9 نومبر 2009 ء کو یعنی آج جرمنی کی مشہور و معروف دیوار برلن کو گرے 20 سال ہوگئے، برلن، جرمنی کے دارالحکومت میں آج اس سلسلے میں ایک تقریب منعقد کی جارہی ہے، جسکا سب سے خوبصورت حصہ ہے ایک علامتی دیوار جسے دنیا بھر کے 15 ہزار نوجوانوں اور آرٹسٹوں نے 1000 ہزار ڈومینو کی مدد سے تیار کی ہے.
اور جس کا عنوان يہ ہے کہ يہ ديوار لوگوں کو جدا کرنے کے لئے نہيں بلکہ سرحدوں کو ختم کرنے اور انسانوں کو اکھٹے کرنے کے لئے علامتي طور پر بنائ گئ ہے.
اس آزادی کی تقریب میں شرکت کے لئے جہاں برلن کے مئیر بے چین ہیں وہیں انکا ساتھ دینے کے لئے فرانس کے صدر، روس کے صدر، انگلینڈ کے وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ بھی موجود ہیں۔ برلن کے مشہور و معروف دروازہ برانڈن برگ گیٹ، جو کہ مشرقی اورمغربی جرمنی کی سرحدی پہچان ہے، کے سامنے اس 1،5 کلو میٹر کی دیوار کو دیکھنے کے لئے جرمنی کے صدر اورچانسلر بھی موجود ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ اس ڈومینو کی دیوار میں استعمال ہونے والے ڈومینو بلاک اپنی اپنی ایک الگ داستان کو سمیٹے ہوئے ہے، کہیں خوشی، کہیں غم، کہیں ایک گہری سوچ، کہیں کوئ فلسفی گفتکو تو کہیں ایک ہنسی مذاق۔
اس ڈومینو کے گرنے کا یہ دلچسپ رنگا رنگ پروگرام ٹی وی پر براہ راست دیکھایا جائے گا،اسکے باوجود سینکڑوں لوگ اس تقریب میں حصہ لینے کے لئے برلن پہنچ رہے ہیں۔ جرمنی کے ریلوے نے 20 سالہ تقریب کے لئے 20 ایورو کا سستہ ترین ٹکٹ جاری کیا جس سے آپ پورے جرمنی میں گھوم سکتے ہیں۔
آج سے 20 سال قبل 20 نومبر 1989ء کو 28 سال سے زیادہ جرمنی کو مشرق اورمغرب میں باٹنے والی سرحدی دیوار جب گری تو دنیا کو یقین نہیں آرہا تھا کہ کیا یہ سب ممکن ہے۔ 20 نومبر 1989ء کو ٹھیک شام کے 6 بجکر53 منٹ پر اس وقت کے مشرقی جرمنی کے کیمونیسٹ حکومت کے ایک اعلی عہدیدار، گنٹر شابوسکی، نے ایک انٹرنیشنل پریس کانفرینس میں بہت گبھرائے ہوئے لیہجے میں یہ اعلان کیا کہ اب مشرقی جرمنی سے لوگ مغربی جرمنی کا سفر کرسکتے ہیں اور اس میں آہستہ آہستہ نرمی کی جائے گی، لیکن 28 سال کی پابندی کے بعد انسانوں کے ریلے نے اس آسانی کو پل جھپکتے ختم کردیا۔
تاریخ بھی کیسے کیسے داستان رقم کرتی ہے، 20 نومبر سے صرف چند دن یعنی 7 اکتوبر1989ء کو مشرقی جرمنی کے کیمونیسٹ حکومت کے سپہ سالار ائیرش ہونیکر، نے ملڑی پریڈ اور مشعل برادر جلوس میں مشرقی جرمنی کی 40 ویں ساگرہ منائ اور اس سالگرہ میں اس وقت کے روسی صدر میشائل گروباچوف، نے اپنے پیغام میں اپنا وہ تاریخی جملہ بھی بھیجا تھا کہ " جو دیر سے آتا ہے اسے زندگی خود سزا دیتی ہے" ، یہ ایک طرف اشارہ تھا کہ جو کام ہونا ضروری ہے اس میں دیر مت کرو ورنہ تاریخ تمھیں معاف نہیں کرے گی۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ایک ہی قوم کو 28 سال تک الگ رکھنے والا نظام دھرم بھرم ہوگیا۔
دیوار برلن سے بہت سارے یادگار واقعوں کی ایک لمبی داستان وابسطہ ہے جو کبھی موقع ملا تو آپ لوگوں کے سامنے ضرور پیش کروں گا، آج صرف ایک سچی محبت کی ایک سچی داستان جو 20 سال منانے کے لحاظ سے پچھلے دنوں جرمن ریڈیو میں پیش کی گئ وہ ہے اس عورت کی کہانی جس نے سولہ سال کی عمر میں ایک لڑکے سے محبت کی اور جب 1961ء میں اچانک برلن کی دیوار کھڑی ہوگئ تو اسکی محبت کے درمیان ایک سچ مچ کی دیوار، دیوار برلن آگئ، لیکن محبت کی انتہا دیکھیے کہ اس نے اپنی محبت کا 28 سال انتظار کیا اور دیوار گرنےکے بعد اپنی محبت کو ڈھونڈ نکالا اور آج وہ اسی شخص سے نہ صرف شادی شدہ ہے بلکہ ایک 13 سالہ بچے کی ماں بھی ہے۔