بر صغیر کی تقسیم کے بعد تیرہ اور چودہ اگست انیس سو سنتالیس کی درمیانی رات کو پاکستان ایک آزاد اسلامی جمہوری مملکت کے طور پر عالمی نقشے پر ابھرا تو قائداعظم محمدعلی جناح اس کے پہلے سر براہ مملکت اور گورنر جنرل تھے اور انکےانتقال کے بعد غلام محمد نے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالا اور وہ اکتوبر1955ء تک اس عہدے پر قائم رہے۔ پاکستان میں اس تک کوئی آئین نہ ہونےکی وجہ سے ملک میں باقاعدہ صدر کا عہدہ قائم نہ ہوسکا ۔
پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا1956ء میں ملک کا پہلا آئین بنا تو گورنر جنرل کا عہدہ ختم ہوگیا اور آئین کے مطابق اسکندر مرزا کو پاکستان کا پہلا صدر بننے کا اعزاز حاصل ہوا ۔میجر جنرل صاحبزادہ سید اسکندر مرزا (1956-1958)، پاکستان کے آخری گورنر جنرل اور ملک کے پہلے صدر تھے۔ مرشد آباد انڈیا میں پیدا ہوئے اور متحدہ ہندوستان میں اعلی ترین عہدے پر فائز مسلم آفیسر ہونے کی وجہ سے وہ پہلے سیکریٹری دفاع اور پھر آخری گورنر جنرل بنے۔ اسکندر مرزا کو انہی کے لگائے گئے مارشل لا کے بعد جنرل ایوب خان نے برطرف کیا۔ انیس سو انہتر میں لندن میں وفات کے بعد یحٰی خان کی حکومت نے پاکستان میں ان کی تدفین کی اجازت نہیں دی اور شاہ ایران نے ان کے لئے سرکاری سطح پر آخری رسومات کا اہتمام کیا۔ 27 اکتوبر1958ء کو اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان نے اسکندر مرزا برطرف کر دیا اور وہ چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر اور پھرصدربن گئے۔
پاکستان کے دوسرے صدر جنرل ایوب خانجنرل ایوب خان نے 1962ء میں نیا آئین نا فذ کیا ۔ اس آئین میں پا رلیما نی نظام کے بجائے صدارتی انتخاب متعارف کرایا گیا اور صدارتی انتخاب کے لیے بالواسطہ انتخاب کا طریق کار متعارف کرایا گیا جس میں80 ہزار بی ڈی ممبران پر مشتمل صدارتی انتخابی کالج بنا یا گیا ۔
جنوری 1965ء میں قوم نے پا کستان کی تاریخ کا پہلا صدارتی الیکشن دیکھا جس میں جنرل ایوب خان کا مقابلہ بانی پاکستان قائد اعظم کی ہمشیرہ مادرملت محترمہ فا طمہ جناح سے ہوا ۔ اس صدارتی الیکشن میں اس وقت کے وزیر قانون ایس ایم ظفر نے ایوب خان کے چیف
پولنگ ایجنٹ کے فرائض ادا کئے تھے ۔کُل پاکستان کی بنیاد پر انہیں 65 فیصد ووٹ ملے اورمحترمہ فاطمہ جناح کو 34 فیصدووٹ ملے ۔
فیلڈ مارشل محمد ایوب خان (1958-1969)، ہری پور میں پیدا ہوئے انہی کے دور میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان پینسٹھ کی جنگ ہوئی جس سے پاکستان کی معیشت پر گہرا اثر پڑا۔ انیس سو انہتر میں اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقتدار عوامی نمائندوں کی بجائے اپنے وفادار جنرل یحٰی خان کے حوالے کردیا۔انیس سو چوہتر میں پاکستان میں ہی ان کا انتقال ہوا۔
ایوب خان نے 25 مارچ 1969ء کو اپنے ہی دئیے ہوئے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسپیکرقومی اسمبلی کے بجائے اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ خان کو صدارت کا منصب سونپ دیا ۔
پاکستان کے تیسرے صدر جنرل یحییٰ خانجنرل یحییٰ خان دو سال صدر رہے ۔ ان کے دور میں سقوط ڈھاکہ کا المناک سانحہ رونما ہوا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا ۔20 دسمبر 1971ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا اور وہ پاکستان کے پہلے سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر بنے ۔
آغا محمد یحیٰی خان (1969-1971)، چکوال میں پیدا ہوئے اور انہوں نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے پیچیدہ اور کٹھن ترین دور میں ایک فوجی حکمران کے طور پر اقتدار سنبھالا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد اقتدار مغربی پاکستان کی مقبول جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما ذوالفقارعلی بھٹو کے حوالے کیا۔ ان کا انتقال انیس سو اسی میں راولپنڈی میں ہوا۔
پاکستان کے چوتھے صدر ذوالفقار علی بھٹوذوالفقار علی بھٹو (1971-1973)، پہلے جنرل ایوب کی کابینہ میں وزیر خارجہ اور پھر ان کے خلاف عوامی تحریک کے بانیوں میں تھے اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ملک کے پہلے صدر اور سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے۔ لاڑکانہ کے بھٹو نے اکہتر کی جنگ کے بعد پاکستان کے ’ٹکڑوں کو اکٹھا کرکے ایک نیا ملک’ بنانے اور جمہوریت کی بحالی کا وعدہ کرکے اقتدار سنبھالا اور دو سال میں نئے آئین کی منظوری کے بعد ملک کے پہلےمنتخب وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
پاکستانی سیاستدان ۔ لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئے۔ سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلی حکومت بمبئی کے بیٹے تھے۔ 1950ء میں برکلے یونیورسٹی کیلی فورنیا سے سیاسیات میں گریجوایشن کی۔ 1952ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسی سال مڈل ٹمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا ۔ پہلے ایشائی تھے جنھیں انگلستان کی ایک یونیورسٹی ’’ساؤ تھمپئین‘‘ میں بین الاقوامی قانون کا استاد مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ مسلم لاء کالج کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ 1953ء میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی
1958ء تا 1960ء صدر ایوب کی کابینہ میں وزیر تجارت ، 1960ء تا 1962ء وزیر اقلیتی امور ، قومی تعمیر نو اور اطلاعات ، 1962ء تا 1965ء وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جون 1963ء تا جون 1966ء وزیر خارجہ رہے۔ دسمبر 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ۔دسمبر 1971ء میں جنرل یحیٰی خان نے پاکستان کی عنان حکومت مسٹر بھٹو کو سونپ دی ۔ وہ دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973 صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔
1977ءکے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے سبب ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ۔ 5 جولائی 1977 کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لاء نافذ کر دیا ۔ ستمبر 1977ء میں مسٹر بھٹو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے ۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا ۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی ۔ 4 اپریل کو انھیں راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔
پاکستان کے پانچویں صدرچوہدری فضل الہی 1973ء کے دستور کے نفاذ کے بعد چوہدری فضل الہی پا کستان کے صدر منتخب ہوئے۔14 اگست 1973ء کو ملک میں نئے دستور کے نفاذ کے ساتھ ہی پا رلیمانی نظام بحال کردیا گیا۔ چوہدری فضل الہی 16 ستمبر 1978ء تک صدارت کے منصب پر فائز رہے ۔
فضل الہی چوہدری (1973-1978)، انیس سو تہتر کے آئین کے تحت ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستان کو وہ پہلے صدر بنےجن کے پاس وزیراعظم سے کم اختیارات تھے۔ کھاریاں کے چوہدری قومی اسمبلی کے سپیکر بھی رہ چکے تھے اور پارلیمانی سیاست میں وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ وہ جنرل ضیا الحق کی طرف سے اقتدار پر قبضے کے بعد مستعفی ہوگئے۔ یہ صدر فضل الہی کے دور کا ہی واقعہ ہے راولپنڈی میں ان کے ایوان صدر کےباہر دیواروں پر لکھا ہوا تھا کہ فضل الہی کو رہا کرؤ
پاکستان کے چھٹے صدرجنرل محمد ضیاء الحق 5 جولائی1977ء کو آرمی چیف جنرل محمد ضیاء الحق نے ذوالفقا ر علی بھٹو کی حکومت کو برطرف کردیا اور سی ایم ایل اے کا عہدہ سنبہال لیا ۔ انہوں نے صدر فضل الہی کو بد ستورصدر مملکت رکھا۔ بعد میں چوہدری فضل الہی سبکدوش ہو گئے تو 16ستمبر1978ء کو انہوں نے صدارت کا منصب بھی سنبھال لیا ۔جنرل محمد ضیاالحق (1977-1988)، ملک کے تیسرے فوجی حکمران بنے۔ انہوں نے بھی ریفرنڈم کروایا اور غیر جماعتی انتخابات بھی۔ انہی کے دور میں پاکستان سرد جنگ میں امریکہ کا بڑا حلیف بنا اور ملک میں اسلامائزیشن کے تحت خواتین اور اقلیتوں کے خلاف قوانین لاگو کئے گئے۔
1984ء میں انہوں نے اپنی صدارت کی دوسری مدت کے لئے ریفرنڈم کرایا اور صدارت کی یہ مدت 17 اگست1988ء کو بہاول پور کے قریب طیارے کے حادثے میں ان کی زندگی کے ساتھ ختم ہوگئی ۔
جنرل ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد پہلے تو یہ وعدہ کیا کہ وہ نوے دن میں انتخابات کرا کے اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں گے لیکن یہ محض وعدہ ہی رہا۔پاکستان پیپلز پارٹی کو تباہ کرنے میں اسنے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا اسنے عدالتی قتل کروایا۔ انسانی بے حرمتی کی حد کی گئی اپنے مخالفین کو سرسری سماعت کی فوجی عدالتوں کے ذریعے سرے عام سڑکوں پر کوڑے لگواۓ۔ ایک جعلی ریفرنڈم میں کہ جس میں وہ اکیلا ہی امید وار تھا اپنے آپ کو صدر منتخب کروایا۔ سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور برادری ازم کو ہوا دی گئی اور یوں پاکستانی قوم کو ذات برادریوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا تا کہ کوئی اسکے اقتدار کو چیلنج نہ کر سکے۔ محض اپنے اور امریکہ کے مفاد کی خاطر پاکستان کو افغانستان کی جنگ میں جھونک دیا اور پاکستان میں کلاشنکوف اور ہیروئین کلچر کو متعارف کرایا۔ بیرونی صحافت کے مطابق جنرل ضیاء کے دور میں تاریخ کے امیر ترین جنرل پیدا ہوۓ۔ اپنے ملک کے دفاع پر کوئی توجہ نہ دی گئی جس کے نتیجے میں بھارت نے سیاچن کے علاقے پر قبضہ کرلیا۔ اس واقعہ پر جنرل ضیاء نے یہ راۓ دی کہ وہاں سے نہ تیل نکلتا ہے نہ گھاس اگتی ہے۔ ریاست کے وسائل کو بے دردی سے خرچ کیا گیا۔ سرکاری خرچے پر اپنے قریبی لوگوں کو حج اور عمرہ پر بھیجنا شروع کیا۔
1973 کے آئین کے مطابق پاکستان میں اگلے دس سال میں ہر سطح پر قومی زبان اردو کے استعمال کا کہا گیا تھا۔ یہ عمل شروع ہو چکا تھا لیکن مارشل لاء لگنے کے بعد اردو زبان کو بھی اسکے حق سے محروم کر دیا گیا۔
اپنے ہی بناۓ ہوۓ وزیراعظم محمد خان جونیجو کو بد عنوانی کے الزامات لگا کر بر طرف کردیا۔ ان الزامات کو بعد میں عدالت نے رد کر دیا۔
جنرل ضیا الحق اگست 1988 میں طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو گیا۔
پاکستان کے ساتویں صدرغلام اسحاق خانضیا الحق کے بعد سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق 17 اگست کو قائم مقام صدر بنے اور دسمبر 1988ء میں انہیں باقاعدہ صدر منتخب کر لیا گیا ۔ 18 جولائی 193ء کو انہیں میاں نواز شریف کی حکو مت کی رخصتی کے ساتھ ہی استعفعی دینا پڑا۔
محمد غلام اسحاق خان (1988-1993)، انیس سو پچاسی میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور پھر سینیٹ کے چئیرمین بنے۔ سن اٹھاسی میں جنرل ضیا کی ہلاکت کے بعد آئین کے مطابق صدر کا عہدہ سنبھالا اور پھر اس عہدے پر باقاعدہ منتخب ہوئے۔ انہوں نے آٹھویں ترمیم کے تحت صدر کا حاصل اختیارات کا دو بار استعمال کیا اور بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی حکومت برطرف کی۔ لیکن دوسری بار حکومت کی برطرفی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد انہیں استعفی دینا پڑا۔
صوبہ سرحد میں وزیر اعلی کے سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری جیسے کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ قیام پاکستان کے بعد سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئے۔1955 میں جب ون یونٹ کے تحت مغربی اور مشرقی پاکستان کے نام سے دو صوبے بنائے گئے تو غلام اسحاق خان مغربی پاکستان کے سکریٹری آبپاشی مقرّر ہوئے۔ اس حیثیت میں پاکستان بھارت دریائی پانی کی تقسیم کے معاملات میں وہ سرکاری معاونت کرتے رہے۔ 196ٍ1 میں پانی و بجلی کے وسائل کی ترقی اور نگرانی کے ادارے واپڈا کے سربراہ بنے اور 1965 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد پانچ برس سے زائد عرصے تک سیکرٹری خزانہ رہے۔
بطور سکریٹری خزانہ بھی وہ اتنے بااثر تھے کہ بیس 20 دسمبر 1971 کی جس تصویر میں شکست خوردہ یحیٰ خان ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار منتقل کررہے ہیں اس تصویر میں تیسرے آدمی غلام اسحاق خان ہیں جو اقتدار کی منتقلی کی دستاویز پر دستخط کروا رہے ہیں۔ بھٹو حکومت کی تشکیل کے بعد غلام اسحاق خان انیس سو پچہتر تک گورنر اسٹیٹ بینک کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے۔
اس کے بعد غلام اسحاق خان کو سکریٹری جنرل دفاع کا قلمدان دے دیا گیا۔اس حیثیت میں وہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بھی نگراں رہےاور ان کے فوج کی اعلیٰ قیادت سے بھی براہ راست تعلقات استوار ہوئے۔1977 میں جب جنرل ضیا الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹا تو غلام اسحاق خان پہلے مشیرِ خزانہ اور پھر وزیرِ خزانہ بنائے گئے اور انہوں نے معیشت کو اسلامی طرز پر ڈھالنے کے جنرل ضیا کے ایجنڈے میں معاونت کی۔ ملک کے لیئے خدمات کے پیش نظر انہیں ستارہ پاکستان اور ہلال پاکستان کے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
پاکستان کے آٹھویں صدروسیم سجادغلام اسحاق خا ن کے مستعفی ہونے پر آئین کے تحت سینیٹ کے چیئرمین وسیم سجاد 18 جولائی 1993ء کو قائم مقام صدر بنے تاہم صدارتی انتخاب میں انہیں فاروق لغاری کے مقابلے پر شکست ہوئی۔فاروق لغاری پا کستان ڈیموکریٹک الائنس کے امیدوار تھے ۔ انہیں 274 اور ان کے مد مقابل آئی جے آئی کے امید وار وسیم سجاد کو 168ووٹ ملے ۔
وسیم سجاد (1993 اور 1997)، اسی کی دہائی میں سیاست میں آئے اور پہلے سینیٹ کے رکن اور پھر انیس سو اٹھاسی میں چئیرمین بنے اور انیس سو ترانوے میں غلام اسحاق خان کے استعفے کے بعد عبوری طور پر صدر بنے۔ وہ انیس سو ستانوے میں محمد رفیق تارڑ کے انتخاب سے پہلے ایک بار پھر عبوری صدر بنے۔
22مارچ 2008 کو پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینٹ میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما وسیم سجاد قائد ایوان کے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔انہوں نے اپنا استعفی نگران وزیر اعظم میاں محمد سومرو کو پیش کیا اور بعد میں ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق استعفیٰ منظور بھی کر لیا گیا۔وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پارلیمانی روایات کے مطابق کیا ہے تاکہ نئے وزیر اعظم سینیٹ میں اپنی مرضی کا قائد ایوان منتخب کر سکیں۔
چھیاسٹھ سالہ وسیم سجاد اسٹیبلشمنٹ کے کافی قریب سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تین مرتبہ سینٹ کے چیئرمین کے علاوہ وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور کے ساتھ ساتھ وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں۔ وہ بطور پیشہ وکیل ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ انیس سو پچاسی میں سینٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ عدلیہ کی آزادی اور جسٹس افتخار کی بحالی کی تحریک میں وسیم سجاد کو کافی مرتبہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ برس اپریل میں جسٹس افتخار محمد چوہدری کےخلاف صدارتی ریفرنس کی پیروی کرنے والے حکومتی وکیل وسیم سجاد کو سندھ ہائی کورٹ کے بار روم سے نکال دیا گیاتھا۔وہ سندھ ہائی کورٹ میں پاکستان سٹیٹ آئل کی نج کاری سے متعلق مقدمے کی پیشی کے بعد جب ہائی کورٹ کے بار روم میں بیٹھے تھے تو کچھ وکلاء نے ان کی وہاں موجودگی پر اعتراض کیا۔اور سندھ کے ایک وکیل صلاح الدین گنڈاپور نے کہا تھا کہ انہوں نے وسیم سجاد کو کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف حکومت وکیل بن کر انہوں نے وکلاء کی جدوجہد کی خلاف ورزی کی ہے اور اب وہ وکلاء کی بار میں بیٹھنے کا حق کھو چکے ہیں۔
پاکستان کے نویںصدرفارورق خان لغاری13نومبر1993ء کو فارورق خا ن لغا ری نے پاکستان کے نویں صدر کا حلف اٹھایا ۔فاروق خان لغا ری نے اختلافات کے بعد بے نظیر بھٹو کی حکومت بر طرف کی ۔کچھ عرصے بعد ان نئے وزیراعظم نواز شریف سے بھی ان کے تعلقات خراب ہوگئے اور اقتدار کی رسہ کشی میں فاروق لغاری2 دسمبر1997ء کو مستعفی ہونے پر مجبور ہوئے ۔
سردار فاروق احمد خان لغاری (1993-1997)، پیپلز پارٹی کی بھر پور حمایت کے ساتھ انیس سو ترانوے صدر بنے۔ لیکن ڈیرہ غازی خان کے لغاری نے انیس سو چھیانوے میں اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو آٹھویں ترمیم استعمال کرتے ہوئے کرپشن کے الزام میں برطرف کردیا۔ انیس سو ستانوے کے نئے الیکشن میں میاں نواز شریف کی جماعت بھر پور اکثریت کے ساتھ جیتی اور اس نے اسمبلی تحلیل کرنے کے صدارتی اختیارات کو ختم کرنے کی کوشش کی جس پر ایک آئینی بحران پیدا ہوا اور صدر لغاری اور اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو مستعفی ہونا پڑا۔
پاکستان کے دسویں صدر محمد رفیق تارڑ میاں نواز شریف کے دور حکومت میں جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ نے یکم جنوری 1998ء کو عہدہ صدارت سنبھالا اور وہ 20 جون 2001ء تک اس منصب پر فائز رہے۔محمد رفیق تارڑ (1997-2001)، انیس سو ستانوے سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ریٹائر ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور پھر اسی سال ملک کے صدر بنے۔ ان کے دور میں صدر کے اختیارات کو بتدریج کم کیا گیا اور بالآخر تیرھویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات میں آئین کی روح کے مطابق مکمل طور پر کمی کردی گئی۔ انیس سو ننانوے میں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے میاں نواز شریف کی حکومت کی برطرفی کے بعد انہیں عہدے سے نہیں ہٹایا گیا اور وہ سن دوہزار ایک تک صدر رہے۔
Muhammad Rafiq Tarar graduated from the Islamia College in Gujranwala, in 1949. In 1951, Mr. Tarar secured his Law Degree from Law College, Lahore. During the same year he was enrolled as a Pleader. He also was enrolled as an Advocate in the Lahore High Court during October 1955. After graduating, he established a practice in Gujranwala before rising to the position of Chairman of the Punjab Labor Court in 1970. He was appointed as the Chief Justice of Lahore High Court four years later since he started. Earlier, during his days as Judge of the Lahore High Court, he also served as member of the Pakistan Election Commission. Justice Muhammad Rafiq Tarar was elevated as a Judge of the Supreme Court in 1991, from which he retired in November 1994 on attaining the age of 65 years.
پاکستان کے گیارہویں صدر جنرل پرویز مشرف جنرل پرویز مشرف نے 12 اکتو بر1999ء کو فوجی کارروائی کے ذریعے میاں نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر کے زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لی ۔20جون 2001ء کو رفیق تارڑ کی سبکدوشی کے بعد وہ چیف ایگزیکٹو کے ساتھ ملک کے صدر بن گئے۔
جنرل پرویز مشرف (2001-2008)، انہوں نے بھی ریفرنڈم کروایا اور الیکشن بھی لیکن اس عمل کی غیر جانبداری پر سنجیدہ سوال اٹھائے گئے۔ انہی کے دور میں پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا حلیف بنا۔ بےنظیر کی ہلاکت اور دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی کامیابی کے بعد ان پر استعفے کا دباؤ بڑھا۔ انہوں نے شروع میں ایسا کرنے سے انکار کیا لیکن تمام جماعتوں کی طرف سے ان کے مواخذے کی دھمکی کے بعد وہ اگست دو ہزار آٹھ میں مستعفی ہوگئے۔
30 اپریل2002ء کو انہوں نے پورے ملک میں ریفرنڈم کا انعقادکیا اور اپنی مدت صدارت میں پا نچ سال کا اضافہ کرلیا ۔دو سال بعد مجلس عمل سے معا ہدے کے بعد انہو ں نے یکم جنوری2004ء کو انتخابی کالج سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا ۔ان کی مدت 5۱نومبر 2007ء کو ختم ہونے لگی تو انھوں نے گذشتہ اسمبلی سے اپنے آپ کو آئندہ پانچ سال کے لیے صدر منتخب کر وا لیا لیکن 18فروری 2008ء کے انتخابات میں ان کی حلیف جماعت کو شکست ہوئی اور پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)بر سر اقتدار آئیں۔ان دونوں جماعتوں نے صدر مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کرنے کی تیاریاں شروع کردیں لیکن صدر نے 18 اگست 2008ء کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور یوں 6ستمبر 2008ء کو نئے صداراتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا۔
پاکستان کے بارہویں صدر آصف علی زرداریبلوچ سندھی سیاستدان اور ذوالفقار علی بھٹو کے ابتدائی سیاسی ساتھیوں میں شامل حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف زرداری جولائی انیس سو چھپن میں پیدا ہوئے۔آصف علی زرداری کی ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرکس سکول کراچی میں ہوئی جس کے بعد انہوں نے دادو میں قائم کیڈٹ کالج پٹارو سے انیس سو چوہتر میں انٹرمیڈیٹ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بعد میں انہوں نے لندن سکول آف اکنامکس اینڈ بزنس نامی کسی ادارے میں بھی داخلہ لیا تھا۔
انیس سو اڑسٹھ میں کمسن آصف نے فلمساز سجاد کی اردو فلم ’منزل دور نہیں‘ میں چائلڈ سٹار کے طور پر بھی اداکاری کی۔
آصف زرداری پولو اور گھڑ سواری کے شوقین ہیں اور انکی پولو ٹیم زرداری فور کے نام سے جانی جاتی تھی۔
آصف زرداری اوائل عمر سے ہی یاروں کے یار ٹائپ شخص کے طور پر کراچی کے متمول حلقوں میں جانے جاتے تھے۔انیس سو اڑسٹھ میں شوقین مزاج کمسن آصف نے فلمساز سجاد کی اردو فلم ’منزل دور نہیں‘ میں چائلڈ سٹار کے طور پر بھی اداکاری کی۔
سیاست سے آصف علی زرداری کا سن اسی کے وسط تک دور دور تک واسطہ نہیں تھا۔ بس ایک سراغ یہ ملتا ہے کہ انیس سو پچاسی کے غیرجماعتی انتخابات میں آصف علی زرداری نے بھی نواب شاہ میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔مگر یہ کاغذات واپس لے لئے گئے۔ پھرانہوں نےتعمیراتی کے کاروبار میں بھی ہاتھ ڈالا لیکن اس شعبے میں وہ دو ڈھائی برس ہی متحرک رہے۔
انیس سو ستاسی میں انکی سوتیلی والدہ ٹمی بخاری اور بیگم نصرت بھٹو نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ آصف کا رشتہ طے کیا۔اٹھارہ دسمبر انیس سو ستاسی کو ہونے والی یہ شادی کراچی کی یادگار تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بے نظیر بھٹو اور انکے لاکھوں سیاسی پرستاروں کے لیے یہ پہلی بڑی خوشی تھی۔
انیس سو اٹھاسی میں جب بے نظیر بھٹو برسرِ اقتدار آئیں تو آصف زرداری بھی وزیرِ اعظم ہاؤس میں منتقل ہوگئے۔اور انکی سیاسی زندگی باضابطہ طور پر شروع ہوگئی۔انیس سو نوے میں بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد ہونے والے انتخابات میں وہ رکنِ قومی اسمبلی بنے۔انیس سو ترانوے میں وہ نگراں وزیرِ اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں وزیر بنے پھر بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں رکنِ قومی اسمبلی اور وزیرِ ماحولیات و سرمایہ کاری رہے۔ وہ انیس سو ستانوے سے ننانوے تک سینٹ کے رکن رہے۔
بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں ان پر کرپشن کے الزامات لگنے شروع ہوئے اور ان پر مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب چپکانے کی کوشش کی گئی۔ سب سے پہلےانیس سو نوے میں انہیں صدر غلام اسحاق خان کے دور میں ان پرایک برطانوی تاجر مرتضٰی بخاری کی ٹانگ پر بم باندھ کر آٹھ لاکھ ڈالر اینٹھنے کی سازش کا الزام لگا اورحراست میں لیا گیا۔
پانچ نومبر انیس سو چھیانوے کو دوسری بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد آصف زرداری کا نام مرتضی بھٹو قتل کیس میں آیا۔ نواز شریف حکومت کے دوسرے دور میں ان پر سٹیل مل کے سابق چیئرمین سجاد حسین اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس نظام احمد کے قتل اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے، سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا ، دوبئی کی اے آر وائی گولڈ کمپنی سے سونے کی درآمد، ہیلی کاپٹروں کی خریداری، پولش ٹریکٹروں کی خریداری اور فرانسیسی میراج طیاروں کی ڈیل میں کمیشن لینے، برطانیہ میں راک وڈ سٹیٹ خریدنے، سوئس بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور سپین میں آئیل فار فوڈ سکینڈل سمیت متعدد کیسز بنائے گئے۔ یہ الزامات بھی لگے کہ آصف علی زرداری نے حیدرآباد، نواب شاہ اور کراچی میں کئی ہزار ایکڑ قیمتی زرعی اور کمرشل اراضی خریدی، چھ شوگر ملوں میں حصص لیے۔ برطانیہ میں نو، امریکہ میں نو، بلجئم اور فرانس میں دو دو اور دوبئی میں کئی پروجیکٹس میں مختلف ناموں سے سرمایہ کاری کی۔ جبکہ اپنی پراسرار دولت کو چھپانے کے لئے سمندر پار کوئی چوبیس فرنٹ کمپنیاں تشکیل دیں۔
آصف زرداری تقریباً گیارہ برس جیل میں رہے۔ دو ہزار پانچ میں آصف زرداری بیرونِ ملک چلے گئے ۔اور سیاست سے الگ تھلگ خود کو دوبئی اور نیویارک تک محدود کر لیا۔
ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو بے نظیر بھٹوقتل کے بعد آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری اور پھرانہوں نے ملک کا صدر بننے کا فیصلہ کرلیا۔اور آج آصف علی زرداری اپنا یہ ہدف پانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
چھ ستمبر دو ہزار آٹھ کے صدارتی انتخاب میں آصف علی زرداری نے چارسواکیاسی الیکٹرول ووٹ حاصل کیے جبکہ مسلم لیگ نواز کے امیدوار محمد سعیدالزماں صدیقی نے ایک سوتریپن اور مسلم لیگ قاف کے مشاہدحسین سید نے چوالیس الیکٹرول ووٹحاصل کیے۔اس طرح آصف علی زرداری بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے۔
نو ستمبر دو ہزار آٹھ کو آصف زرداری ایوان صدر اسلام آباد میں ملک کے بارہویں صدر کا حلف لے رہے ہیں۔