ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہیں جس کے آئین کی اساس اللہ کی حکمرانی کو قرار دیا گیا ہے ۔ مگرپاکستان میں اہلِ اقتدار حاکمیت کو ایک مقدس امانت سمجھنے کی بجائے اپنی میراث سمجھتے آئے ہیں ۔ مملکتِ خداداد کے اثاثوں اور دولت پر اپنا تصرف جائز سمجھتے رہے ہیں ۔ حکمران طبقہ اپنے آپ کو احتساب سے بالاتر سمجھتا رہا ہے۔ احتساب کا سلسلہ جب بھی شروع ہوا اسے سیاسی انتقام قرار دے کر ختم کر دیا گیا۔ حکومت بدلتے ہی سابقہ حکومت کے شروع کردہ مقدمے واپس لے لیے گئے یا داخل دفتر ہو گئے۔
اہلِ اقتدار کی لوٹ مار کی سزا ہمیشہ عوام کو ملی ۔ بیرونی امداد کے نام پر بھاری قرض لیا جاتا رہا ۔ قرض کی ادائیگی کے لیے مہنگائی اور نت نئے ٹیکس لگائے جاتے رہے۔ جھوٹے اعداد و شمار کے سہارے ترقی دعوے ہمیشہ ہوتے رہے۔ مگر آزادی کے باسٹھ سال بھی پاکستان ایک پسماندہ ملک ہے جس کوہر سال سالانہ میزانیے کا خسارہ پورا کرنے کے لیے مزید قرض کی ضرورت پیش آتی ہے۔ جس کے پچاس فیصد سے زیادہ عوام ناخواندہ ہیں ۔ جس کے دیہات میں صاف پینے کا پانی میسر نہیں ، علاج اور تعلیم کی سہولیات ، سڑکیں اور بجلی سب خواب ہیں۔
جس ملک کے آئین کی اساس اللہ کی حکمرانی ہو وہاں حکمران کو اللہ کے ساتھ ساتھ عوام کے آگے بھی جوابدہ ہونا چاہیے آزادیءاظہارِ رائے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کو بھی آزاد ہونا چاہیے مگر باسٹھ سال تک نظریہ ضرورت کے تحت شخصی آزادی ، آزادیءاظہارِ رائے پر پابندیاں لگتی رہیں ۔ عدلیہ کو پی سی او کے ذریعے تابع فرمان بنایا جاتا رہا۔ عدلیہ بحالی کی تحریک کی کامیابی کے بعد عدلیہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہو چکی ہے ۔ لیکن پاکستان میں انصاف اب بھی ناپید ہے کیونکہ احتساب کے بغیر انصاف بے معنی ہے۔
اللہ کی نظر میں تو سب انسان برابر ہیں فضیلت اسی کو ملے گی جو متقی ہو یا اللہ سے ڈرتا ہو۔ مگر پاکستان میں سب برابر نہیں ۔ ایک عام آدمی اگر لیز پر گاڑی لیتا ہے اور بروقت قسط نہیں چکاتا تو سرِ بازار گاڑی سے اُتار دیا جاتا ہے گاڑ ی کو بنک اپنی تحویل میں لے لیتا ہے۔ لیکن بڑے بڑے صنعتکار کڑوروں کے قرضے معاف کروا لیتے ہیں۔ چھوٹی موٹی کرپشن پر عام آدمی نوکری سے نکالا جاتا ہے جبکہ سیاستدان بڑی سے بڑی کرپشن کے بعد بھی اعلٰ ترین عہدے پر فائز رہتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم بے مثال ہیں دُنیا بھر میں ایسی مثال نہیں ملے گی کہ ملک میں ایک طرف تو عدلیہ کی آزادی کی تحریک چل رہی ہو اور دوسری طرف این آر او جیسا کالا قانون نافذ کیا جا رہا ہو۔ این آر او کے تحت بہت سے کرپٹ سیاستدانوں کو نیک نامی کا سرٹیفکیٹ بھی ملا اور وزارتیں بھی ۔ ہوئے نہ ہم بے مثال۔ این ۔آر۔ او کے تحت عافیت پانے والے حکمران حکومت کے مزے لوٹ رہے تھے کہ این آر او کی قانونی حیثیت پر انگلیاں اُٹھنے لگیں۔ اب اس مقدس قانون کو اسمبلی کی حمایت کی ضرورت پیش آئی ۔
اسمبلی میں جوشِ خطابت کے زور میں بہہ کر کچھ ارکان نے اس کے تقدس پر وہ کیچڑ اُچھالا کہ این۔ آر۔او کو یہاں سے جاتے ہی بنی۔اب قصرِ صدارت پر انگلیاں بھی اُٹھ رہی ہیں اور پرانے الزامات نت نئے لبادوں میں سامنے آ رہے ہیں۔ کو ٹیکنا کی کک بیک کا کم بیک ہو گیا ہے۔ مہنگی اراضی کی سستی خریداری پر اعتراضات ہو رہے ہیں۔ صحافی برادری مائینس ون کی گردان کئے جا رہی ہے۔ ملکی صحافیوں کے بعد غیر ملکی اخبارات بھی میدان میں آگئے ہیں ۔ افواہوں کا بازار گرم ہے نظریہ ضرورت تراشا جا رہا ہے جو ایک بار پھر جمہوریت کو قتل کر دے گا، ماہِ دسمبر میں ایوانِ صدر کا مکین بدل جائے گا، حکومت جا رہی ہے مڈ ٹرم الیکشن ہونے والے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
