حجاج آج وقوف عرفات کے دوران خطبہ حج سنیں گے 15.11.2010, 09:10am , سوموار (GMT+1)
عالمی اخبار
حدیث نمبر : 1664 حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، حدثنا محمد بن جبير بن مطعم، عن أبيه، كنت أطلب بعيرا لي. وحدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن عمرو، سمع محمد بن جبير، عن أبيه، جبير بن مطعم قال أضللت بعيرا لي، فذهبت أطلبه يوم عرفة، فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم واقفا بعرفة، فقلت هذا والله من الحمس فما شأنه ها هنا ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جبیر بن مطعم نے، ان سے ان کے باپ نے کہ میں اپنا ایک اونٹ تلاش کر رہا تھا (دوسری سند ) اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمر بن دینار نے، انہوں نے محمد بن جبیر سے سنا کہ میرا ایک اونٹ کھو گیا تھا تو میں عرفات میں اس کو تلاش کرنے گیا، یہ دن عرفات کا تھا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کے میدان میں کھڑے ہیں۔ میری زبان سے نکلا قسم اللہ کی ! یہ تو قریش ہیں پھر یہ یہاں کیوں ہیں۔
تشریح : جاہلیت میں دوسرے تمام لوگ عرفات میں وقوف کرتے تھے، لیکن قریش کہتے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اہل و عیال ہیں، اس لیے ہم وقوف کے لیے حرم سے باہر نہیں نکلیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش میں سے تھے مگر آپ اور تمام مسلمان اور غیر قریش کے امتیاز کے بغیر عرفات ہی میں وقوف پذیر ہوئے۔ عرفات حرم سے باہر ہے اس لیے راوی کو حیرت ہوئی کہ ایک قریش اور اس دن عرفات میں۔ لفظ حمس حماست سے مشتق ہے۔ قریش کے لوگوں کو حمس اس وجہ سے کہتے تھے کہ وہ اپنے دین میں حماست یعنی سختی رکھتے تھے۔ حدیث نمبر : 1665 حدثنا فروة بن أبي المغراء، حدثنا علي بن مسهر، عن هشام بن عروة، قال عروة كان الناس يطوفون في الجاهلية عراة إلا الحمس، والحمس قريش وما ولدت، وكانت الحمس يحتسبون على الناس يعطي الرجل الرجل الثياب يطوف فيها، وتعطي المرأة المرأة الثياب تطوف فيها، فمن لم يعطه الحمس طاف بالبيت عريانا، وكان يفيض جماعة الناس من عرفات، ويفيض الحمس من جمع. قال وأخبرني أبي عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ أن هذه الآية نزلت في الحمس {ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس} قال كانوا يفيضون من جمع فدفعوا إلى عرفات. ہم سے فروہ بن ابی المغراءنے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حمس کے سوا بقیہ سب لوگ جاہلیت میں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے، حمس قریش اور اس کی آل اولا دکوکہتے تھے، (اور بنی کنانہ وغیرہ، جیسے خزاعہ ) لوگوں کو (اللہ کے واسطے ) کپڑے دیا کرتے تھے۔ (قریش ) کے مرد دوسرے مردوں کو تاکہ انہیں پہن کر طواف کرسکیں اور (قریش کی ) عورتیں دوسری عورتوں کو تاکہ وہ انہیں پہن کر طواف کرسکیں، اور جن کو قریش کپڑا نہیںدیتے وہ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے۔ دوسرے سب لوگ تو عرفات سے واپس ہوتے لیکن قریش مزدلفہ ہی سے (جو حرم میں تھا ) واپس ہو جاتے۔ ہشام بن عروہ نے کہا کہ میرے باپ عروہ بن زبیر نے مجھے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ یہ آیت قریش کے بارے میں نازل ہوئی کہ ” پھر تم بھی (قریش ) وہیں سے واپس آؤ جہاں سے اور لوگ واپس آتے ہیں (یعنی عرفات سے، سورۃ بقرہ ) انہوں نے بیان کیا کہ قریش مزدلفہ ہی سے لوٹ آتے تھے اس لیے انہیں بھی عرفات سے لوٹنے کا حکم ہوا۔
