18.10.2026, 06:55am , اتوار (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

پاکستان میں قومی مصالحتی آرڈیننس کی مدت ختم ۔از؛ندیم گِل
29.11.2009, 01:02am , اتوار (GMT+1)

عالمی اخبار۔ریسرچ یونٹ

 پاکستان میں قومی مصالحتی آرڈیننس کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی آصف زرداری کی جانب سے صدارتی اختیارات میں کمی پر عملدرآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔ 

سابق صدر پرویز مشرف نے یہ قومی مصالحتی آرڈیننس موجودہ صدر آصف زرداری سمیت متعدد سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو بدعنوانی کے مقدمات سے بچانے کے لئے نافذ کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں ملک کو نئے سیاسی بحران کا خطرہ ہے۔ 'این آر او' سے مستفید ہونے والوں کے خلاف مقدمات پھر سے شروع ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کارطلعت مسعود نے اے ایف پی سے گفتگو میں سابق پاکستانی صدر پرویز مشرفمیں کہا ہے کہ حزب اختلاف اور دیگر طاقتیں حکومت پر دباؤ بڑھائیں گی اور زرداری کو عہدہ صدارت پر قائم رہنے کے لئے اپنے اختیارات میں کمی کرنا ہوگی۔

دوسری جانب پاکستانی صدر کی جانب سے اختیارات میں کمی پر عمل درآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔ 'این آر او' کی مدت میں خاتمے کے ساتھ ہی ہفتہ کو انہوں نے ملک کے جوہری ہتھیاروں کا ایگزیکٹو کنٹرول وزیر اعظم کو منتقل کر دیا ہے۔ صدارتی اعلامئے میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا کنٹرول صدر سے وزیر اعظم کو سونپے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اعلامئے میں جوہری ہتھیاروں کا براہ راست ذکر نہیں۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ یہ ادارہ جوہری ہتھیاروں کے لئے ذمہ دار ہے۔

خبررساں ادارے 'اے ایف پی' نے سینئر قانون دان عابد حسن منٹو کے حوالے سے بتایا ہے کہ این آر او کی مدت کے خاتمے کے بعد، اس سے فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات پھر سے کھل سکتے ہیں اور سزائیں بحال ہو سکتی ہیں۔ تاہم حکومت کسی نئے قانون کے تحت اس عمل کو رکوا سکتی ہے۔

اُدھر صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اٹھائیس نومبر کو کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں آنے والی۔ زندگی معمول کے مطابق آگے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے عدالت کرے گی، اور جب ایسا وقت آیا گا، تو دیکھا جائے گا۔

قومی مصالحتی آرڈیننس NRO اکتوبر 2007ءمیں نافذ کیا گیا تھا۔ اس کے تحت سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو، ان کے شوہر اور موجودہ صدر آصف زرداری سمیت متعدد افراد کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات خارج کر دیے گئے۔ اس اقدام کا مقصد فوجی حکمراں پرویز مشرف کے اقتدار کو طول دینا تھا۔

گزشتہ ماہ حکومت نے این آر او سے مستفید ہونے والے آٹھ ہزار سے زائد افراد کی فہرست جاری کی تھی۔ وزیر داخلہ رحمان ملک اور وزیر دفاع احمد مختار بھی اس فہرست میں شامل تیس سے زائد سیاستدانوں میں شامل ہیں جن کے خلاف اس قانون کے تحت مقدمات ختم کئے گئے۔

سیاسی دباؤ پر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو رواں برس مارچ میں مزول ججوں کو بحال کرنا پڑا تھا، جنہیں سابق صدر مشرف نے عہدوں سے ہٹایا تھا۔ اس کے نتیجے میں نئی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ پارلیمان 'این آر او کو  پاکستانی صدر آصف زرداری کو اٹھائیس نومبر تک منظور کرے، بصورت دیگر اس کی مدت ختم ہو جائے گی۔ اس مقصد کے لئے حکومت نے یہ قانون گزشتہ ماہ پارلیمان میں پیش کیا۔ تاہم شدید مخالفت کے باعث فورا ہی واپس لے لیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی فروری 2008ء کے انتخابات میں جیت کے ذریعے اقتدار میں آئی اور یوں فوجی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ تاہم اس منتخب حکومت کا اوّلین دور فوج کی زیرنگرانی ہی گزرا۔

انتہا پسندی اور مالیاتی بحران کا سامنا کرنے والے پاکستان کے صدر آصف زرداری کی مقبولیت ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات سے جڑی ہے۔ اس نوعیت کے مقدمات پر وہ جیل بھی جا چکے ہیں جبکہ سرکاری معاہدوں میں کمیشن وصول کرنے کی بنیاد پر انہیں آج بھی 'مسٹر ٹین پرسینٹ' کے طور پر جانا جاتا ہے۔
(بشکریہ ڈوئچے ویلے)
 


:دیگر مضامین
(28.11.2009) عالمی اخبار نے آپ کے لیئے موسم کا حال پیش کیا ہے
(26.11.2009) آج جمعرات کو حج کا رکن اعظم وقوف عرفات ادا کیا گیا
(25.11.2009) حج کے موقع پر حجاج کرام کے نام ایران کے رہبر اعلی کا پیغام
(25.11.2009) سعودی عرب میں 25 نومبر سے مناسک حج کا آغاز
(25.11.2009) اسلامی تاریخ کا 1422واں حج آج بدھ سے شروع ہو رہا ہے
(24.11.2009) غلام مصطفی جتوئی مرحوم کی لندن کی ایک اہم تصویر
(23.11.2009) مسلمانوں کا امیج اور مغربی ذرائع ابلاغ
(22.11.2009) قاہرہ میں اہرام مصر پر ریکارڈ شدہ دو غزلیں۔وڈیو میں
(21.11.2009) نیٹو کے بغیر افغانستان بکھر جائے گا ،ملی بینڈ ۔از؛ ندیم گِل
(21.11.2009) چن ماہیا تری راہ پئی تکنی آں۔
(20.11.2009) قاہرہ کی تاریخی جامع مسجد ''الاظہر''میں چند گھنٹے
(19.11.2009) کی سا دا وساہ ماہیا۔ہیر رانجھا
(19.11.2009) حامد کرزئی کی تقریب حلف برداری۔از؛ عاطف بلوچ
(19.11.2009) محفل موسیقی میں آصف رضا کا 4 گھنٹے گائیکی کا منفرد مظاہرہ
(18.11.2009) ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ ۔از؛ نازیہ جبیں
(17.11.2009) واٹیکان سٹی اور کشمیر۔ از؛آغا سید عبدالحسین بڈگامی
(17.11.2009) جی یہ کریلا نہیں کیرالا ایر ویز ہے
(15.11.2009) ماسٹر بلاسٹر سچن ٹنڈولکر کے 20 سال ۔از؛ گوہر نذیر گیلانی
(15.11.2009) سرکاری کانوں میں جتنا جی چاہے چیخو
(14.11.2009) مشتبہ دہشت گردوں پرمقدمہ چلانےکے فیصلے پر تنقید ۔از؛ ندیم گل



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں