ٍٍٍ

سیدہ فاطمہ بنت اسد ، نے علمی و روحانی گھرانے میں آنکھ کھولی۔آپ کے دادا سیدنا ہاشم بن عبدمناف سردار قریش اور کعبۃ اللہ کےمتولی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک با صلاحیت اور سخی انسان تھے۔آپ نے اپنے ہی خاندان کی ایک باوقار خاتون سے عقد کیا جن سے ایکصاحبزادے اسد تشریف لائے جو سیدہ فاطمہ بنت اسد کے والد تھے۔قبائل عرب میں ہاشمی خاندان اپنی اخلاقی و روحانی اقدار اور انسان دوستی کی بلندیوں کے باعث منفرد احترام رکھتا تھا ۔وقار ،سخاوت ،شجاعت اور ان گنت خصائل بنی ہاشم کا وصف ہیں۔سیدنا عبدالمطلب ، نے جو کہ انتہائی دور اندیش اور معاملہ فہم انسان تھے ،آپ کی فطرت، ذہانت اور بے پناہ صلاحیتوں کا اندازہ کرتے ہوئے آپ کو اپنے عالیقدر فرزند ارجمند سیدنا ابو طالب ، کے لئے منتخب فرمایا۔آپ عرب کی عورتوں میںانتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھی جاتی تھیں۔آپ کے عقد کے موقع پر تمام قبائل عرب نے شرکت کی اور بارگاہ عبدالمطلب میں تہنیت پیش کی۔سیدنا ابو طالب ، نے اپنا خطبہ نکاح ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ،
’’سب تعریفیں پروردگار عالمین کے لئے ہیں جو عرش عظیم کا پروردگار ہے ،جو مقام ابراہیم ،مشعر الحرام اور حطیم کا پروردگار ہے ،
جس نے ہمیں سرداری، کعبہ کی دربانی اور خدمت، انتہائی بلند مقام دوستی ، اور اپنی حجت کی سرداری کے لئے منتخب فرمایا ،جس نے ہمارےلئے مشاعر کو قائم کیا اور ہمیں تمام قبیلوں پر فضیلت عطا فرمائی اور اس نے ہمیں آل ابراہیم میں سے چن لیا اور حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے قرار دیا ۔میں فاطمہ بنت اسد سے عقد کرتا ہوں ،حق مہر ادا کرتا ہوں اور معاملہ نافذ کرتا ہوں ،تم ان سے پوچھ لو اور گواہی دو‘‘۔
جناب اسد ، نے فرمایا ،’’ہم نے ان کی آپ سے شادی کی اور ہم آپ سے راضی ہوئے ‘‘۔ اس کے بعد تمام عرب کے وفود کی ضیافت کی گئی ۔
حضرت فاطمہ بنت اسد نے جناب ابو طالب ، کے ہمراہ زندگی گزارنا شروع کی ۔آپ نے گھر کے معاملات اور تمام تر مسائل کی ذمہ داریوں کو صبر و صداقت ،خلوص ، پاکیزہ سوچ ،صاف دل ، انتہائی محبت اور پاکیزگی کے ساتھ پورا کیا ۔
