ممتاز شیعہ لیڈر ،ہائی کورٹ کے سینیر وکیل،تحریک دین فہمی کے داعی الحاج مرزا جاوید مرتضی کو ایک بڑے سوگوار مجمع کی موجودگی میں کربلاءنواب ملکہ جہاں میں سپرد خاک کردیا گیا۔
تدفین میں بڑی تعداد میں جج ،وکلا،عمائدین شہر،مختلف شیعہ ۔سنی تنظیوں کے نمائندے اور بڑی تعداد میںغیر مسلم صاحبان بھی موجود تھے۔الحاج مرزا جاوید مرتضی کا جسد خاکی کل رات گئے سنجئے گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈکل سائنسیز سے انکے والد کی قیام گاہ ’ المرتضی‘ واقع بارود خانہ گولہ گنج لایا گیا۔جہاں افراد خاندان ،عزیز و اقربا نے شب بھر قران خوانی کی اور صبح انکا جنازہ تاریخی کربلا ملکہ جہاں لے جایا گیا جہاں غسل،نماز جنازہ کے بعد مرحوم کی تدفین عمل میں آئی۔ الحاج مرزا جاوید مرتضی کے اس جہاں سے اٹھ جانے کو ایک دور خاتمہ کہا جا رہا ہے۔کربلا کے احاطہ میں صبح سے دوپہر تک موجود رہے سوگوار انکی صداقت ،دیانتداری،شجاعت،علم دوستی اور صبر و استقلال پر محو گفتگو رہے۔

الحاج جاوید مرتضی نے دینی و قومی مسائل میں اصولی رخ اختیار کیا،انہوںنے جہالت پر علم کو ترجیح دی۔ اپنے سخت اصولوں کی وجہ سے انہوں نے کسی بھی طاقت سے صف آرائی سے گریز نہیں کیا۔نہ کبھی باطل طاقتوں کے آگے سپر انداختہ ہوئے۔مرزا جاوید مرتضی نے تصنیف و تالیف کے میدان میں نمایاں کارنامے انجام دئے اور مختصر سے دور میں انہوں نے متعدد کتابوں کی تصنیف کی۔پیشہ ور ذاکری،وقف خوری،دین میںبے اصولی طور طریقوں نیز مذہبی دھندے بازوں و دین کاروبار کرنے والوں کے خلاف انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔پیشہ ور اور سیاسی مولویوں کا ایک گروہ کے نشانہ پر جاوید مرتضی عرصے سے تھے اور انکی حق گوئی اور علمی اسطاعت ان ذاکرین اور پیشہ ور مولویوں کے لئے مصیبت بن گئی تھی جو دین کی روٹی کھا کر دنیا کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ جاوید مرتضی کی علمی بصیرت اور اس طبقے کی جہالت نے اسے احساس کمتری میں مبتلا کردیا۔جس بنا پر یہ طبقہ حق کی آواز کو دبانے کے لئے غنڈے ،بدمعاشوں و مافیاو ں کا اکثر و بیشتر سہارا لیا کرتا تھا۔لیکن انہوں نے اہلیبیت کے ایک سچے خادم کی طرح سے کبھی ان چو طرفہ حملوں کی فکر نہیں کی اور اپنی بات و موقف کو سختی سے ظاہر کرتے رہے۔

مرزا جاوید مرتضی کی زندگی قومی و دینی مسائل کو حل کرنے اور عزاداری کو بحال کرنے کی سمت میں ایک شاندار رکارڈ ہے۔ وہ عزاداری کے لئے متعدد بار جیل گئے اور انہوں سخت دباو کے باوجود شکست نہیں تسلیم کی۔