16.10.2026, 12:52pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

دامادِ حسین ۔سیدنا قاسم
22.05.2009, 01:19am , جمہ (GMT+1)

پیر سید علی عباس شاہ۔سجادہ نشین آستانۂ عالیہ کندھانوالہ شریف
 

مملکت آذربائیجان کے فرمانروا فضل بن عامر کا اکلوتا صاحبزادہ شکار کی غرض سے گیا اورشکار کھیلتے ہلاک ہو گیا۔سات بہنوں کا اکلوتا بھائی تاج وتخت مملکت کا جانشین تھا اور رعایا میں انتہائی مقبول تھا۔پوری سلطنت میں کہرام برپا ہو گیا کہ شہزادہ دنیا سے چل بسا ۔ہر کوئی گریہ زاری میں مصروف تھا مگر بادشاہ پر سکتہ طاری تھا ۔اس نے اپنے درباری علماء سے کہا کہ میں نے تمہیں اتنی مراعات دیں اور تمہارے لئے خزائن مملکت کے منہ کھولے ،تم سب مل کر میرے بیٹے کو زندہ کرو۔علماء سرگوشیاں کرنے لگے اور بادشاہ کی ذہنی کیفیات کا مذاق اڑانے لگے ۔ یہ دیکھ کر بادشاہ کے ایک مشیر، ابن سلامہ نے کہا ،

’’حضور! آپ خوا ہ مخواہ ان پر وقت ضائع کر رہے ہیں ،میرے ذہن میں ایک تجویز ہے ،اگر ہو سکے تو کر دیکھیں ‘‘،بادشاہ نے پوچھا ،’’وہ کیا ؟‘‘،۔کہنے لگا ،’’پیغمبر اسلام محمد مصطفٰی کے ایک جانشین گزرے ہیں جن کا نام علی تھا۔ظل الٰہی !اس وقت علی کے بڑے صاحبزادے حسن ہیں ،ان سے درخواست کیجئے تو آپ کی مشکل حل ہو سکتی ہے ‘‘۔ ’’ان سے رابطے کا کیا ذریعہ ہے؟ ‘‘بادشاہ نے پوچھا۔ابن سلامہ نے کہا ،’’وہ مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور دلوں کے بھید جانتے ہیں،یہیں کھڑے ہو کر استغاثہ کرتے ہیں ‘‘۔

ابن سلامہ نے استغاثہ کیا ۔ابھی استغاثہ ختم نہ ہوا تھاکہ اچانک صدا آئی ،’’سر اٹھاؤ ،مجھے کیوں بلایا ہے ‘‘۔پوچھا،’’آپ کون ہیں؟‘‘۔ فرمایا،’’میں وہی حسن ابن علی ہوں جسے بلایا تھا ‘‘۔ابن سلامہ اور فضل ابن عامر نے سلام کیا اور حضرت کو تابوت کے قریب لائے جس پرفضل ابن عامر کے بیٹے کی لاش رکھی تھی ۔جانشین مصطفٰی تابوت کے قریب آئے اور قدم مبارک کی ضرب لگا کر فرمایا ،
’’قُمْ بِِاِذْن اللّٰہ وَ باِذْنِحَسَنْ اِبْنِِعَلِیْ ‘‘
اللہ کے اذن سے ،علی کے بیٹے حسن کے اذن سے اٹھ ۔فضل ابن عامر کا بیٹا اٹھ کھڑا ہوا اور امام حسن مجتبیٰ علیہ التحیۃ ُوالثناء کے قدموں پر گرکے کہا ،
’’اَشْھَدُاَنْ لَااِلٰہَ اِلّااللّٰہْ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًَاعَبْدُہُ وَرَسُوْلُہْ وَاَشْھَدُاَنَّکَ وَلِیُّ اللّٰہ وَالْمُقْتَدَرعَلیٰ اَحْیَائِ الْاَمْوَات ‘‘
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کی سوا کوئی معبود نہیں ،وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے عبداور اس کے رسول ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے ولی ہیں اور مردوں کے زندہ کرنے پر قادر ہیں ۔یہ سن کر سیدنا امام حسن مجتبیٰ نے فرمایا ،
ٍ ’’اِنَّ اللّٰہ مُحْیِ الْنُّفُوْسَ وَنَحْنُ قُدْرَتُہْ ‘‘
بے شک اللہ نفوس کو زندہ کرتا ہے اور ہم اس کی قدرت ہیں ۔یہ فرما کر آپ کچھ دیر مہمان رہے اور جب روانہ ہونے لگے تو حاکم آذربائیجان ،فضل ابن عامر نے تحائف کا انبار پیش خدمت کیا اور اپنی ایک صاحبزادی ،’’رملہ ‘‘کا عقد بھی آپ سے پڑھایا ۔سیدنا امام حسن ،اپنی زوجۂ معظمہ رملہ کو لے کر مدینہ تشریف لائے ۔کچھ وقت گزرا تو آغوش رملہ میں ایک کلی مہکی جس کا نام سیدنا حسن مجتبیٰ نے فروہ رکھا اور اس بچی کی وجہ سے حضرت رملہ کی کنیت مبارکہ ،’’ام فروہ ‘‘معروف ہو گئی ۔

کچھ دن گزرے کہ سید ہ فروہ کا انتقال ہو گیا اور سیدہ ام فروہ اداس رہنے لگیں ۔سات شعبان المعظم،سینتالیس ہجری کوآپ حضرت
امام حسن کی خدمت میں آئیں اور خاموشی سے بیٹھ گئیں ۔آپ کے کلام کرنے سے قبل سیدنا امام حسن نے فرمایا،’’ام فروہ !بیٹا چاہئیے ‘‘۔ مخدومہ نے سر جھکا دیا اور فرمایا،’’مولا!بیٹی تو اللہ نے واپس لے لی ہے ،اکیلے گھر میں اداس رہتی ہوں اور پھر کس ماں کو بیٹے کی خواہش
نہیں ہوتی ‘‘۔سیدنا امام حسن نے فرمایا ،’’اچھا ام فروہ !آپ یہ چاہتی ہیں کہ آپ کو ابھی بیٹا مل جائے ؟‘‘ پھر آپ نے ید اللّٰہی دست مبارک بلندکیا،چند لمحے دیکھا ،پھر پہلے اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور پھر جناب ام فروہ کی پیشانی پر پھیرا ۔سیدہ ام فروہ فرماتی ہیں،
’’احَاطَ بِیْ نُوْرُاَحْمَرْ وَنُوْرًُاَخْضَرْوَنُوْرُاَبْیَضْ حَیْثُ لَا تَطِیْقُ بِہِ الْاَبْصَار‘‘

ادھر سیدنا حسن نے ہاتھ ہٹایا ،سرخ رنگ کا نور ،سبز رنگ کا نور ،سفید رنگ کا نور ،ان انوار نے مجھے گھیر لیا کہ میری آنکھیں
چندھیانے لگیں ،مجھے کچھ نظر نہیں آتا تھا ۔میری آنکھیں خیرہ ہوگئیں ۔امام نے مسکرا کے فرمایا ،’’سَیْریْ اِلَی الْحُجْرَہْ‘‘،’’میں نے دیکھا کہ میرے حجرے میں ایک ناف بریدہ ،مختون صاحبزادہ میری آغوش میں آگیا ۔میں جلدی جلدی مولا حسن کی خدمت میں لے آئی ۔’’اَذَّنَ فِیْ اُذْنِہِ الْیُمْنیٰ ،اِقَامَ فِیْ اُذْنِہِ الْیُسْرَیٰ ‘‘،مولا نے دائیں کان میں اقامت کہی اور بائیں کان میں اقامت ۔پھر فرمایا ،
’’جاؤ میرے خاندان والوں کو مبارکباد دو اور میرے اس صاحبزادے کا اسم گرامی قاسم رکھ دو‘‘۔

سیدنا قاسم سن دنیا کے تیسرے برس میں تھے کہ پچاس ہجری میں سیدنا امام حسن مجتبیٰ ، زہر جفا سے شہید ہو گئے ۔آپ ،سیدنا اما م
حسین کی زیر سرپرستی پروان چڑھے ۔سیدنا قاسم ابن الحسن ،سن دنیا کے چودہویں برس میں تھے کہ اکسٹھ ہجری میں میدان کربلا میں خونریزمعرکۂ حق وباطل درپیش ہوا۔سیدنا قاسم نے والد گرامی کی تحریر سیدنا امام حسین کی خدمت عالیہ میں پیش کی ۔شاہِشہیداں نے اس مکتوب گرامی کو دیکھا تو زاروقطار روتے فرمایا،