آپ فرمایا کرتی تھیں،’’جب حضرت عبدالمطلب کا انتقال ہوگیا تو حضرت ابو طالب آپ (سیدنا محمد مصطفٰی، )کو اپنے ساتھ لے آئے ۔میں ان کی خدمت کیا کرتی اور وہ مجھے ’’اماں ‘‘کہہ کر پکارا کرتے ۔ہمارے گھر کے باغیچہ میں کھجوروں کے درخت تھے ۔تازہ کھجوروںکے پکنے کا موسم شروع ہوا ،حضرت محمد کے دوست بچے ہر روز ہمارے گھر میں آتے اور جو کھجوریں گرتیں وہ چن لیتے ۔میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ ، سے پہلے کسی بچے نے کوئی کھجور اٹھائی اور محمد ، نے اس سے چھینی ہو،جب کہ دوسرے بچے ایک دوسرے سے چھینتے رہتے ۔میں ہر روز محمد ، کے لئے دونوں ہاتھ بھر کر چن لیتی ۔اسی طرح میری کنیز بھی دونوں ہاتھ بھر کر رکھ لیتی ۔ایک دن میں اور میری کنیزبھول گئیں اور ہم کھجوریں نہ چن سکیں۔
محمد سو رہے تھے ۔بچے داخل ہوئے اور جو بھی کھجوریں گری تھیں وہ چن کر چلے گئے ۔میں سو رہی اور محمد ، سے شرم و حیا کی
وجہ سے اپنے چہرے کو ڈھانپ کر سو گئی۔محمد بیدار ہوئے اور باغ میں تشریف لے گئے ۔لیکن وہاں زمین پر کوئی کھجور نظر نہ آئی سو واپس لوٹ آئے ۔کنیز نے ان سے کہا ،’’ہم کھجوریں چننا بھول گئے تھے ،بچے آئے اور ساری کھجوریں جو گری ہوئی تھیںچن کر کھا گئے ‘‘۔محمد ،دوبارہ باغ میں گئے اور ایک کھجور کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا ،’’مجھے بھوک لگی ہے‘‘۔
میں نے دیکھا کھجور نے اپنے شگوفوں کو جھکا دیا جن پر تازہ کھجوریں تھیں۔محمد، نے جی بھر کر کھا لیں ،پھر وہ شگوفے اپنی جگہ پر واپس چلے گئے ۔میں نے بہت تعجب کیا ۔حضرت ابو طالب ہر روز گھر سے باہر چلے جایا کرتے تھے۔جب بھی واپس آتے تو دروازے پر دستک دیتے۔میں کنیز سے کہتی کہ وہ دروازہ کھولے۔ابو طالب نے دستک دی اور میں خود ننگے پاؤں دوڑتی ہوئی دروازے پر گئی اور دروازہ کھولا اور جو کچھ دیکھا تھا بیان کر دیا ۔ابو طالب نے فرمایا ،
’’وہ یقینا نبی ہیں اوران کے وزیر تیس سال بعد آپ کے ہاں تشریف لائیں گے ‘‘۔
ایک روز آپ فواطم بنی ہاشم میں تشریف فرما تھیںاور گفتگو فرما رہی تھیںکہ رسول اللہ نور روشن کے ساتھ تشریف لائے ۔چند کاہن
انہیں دیکھتے ان کے پیچھے وہاں پہنچ گئے اور ان فواطم بنی ہاشم سے آپ کے بارے میں پوچھا ۔انہوں نے بتایا ،’’یہ انتہائی عظمت و شرف اور بلند ترین فضل و کمال کے مالک حضرت محمدہیں‘‘۔کاہن نے ان خواتین کو آپ کی عظمت اور بلند مرتبہ کے بارے میں بشارت دی کہ مستقبل قریب میں آپ مبعوث بہ نبوت ہوں گے اور بلند و بالا منزل و رتبہ کے مالک ہوں گے ۔تم عورتوں میںسے جو ان کی بچپن کی کفالت کا شرف حاصل کریں گی وہ ایک ایسے فرزند کی کفالت کا بھی شرف حاصل کریں گی جو ان کے مدد گاروں اور ساتھیوں میں سے ایک ہو گا۔وہ ان کے رازوں کا امین اور ان کا ساتھی ہو گا ۔دوستی و اخوت اوت بھائی چارے کی بنا پر ان سے محبت کرے گا ۔
حضرت فاطمہ بنت اسد، نے اس کاہن کو بتایا ،’’میں ان کے تایاا کی زوجہ ہوں ۔وہ ان کے بارے میں ہر وقت فکر مند اور پر امید رہتے ہیں ۔