تشریح : کعبہ شریف سے میدان عرفات تقریباً پندرہ میل کے فاصلے پر واقع ہے، یہ جگہ حرم سے خارج ہے، اس اطراف میں وادی عرفہ، قریہ عرفات، جبل عرفات، مشرقی سڑک واقع ہیں، یہاں سے طائف کے لیے راستہ جاتا ہے۔ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام خلیل اللہ علیہ السلام کو مناسک سکھلاتے ہوئے اس میدان تک لائے تو کہا ” ہل عرفت“ آپ نے مناسک حج کو جان لیا؟ اس وقت سے اس کا نام میدان عرفات ہوا۔ ( در منشور ) یہ جگہ ملت ابراہیمی میں ایک اہم تاریخی جگہ ہے اور اس میں وقوف کرنا ہی حج کی جان ہے اگر کسی کا یہ وقوف فوت ہو جائے تو اس کا حج نہیں ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا : قفوا علی مشاعرکم فانکم علی ارث ابیکم ابراہیم یعنی میدان عرفات میں جہاں اتر چکے ہو وہاں پر وقوف کرو، تم سب اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی موروثہ زمین پر ہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے قانون اساسی کا اعلان اسی مقام پر فرمایا تھا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ کا مشہور خطبہ عرفات اسی کی یادگار ہے۔
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : کنت ردف النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعرفات فرفع یدیہ فمالت ناقتہ فسقط خطامہا فتناول الخطام باحدی یدیہ وہو رافع یدہ الاخری ( رواہ النسائی ) عرفا ت میں آنحضرت صلی اللہ کی اونٹنی پر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر دعائیں مانگ رہے تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جھک گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے اس کی نکیل چھوٹ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ اس کے اٹھانے کے لیے نیچے جھکا دیا اور دوسرا ہاتھ دعاؤں میں بدستور اٹھائے رکھا۔ میدان عرفات میں یہی وقوف یعنی کھڑا ہونا اور شام تک دعاؤں کے لیے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلانا یہی حج کی روح ہے، یہ فوت ہوا تو حج فوت ہو گیا اور اگر اس میں کوئی شخص شریک ہوگیا اس کا حج ادا ہو گیا۔
جمہور کے نزدیک عرفات کا یہ وقوف ظہر عصر کی نماز جمع کرکے نمرہ میں ادا کرلینے کے بعد ہونا چاہئے، حضرت علامہ شوکانی فرماتے ہیں : انہ صلی اللہ علیہ وسلم و الخلفاءالراشدین بعدہ لم یقفوا الا بعد الزوال و لم ینقل عن احد انہ وقف قبلہ ( نیل ) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاءراشدین سب کا یہی عمل رہا ہے کہ زوال کے بعد ہی عرفات کا وقوف کیا ہے، زوال سے پہلے وقوف کرنا کسی سے بھی ثابت نہیں ہے۔ وقوف سے مرادظہر اور عصر ملا کر پڑھ لینے کے بعد میدان عرفات میں داخل ہونا اور وہاں شام تک کھڑے کھڑے دعائیں کرنا ہے، یہی وقوف حج کی جان ہے، اس مبارک موقع پر جس قدر بھی دعائیں کی جائیںکم ہیں، کیوں کہ آج اللہ پاک اپنے بندوں پر فخر کر رہا ہے جو دور دراز ملکوں سے جمع ہو کر آسمان کے نیچے ایک کھلے میدان میں اللہ پاک کے سامنے ہاتھ پھیلا کر دعائیں کررہے ہیں، اللہ پاک حاجی صاحبان کی دعائیں قبول کرے اور ان کو حج مبرور نصیب ہو آمین۔ جو حاجی میدان میں عرفات میں جاکر بھی حقہ بازی کرتے رہتے ہیں وہ بڑے بدنصیب ہیں خدا ان کو ہدایت بخشے۔ ( آمین )
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں