16.10.2026, 04:23am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
عالمی اخبار ادبیات
 

نجات ..... از ..... سیمیں برلاس
20.02.2016, 03:06am , ہفتہ (GMT+1)

نورالصباح سیمیں برلاس

یوتھینعزیا کے موضوع پر ایک افسانہ
میں جانتی تھی کہ یہ کوئی ہنسنے کی بات نہیں تھی ۔ یہ بہت ہی تشویش کی بات تھی۔ بلکہ پریشان کن بات تھی۔ مگر پھر بھی میں نیورولوجسٹ سے اپائینٹمنٹ کے بعد واپسی کے وقت گاڑی میں مستقل ہنسے جا رہی تھی اوراپنے بارے میں ڈاکٹر کی تشخیص کا مزاق اڑائے جا رہی تھی۔ ایم ،ایس یہ بھی کوی بیماری ہوئی بھلا ؟ میرے نام کے ساتھ ایم ،ایس لگا دیا ۔ بھائی میں۔۔ تو۔۔مسز ہوں پھر میرے نام کے ساتھ ایم، ایس کی کیا ضرورت ہے۔ یہ کہتے ہوے میں پھر بے تہاشا ہنسنے لگی۔ تب ہی جاوید نے قدرے ڈانٹنے کہ انداز میں کہا ۔ شمع تمہیں اندازا ہے تم کس کھائی کے دہانے پر کھڑی ہو۔ جاوید کی بات سن کر میں سنجیدہ ہو گئی اور جواب میں کہا ، جانتی ہوں جب ہی تو اس کھائی میں گرنے سے پہلے جتنا جی سکتی ہوں اسے بھر پور طریقہ سے جینا چاہتی ہوں۔ آفرین ہے تم پر جادید اتنا کہہ کر پھر خاموش ہو گئے۔میں ان کے دل کا کرب ان کے چہرے سے پڑھ سکتی تھی۔ کنسلٹنٹ کے کمرے میں ہی نیورولوجسٹ کی باتیں سن کر ان کا رنگ زد اور پھر سفید پڑ گیا تھا جیسے کسی نے انکی رگوںسے سارا خون نچوڑ لیا ہو۔ نیورولوجسٹ مجھے لاحق مرض ، ایم،ایس یعنی ملٹیپل اسکلیروسس کے بارے میں بتا رہا تھا کس طرح بڑھتا ہے اس میں کیا کیا ہو سکتاہے مریض کس حد تک اپاہج ہو سکتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔میں تو کچھ بھی نہیں سن رہی تھی صرف جاوید کے چہرے کے اڑتے ہوئے رنگ دیکھ رہی تھی۔ مجھے بہت گھبراہٹ ہو رہی تھی یوں لگ رہا تھا جیسے میرا دم گھٹا جا رہا تھا ۔میں کمرے سے نکل کر کہیں دور بھاگ جانا چاہتی تھی ۔زور زورسے چیخنا چلانا چاہتی تھی۔لیکن میں نے ان سب چیخوں کو اپنے اندر ہی گھونٹ لیا اور اب گاڑی میں بھی میں اس اندر کے شور کو قہقہوں میںگم کر دینا چایتی تھی۔ میرے اسطرح ہنسنے سے جاوید کا موڈ بھی تھوڑا بہتر ہوگیا تھا،یوسف کے اسکول کی چھٹی کا وقت ہو گیا تھا ہم راستے میں یوسف کو اسکول سے لیتے ہوے پیزا ہٹ چلے گئے، شام تک ہم یوں ہی گھومتے پھرتے رہے ،رات کو یوسف کو سلانے کے بعد میں جاوید کو چائے کا کپ دے کر اپنے کمرے میں چلی گئی جاوید کہہ رہے تھے کہ تم نے چائے لانے کی تکلیف کیوں کی، میں خود چائے بنا لیا کروں گا،ابھی جب تک ہاتھ پاؤںمیں دم ہے مجھے اپنی خدمت کرنے دو،پھر تو سب کچھ تمکو ہی کرنا ہو گا، ابھی تومیں اپاہج نہیں ہوئی ہوں، میں نے ہنس کر کہااور اپنے بیڈ روم میں چلی آئی۔ کمرے میں پہنچ کر میں نے دروازا بند کر لیا اورجس طوفان کو اپنے اندربند کر رکھا تھا وہ سارے بند توڑ کر بہہ نکلا، میری آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی سی لگ گئی، تکیہ میں مونہہ چھپا کر میں دیر تک روتی رہی۔میں اپنے خدا کے آگے گڑگڑانے لگی یا میرے مولا ابھی تو میرا یوسف بہت چھوٹا ہے، میرے بعد اسکا کیا ہو گا۔ بس اتنی مہلت دے دے کہ وہ اپنے قدموں پر کھڑاہو جائے۔روتے روتے میں کب سو گئی، کب صبح ہوگئی مجھے اس کا احساس تک نہ ہوا ، پھر یوں ہی بے حسی میں دن رات گزرتے رہے ۔ میںنے زندگی کے لمبے چوڑے منصوبے بنانا چھوڑ دیئے تھے ،نہ گزرے ہوئے کل سے کوئی شکو ہ تھا نہ آنے والے کل کی کوئی منصوبہ بندی ،اب میں صر ف اور صرف آج میں جینا چاہتی تھی۔بر وقت علاج کہ شروع ہوجانے کی وجہ سے میری بیماری کا تیزی سے بڑھنا رُک گیا تھا ،اور میں اب تقریبا نارمل زندگی گزار رہی تھی۔ میرے لیئے اتنا کافی تھا کہ میں چھڑی کہ سہارے یوسف کو اسکول تک چھوڑ آتی تھی اور واپس لے آتی تھی ، گھر کے کام کاج کر لیتی تھی ، اور جب سے جاوید نے مجھے اسپیشل موڈیفایڈ گاڈی دلا دی تھی میں شاپنگ بھی خود ہی کر لیا کرتی تھی ۔ میرے لیئے میری یہ خود مختاری ،انڈڈیپینڈینس بہت اہم تھی ، یہ احساس کہ میں کسی پر بوجھ نہیں ہوں ، میرے گھر والوں کو میری ضرورت ہے ، میں انکے کام کر سکتی ہوں اپنے کام کر سکتی ہوں ، کسی کی محتاج نہیں ہوں ، یہ سب میری عزت نفس کے لیئے ، میرے جینے کے لیئے بہت ضروری تھا۔ زندگی کی گاڑی بہت حد تک نارمل انداز میں چلتی رہی، وقت یونہی گزرتا رہا، یوسف تعلیم مکمل کر کے آسٹریلیا میں سیٹل ہو گیا ، اسے ساحل اور سمندر کی گرم خنک ہواؤں نے یا پھر ماریا کی سنہری زلفوں نے اپنا اسیر کر لیا تھا، یوسف کا اسرار تھا کہ ہم بھی وہاں ہی منتقل ہو جایں مگر اب اس بڑھاپے میں اس بیماری کے ساتھ میرے لیئے اتنی بڑی تبدیلی آسان نہیں تھی ، اسلیئے ہم صرف ایک بار ہی اسکی شادی پرآسٹریلیا گیئے تھے۔ ماریہ ، مریم یوسف بن کر دلہن کے جوڑے میںبہت پیاری لگ رہی تھی۔ ہم اُن دونوں کو خوش دیکھ کر خوش تھے اور ڈھیروں دعائیں دے کر واپس لندن آگئے تھے ۔ وقت کہ ساتھ انسان کتنا بدل جاتا ہے،ہمیں ایسا لگتا تھا جیسے ہم نے بیٹے کی شادی نہیں کی ہے بلکہ بیٹی گھر سے رخصت کر دی ہے ، خیر ہم نے زندگی کے اس فیصلے سے بھی سمجھوتہ کر لیا تھا۔اور کاروان زیست کے ساتھ رواں دواں تھے کہ گاڑی کہ ایک حا دثہ نے مجھے بالکل معذور کر دیا ، وقت نے یہ ایسی ضرب لگائی تھی کہ ہم پھر نہ سنبھل سکے۔ سر پر چوٹ آنے کی وجہ سے میرے جسم کا بائیاں حصہ مفلوج ہو گیا تھا، چھ مہینے ہسپتال میں علاج کے بعد میں بڑی مشکل سے اس قابل ہوی تھی کہ ویل چیر کی مدد سے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جا سکوں، میں اس طرح محتاج ہو کر جینے پر مر جانے کو ترجیح دیتی تھی، میں نے ڈاکٹروں سے کتنی بار منت کی کہ وہ مجھے کوئی دوا دے کر اس زندگی سے نجات دلا دیں ، جاوید کی خوشامد کی کہ تم مجھے یورپ کہ کسی اسے ملک میں لے جاو جہاں یوتھینیزیا قانونی طور پر جائیز ہے مگر کسی نے میری ایک نہ سُنی، میںنے کھانا پینا چھوڑ دیا،لیکن مجھے ڈرپ لگا کر زندہ رکھا گیا، زندگی مجھے خدا کا دیا ہواتحفہ نہیں بلکہ ایک بوجھ لگتی تھی اور میں اس بوجھ کو ہر صورت میں اُتار کر پھینک دینا چاہتی تھی۔ ایسی زندگی کا کیا فائدہ جو کسی کہ کام نہ آ سکے ، دوسروں پر ایک بوجھ بن جائے۔ لیکن جاوید ، یوسف اور مریم کے پیار نے مجھے پھر سے زندگی سے ہمکنار کر دیا۔ لیکن یوسف اور مریم نے ہمیشہ تو ہمارے ساتھ نہیں رہنا تھا، وہ آج دو مہینے بعد واپس آسٹریلیا چلے گئے تھے، دونوںہی نوکری پیشہ تھے اور اُنھیں اُنکے کام سے اس سے زیادہ چھٹی نہیں مل سکتی تھی، اب میری طبیعت بھی پہلے سے بہت بہتر تھی اسلیئے اُنکے مزید رُکنے کا کوی جواز بھی نہیں تھا۔اُن دونوں کے جانے کہ بعد گھر میں کیسا سناٹا چھا گیا تھا، ہم دونوں بھرے گھر میں تنہا ہو گئے تھے۔ جاوید کومیں نے پہلی بار اتنا افسردہ دیکھا تھا،بڑھاپے میں جوان بیٹا باپ کی لاٹھی ہوتا ہے ،جسکے سہارے وہ سیدھا کھڑا ہو سکتا ہے ، اس سہارے کے بغیر یوں لگ رھا تھا جیسے جاوید کی کمر زندگی کے بوجھ سے دوھری ہو گئی تھی، انھوں نے بڑی حسرت سے مجھ سے کہا کہ شاید اگر ہماری بیٹی ہوتی تو ہمارے دکھ کو محسوس کر سکتی، پھر وہ مجھے بستر میں آرام سے لٹا کر خُد چائے کا کپ لے کر ٹی وی دیکھنے بیٹھ گیئے، میں دن بھر کی تھکی ہوی تھی اسلئے فورا ہی سو گئی، آدھی رات میں جب میری آنکھ کھلی تو ٹی وی بدستور چل رھا تھا، اور جاوید کُرسی پر اسی طرح بیٹھے تھے میں نے سوچا شاید سو گئے ہیں ،دو چار آوازیں دیں مگر کوی جواب نہ پایا تو بمشکل تمام اپنے آپ کو گھسیٹ کرویل چیر پر بیٹھکر ان تک جا کر یکھا تو انکے برابر میز پر چائے رکھی ہوئی ٹھنڈی ہوچکی تھی، میں نے جو انکو اٹھانے کے لیئے اُن کے بدن کو ہاتھ لگایا تو وہ چائے کے کپ سے بھی زیادا ٹھنڈا تھا، اسکے بعد کی مجھے کچھ خبر نہیں، شاید صبح کے کیررز نے امبولنس بلائی ہو گی، جب ہی تو میں ہسپتال میں تھی، میرے سرہانے کے پاس شاید یوسف کھڑاتھا وہ شاید آج ہی پُہنچا تھا ، نرس اسے بتا رہی ہے کہ میں گزشتہ ایک ہفتہ سے اسی طرح بیہوشی کی حالت میں ہوں، ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ میں شاید اسی طرح مہینوں یا سالوں بھی رہ سکتی ہوں ،اور اگر ہوش میں آ بھی گئی تو بستر سے اٹھنے کی اُمید بہت کم ہے، انھیں چوبیس گھنٹے نگہداشت کی ضرورت ہو گی، نرس یوسف کو بتا رہی تھی۔ لیکن میں تو بہت مشکل سے صرف ایک ہفتہ کی چھٹی لے کر آیا ہوں ، اور اب دو بار آنے جانے کہ اخراجات کی وجہ سے میرے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہیں کہ میں نرسنگ ہو م کاانتظام کر سکوں۔ یوسف کہ لہجے سے اسکی پریشانی اور تشویش صاف ظاہر تھی، ٹھیک ہے شام کو جب ڈکٹر راﺅنڈپر ائنگے تو اُن سے مشورہ کیا جائے گا ، پھر یوسف تھوڑی دیر میرے پاس بیٹھ کر چلا گیا، شاید تھک رہا ہو گا اتنا لمبا سفر کر کے جو آیا تھا، میں بستر پر بے سُد ہ پڑے پڑے کمرے میں آتے جاتے قدموں کی چاپ سُنتی رہی،شام ڈھلے میرے گرد کچھ زیادہ چہل پہل ہونے لگی ، میرے بیڈ کو شائد کسی دوسرے کمرے میں لے جایا جا رہا تھا ۔مجھے جرنل وارڈ سے الگ کمرے میں منتقل کر دیا گیا تھا۔مگرکیوں میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا،مجھے الگ کمرے میں کیوں منتقل کر دیا گیا تھا۔ میرے بستر کے پاس یوسف ڈاکٹر وںسے کچھ بات کر رھا تھا، وہ لوگ میری تکلیف ختم کرنے کی بات کر رہے تھے۔ میرا بیٹا نہیں چاہتا تھا کہ میں یوں کسما پُرسی کی حالت میں بستر پر پڑی رہوں ، وہ کہہ رہا تھا کہ میری ماں بہت خُودار تھی وہ اس طرح زندہ رہنے پر مرنے کو ترجیح دے گی وہ میری زبان بن کر مجھے زندگی کی تکلیف سے آزاد کرنے کے فیصلے کی تائید کر رہا تھا۔ یہ بھی شاید یوتھینیزیا کا ہی دوسرا نام ہے ! یہ میری زندگی ہے! اسے ختم کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے ۔ میں نے چیخنا چاہا مگر میری آواز بس ایک سسکی کی طرح ہی نکل سکی۔ یہ بہت تکلیف میں ہیںنرس نے میری سسکیاںسُن کر کہا۔ میں موت کو اپنے سر پر منڈلاتا ہوا دیکھ کر گھبرا گئی،میری سانس تیز تیز چلنے لگی تو سینے پر جمع ہوے بلغم کی آواز خر خر آنے لگی، جسے سن کر یوسف اور پریشان ہونے لگا۔ میری ڈرپ میں لگی مورفین کی ڈوز کو بڑہاتے ہوے نرس نے کہا بس ابھی آرام آجائے گا۔میں آج سے پہلے مرنے کی آرزو میں مری جا رہی تھی ،سب سے مجھے مار ڈالنے کی بہت التجائیں کرتی تھی مگر اب موت کو اپنے سامنے دیکھ کر مجھے زندگی کی قیمت کا احسا س ہو رہا تھا،میں یوں بے موت مرنا نہیں چاہتی،دوا کا اثر میرے عصاب پر ہونے لگا تھا ، میری سانسیں ڈوبنے لگیںتھیں ، میں ان اندھروں میں گم نہیں ہونا چاہتی ، میں حرام موت نہیں مرنا چاہتی،مگر کوئی بھی میری بات سنے والا نہیں تھا۔میرے ارد گرد سب لوگ تو میری خواہش کے مطابق مجھے میری تکلیفوں سے نجات دلا رہے تھے۔
         


:دیگر مضامین
(19.02.2016) سب طنابیں کاٹ دے، پھیلے ہوئے اس دم کی ۔از۔ ذوالفقار نقوی
(18.02.2016) میں چُن رہی تھی اُداسی کہ اس نے آ کے مجھے
(16.02.2016) ایک ہی نشست میں لکھی فرخندہ رضوی کی تین غزلیں
(15.02.2016) طبیعت مضطرب، بے چین دل، یہ کیا ہوا مجھ کو از کامران غنی صبا
(14.02.2016) بچھڑا تو یوں اس ادا سے گیا ...از.. فرخندہ رضوی
(14.02.2016) ویلنٹائن ڈے از صدف مرزا
(13.02.2016) ہم کہ ٹھہرے اجنبی ۔۔۔ فیض شناسی ۔۔۔ از ۔۔۔ غزالہ رشید
(12.02.2016) مدحِ نامِ سیدالکونین{ص} بحضورِ بضعۃ الرسول ۔۔۔۔از ۔۔۔۔۔ذوالفقار علی سید
(11.02.2016) کشکول۔۔۔از۔۔۔۔خاور چوہدری
(10.02.2016) حامد کا اعجاز ہنر اس پار سے اس پار تک از احمد علی برقی
(08.02.2016) قرب کا زہر مری روح میں زندہ ہے ابھی از صفدر ھمدانی
(07.02.2016) چوتھی بیوی از عشرت معین سیما برلن ۔ جرمن
(05.02.2016) اب کھنکتے ہوئے سکوں سے ہے کیا کیا ممکن از عزیز بلگامی
(03.02.2016) انتظار حسین: تہذیبِ گم گشتہ کا ’آخری داستان گو‘
(02.02.2016) شہزاد کی شہزادیاں ۔۔ از ؛ ثنا اللہ خان احسن ۔ کراچی ، پاکستان  
(01.02.2016) اپنا درد۔۔۔۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔۔رافیعہ گیلانی
(30.01.2016) خوف آنے لگا مجھکو چاہت کے اجالوں سے۔ فرخندہ رضوی
(29.01.2016) مناجات بدرگاہِ قاضی الحاجات۔۔۔از۔۔۔۔۔احمد علی برقی اعظمی
(28.01.2016) امن کے لئے جنگ ضروری ہے از نگہت نسیم
(26.01.2016) جہل خرد ہے عشق ہوس ہے دُنیا کے ویرانے میں از وسیم فرحت کارنجوی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں