|
یکم دسمبر ایڈز کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے
01.12.2009, 01:21am , منگل (GMT+1)
عالمی اخبار
ایڈز کے مرض کو دریافت ہوئے پچیس سال سے زائدگزر چکے ہیں۔ اس عرصے میں اس مہلک مرض نے دنیا بھرمیں کم از کم ڈھائی کروڑ افراد کو ہلاک کیا ہے اور چار کروڑ مزید افراد اس مرض کا شکار ہیں۔ اس طرح یہ انسانی تاریخ کے مہلک ترین امراض میں شامل ہے۔
اس مرض کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا لیکن مرض کی رفتار سست کرنے کی ادویات ضرور موجود ہیں جن کے بر وقت اور درست استعمال سے مریض کو کئی سال زندہ رکھا جا سکتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہ دوائیاں اتنی مہنگی ہیں کہ خصوصًا غریب ممالک میں لوگوں کے لیے ان تک رسائی حاصل کرنا خاصا مشکل ہے۔ ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر فلاحی کام کرنے والی ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا بھر کی حکومتوں اور عالمی اداروں نے ایڈز کی ادیات کی قیمت کم کرنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو ترقی پذیر دنیا میں ایڈز کا علاج مشکل ہو جائے گا۔
ایڈز کا جرثومہ ہوا کے ذریعے نہیں پھیلتا بلکہ جسم میں خون یا دیگر سیّال مادوں کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے، مثلًا جنسی تعلقات کے ذریعے، ایڈز سے متاثرہ خون جسم میں لگانے سے، استعمال شدہ سرنج استعمال کرنے سے، ماں کے دودھ وغیرہ سے۔
اس بیماری کے بارے میں معلومت کی کمی کی وجہ سے ایڈز کے مریضوں کو سخت تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
” انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں یہ الزام بھی لگاتی ہیں کہ اکثر حکومتیں اپنے قدامت پسند خیالات کی وجہ سے ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے وہ طریقے استعمال کرنے سے ہچکچاتی ہیں جو تحقیق کے مطابق پچھلے پچیس سال میں سب سے مفید ثابت ہوئے ہیں۔
ایسی ہی ایک تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ڈیڈرک لوہمن کہتے ہیں:
’’ہمیں پتہ ہے کہ ایڈز کے جنسی تعلقات کے ذریعے پھیلاؤ کو روکنے کا بہترین طریقہ کیا ہے۔ اسے ہم اے بی سی طریقہ کہتے ہیں، یعنی ایبسٹینشن، یا خود کو جنسی تعلقات سے باز رکھنا، بی فیتھفل یعنی اپنے ساتھی سے وفادار رہنا اور کانڈم کا استعمال۔ بد قسمتی سے کئی ملکوں میں صرف پہلے اور دوسرے طریقے پر اکتفا کیا جاتا ہے اور امریکہ کی موجودہ انتظامیہ بھی اسی کی حامی ہے۔ اس وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ کئی ممالک جیسے کئی افریقی ممالک میں حکومتیں کانڈم سے متعلق یا تو لوگوں کو معلومات فراہم نہیں کر رہیں یا غلط معلومات فراہم کر رہی ہیں۔‘‘
اقوامِ متحدہ نے دس سال پہلے اس مرض سے نمٹنے کے لیے یو این ایڈز کے نام سے ایک خصوصی پروگرام شروع کیا تھا۔ ایڈز کے عالمی دن پر سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اگرچہ ایڈز کے خلاف جنگ میں کافی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن اس سلسلے میں ذرا بھی سستی دکھانے کا وقت نہیں اور چیلنج یہ ہے کہ دنیا بھی کی حکومتیں اس سلسلے میں اپنے وعدے پورے کریں۔
ان میں سے ایک وعدہ یہ بھی ہے کہ 2015ء تک دنیا بھر میں نہ صرف ایڈز کا پھیلاؤ روک دیا جائے گا بلکہ اس کے مریضوں کی تعداد میں کمی ہونی شروع ہو جائے گی۔
ہر سال دسمبر کی پہلی تاریخ کو اس مرض اور اس کے خلاف وعدوں کی یاد دلانے کے لیے دنیا بھر میں لوگ لال رنگ کا ربن سینے یا بازو پر لگاتے ہیں۔
|