صحافی برادری میں حکومت کے حمایتی انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو حسبِ ضرورت افواہوں کا سدِ باب کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں حکومت کے حمایتی کہتے ہیں کہ کچھ ایجنسیز طالبان کی حمایتی ہیں جو وزیرستان آپریشن پر سخت نالاں ہیں اور حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے صحافیوں کو مواد فراہم کرتی ہیں ۔ انہیں کچھ صحافیوں کی سچ بیانی پسند نہیں ۔حکومت کے حمایتی ابتک اس مواد کے خلاف نا قابلِ تردید ثبوت لانے میں ناکام ہیں۔ اگر صحافت میں بھی گروہ بندی جائز ہے تو ہم ایسے گروہ کی حمایت کرتے ہیں جو کسی بھی طبقے کے کالے کرتوتوں کو سامنے لائے ۔ چاہے ان کی خبروں کا ماخذ کوئی خفیہ ایجنسی ہی کیوں نہ ہو۔
پی پی پی کی حکومت کی کار کردگی انتہائی مایوس کن ہے۔ عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہم آمر کے دور میں آسودہ تھے نہ گرانی کا یہ عالم تھا نہ بجلی کا تعطل اور نہ ہی گیس کی لوڈشیڈنگ ،نہ چینی کی کمیابی تھی نہ آٹے کا بحران تھا،نہ ہی بم دھماکوں کا ایسا تسلسل تھا ۔ حکومت کو قائم رکھنے کے لیے صرف جمہوریت کی دہائی دی جارہی ہے کہ حکوت نہ رہی تو جمہوریت بھی نہ رہے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت چند افراد کو اقتدار میں رکھنے کا نام ہے جو اپنی اپنی باری پر ملک و قوم کو لوٹنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
اور پھر ہر قسم کے احتساب سے بالا تر قرار پاتے ہیں۔ احتساب کے بغیر جمہوریت بے معنی ہے۔ ہر ذی شعور پاکستانی ان گنے چنے افراد سے نالاں ہے اور پاکستانی سیاست سے میوزیکل چئیر جیسے کھیل کا خاتمہ چاہتا ہے۔ہر محبِ وطن پاکستانی مائنس ون کی بجائے ملک کے سیاسی منظر نامے سے مائنس آل کے فارمولے کا حامی ہے۔ پاکستان کے شہری این آر او کی بجائے ایسے قانون کے نفاذ کی راہ دیکھ رہے ہیں جو سیاسی جماعتوں میں وراثت کی روایت پر پابندی لگا سکے۔ کوئی شریف ، زردار یا خان کسی جماعت کا تا حیات چئیر پرسن نہ بن سکے۔ کسی جماعت کی سربراہی میراث کی طرح وصیت میں نہ دی جا سکے۔
پاکستان کے آئین کی اساس اللہ کی حکمرانی ہے تو انصاف اور احتساب کو بے لاگ ہو نا چاہیے ۔ انصاف کی آنکھوں پر مصلحت کی پٹی نہیں بندھنی چاہیے۔ عوام کی دہلیز تک انصاف فراہم ہونا چاہیے۔ مگر ہماری عدلیہ کی آزادی بھی نام نہاد ہی معلوم ہوتی ہے ۔ عدلیہ بحالی کے بعد نئی جوڈیشیل پالیسی کا اعلان ہوا مگر ہر حکومتی پالیسی کی طرح اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہو سکا کیونکہ ابتک اعلٰی عدالتوں میں ججوں کی خالی آسامیاں پر نہیں کی جا سکیں۔ ہمیں منصفوں کی نیک نیتی پر شبہ نہیں لیکن اس بلا جواز تاخیر سے شکوک و شبہات کا ابھرنا لازم ہے۔ عدلیہ کو پی سی او ججز سے پاک کر دیا گیا ہے مگر اس تطہیر سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ جاری مقدمات کی سنوائی کی کوئی نئی تاریخ نہیں دی جارہی ۔
پاکستان ہمیشہ کی طرح اب بھی تاریخ کے ایک نازک موڑ سے گزر رہا ہے کیونکہ ہماری قیادت نا اہل ہے ۔ ہم قوم کے مجرموں کو معاف کر دیتے ہیں ۔ جیل کی کوٹھری سے نکال کر اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیتے ہیں ۔ کل جو مجرم تھے آج حاکم ہیں ۔ جو آج معتوب ہونگے وہ کل حاکم بن جائیں گے کرسی کی دوڑ کے کھیل میں کسی مسٹر کلین کا داخل ہونا ممنوع ہے ۔ خود احتسابی ہماری سرشت میں شامل نہیں ۔ احتساب کے بغیر انصاف ناممکن ہے اور انصاف کے بغیر جمہوریت بے معنی ہے ۔ بہتر ہو گا کہ ہم شخصیات کے سحر سے نکل آئیں پہلے اپنی سوچ کا احتساب کریں اور پھر جو احتساب کے قابل ہیں انہیں کٹہرے میں لائیں ۔ اقتدار کے ایوان سے کوئی بھی مائنس ہو ملکوں کی فہرست سے پاکستان کو مائنس نہیں ہونا چاہیے۔