ یہی سکھا یا گیا ہے کہ کسی کو بہتر ین انعا م سے نوا ز نا ہو تو غا لب کے دیوا ن کا نسخہ عنا یت کرو ۔با ت اب یہا ں سے شرو ع ہو تی ہے کہ یہ دیکھا جا ئے کہ کو نسا سا یا کِس سا ئے سے بڑا ہے اور کِس سا ئے سے سر بڑا ہے اور یہ کہ پھر کِس سر سے پا ؤ ں ہے دو قدم آگے ۔پا ؤ ں کا دو قدم آگے چلنے کا عمل عمو مآ بچو ں کی جھو لے میں طفلی سے گر دا نا جا تا ہے ۔یہا ں با ت اب اس سر گرِم عمل کی ہو نی ہے جس نے صحا فت میں نچلی منز ل سے منزلِ با لا کا فن اور سفر کیسے استوار کیا ۔ کہتے ہیں کسی بھی کا م کے کر نے میں جذ بے کی سچا ئی اس کا نصیب بد ل دیتی ہے ،شا ید یہ با ت صفدر صا حب کے آبا و اجداد کے بھی رچی بسی تھی ۔
اسی با ت پر سب سے پہلے میں عا لمی اخبا ر کو پہلی سا لگر ہ کی مبا رک با د دیتی ہو ں ،لیکن صرف اتنا کہنا کا فی نہیں ہے ۔صفدر ہمدا نی صا حب کا نا م اس ا خبا ر سے جس طر ح جڑا ہے اسی طر ح کئی اور ترقی پسند نظریو ں اور صحا فیا نہ خا نو ں میں بھی بٹا د کھا ئی دیتا ہے ۔آپ بی بی سی کے اردو کے برا ڈ کا سٹر اور در با ری سرو ں کے را گ کے سرو ں کی طر ح سنجید ہ قلم کا ر ،شا عر ،مر ثیہ نگا ر بھی ہیں جس کا رنگ ہمیشہ انو کھا رہا ہے اور رنگ نے ہمیشہ پڑھنے وا لو ں کے چہرے پر مسکرا ہٹ بکھیر ی ہے اور ان کی شا عری نے سبھو ں کی زند گی کے و قار کو بیدا ر کیا ہے ۔
وہ خلو ص و عمل کی شخصیت میں گر دا نے جا نے کے قا بل ہیں ۔پہلے کے صحا فی رو شنا ئی گیلن کے حسا ب سے خر ید تے تھے اور ان کا منشا تھا "ہیچ سوا ل مہ کن " اب یہ سہو لت بر قی سطح پر بھی دستیا ب ہے ،لیکن جو بھی آج کل کی دنیا میں نئی ار تقاء (یا نیٹ کی سہو لت ) سے حا صل ہے ،اسے بھی د شوا ریو ں کا سا منا تو ہے ۔ بھئی عا لمی ا خبا ر ،جس کے حلقہ بگو ش لکھا ر یو ں میں اتنے نو رتن رہتے ہو ں تو اس کے شا یا نِ شا ن کچھ تو خد ما ت اور بین القوا می سطح کے تحا ئیف کا چنا ؤ ڈھنگ کا ہو نا چا ہئے جو میرے سا ئے سے بڑا ہو اور میرے لئے با عثِ صد افتخا ر بھی ہو ۔
صفدر ہمدا نی صا حب ،ڈا کٹر نگہت نسیم صا حبہ اور دیگر بیو رو چیف کے قلم کی روا نی نے ہمیں پو را سال چٹپٹی خبرو ں اور ادبی لقمے کھلا کھلا کر نہ صرف ہم کو آ گا ہی بخشی بلکہ پو ری اد بی دنیا میں نیٹ کے ذ ریعے جو انتہا ئی پر کا ری کے سا تھ مختلف مضا مین اور خبر یں ہما رے لئے مہیا کیں اور ہما رے دِن را ت کو ذوق کی کیفیت سے آ را ستہ کیا ،ہمیں اپنے و طن کی خبر و ں سے نوا زا جس کی رو شنی میں ایک معشو قِ مجا زی کا سا ہی پیکر ا بھر تا ہے ۔ہم عا لمی اخبا ر سے اتنے ما نو س سے ہو گئے ہیں جیسے اپنے کسی چا ہنے والے سے ،گو کہ یہ با ت یہا ن کم معنی رکھتی ہے لیکن پھر بھی جس طر ح معا ملا تِ عشق میں جتنی وفا شعا ری بر تی جا تی ہے ،جتنی جا ں سو زی اور نیا ز مندی سے کا م لیا جا تا ہے ، مسرت اور انبسا ط میں ا ضا فہ ہی ہو تا ہے اور محبت بڑھتی جا تی ہے ، ہم سب کا بھی یہی حا ل ہے کہ کو ئی دن ایسا نہیں گز رتا جس دن ہم نیٹ پر جا ئیں اور "عالمی ا خبا ر کا page "نہ کھو لیں ۔خوا ند گی کی یہ چا شنی تو اپنی جگہ بھر پو ر لطف د یتی ہے ،۔
لیکن اس پہلو دار اور با مقصد و بلند کا رِ نو شت کی دیکھ بھا ل کر نے وا لے کے اس صا لح عمل کو ا نعا م بھی کسی نے دیا یا نہیں ؟ وہ شخص جس کا فن ہے حقا ئیق کا نقیب ، جس کی تحریر ہے دل سے قریب ،جس نے پا یا ہے مہکتا نصیب ،اور جس کے حلقے میں ہیں خو شبو سے حبیب ، آؤ تحفہ اسے بے نذ یر سی دعا ؤ ں کا ہم بھیجیں ،قلم ان کے ہمیشہ یو نہی چلتے رہیں ،وہ رو شن ضمیری کی بنا ء پر اردو کے لشکر و ں کے ہمرا ہ رہیں ۔
آ ج ان کے تما م سا تھی قلم کو مضبو طی سے تھا مے ہو ئے مسلسل لکھتے جا رہے ہیں اور عا لمی اخبا ر کا پر چم کا مرا نی سے لہرا ئے ہو ئے آگے بڑ ھتے جا رہے ہیں اور فخر کی با ت یہ ہے کہ ایک سے بڑ ھ کر ایک لکھا ری ان کی فہر ست میں مو جو د ہے ۔فنی لحا ظ سے دیکھا جا ئے تو آ فا قِ جر نلزم بہت سی سرخیو ں اور دیگر touches سے آرا ستگی کے تقا ضے پو رے کر رہا ہے ،کہنے کا مطلب ہے کہ "عا لمی ا خبا ر " صرف روا یتی سا نچے میں نہیں ڈھلا یو ں کہ یہ ایک تجر بہ کا ر کے ہا تھ میں پل رہا ہے اور بڑے خلو ص و تن دہی کے سا تھ چل رہا ہے اور ہم اس نا تھکنے وا لے قلم کا ر کو سلام کرتے ہیں جو دریا دل ، فقیر نما شخصیت کے ما لک ہیں ،جنہو ں نے قلم کی خد مت سے اس سمت کا سفر مقر ر کیا ۔
ہم سخن میں تو ل کر جتنے پھو ل بھیج سکیں ،شا ید کم ہوں ۔خدا کرے ان کے پا ؤ ں ہمیشہ دو قدم آ گے ہی رہیں ،اور یہ اور بھی ز ند گی پا ئیں ! آ مین ۔