|
این آراو کیخلاف درخواستیں، سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل پاگیا
02.12.2009, 01:31am , بدھ (GMT+1)
عالمی اخبار
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے این آر او کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کیلئے لارجر بینچ کی تشکیل کا حکم دیا ہے اور ان درخواستوں کی سماعت سات دسمبر کو ہوگی ۔
سپریم کورٹ کے سامنے این آر او کے خلاف دائر کی جانے والی درخواستوں کے علاوہ جیلوں میں قید مختلف مقدمات میں ملوث ملزموں کی جانب سے ان درخواستوں کی سماعت بھی ہوگی جس میں انہوں نے این آر او سے مستفید ہونے کی عدالت سے استدعا کی ہے ۔
سپریم کورٹ کی طرف سے منگل کی شام کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے ہدایت کی ہے کہ این آر او کے بارے میں دائر تمام درخواستیں بڑے بینچ کے روبرو سماعت کے لئے پیش کی جائیں اور یہ بینچ سات دسمبر کو ان درخواستوں پر سماعت شروع کرے گا۔
سپریم کورٹ کا بینج کتنے اور کن ججوں پر مشتمل ہو گا اس کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے تمام درخواست گذار اور مدعا الہان کے علاوں ساتھ ساتھ اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی نوٹسز جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے دفتر کو معلوم ہوا کہ بعض سزا یافتہ یا جیلوں میں قید افراد نے بھی استدعا کی ہے کہ ان کو بھی این آر او کے تحت فائدہ دیا جائے لہذاایسے قیدیوں کو بھی ان کے متعلقہ جیل سپرنٹینڈنٹ کے ذریعے نوٹسز جاری کیے جائیں ۔
سابق وزیر خزانہ اور پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کے رہنما ڈاکٹر مبشر حسن اور سابق بیورکریٹ روئیداد خان نے 2007 میں این آر او کو سپریم کورٹ میں اس بنیاد پر چلینج کر رکھا ہے کہ یہ آئین میں دیئے گئے بینادی حقوق کے منافی ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے اس حکم کے بعد تمام متعلقہ فریقین کو سات دسمبر کی سماعت کیلئے عدالت نے نوٹس جاری کردئیے ہیں ۔ ان درخواستوں کی سماعت کیلئے لارجر بینچ میں شامل کیے جانے والے ججوں کے ناموں کا فیصلہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کریں گے
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی محمد انور نے کہا ہے کہ این آر او ختم ہونے کے بعد صدر آصف علی زرداری کے خلاف تمام کیسز دوبارہ اوپن ہوگئے ہیں اس لیے ان کی اہلیت ایک کھلا سوال ہے۔
لاہور میں پریس کا نفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرپشن اور رشوت ملک کےبنیادی ایشوز ہیں جو ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی حالات کے پیش نظر وکلاء کوآرڈینیشن کمیٹی کو دوبارہ بحال کیا جارہاہے تاکہ ملکی مسائل کے حل کے لیے وکلاء اپنا کردار ادا کرسکیں۔
قائم مقام اٹارنی جنرل شاہ خاور نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے این آر او کو غیر قانونی قرار دیا تو تمام مقدمات دوبارہ کھل جائیں گے۔ عدالت عظمٰی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شاہ خاور نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے قومی مصالحتی آرڈیننس غیر موثر قرار دینے سے این آر او کے تحت مقدمات میں ملوث تمام افراد دوبارہ سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ این آر او کے خلاف دائر درخواستوں میں وفاق کی نمائندگی کروں گا۔
|