’’جان عم!یہ آپ کے لئے آپ کے والد کی وصیت ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ اس پر عمل کریں ،انہوں نے مجھے بھی آپ کے بارے میں
دوسری وصیت کی ہے اور میں بھی اسے بجا لانے کا ارادہ رکھتا ہوں اور ایک ساعت خیمہ کے اندر جا کر وصیت کو پورا کروں گا ‘‘۔

َِمَرجَ الْبَحر یْن عقد مبارک:

سیدنا امام حسین ،شہزادہ قاسم کا دست مبارک پکڑ کر خیمہ کے اندر لے گئے اور اپنے بھائیوں سیدنا عباس بن علی ،اور حضرت عون فرزند سیدہ زینب بنت علی کو بلا کر سیدہ ام فروہ سے فرمایا کہ وہ سیدنا قاسم کو نئے کپڑے پہنائیں اور اپنی ہمشیرہ سیدہ زینب سے فرمایا ، ’’میرے بھائی حضرت امام حسن کے کپڑوں کا صندوق لائیں ‘‘۔آپ کی خدمت میں وہ صندوق اسی وقت پیش کر دیا گیا ،آپ نے وہ صندوق کھولا اور اس میں سے سیدنا امام حسن کی زرہ نکالی اور اپنا ایک بیش قیمت پیراہن نکال کر سیدنا قاسم کو پہنایا اور خوبصورت دستار نکال کر دست امامت سے ان کے سر پر باندھی ۔پھر آپ نے اپنی لخت جگر سیدہ فاطمہ کبریٰ صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہا کا دست مبارک پکر کر فرمایا،
’’قاسم !یہ آپ کے والد کی امانت ہے جنہوں نے آپ کے لئے وصیت کی ہے ‘‘،پھر سید الشہداء نے خطبہ مبارک پڑھ کر سیدنا قاسم کا عقد مبارک ، سیدہ فاطمہ کبریٰ سے فرما دیا ۔

تمنائے شہادت :

شب عاشور ،سیدنا قاسم نے سیدالشہداء کی بارگاہ میں عرض کیا ،’’چچا جان!کیا کل میںبھی قتل ہونے والوں میں شامل ہوں گا ؟‘‘۔
امام عالیمقام نے یہ سن کر گریہ فرمایا اور دریافت کیا،’’کَیْفَ الْمَوْتُ عِنْدِکْ؟‘‘ ، ’’آپ کے نزدیک موت کیسی ہے ؟‘‘ ۔عارفِحق نے متانت سے
جواب دیا ،’’یَاعَمَّاہ!اُحَلّیْ مِنَ الْعَسْل‘‘،’’چچا جان!شہد سے زیادہ میٹھی ہے ،اگر آپ یہ فرمائیں کہ میں کل شہید ہو جاؤں گا تو یہ میرے لئے خوشخبری ہو گی ‘‘۔آپ نے فرمایا،’’امَّابَعْدَانْ تبْلُوْابِبَلَائِ عَظِیْم‘‘،’’جی بیٹا!مگر بہت ذیادہ دکھ جھیلنے کے بعد،ایک بہت بڑی مصیبت اٹھانے کے بعد ‘‘۔سیدنا قاسم نے فرمایا ،’’خدا کا شکر ہے کہ ایسا حادثہ پیش آنے والا ہے ‘‘۔

نوشہ سوئے مقتل :

دس محرم الحرام ،سیدنا امام عالیمقام نے فرزند امام حسن مجتبیٰ کو اپنی تیغ آبدار دے کر روانہ کیا ۔شیر خدا کے پوتے کی آمدکا حال کتب تاریخ نے حمید ابن مسلم کی زبانی ان الفاظ میں بیان کیا ہے ،
’’خَرَجَ اِلَیْنَاغُلَامُُ کَانَّ وَجْہَہُ شَقَّہُ قَمَرِِ ،فِیْ یَدِہِ الْسَّیْفُ ،عَلَیْہِ قَمِیْصُُ وَاِزَارُوَنَعْلَانِِ،قَدِ انْقَطَعَ شَسْعُ اَحَدِھِمَامَااَنْسِیْ اَنَّھَاالْیُسْرٰی‘‘
جب وہ نوجوان میدان میںآئے تو ان کا چہرہ چاند کی طرح چمک رہا تھا ،ہاتھ میں تلوار تھی ،قمیص اور تہہ بنداور جوتے پہنے تھے ،
مجھے اچھی طرح یاد ہے کے ان کے بائیں پاؤں کے جوتے کا تسمہ ٹوٹا ہوا تھا ۔

رجز:

داماد حسین نے میدان میں پہنچ کر رجزیہ اشعار کہے،
انْ تَنْکرُوْنِیْ فَاَنَا اِبْن الْحَسَنْ سِبْطَ الْنَّبِیِّ الْمُصْطفٰی الْمؤْتمن
ھٰذَاالْحُسَیْن کَا لْاَسِیْر الْمُرْتَھَنْ بَیْنَ اُنَاسِ لَاسقوْا صَوْبَ الْمَزن
خدا کے باغیو ! میں آگیا ! ہوشیار ہو جاؤ اجل سے جنگ لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ
جسے ہر ایک پڑھ سکتا ہے وہ حرفِ جلی میں ہوں ارے اندھو!جگر بند حسن ابن علی میں ہوں
میں اک ادنیٰ سپاہی ہوں محمد کے گھرانے کا طریقہ مجھ کو آتا ہے سر باطل اڑانے کا
ارے قاسم ہوں میں تم کو ابھی تقسیم کر دوں گا جو سالم روبرو آئے گا میں دونیم کر دوں گا

داد شجاعت :

آپ نے رہوار کو ایڑ لگائی اوراس کی جولانیاں دکھاتے منافقین کے سامنے آئے ۔جنگ چھڑنے پر آپ نے بہت سے سر تن سے جدا کر دیئے اور بہت سے نامور بہادرفی النار کر کے لشکرِاغیار میں کھلبلی مچا دی ۔کچھ دیر پیچھے ہٹ کر دم آراستہ کیا ،پھر آگے بڑھے اور فرمایا ،’’او یزیدیو!میں ہاشمی ہوں اور ہاشمی نوجوانوں کی شان یہ ہے ،
خدا کا قہر بن جاتے ہیں یہ میدان میں آکر در خیبر الٹ دیتے ہیں یہ نان جویں کھا کرنہ یہ مغلوب ہوتے ہیں ،نہ یہ محصور ہوتے ہیں خدا کا حکم آجائے تو پھر مجبور ہوتے ہیں
یہ فرما کر آپ نے قلب لشکر پر حملہ کر دیااوراس شدت سے شجاعتِ حیدر کرّا ر کا مظاہرہ کیا کہ الفاظ نہیں ملتے ۔
غرض اک برق سی لہرا کے کوندی جا بجا رن میں سوا اس کے نہیں دیکھا کسی نے کیا ہوا رن میںبہادر بزدلی کی داستاں کہتے ہوئے بھاگے ستمگر ا لحفیظ و الاماں کہتے ہوئے بھاگے۔نہ اب تھا میمنہ ،نہ میسرہ ہی اپنی جا پر تھا سپہ کے ساتھ خود سالار بھی دوشِ ہوا پر تھا
آپ نے عمر ابن سعد کو آواز دی اور فرمایا،’’اے جفا کار وبے وفا اور تیرۂ روزگا ر ودور از صفا !تو نے امام عالیمقام کے بہت سے بھائیوں ، غلاموں،دوستوں اور محبوں کو شہید کر دیا ہے اور آپ کے خویش واقربا سے بھی کئی لوگ شہید ہو چکے ہیں،چند پریشان حال باقی ہیں،کیاابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تو ہم سے ہاتھ اٹھا لے اور اپنے ان مکاروں کے ساتھ کوفہ چلا جائے اور ہمیں اس تشنگی اور بے سروسامانی کے عالم میںچھوڑ کر اپنے کئے پر نادم وپشیمان ہو جائے ۔اے سالار لشکر !تیرے لشکر کو کیا ہوا ؟یہ مرد میدان کس طاقت سے خوفزدہ ہو کر بھاگے ہیں ،وہ کون سی چیز ہے جس نے تیری فوج کو ہراساں کر دیا ۔اے کم نظر بتا کہ اس کا کیاسبب ہے؟ارے ناداں تو کار قدرت کیا سمجھے گا ؟سُن میں بتاتا ہوں ،
تو سمجھا ہے جسے شاید میرے شمشیر کے جلوے وہ جلوے تھے حقیقت میں غمِ شبیر کے جلوے
یہ تھی بس اک ذرا سی بندۂ رحمان کی قوت بدی کے بالمقابل نیکی و ایمان کی قوت
مگر خائف نہ ہو ،اے بے خبر !ہم جانے والے ہیں نہ گھبرا ہم کوئی دم میں شہادت پانے والے ہیں
غرض المختصر جلدی کسی کو بھیج دے رن میں تمنا ہو تو خود آ کر تماشا دیکھ لے رن میں
ابن سعد نے جواب دیا ،’’کیا آپ کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ نافرمانی کو چھوڑتے ہوئے اپنے حال کے انجام کو دیکھیں اور اپنے اقربا کی سلامتی کا خیال کریں اور یزید کی بیعت اور ابن زیاد کی متابعت کر لیں؟‘‘۔داماد حسین نے اس پر اور اس کے امراء پر لعنت کرتے ہوئے فرمایا،’’ اے شقی !تو نے دین کو دنیا کے بدلے فروخت کر دیا اورمتاع امانت کو آتش خیانت سے جلا ڈالا ہے۔اس بوڑھی غدار دنیا پر فریفتہ ہو کر تو نے دنیا کی چاہت کا فرمان، غرورکے ہاتھوں لکھا اور نہیں جانتا کہ یہ جس کے نکاح میں آتی ہے اس کے ساتھ دو یا تین روز سے زیادہ نہیں رہ سکتی ‘‘۔

پھر فرمایا،’’اے ابن سعد !آج تو نے اپنے گھوڑے کو پانی پلایا ہے ؟‘‘۔ابن سعد نے کہا ،’’ہاں!پہلے پانی پلایا ہے پھر اس پربیٹھا ہوں ‘‘۔سیدنا قاسم نے فرمایا ،’’اے ابن سعد !تجھ پر افسوس ہے کہ تو دعویٰ مسلمانی کا کرتا ہے جب کہ تو نے اپنے گھوڑے کو سیراب کر لیا اور شہسواران ولایت کوتشنہ رکھا ،اہلبیت کی خواتین اور بچے پیاس سے جاں بہ لب ہو گئے اور تو نے ان سے پانی کو روک رکھا ہے ۔تو نے اذْکرْکم اللّٰہ فِیْ اَہْلِ بَیْتِیْ کی نصیحت تذکیر کوبھلا دیا ہے ۔ قیامت کی تشنگی کے بارے میں غور کر اور ساقیء کوثرکے سامنے آنے والی شرمندگی کو یاد کر ‘‘۔
یہ سن کر شمر نے اپنی فوج سے کہا ،’’اس سوار کو پہچانتے ہو ؟یہ قاسم ابن حسن ہے،جو جنگ کے دن الماس فعل،زمرد فام تلوار کو دیکھے تو بوسہ ء کاری لینے سے اسے حسینوں کے لب لعل بنا دے اور اگر پیچ وتاب کمند اس کی نظر میںآجائے تو اسے حلقہ چین زلفِشاہِ ترکستان کا ماہر کر دے جس کے ساتھ دست وبازو رغبت نہ رکھیں۔تم اکیلے اکیلے اس کے سامنے نہ جاؤ اور تدبیر یہ کرو کہ اسے گھیرے میں لے لو ‘‘۔لشکر ابلیس نے ترساں وہراساں یہ عزم کیا اور سیدنا قاسم کی طرف چڑھ آئے ۔

سیدنا قاسم خیمۂ عروس میں:

سیدناقاسم نے دیکھا کہ مقابلہ کے لئے کوئی نہیں آرہا تو خیمۂ عروس کا رخ کیا ۔خیمہ کے سامنے پہنچے تو دیکھا کہ آپ کی زوجۂ معظمہ ،بنتِحسین سیدہ فاطمہ کبریٰ رو رہی ہیں اور آپ کی آنکھوں سے حسرت کے آنسو ان کے چہرے پر بہہ رہے ہیں ۔سیدنا قاسم ،گھوڑےسے اتر کر ان کے پاس گئے اور فرمایا،’’اے دختر عم !اے انیس دلِ پرغم!نہ بیٹھنے کا مقام ہے اور نہ ہی بات کا یارا ،دشمن کی فوج چیرہ دستی اور سرکسی پر آمادہ ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تیغ آبدار کی صولت سے ان کی جرات کی آگ کو ٹھنڈا کروں اور حقیقت یہ ہے کہ میں آپ کی مفارقت کا ختیار نہیں رکھتا ‘‘۔پھر سیدنا قاسم نے انہیں رخصت کیا اور دوسری بار میدان میں تشریف لا کر مقابلے کی دعوت دی ۔

شجاعتِ قاسم :

سیدنا قاسم میدان میں تشریف لائے تو کسی کو آپ کے مقابل آنے کی ہمت نہ ہوئی ۔آپ کے غضب کی آگ کا شعلہ لپکنے لگا ،
جلالِ حیدر کرّار کے آثار نمایاں ہوئے اور آپ نے چار مرتبہ لشکر یزید کے میمنہ،میسرہ اور قلب پر حملہ کیا اور بہت سے بہادروں کو مٹی کے برابر کر دیا ۔آپ ہر مرتبہ میدان میں کھڑے ہو کر مبارزطلبی کرتے ۔آپ نے مقابلے کی دعوت دی تو ابن سعد نے لشکر شام کے ایک سپہ سالار ارزق سے کہا،
’’اے ارزق !توہر سال یزید سے دس ہزار دینار لیتا ہے اور اپنی شجاعت کی آوازشام وعراق کے بہادروں کو پہنچاتا ہے ،کیا تو میدان میں
جا کر اس جوان کا کام تمام نہیں کر سکتا ؟۔ارزق نے کہا،’’اے ابن سعد!تیری یہ بات عجیب ہے ،وہ شخص جو مصر وشام کی ولایت میں ایک ہزارسوار کے برابر گنا جاتا ہے کیا اسے تو ایک بچے کے ساتھ جنگ کے لئے بھیج رہا ہے اور تو چاہتا ہے کہ میرا نام و ناموس ختم کر دے ،میرے لئے اس لڑکے کے ساتھ جنگ کرنا باعث ننگ وعار ہے‘‘۔ابن سعد نے استہزائیہ کہا،’’اے بدبخت !تیری زبان بند ہو جائے ،یہ شیر خدا کا پوتا ،حسن مجتبیٰ کا بیٹا اور نبیرۂ رسول ہے ۔خدا کی قسم!اگر یہ پیاسا نہ ہوتا تو اسے ہمارے ساتھ بات کرتے ہوئے بھی عار محسوس ہوتی ،جااور بہانہ نہ بنا، تا کہ تو یزید کے نزدیک محترم اور ابن زیاد کے نزدیک محتشم ہو جائے ‘‘۔

ارزق نے کہا ،’’تو خواہ میرے اعضاء کے ٹکرے ٹکڑے بھی کر دے تو بھی میںاس کے ساتھ جنگ کے لئے نہیںجاؤں گا ۔اگر تو ضد کرتا ہے تو میرے چار بیٹے ہیںجوسب کے سب شجاع ہیں ،ان میں سے کسی ایک کو بھیجتا ہوں تا کہ ا س کا سر لے آئے اور تیرا دل اس فکر سے آزاد ہو جائے ۔پھر اس نے اپنے بڑے بیٹے کو بلایا اور اپنے گھوڑے سے اتر کر اسے سوار کیا اور اپنی شمشیر اس کی کمر پر باندھی ۔ارزق کا بیٹاتنگ حلقے کی زرہ اور فولادی خود اور زریں ساقین وساعدی پہنے میدان کی طرف نکلا ۔اس نے سونے کا کمر بند باندھا ہوا تھا اور اٹھارہ گز کا نیزہ ہاتھ میں لئے ہوئے تھا ۔تیر وکمان اور ترکش ،زہر آلود تلوار حمائل کئے ہوئے دیو کی طرح جھومتا ،پوری آراستگی کے ساتھ گھوڑے کی جولانیاں دکھاتا ہوا آیا اورچودہ سالہ دامادِ حسین کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔دوسری طرف ابن حسن ،تہہ بند باندھے ، گریباں چاک،نعلین کا تسمہ ٹوٹا ہوا ،سر پرعمامہ پیوند لگا ہوا ،ہاتھ میں آپ کے پاس نہ تو سن تھا نہ جوشن تھا ،بکتر تھا نہ خنجر تھا ،برچھی تھی نہ بھالا تھا ،
نہ کاندھے پر کوئی ترکش نہ کوئی تیر ہاتھوں میں اگر کچھ تھا تو بس دو ہاتھ کی شمشیر ہاتھوں میں سیدنا قاسم نے اسے اس شکوہ وآراستگی کے ساتھ دیکھا تو ذرہ برابر فکر نہ کیا ۔ارزق کے بیٹے نے آتے ہی نظروں ہی نظروں میں سیدنا قاسم کا جائزہ لیا اور نیزے کا وار کر دیا ۔آپ نے وار خالی دیا ۔ اس نے نیزہ پھینک کر تلوار تھام لی اور تلوار کا وار کیا ۔سیدنا قاسم نے ڈھال آگےکر دی۔ارزق کے بیٹے کے وار نے ڈھال کے دو ٹکرے کر دیئے اور آپ کے دست مبارک کی پشت پر زخم آگیا ۔آپ نے دستار پھاڑ کر زخم پر پٹی باندھی اور اپنے مد مقابل کو آواز دی ۔ارزق کے بیٹے نے دوسری مرتبہ حضرت قاسم پر وار کرنا چاہا تو اس کا گھوڑا سیخ پا ہو گیا اور وہ گھوڑےکی پشت سے نیچے گر پڑا ۔اس کا خود سر سے اتر گیا ،سر ننگا ہوا تو اس پر لمبے لمبے بال تھے ۔سیدنا قاسم نے گھوڑے کی پشت سے جھک کرہاتھ بڑھایا اور اس کے بالوں کو پکڑ کر ہاتھ میں لپیٹ لیا ۔آپ کا گھوڑا بھڑک اٹھا اور اسے میدان میں دور تک گھسیٹتا چلا گیا ۔پھر آپ نے اسکے بال چھوڑ دیئے تو اسے گھوڑے نے لتاڑ ڈالاجس سے اس کا بازوبند ٹوٹ گیا اور اس کے تمام اعضاء ٹوٹ پھوٹ گئے ۔فاتحِکارزارنے مفتوح کی تیغ وسناں اٹھا لی ۔
ارزق نے اپنے بیٹے کو ذلت سے قتل ہوتا دیکھا تو زاروقطار رونے لگا ،اس کے دوسرے بیٹے نے باپ کو روتا دیکھا تو بغیر اجازت لئے میدان
میں پہنچ گیا اور سیدنا قاسم کے پاس جا کر کہا ،’’ اے لڑکے !تو نے ایسے جوان کو قتل کیا ہے جس کی نظیر پوری ولایت شام میں نہ تھی،تم نےمیرے شیر جیسے بہادر بھائی کو قتل کیا ہے ،میں تیری ایک ایک بوٹی کے سو سو ٹکڑے کر کے تیرا قیمہ بنا دوں گا ‘‘۔سیدنا قاسم نے بڑے پروقار انداز میںفرمایا ،’’اے اللہ کے دشمن !میں تجھے بھی تیرے بھائی کے پاس ابھی پہنچا دیتا ہوں ‘‘۔حیدرِکرّار کے بپھرے شیر نے اس کے پہلو پر نیزہمارا جو اس کے دوسرے پہلو کے پاس نکل گیا ۔یہ نیزہ ارزق کے بڑے بیٹے کا تھا اور بہت لمبا تھا جو سیدنا قاسم نے اسے فی النارکرنے کے بعد ہاتھ میں اٹھایا تھا ۔ پھر آپ نے تیسری بار مبارزطلبی کی تو اس کا تیسرا بھائی کپڑے پھاڑ کر اورسر پر مٹی ڈال کر شور مچاتا اپنے باپ کے پاس آیا اور جنگ کی اجازت مانگی۔اس کا باپ اس کے ساتھ انتہائی محبت کرتا تھا لہٰذااس نے اسے جنگ کی اجازت نہ دی ۔اس نے اپنے باپ کی بات نہ مانی اور گھوڑے کو تازیانہ لگا کر گالیاں دیتا سیدنا قاسم کے سامنے آگیا ۔حضرت قاسم نے جب اس کی بیہودہ گفتگو سنی تو اس کے پیٹ میں نیزہ ماراجو اس کی پشت کے پار نکل گیا ۔

ارزق نے دیکھا کہ اس کا تیسرا بیٹا بھی فی النار ہو گیا ہے تو اس نے گھوڑے سے اتر کر سر پر مٹی ڈالی اور اسلحہ پہن کرحضرت قاسم سے جنگ کرنے کے لئے میدان میں آگیا ۔اس کے چوتھے بیٹے نے باپ کو اس حال میں دیکھاتو باپ سے پوچھے بغیر گھوڑے کو ایڑ لگائی اورحضرت قاسم کے سامنے پہنچ کر گالیاں بکنے لگا ۔سیدنا قاسم نے گالیوں کا جواب دینے کی بجائے اسے جنگ کی دعوت دی ۔ارزق کے بیٹے نےآپ پرنیزے سے وار کیاتو آپ نے اپنی تلوار کا وار کر کے اس کا دایا ں ہاتھ نیزے سمیت کاٹ دیا ۔وہ بھگوڑا شکست کھا کر خون مین لت پت اپنے لشکر کی طرف بھاگ گیا ۔جب وہ لشکر کے قریب پہنچا تو گھوڑے سے گر کر واصل جہنم ہوا۔

سیدنا قاسم، ارزق کے چاروں ملعون بیٹوں کو جہنم رسید کر چکے تو سینہ تان کر پھر مبازرت طلب کی ۔ارزق انتہائی غصے سے اسلحہ
پہنے ،تازی نژاد گھوڑے پر سوار ہو کر ہاتھی کی طرح چنگاڑتا ،منہ سے کف اڑاتا اور ہذیان بکتا ہوا غصے سے لال پیلا اور غضب ناک ہو کر میدان میں نکلا ۔ارزق ایک دیوپیکر ،ہیبت ناک ،مہیب،بھیانک شکل وصورت کا مالک ،جسیم ولحیم ،پیل تن ،موٹا تازہ ،شحیم اندام ،طاقت ور اورجنگ آزمودہ پہلوان تھا ۔اس کے بارے میں معروف تھا ،غم وغصہ سے جس دم تھرتھراتا رَن میں آتا تھا زمیں کے ساتھ مل کر آسماں بھی کانپ جاتا تھا
امام عالی مقام نے دیکھا کہ کہ چودہ سالہ نوجوان کے مقابلے میں آنے والادیو پیکر ،مشہور زمانہ ارزق پہلوان ہے تو سجدے میں سر رکھ کے دعا مانگی ،’’الٰہی!یہ ارزق شامی بڑا مغرور اور خود سر ، توانا،جری،ستمگر اور ظالم ہے اور اس کے بالمقابل قاسم، نازک اندام،بھوکاپیاسا،غریب الوطن،مسافر بے سروساماں ،یتیم کھڑا ہے ۔خدایامدینے کے اس مسافر کو جام شہادت عطا فرمانے سے پہلے اس کے مدمقابل سورما کےغرور کو خاک میں ملا دے ۔اے رب ذوالجلال !اے خالق موت وحیات !قاسم کی اس درندے سے حفاظت فرما‘‘،
بھرے میدان میںتیغِعلی کی آبرو رکھ لے خدائے لم یزل !اپنے نبی کی آبرو رکھ لے
ارزق میدان میں پہنچ کر سیدنا قاسم کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا ،’’اے بے رحم،سنگ دل لڑکے !تو نے میرے چاروں بیٹوں کوقتل کر دیا ہے جن کی مثال پورے عراق وشام نہ تھی،تیار ہو جاؤ، ملک الموت تمہارے سر پر آن پہنچا ہے ،میںدمشق کا پہلوان ہوں،شام وعراق کے بڑے بڑے بہادر میرا نام سن کر کانپ جاتے ہیں ۔میری تلوار اٹھتی ہے تو پھر دشمنوں کا خون چاٹ کر ہی دم لیتی ہے ۔میرا نام ارزق ہے ۔تم میرے چاربہادر اور شاہ زور بیٹوں کے قاتل ہو ۔میری تلوار اب ان کا خون بہا مانگتی ہے ۔تمہیں قتل کرنے کے بعد اہلبیت کے ایک ایک فردکوموت کی نیند سلا ؤں تو بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو گا ۔ میںجنگی چالوں کا سب سے زیادہ ماہر ہوں۔بڑے بڑے سپہ سالار میرے مشوروں پر عمل کر کے دشمن پر فتحیاب ہوتے ہیں‘‘۔اس کی خرافات یہیں تک پہنچی تھیں کہ داماد حسین نے شانِحیدری سے جواب دیا ،
’’غلط کہتے ہو ،تمہیں نہ تو جنگی چالوں سے کچھ واقفیت ہے اور نہ ہی تم جنگ کرنا جانتے ہو ،غم نہ کرو، تجھے بھی میںان کے پاس پہنچا دیتاہوں ‘‘۔ارزق نے سیدنا قاسم پرنیزے سے حملہ کیا اور وار پر وار کرتا گیا ۔ آپ اس کا ہر وار رد کرتے گئے یہاں تک کہ اس کے بارہ وار خالی گئے ۔پھراس پلید نے غضبناک ہو کر سیدنا قاسم کے گھوڑے کے پیٹ پر نیزہ مارا تو گھوڑا گر پڑا ۔سیدناقاسم پیادہ ہو گئے۔امام حسین نے یہ دیکھ کر اپناگھوڑا سیدنا قاسم کے لئے فوراً میدان میں پہنچا دیا۔ آپ اپنے چچا کے بھیجے ہوئے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ارزق پر حملہ کے لئے سینہ تان لیا ۔
ارزق پہاڑقامت گھوڑے پر بیٹھا تھا جس پر سونے چاندی سے آراستہ مغربی زین رکھی ہوئے تھی ۔ارزق نے سیدنا قاسم پر وار کیا ،آپ نے اس کے پے در پے تین وار خالی کر دیئے اور پھر برقِ سوزاں کی مانند تلوار میان سے باہر نکالی اور بجلی کی طرح کڑکتے ہوئے نعرہ لگایا ،’’ اب سنبھل جا،میں دیکھتا ہوں کہ تو کیا کر سکتا ہے اور بہادروں کے فن سے اپنے پاس کیا رکھتا ہے ‘‘۔ارزق نے اپنی تلوار سیدنا قاسم کے دست مبارک میں دیکھی تو کہنے لگا ،’’اے قاسم !میںنے یہ تلوار ہزار دینار میں خریدی ہے اور ہزار دیناردے کر اسے زہر کی آب دلائی ہے ،اب اسے تیرےہاتھ سے کیسے گراؤں گا ؟‘‘۔سیدنا قاسم نے فرمایا ،’’یہ تلوار تیرے بیٹے کی یادگا رہے ،میں چاہتا ہوں کہ تجھے اسی تلوار سے موت کا شربت پلاکر تیرے بیٹوں کے پاس پہنچا دوں ‘‘۔پھر آپ نے فرمایا،’’ارزق !تو ایک سپاہی ہے ،کیا تیرے لئے یہ جائز تھا کہ سوار ہوتے وقت گھوڑے کے تنگ کیاحتیاط نہ کرتا ،یہاں تک کہ تو اس کی وجہ سے سست ہو گیا ہے اور عنقریب گھوڑے کی زین اس کی پشت سے گرنے والی ہے ‘‘۔ارزق نے جھککر گھوڑے کے تنگ کو دیکھنا چاہا تو سیدنا قاسم نے اس کے جسم کے درمیان پوری طاقت سے تلوار کی ایک شدیدترین ضرب لگائی اور اسےکاٹ کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔لشکر شام سے شور بلند ہوا اور اسی وقت شیرِمجتبیٰ نے اپنے گھوڑے سے چھلانگ لگا کر ارزق کے گھوڑےپر سواری کر لی اور امام عالیمقام کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر لشکر گاہ تشریف لے آئے ۔سید الشہداء کے مقدس لبوں سے نکلی دعا مستجاب ہوئی ،

خدا جانے لب تشنہ سے نکلی تھی دعا پہلے کہ باب عرش سے نکلی تھی مولا کی رضا پہلےہوا اک آن میں وہ دشمنِ ایمان دو ٹکڑے تنِ باطل گرا ہو کر سرِمیدان دوٹکڑے

دامادِحسین نے فرزند رسول کی رکابِ سعادت انتساب کو بوسہ دیا اور آپ کی زبانِ اقدس سے نکلا’’العطش‘‘۔امام عالیمقام نے فرمایا،
’’آپ عنقریب اپنے دادا جان سے جامِکوثرنوش فرمانے والے ہیں اور یہ تمام غم وآلام فراموش کرنے والے ہیں ،جا کر اپنی والدہ سے مل لیجئے ،وہ آپ کے فراق میں روتی اور گریہ زاری کرتی ہیں اور تمام اوقات آہ نالہ میں گذار رہی ہیں ۔آپ کی جدائی کی آگ کا داغِ مصیبت ان کے سینے پر پڑ گیا ہے ‘‘۔سیدنا قاسم ،اپنی والدہ معظمہ ،سیدہ ام فروہ اور زوجۂ عالیہ سیدہ فاطمہ کبریٰ کے خیمہ میں تشریف لے گئے۔راستہ میں آپ نے اپنی والدہ کی آواز سنی جو فرما رہی تھیں ،
’’اے فرزند ارجمند !اے ارمان دل دردمند !آخر آپ کہاں ہیں اور کیوں مجھے اپنا دیدار عزیز نہیں کراتے‘‘۔عروسِ قاسم روتے اور اشکوں کی برسات فرماتے بصد اندوہ آپ کو یاد فرما رہی تھیں۔سیدنا قاسم نے یہ صدائیں سن کر صدائے فغاں بلند کی ۔آپ کی والدہ اور زوجہ آکر آپ سے لپٹ گئیں۔آپ نے ان کی دلداری فرماتے صبر وتحمل کی تلقین کی اور فرمایا،’’اے پیارو !آج وہ دن ہے کہ نسیم سرور وشادمانی ، قلوب و صدورکے باغ پر نہیں چلے گی اور شمیم فرحت ومسرت ،ارواحِارباب مہر و محبت کے نشان تک نہیں پہنچے گی ۔جیسا کہ آپ کی زندگانی کا چمنسرسبز نہیں رہا، میری کامرانی کا گلشن بھی بے طراوت ہو گیا ہے ، جیسا کہ آپ کو میری تنہائی برداشت کرنے کی طاقت نہیں مجھ سے بھی قوت شکیبائی نے کنارا کر لیا ہے ،مگر یہ دوری ،بدیہی اور اضطراری ہے اور یہ مفارقت بے اختیاری کی بنا پر ہے ۔آب وگِل کا رخ میدان کی طرف ہے اور جان ودل کی توجہ جانان کی طرف ہے ‘‘۔یہ فرما کر سیدنا قاسم ابن حسن عازم میدان ہوئے ۔

آخری حملہ:

دامادِحسین میدان جنگ میں تشریف لائے تو آپ کی عقابی نگاہ ابن زیادکے جھنڈے پر پڑی جو عمر ابن سعدبن ابی وقاص کے سر پر لہرا رہا تھا ۔آپ نے گھوڑے کی لگام اس جانب موڑدی اور اس نشانِ خباثت کو جھکانے کے لئے مصروف کارزار ہو گئے ۔ایک مرتبہ آپ نے اس فوج کے درمیان نگاہ ڈالی تو وہ پرچمِ ابلیس اوجھل ہو چکا تھا ۔آپ نے چاہا کہ پرچم بردار تک پہنچ کر پرچم جھکا دیں اور اس ارادے کی تکمیل کی
خاطر قلبِ لشکر پہ حملہ آور ہوئے کہ پیادوں نے آپ کا راستہ روک لیا ۔آپ ان کے ساتھ مشغولِجہاد تھے کہ سواروں نے آپ کے گرد گھیرا ڈال لیااور تیر و نیزہ اور گرز وشمشیر سے آپ پر وار کرنے لگے ۔سیدنا قاسم نے بحرِمبازرت میں غوطہ زن ہو کر تقریباًتیس پیادوں اور پچاس سواروں کوجہنم رسید کرتے لشکرِشام وعراق کودرہم برہم کر دیا۔اسی اثنا میں لشکر یزید نے آپ کے رہوار پر تیروں کی برسات کر دی اور آپ کا گھوڑا گر پڑا ۔
عمر وبن سعدبن فضیل ازدی نے چھپ کر آپ کے سر اقدس پرتلوارکی ضرب لگائی ۔شیث بن سعد نے آپ پر نیزے کا وار کیا جو آپ کی پشت سے پار ہو گیا ۔

شہادت :

سیدنا قاسم کو اس ہولناک معرکہ میں ستائیس کاری زخم آچکے تھے اور آپ کا بہت زیادہ خوان بہہ چکا تھا۔آپ گھوڑے سے منہ کے بل زمین پر تشریف لائے اور پکارا،’’یا عماہ‘‘،’’اے میرے چچا جان‘‘ ۔امام عالیمقام کے مقدس کانوں میں یہ صدا پہنچی تو آپ گھوڑا دوڑاتے میدان میں پہنچ گئے اور پیادوں اور سواروں کی صفوں کو درہم برہم کردیا۔اس موقع کو الفاظ تاریخ میں یوں بیان کیا گیا ہے ،
’’فَجَلَّی الْحُسَیْنُ کَمَایُجَلّیِِِِالْصَّقَرُ،ثُمَّ شَدَّشِدَّۃَلَیْثِ اَغْضَبَ ‘‘
امام حسین، اسطرح جھپٹ کے آئے جیسے شہباز آتا ہے اور آپ نے غضبناک شیر کی طرح حملہ کیا ۔
عمرو بن سعد بن فضیل ازدی پر تلوار سے حملہ کیا ۔اس نے تلوار کو ہاتھ سے روکا ۔اس کا ہاتھ کہنی کے پاس سے کٹ گیا ۔وہ چلاّتا
ہوا وہاں سے ہٹ گیا ۔کوفے کے سواروں نے اسے امام کے ہاتھوںسے بچاکر لے جانے کے لئے اپنے اپنے گھوڑے دوڑائے ۔کوفے کے سواروں کے گھوڑے اس دشمن رسول کی طرف پلٹ پڑے اور وہ بدبخت اپنی ہی فوج کے گھوڑوں کے سموں تلے کچل کر واصل جہنم ہوا۔امام عالیمقام نےسیدنا قاسم کو خاک وخون میں غرق دیکھا اور شیث بن سعد ،آپ کے سرہانے کھڑا تھا کہ آپ کا سر کاٹ کر لے جائے ۔فرزند حیدرکرّار نے اسبدبخت پر ذوالفقارِحیدری کی کاری ضرب لگائی اور اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا ۔غبار چھٹا تو لوگوں نے دیکھا کہ فرزند رسول اپنے تڑپتےبھتیجے اور داماد کے سرہانے کھڑے تھے اور آپ فرما رہے تھے ،’’بُعْدًالِقَوْمِ قَتَلُوْکَ وَمَنْ خَصَمَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِفِیْکَ جَدُّکَ وَاَبُوْکَ ‘‘،’’بیٹاجن لوگوں نے آپکو قتل کیا ہے ،وہ رحمت خداوندی سے محروم ہیںاور قیامت کے دن ان پر آپ کے جد نامداراور والد بزرگوار آپ کے خون کا دعویٰ کریں گےاورآپ کے قاتلوں سے دشمنی کرنے والے ہوں گے‘‘ ۔اس کے بعد آپ نے فرمایا ،’’عَزَّوَاللّٰہِ عَلیٰ عَمِّکَ اَنْ تَدْعُوْہُ فَلَایُجِِِیْبَکَ،اَوْیُجِیْبَکَ فَلَایَنْفَعُکَ صَوْتُہْ،ھٰذَایَوْمُُ وَاللّٰہِ کَثْرَِ وَاتِرُہُ ،وَقَلَّ نَاصِرُہُ‘‘،’’قاسم !یہ وقت آپ کے چچا پر سخت ہے کہ آپ مدد کے لئے پکاریں مگر وہ آپ کو جواب نہ دیں ،یا جواب دیں لیکن وہ آپ کے لئے سودمندثابت نہ ہو۔قاسم !خدا کی قسم !آج وہ دن ہے کہ آپ کے چچا کے دشمن زیادہ ہیں اور مددگار وناصر کم ہیں ‘‘۔

سیدنا امام حسین نے حضرت قاسم کو اٹھا لیا اور اپنے سینۂ اقدس کے ساتھ چمٹا کر خیمہ کے دروازے پر لے آئے ۔ابھی آپ کے جسد اقدس میں زندگی کی رمق باقی تھی ۔امام نے آپ کا سر مبارک اپنی آغوش اطہر میں لے کر بوسہ دیا ۔سیدنا قاسم کی مادر گرامی اور زوجۂ ذی وقار وہاں کھڑی رو رہی تھیں ۔دامادِ حسین نے آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے بارگاہِ رسالت مآب میں حاضر ہو گئے ۔

سیدنا قاسم کا سر اقدس :

سانحہ ء کربلا کے بعد شہداء اہلبیت اطہار اور ان کے جانثاران کے سرہائے اقدس ،دربار کوفہ میں عبید اللہ ابن زیاد کے سامنے لے جائےگئے۔لشکر یزید کا انٹلیجنس چیف ،حصین ابن نمیررے کا باشندہ تھا ا اور عجمی فوج کا سرکردہ افسر تھا ۔اس نے روانگی کا ارادہ ظاہر کیااوردرخواست کی کہ شہداءِآل رسول کے مقدس سروں میں سے ایک مبارک سر اسے دے دیا جائے تا کہ وہ اسے اپنے ہمراہ عجم لے جائے ۔ درخواست منظور ہوئی۔ابن ذیاد نے حکم دیا کہ ابن نمیر کو خلعت اور دوسرے انعامات کے علاوہ سیدنا قاسم ابن حسن کا سر مبارک دیاجائے اور اسے بڑےاعزاز سے رخصت کیا جائے ۔ حصین ابن نمیر ،مقدس سر لے کر رے کو روانہ ہوا۔جب شہر کے قریب پہنچا تو اپنے آنے کی اطلاع کرتے ہوئے اعلان کرایا کہ علاقہ رے وخار،رامین،دماونداور پہاڑوں پر رہنے والے تمام امراء وبزرگان باہر آئیں ۔یہ خبر ملتے ہی لوگ اس بدبخت کے استقبال کے لئے بھاگ کھڑے ہوئے اوراسے بڑے اعزاز سے شہر لائے ۔
حاکم رے ،طغرل ملعون نے حکم دیا کہ شہر کے تمام بدمعاش وبدقماش لوگ اکٹھے ہو کر قمرِ یوسفِزہراکے سر اقدس کو میدان میںلے جا کر فٹ بال کھیلیں اور ہر ممکن بے حرمتی کریں ۔عاقبت نااندیش لوگوں نے اسی طرح کیا جیسا کہ اس نے کہا تھا ۔ میدان شاہ میراں میںایک غریب ضعیفہ ،جاریہ رہتی تھی جو صحابیء رسول حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کی نسل سے تھی ۔یہ خاتون اپنے جد اعلیٰ کی طرح محبآل رسول تھی۔بد بخت لوگ جب گیند بازی سے تھک جاتے تو فارغ ہو کر گھروں کی راہ لیتے اور مقدس سر اس پاکباز خاتون کے سپرد کر جاتےاور اگلی صبح پھر وہی بے ادبی وگستاخی کا مظاہرہ کرتے اور گیند بازی شروع کر دیتے ۔وہ خاتون اس سر کے بارے میں ناآشنا تھی اور ان شریرلوگوں کے شر سے بچنے کے لئے سر کو اپنی حفاظت میں رکھتی اور اگلے دن ان کے حوالے کر دیتی ۔

ٍ ایک رات وہ اس جگہ گئی جہاں وہ سر اقدس جلوہ فرما تھا ۔کیا دیکھتی ہے کہ پورا مکان کسی چراغ کے بغیر روشنی سے جگمگا رہا ہے ۔غور کیا تو وہ روشنی اس مقدس سر سے نکلتی دکھائی دی ۔یہ دیکھ کر جاریہ دریائے حیرت میں ڈوب گئی اور دل میں سوچا کہ ایسی بزرگی اورکرامت خانوادۂ نبوت کے بغیر کسی دوسرے فرد و بشر سے ظاہر نہیں ہو سکتی ۔اس خاتون نے فورا وہ سر مبارک عطر وگلاب سے دھویا اورتعجب و حیرانی سے اس کی طرف دیکھنے لگی ۔وہ زارو قطار رو رہی تھی کہ اسی حال میں اس کی آنکھ لگ گئی ۔عالم خواب میں دیکھا کہ چھ جلیل المنزلت مستورات اس جگہ تشریف لائیں اور اس سر کے گرد جمع ہو کر گریہ زاری میں مصروف ہو گئیں ۔

ٍ ان خواتین میں سے ایک نے ہاتھ بڑھا کر اس مقدس سر کو اٹھایا ،بوسہ دیا اور رکھ دیا ۔وہ سر گویا ہوااور ان گرامی قدر خواتین کو سلام کر کے ظالموں کے جوروستم کی شکایت کی ۔جاریہ نے یہ ماجرا دیکھا تو اٹھی اور ان معزز خواتین کو سلام عرض کرتے ہوئے سوال کیا کہ یہ سرکس کا ہے ؟آپ کون ہیں اور اس نورانی سر سے آپ کا کیا رشتہ ہے ؟۔ان خواتین میں سے ایک نے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا،’’اے خاتون !یہ حضرت امام حسن کے لخت جگر حضرت قاسم کاسر مبارک ہے جنہیں ظالموں نے صحرائے کربلا میں شہید کر دیا تھا ۔میں رسول اللہ کی لخت جگر سیدہ فاطمہ زہرا ہوں اور یہ میری مہربان وشفیق والدہ مکرمہ حضرت سیدہ خدیجہ کبریٰ ہیں۔یہ حضور سرور کائنات کی والدہ مکرمہ مطہرہ حضرت سیدہ آمنہ صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہا ہیں اور یہ حضرت فاطمہ بنت اسد ہیں جو حضرت علی کی مہربان والدہ مکرمہ ہیں اور یہ حضرت بی بی آسیہ زوجۂ فرعون اور یہ حضرت مریم ، حضرت عیسیٰ کی والدہ مکرمہ ہیں ‘‘۔

اس خاتون کو جب ان مقدس ومطہر خواتین کے بارے میں واقفیت حاصل ہوئی تو ہاتھ بڑھا کر حضرت صدیقہ طاہرہ کی ردا مبارک تھام لی اور عرض کی ،’’یا سیدۃ العٰلمین !آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ میں محب اہلبیت ہوںاور آپ کی کنیزوں کی کنیز ہوں ۔میں خداوند کریم کو گواہ بنا کر عرض کرتی ہوں کہ آپ اپنے ابا حضور کے دربار میں میری کوئی شکایت نہ کریں ۔بے خبری کی حالت میں اس مقدس سر کو میرے سپرد کیا جاتا رہا ،میں اس شرمساری کا کوئی علاج نہیں کر سکتی ۔تب حضرت سیدۃ النساء نے اس عورت کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ،’’بے فکررہو!تم بے قصور ہو ،مجھے علم ہے کہ تمہارا کوئی گناہ نہیں ،میں قیامت کے دن تمہاری شفاعت کروں گی ‘‘۔

جونہی اس عورت نے یہ خوشخبری سنی ،خوشی کے عالم میں خواب سے بیدار ہو گئی اور صبح ہونے تک اس سر مبارک کے پاس بیٹھزاروقطارروتی رہی ۔صبح ہوتے ہی وہ اس غم میں مبتلا ہو گئی کہ اگر وہ ظالم شہزادہ قاسم کا مبارک سر لینے آئے تو میں کس طرح ان کو دوں  گی جبکہ وہ ظالم فٹ بال کھیلتے ہیں۔اس نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور بڑے دکھ سے شہزادہ قاسم کا واقعہ بیان کیا اور کہا ،’’بیٹااگر تو چاہتاہے کہ میںاپنے دودھ کو تیرے لئے حلال کروں تو تُو امامزادہ کی خاطر اپنا سر قربان کر دے تا کہ وہ ظالم امامزادہ کے سر کو دوبارہ میدان میں نہ لےجائیں اور میں چاہتی ہوں کہ ان کے سر کے بدلے تمہارا سر ظالموں کے حوالے کر دوں ‘‘،بیٹے نے پوچھا ،’’ماں!تمہیں یقین ہے کہ یہ سر سید قاسم کا ہے؟‘‘تو اس عورت نے گزشتہ رات کا سارا واقعہ بیٹے کو سنایا ۔جب بیٹے نے ماں سے یہ قصہ سنا تو ماں سے کہنے لگا ،’’اے ماں ! غلاموں کی جان اس وقت کار آمد ہوتی ہے جب آقا کی اولاد سلامت ہو ،اب جلدی کریں اور ان ظالموں کے آنے سے پہلے ہی میرے سر کو تن سے جدا کرد یں اور شہزادہ کے مقدس سر کے بدلے ان کافروں کے حوالے کردیں ،میں اپنی جان شہزادہ قاسم پر قربان کرتا ہوں ‘‘۔
ٍ جب ماں نے فرمانبردار بیٹے کی مرضی معلوم کی تو بہت خوش ہوئی ۔چھری چلا دی اور اپنے بیٹے عبداللہ کا سر تن سے جدا کرتے ہوئے کہا ،’’میرے پیارے بیٹے !جس طرح تو نے مجھے راضی رکھا ہے خدا تجھ سے راضی رہے ‘‘،اس وقت وہ ظالم وہاں پہنچ گئے اور سیدنا قاسم کا سر مبارک طلب کیا ۔اس خاتون نے اپنے لخت جگر کا سر ان ظالموں کو دے دیا اور وہ چلے گئے ۔جب وہ لوگ رے کے میدان میں پہنچ کر کھیلنےلگے تو تھوڑی دیر میں وہ سر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ،وہ ظالم سمجھ گئے کہ یہ سر وہ نہیں جو پہلے تھا ۔یہ سوچتے ہی وہ سب فوراًضعیفہ جاریہ کےگھر کی جانب روانہ ہوئے ۔اس عورت کا دوسرا بیٹا ،اسمٰعیل اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا تھا ،کیا دیکھتا ہے کہ بہت سے سوار اور پیادہ لوگ انکے گھر کی طرف دوڑتے آرہے ہیں ۔اس عورت نے رونا شروع کر دیا اور بارگاہ خداوندی میں عرض کرنے لگی ،
’’اے اللہ !تو جانتا ہے کہ میں نے یہ سب کچھ تیرے حبیب کے وصی اور ان کی اولاد کی خاطر کیا ہے ،اب میں ان ظالموں کے جوروستم برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ،بجائے اس بات کے کہ یہ ظالم مجھے اذیتیں دے کر ہلاک کریں تو اپنی قدرت سے مجھے موت دے کر ان سے نجات دلا دے ۔اب میں ان سگانِ دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔اس ضعیفہ کی دعا مستجاب ہوئی اور وہ واصل بحق ہو گئی ۔
صحابیء رسول، حضرت عمار بن یاسر کی اولاد سے کچھ لوگ صوبہ رودبار میں رہتے تھے ۔جب انہوں نے سناکہ شہزادہ قاسم کا سر مبارک، رے لایا گیا ہے تو ابراہیم بن محمد بن عمار بن یاسر ،اپنے چچا زاد بھائیوں سمیت شمیران شہر میں آئے ۔ وہ عین اس وقت پہنچے جب ضعیفہ جاریہ کا انتقال ہو چکا تھا اور سوار وپیادہ لوگ اس کے دروازے پر جمع تھے ۔جب انہیں اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو دشمنوں سے جنگ شروع کر دی ۔ کچھ دشمن قتل ہو گئے اور کچھ فرار ہو گئے ۔جب لڑائی ختم ہوئی تو آلِعمار یاسر کے یہ لوگ جاریہ کے گھر میں داخل ہوئے اور سیدنا قاسم کا سر مبارک ،ضعیفہ جاریہ اور ان کے شہیدصاحبزادوں کے اجسادِطیبہ، ’’دربند علیا‘‘کے مقام پر دفن کئے ۔

زوجۂ قاسم کی تہران آمد:

کرب وبلا کے خونچکاں سانحہ کے روز، شہادت امام عالیمقام کے بعد سیدنا امام حسین کا گھوڑا،میمون، خیام سادات میںآیا اور حکم سید الشہداء کے مطابق سیدہ شہر بانو اور سیدہ فاطمہ کبریٰ اس پر سوار ہوئیں اور خانوادۂ تطہیر کو الوداع فرما کر روانہ ہوگئیں ۔گھوڑابرق رفتاری سے ایک طرف، ایک راستے پر دوڑنے لگا اور جنگلوں ،بیابانوں سے گزرتا رے پہنچ گیا ۔شہر کے قریب ایک پہاڑ اور غار سیدہ شہر بانو کودکھائی دیئے ۔آپ نے گھوڑے کو اس جانب دوڑایا ۔غار کے قریب پہنچیں تو آنسوؤں کی برسات جاری ہو گئی ۔خوب روئیں اور بارگاہ ذوالجلال میں عرض فرمائی ،’’اے میرے مولا!تو جانتا ہے کہ حضرت امام حسین کے بعد میں زندہ نہیں رہنا چاہتی ۔میں تیرے حضور سائل ہوں کہ تو اپنے فضل عمیم اور لطف وکرم سے مجھے اس پہاڑکے غار میں پناہ دے کراپنی حفاظت میں لے لے تا کہ ظالموں کے شر سے محفوظ ہو جاؤں ۔اسی وقت اس غار میں ایک دروازہ ظاہر ہوا اور حضرت شہر بانو غار میں جانا ہی چاہتی تھیں کہ حضرت سیدہ فاطمہ کبریٰ نے ان کا دامن پکڑتے ہوئے کہا ،
’’مادر مہربان !مجھے کس کے حوالے کر کے جا رہی ہیں ؟آپ کی شفقت مادری کہاں گئی ؟‘‘۔سیدہ شہر بانو نے فرمایا،’’اے جان مادر ! آپ حضرت قاسم کی امانت دارہیں ،آپ کو میرے ساتھ آنے کی اجازت نہیں ‘‘۔اس وقت ماں بیٹی گلے مل کر زار زار روئیں ۔ماں نے بیٹی کوتسلی دیتے ہوئے فرمایا ،’’خدا کی رضا پر راضی رہنا ،آپ کے لئے ایک خدمت گار خاتون ہے جو آپ کو مل جائے گی ۔وہ آپ کے ساتھ اسطرح پیش آئے گی جیسے ماں شفیقہ ہوا کرتی ہے ‘‘۔پھر سیدہ شہر بانو نے بنتِحسین کورخصت فرمایااور غار میں تشریف لے گئیں۔

فرزندِقاسم ابن الحسن :
جب سیدہ فاطمہ کبریٰ اپنی مہربا ن والدہ سے بچھڑ کر اکیلی رہ گئیں تو رے کے شہر میں تشریف لے گئیں اور شہر میں قیام فرمایا ۔
رودبار کے علاقہ میں ایک خاتون رابعہ رہتی تھیں جو حضرت عمار بن یاسر کی نسل سے تھیں ۔جب رابعہ نے سنا کہ سیدنا امام حسین کی لخت جگر رے تشریف لائی ہیں اور وہیں مقیم ہو گئی ہیں تو وہ نیک سیرت بی بی ،حضرت فاطمہ کبریٰ کی خدمت میں حاضر ہو کر خدمت گزاری میں مصروف ہو گئیں،یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ کبریٰ کے ہاں صاحبزادے تشریف لائے جن کا اسم گرامی سیدنا قاسم ابن الحسن کی یاد میں قاسم ثانی رکھا گیا ۔
اس وقت ایران پر ملک شاہ غازی بن یزدگرد بن شہریار کی حکمرانی تھی ۔اس نے جب یہ خبر سنی تو سیدنا قاسم ثانی اور آپ کی والدۂ معظمہ کو شمیران میں مقام ’’تقلبہ‘‘لے گیا اور ان دونوں کی بڑی عزت وتکریم کرتا رہا ۔اس نے شہزادہ قاسم ثانی کی خدمت کے لئے کمر ہمت باندھ لی اور ہر ممکن کوشش کی آپ کی تعلیم وتربیت بہترین انداز میں پایہ تکمیل کو پہنچے ۔حجاج بن یوسف ملعون کے قیام وخروج کے وقت وہ بدبخت ائمہ اہلبیت کی اولاد کے قتل کے درپے ہوا ۔رے پہنچا تو دریافت کیا کہ یہاں اہلبیت رسول اللہ میں سے کوئی ہے ؟تو سعد بن ابوہریرہ نے حجاج سے کہا کہ صوبہ شمیران میں ایران کے بادشاہزادوں کی ایک جماعت ہے اور حضرت قاسم بن حضرت امام حسن کے
صاحبزادے جن کا اسم گرامی قاسم ثانی ہے اور ان کی والدہ حضرت سیدہ فاطمہ کبریٰ بنت حضرت امام حسین وہاں رہ رہے ہیں ۔حجاج ملعون یہ سن کر بہت خوش ہوا اور فورا شمیران روانہ ہو گیا یہاں تک کہ ایک قلعہ کے پاس اترا ۔
عجمی شہزادوں کو خبر ملی کہ حجاج لڑائی کی غرض سے ان کی طرف بڑھ رہا ہے ۔یہ خبر پا کر شہزادے قلعہ سے باہر آگئے ۔
گھمسان کی لڑائی ہوئی اور دشمنان اہلبیت کی کثیر تعداد فی النار ہوئی اور باقی بھاگ کھڑے ہوئے ۔جب اس شکست کی خبر رے پہنچی توحجاج کی مدد کے لئے ایک لشکر جرار پہنچ گیا ۔حجاج دوسری مرتبہ شہزادگان پر حملہ آور ہوا ۔شہزادگان میں سے کچھ اس لڑائی میں درجہشہادت پر فائز ہو گئے ۔ فرزندِ داما دِحسین ،سیدنا قاسم ثانی کو گرفتار کر کے حجاج ملعون کے سامنے لایاگیاتواس بدبخت ازلی نے ان کے قتل کاحکم دیا اور سید الشہداء امام حسین کے نواسے اور امام حسن مجتبیٰ کے پوتے اپنے اسلاف کی طرح اسلام پہ قربان ہو گئے ۔
حجاج ملعون کے رے واپس جانے کے بعد تمام شہزادے جمع ہوئے اور سیدنا قاسم ثانی کے جسد اقدس کو دفن کرنے کے لئے ’’دربند علیا‘‘لے گئے ۔جب دفن کرنے لگے تو سیدنا قاسم ابن الحسن کے سر مبارک کے جائے مدفن سے صدا آئی،’’حبیب کو حبیب کے پاس لاؤ‘‘یعنی دونوںدوستوں کو ایک ہی جگہ رکھو ۔حضرت قاسم ثانی کو اسی جگہ اپنے والد گرامی کے سر مبارک کے مدفن کے ساتھ ہی دفن کر دیا گیا۔

مصادرتحقیق

۱۔ کشف الیقین فی اسرار المعصومین علامہ ابوالحسن محمد بن علی تہرانی مطبوعہ نجف اشرف
۲۔ انوار القلوب علامہ ابراہیم تہرانی مطبوعہ بیروت ،لبنان
۳۔ قرۃ العیون علامہ جلال الدین نیشا پوری مطبوعہ قم المقدس
۴۔ کنز الانساب علامہ سید مرتضٰی علم الھدیٰ مطبوعہ ہندوستان
۵۔ روضۃالشہدائ علامہ حسین واعظ کاشفی مطبوعہ ایران

:دیگر مضامین
(21.05.2009) فرقہ واریت کا لبادہ اْوڑھنے والوں سے
(21.05.2009) ڈگڈگی بجا کے ذرا بندر نچا کے
(15.05.2009) برطانوی وزیروں کی بدعنوانیاں
(13.05.2009) سوات سے رکن اسمبلی کوبات کرنے کی اجازت نہ مل سکی
(12.05.2009) کیا سوات سے پولیس کی بھی ہجرت؟
(10.05.2009) مدرز ڈے کے حوالے سے خصوصی مضمون “ماں “
(09.05.2009) بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
(07.05.2009)  اگلے 39 سال میں فرانس ایک اسلامک ریپبلک ملک بن جائیگا?
(06.05.2009) سرکاری اور غیر سرکاری آنکھیں
(05.05.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں..پندرھویں اور آخری قسط
(05.05.2009) یہ بھی تو کارٹون ہی ہوا نا۔
(04.05.2009) جج بحال کر دینے سے عدلیہ بحال نہیں ہو جاتی
(03.05.2009) فتحِ الکوثر۔’’ شہادتِ سیدہ خدیجہ بنتِ علی ‘‘
(03.05.2009) دنیا کا ایک منفرد انٹرویو
(01.05.2009) حیدر طباطبائی کی تخلیقات کی رونمائی
(01.05.2009) آئی ٹی میں پاکستان کی ترقی قابل فخر ہے
(29.04.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں..چودہویں قسط
(20.04.2009) ڈاکٹر نگہت نسیم کے اعزاز میں عشائیہ
(19.04.2009) ترقی کا کوئی ایک راستہ نہیں
(16.04.2009) پھر ایک بار اتحاد کا شور ہے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں