اردو ادب کے نامور افسانہ نگار ،کہانی کار ، نقاد ، صحافی اور دانشور قیصر تمکین کا سڑسٹھ سال کی عمر میں پجیس نومبر دوہزار نو کو لیڈز میں انتقال ہو گیا ۔
انہوں نے پسمندگان میں بیوہ صبیحہ علوہ اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں ۔
قبل ازیں نومبر دو ہزار دو میں ان کے بڑے بھائی حسین علوی کا انتقال ہوا تھا ۔ پھر دو ہزار پانچ میں سب سے بڑے بھائی ڈاکٹر شبیر احمد علوی کا اسلام آباد میں انتقال ہوا ۔ اب ان کے ایک چھوٹے بھائی احمد ابراہیم علوی حیات ہیں جو لکھنو سے روزنامہ آگ کا اجراء کرتے ہیں
قیصر تمکین کے والد مشہور ادیب شیر علوی ناظر کاکروی تھے۔دادا امیر علوی اور پردادا محسن کاکوروی تھے ۔ قیصر تمکین نے دو کتابیں انگریزی میں اور انیس کتابیں اردو میں چھوڑی ہیں ۔ ایک کتاب کاترجمہ ہندی زبان میں بھی شائع ہو اہے ۔
انہوں نے تین بار عمرہ اور دوبار حج کیا دیگر اتباع عالیہ کی زیارات کا شرف حاصل تھا۔
وہ مجاز اکادمی لندن کے سرپرست تھے ۔ 1958 میں ان کی پہلی کتاب ج وکہانیوں کا مجموعہ تھی بعنوان جگ ھنسائی شائع ہوا تھا ۔ اس کتاب پر اترپردیش اردو اکادمی نے سال کی بہترین کتاب ہونے کا انعام دیا پھر دوہزار دو میں ان کو لاہور سے نقوش ایوارڈ عطاہوا۔وہ ہندی میں بھی لکھتے تھے اور انگریزی ادب کے محافل میں بلائے جاتے تھے ۔ موجودہ انگریزی ادیبوں اور شاعروں سے ان کی دوستی تھی ۔ان کے اٹھ جانے سے یورپ کے اردو ادب کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔
ادارہ عالمی اخبار کی انتظامیہ جناب قیصر تمکین کی وفات پر انکے اہل خانہ خاص طور پر جناب ابراہیم علوی سے اظہار تعزیت کرتا ہے اور دعا گو ہیں کہ مالک موت وحیات مرحوم کو جوار سید الشہدا میں جگہ عنیات کریں۔آمین