یہ میری کفالت میں ہیں‘‘۔اس نے کہا ،’’عنقریب آپ ایک بہت بڑے عالم اور اپنے پروردگار کی اطاعت کرنے والے بیٹے کو جنم دیں گی ،جن کانام تین حروف پر مشتمل ہو گا ۔وہ ان نبی کے تمام معاملات اور امور میں ولی ہوں گے اور ہر چھوٹے بڑے کام میں ان کی مدد کریں گے ۔وہ ان کے دشمنوں کے لئے تلوار ہوں گے اور دوستوں کے لئے دروازہ اور باب ہوں گے ۔وہ ان کے چہرہ مبارک سے پریشانیوں کو دور کریں گے
ظلمت و تاریکی کی گھٹاؤں کو دور کریں گے ۔گہوارے ہی میں بہادری و حملہ ،رعب اور دبدبہ پیدا کرنے والے ہوں گے ۔لوگ ان کے خوف سے کانپیں گے ۔ان کے بہت ذیادہ فضائل و مناقب اور بلند و بالا مقام و مرتبہ ہو گا ۔وہ ان کی اطاعت میں ہجرت کریں گے ۔اپنی جان سے بڑھ کر ان کی حفاظت کے لئے جہاد کریں گے ۔وہی ان کی وصیت کے مطابق انہیں ان کے کمرے میں دفن کریں گے‘‘۔
سیدہ فرماتی ہیں کہ میں یہ سن کر سوچ و بچار کرنے لگی۔را ت خواب میں دیکھا کہ شام کے پہاڑ رینگتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ۔انکے اوپر لوہے کی چادریں تنی ہیںاور ان کے سینوں سے خوفناک قسم کی چیخنے کی آوازیں بلند ہو رہی ہیںاور وہ تیزی سے مکہ کے پہاڑوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مکہ کے پہاڑ بھی جواباَاسی طرح چیخ و پکار کی صورت میں خوفناک آوازیں بلند کر رہے ہیںجس طرح تیز دھار آلہ کی آواز ہو ۔کوہ ابو قبیس گھوڑے نگل رہا ہے ۔اس کی بلند چوٹی دائیں بائیں گر رہی ہے ۔لوگ اس وجہ سے گر رہے ہیں ۔ان کے ساتھ ہی چار تلواریں اورایک لوہے کا انڈہ جس پر سونا چڑھا ہوا ہے گرے ان میں سے سب سے پہلے جو مکہ میں داخل ہوا اس کے ہاتھ سے تلوار پانی میں گری اور ڈوب گئی ۔دوسری تلوار ہوا میں اڑی اور اڑتی ہی گئی ۔تیسری زمین پر گری اور ٹوٹ گئی ۔چوتھی میرے ہاتھ میں تنی رہی۔ وہ میرے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ نوجوان کی صورت میں ڈھل گئی جو خوفناک شیر کی طرح بن گیا ۔وہ میرے ہاتھ سے نکلا اور پہاڑوں کی طرف چلا گیا اور ان کے پیچھے پیچھے رہا ۔ان کی چٹانوں کو توڑتا رہا ۔ لوگ یہ دیکھ کر ڈرتے رہے اور خوفزدہ ہو کر بھاگتے رہے ۔یہاں تک کہ حضرت محمد تشریف لائے ۔انہوں نے اسے گردن سے پکڑ لیا ،جس سے وہ ایک مانوس اور پیار کرنے والے ہرن کی طرح رام ہو گیا ۔
میں خواب سے بیدار ہو گئی ۔مجھ پر تھکان اور خوف نے غلبہ کر لیا ۔میں نے اس کی تعبیر دریافت کی تو بتایا گیا ،’’آپ کے ہاں چار
صاحبزادے اور ان کے بعد دو بیٹیاں پیدا ہو ں گی ۔بیٹوں میں ایک غرق ہو جائے گا ،دوسرا جنگ میں قتل ہو جائے گا ،تیسرے کو موت آئے گی ،انکے بعد ایک باقی رہ جائے گا جو مخلوق خدا کا امام قرار پائے گا ۔وہ صاحب سیف ہو گا اور بہت بڑی فضیلت کا مالک ہو گا ۔ نبیء مبعوث کی بہت احسن طریقہ سے اطاعت کرے گا ۔
سیدہ فرماتی ہیں ،’’میں سوچتی رہی یہاں تک کہ تین لڑکے عقیل ،طالب اور جعفر متولد ہوئے ۔پھر علی کے مقدس وجود کی امینہ بنی ۔یہاں تک کہ وہ مہینہ جس میں ان کی ولادت ہوئی میں نے خواب میں لوہے کا ایک ستون دیکھا جو میرے سر کے اوپر سے بلند ہوا ،پھر ہوا میں پھیل گیا ۔یہاں تک کہ آسمان تک پہنچ گیا ۔پھر میری طرف لوٹا ۔میں نے کہا یہ کیا ہے ؟،
مجھے بتایا گیا کہ کافروں کا قتل کرنے والا،مدد کا وعدہ پورا کرنے والا ،ان کی جنگ بہت شدید ہو گی جس کے خوف سے لوگ
ڈریں گے ۔وہ اللہ کے نبی کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد اور ان کے دشمنوںکے خلاف اللہ کی تائید ہے ‘‘۔اس کے بعد میرے ہاں علی تشریف لائے ۔
خصائل وخصائص:سیدہ فاطمہ بنت اسد ، تاریخ اسلام میںانتہائی اہم حیثیت رکھتی تھیں۔ذات واحد پر ایمان کامل اور تقویٰ و پر ہیز گاری کی زندگی
بسر فرمائی ۔انبیائے ماسبق اور ان پر نازل ہونے والی کتب اور ہدایات پر یقین رکھتے ہوئے عمل پیرا تھیں۔آپ کے شوہر نامدار ،سیدنا ابوطالب ،عبدمناف عمران بن عبدالمطلب ،وارث انبیاء ومرسلین تھے ۔سیدہ فاطمہ بنت اسد مستجاب الدعوات تھیںاور آپ کے دہن اقدس سے نکلی ہر بات سریع الاثر اجابت رکھتی تھی ۔چار دیواری میں تمام زندگی گزار دینے کے باوجود آپ ایک مثالی خاتون تھیں۔انہوں نے اپنے شوہر اور اولاد اورسب سے بڑھ کر آنحضرت کا بے حد خیال رکھا ۔ہر محاذ پر سیدنا ابو طالب ، کا مکمل ساتھ دیا اور حضرت محمد مصطفٰی کی حفاظت و خدمت گزاری کی اور مادرانہ شفقت و محبت کا بے مثال مظا ہرہ فرمایا جس کے باعث آنحضرت ، آپ کے انتہائی ممنون و عقیدت مند رہے۔ام المومنین سیدہ خدیجہ الکبریٰ کے بعد آپ دوسری خاتون ہیں جنہوں نے سرکار دوعالم کے دست اقدس پر بیعت فرمائی ۔
سیدہ فاطمہ بنت اسد، کی نورانی آغوش میں پنجتن پاک کی پرورش ہوئی ۔سیدنا محمد مصطفٰی ،سیدنا علی المرتضٰی ،سیدہ فاطمہ الزہرا،سیدنا امام حسن مجتبٰی ، اورسیدنا اما م عالیمقام حسین شہید کربلا ، ،آپ کی آغوش عاطفت میں پروان چڑھے۔یہ اعزاز کامل آپ کی
انفرادیت ہے اور کوئی خاتون اس میں آپ کی شریک نہیں۔آپ مہاجرین مدینہ میں سے ہیںاور شوق دیدار مصطفٰی کریم، میں آپ مکہ مکرمہ سے
مدینہ منورہ پیدل تشریف لے گئیں اور سواری کا استعمال پسند نہ فرمایا۔
مصطفٰی و مرتضٰی، ، آپ ہی کی تربیت کا ثمر تھے ۔آپ کے شوہرنامدار سیدناابو طالب ، اسلام کے عظیم ترین محافظ اول اور ناصر رسول،
تھے۔سیدہ فاطمہ بنت اسد، نے حضور کی خدمت و محافظت میں حضرت ابو طالب، کا ہاتھ بٹایا۔

سیدنا محمد مصطفٰی اوائل عمری ہی میں آغوش مادری سے جدا ہو گئے تھے مگر سیدہ فاطمہ بنت اسد ، کی صورت میں آپ کو ماں کی گود نصیب ہوئی ۔اسطرح آپ مامتا کے پیار سے محروم نہیں ہوئے۔سیدہ فاطمہ بنت اسد، نے مسائل کی پرواہ کئے بغیر آپ کا بچپن ،لڑکپن اور جوانی میں خیال رکھا۔اور اس بات کو یقینی بنایا کہ آپ کی خدمت میں ہمیشہ بہترین چیز پیش کی جائے ۔آپ کو نفیس ترین لباس پہنایا اور مرغوب ترین غذا کھلائی ۔جہاں شوہر نے بیرونی دشمنوں سےحفاظت فرمائی وہیں زوجہ نے گھر میں پیار،اطمینان،غمگساری اور محافظت فرمائی۔آپ ہی کے آنگن میں حضور ، ذہنی سکون اور آرام و اطمینان کااحساس پاتے تھے ۔خطرات کے پیش نظر سیدہ فاطمہ بنت اسد ، اپنی اولاد کو حضور کے بستر پر سلا دیتی تھیں۔حضور، کی حفاظت اور اسلام کی سربلندی کی خاطر کٹ مرنے کی طینت آپ ہی نے اولاد ابو طالب، کو عطا فرمائی تھی۔اسی حفاظت رسول اسلام اور دین متین پر آپ نے اپنے ہزاروں جگر پارے نچھاور کر دیئے۔
محدثہ:سیدہ فاطمہ بنت اسد، نے حضور نبی کریم کی احادیث مبارکہ کا وسیع ذخیرہ اہل اسلام کو عطا فرمایا۔
اولاد اطہار :آپ، کے چار صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں تھیں۔سیدنا طالب ، سیدنا عقیل ، سیدنا جعفر ، سیدنا علی ، صاحبزادے جبکہ سیدتنا ام ہانی ،
ا ور سیدتنا جمانہ ، صاحبزادیاں تھیں۔ان سب سے بڑھ کر باعث تخلیق کائنات آپ کے فرزند تھے ۔آپ کا گھر نہ صرف اسلام کی ابتدائی آغوش ہے بلکہ تاقیامت اس دین خدا کی محکم حصار بندی کا فریضہ بھی اسی خانوادے کا اعزاز ہے اورریگزار کربلا سے لے کر وادیء فخ، اور بغداد و شیراز ،اصفہان و ساوہ،نیشاپور اوردیگرمقامات پر اسلام کی خاطر نوک سناں کی زینت بننے والی اولاد سیدہ فاطمہ بنت اسد ہی کی ہے۔ بانیءاسلام سیدنا محمد مصطفٰی اور محافظ اسلام سیدنا علی المرتضٰی آپ ہی کے گھرپروان چڑھے۔آپ ہی کی تربیت کے زیر اثر سیدنا امام علی ، شبہجرت حضور کے بستر مبارک پر آرام فرما ہوئے ۔سیدہ فاطمہ بنت اسد کے چار صاحبزادے تھے۔
سیدنا طالب بن ابی طالب ،:
سیدنا طالب بن ابی طالب ،سیدہ فاطمہ بنت اسد کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے اور آپ ہی کی مناسبت سے سید البطحاء کی
کنیت مبارکہ ابو طالب معروف ہے ۔ اوائل حیات ہی میں انتقال فرمایا۔
سیدنا عقیل بن ابی طالب ،:آپ سیدہ فاطمہ بنت اسد کے دوسرے صاحبزادے تھے ۔590ء میں متولد ہوئے۔8ھ میں مدینہ پہنچے ۔ جنگ موتہ میں شرکت فرمائی ۔ آخری ایام میں بصارت ضعیف ہو گئی۔96برس کے سن دنیا میں انتقال فرمایا۔آپ کے صاحبزادے اور پوتے سانحہ کربلا کے پہلے شہید ہیں۔سیدنا مسلم بن عقیل سفیر حسین ، بن کر کوفہ تشریف لے گئے اور اپنے دوصاحبزادوں سیدنا محمد ، اور سیدنا ابراہیم کے ہمراہ کوفہ میں شہید ہوئے ۔آپکے دوصاحبزادے عاشورہ کے روز کربلا میں شہید ہوئے۔ دختر مولائے کائنات، تاجدار پاک وہند،سیدہ رقیہ بنت علی ،المعروف بی بی پاکدامن، لاہور شریف،حضرت عقیل کی بہو تھیں۔
سیدنا عقیل کے پانچ صاحبزادے تھے ، ۱۔حضرت مسلم بن عقیل ، ۲۔ حضرت محمد بن عقیل ، ۳۔ حضرت عیسیٰ بن عقیل ،
۴۔ حضرت حسن بن عقیل ، ۵۔ حضرت ابن عقیل ، اور ایک صاحبزادی سیدہ رملہ بنت عقیل ، تھیں۔آپ کے صاحبزادے محمد ابن عقیل
سے بنی داؤد کا قبیلہ ہے اور حضر موت یمن میں مقیم بجابر قبائل بھی آپ ہی کی نسل ہیں۔
سیدنا جعفر بن ابی طالب ،:اسلام کے عظیم جرنیل ،سیدنا جعفر طیار، نے جنگ موتہ میں افواج نبوی کی قیادت فرمائی اور جام شہادت نوش کیا ۔آپ کے دونوں بازو
کٹ گئے تو آپ نے پرچم اسلام دندان مبارک کے سہارے بلند رکھا۔آپ اسلام کے واحد شہید ہیں جنہیں زبان رسالت نے طیّار کا لقب عطا
فرمایا۔دیگر اولاد کی نسبت حضور، سے سیدنا جعفر طیار کی حد درجہ مشابہت اور بے پناہ دانشمندی کے باعث سیدہ فاطمہ بنت اسد، آپ سے خصوصی پیار فرماتی تھیں۔
ہجرت حبشہ کے دوران اسلام کی خاطر آپ نے حضرت جعفر طیاراور آپ کی زوجہ حضرت اسماء بنت عمیس سے جدائی کو برداشت
کیا۔سیدنا جعفر طیار، خاندانی فصاحت و بلاغت کے وارث تھے اور پرجوش خطابت کے باعث اپنا نقطۂ نظر عوام الناس سے منوا لیا کرتے تھے ۔
اسی خصلت کے باعث شاہ حبشہ کے دربار میں قریش کے مطالبہ کے برعکس آپ نے اہل اسلام کا دفاع کیا اور کفار کے شر سے محفوظ فرمایا۔
آپ کے بڑے صاحبزادے سیدنا عبداللہ بن جعفر طیار کا عقد ثانیء زہراسیدہ زینب الکبریٰ سے ہوا اور چھوٹے صاحبزادے سیدنا محمد بن جعفر طیار ،سیدہ ام کلثوم زینب الصغریٰ کے ہمسر تھے۔حضرت عبداللہ بن جعفر طیار ، کے دوصاحبزادے سیدنا عون ، اور سیدنا محمد ، سانحہ کربلا میں نصرت امام حسین ، میںشہید ہوئے۔
سیدنا اما م علی بن ابی طالب ،:
آپ سیدہ فاطمہ بنت اسد ؑکے سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ جمعۃ المبارک،13رجب المرجب 30عام الفیل،بعثت نبوی سے بارہ سال قبل، 17امارچ599ء سیدہ فاطمہ بنت اسد، حکم الٰہی سے اپنے گھر سے نکلیں اور خانۂ کعبہ تشریف لائیں۔غلاف کعبہ پکڑ کر دعا مانگی ،
رَبِّانّیْ مُؤْمِنَۃُُ بِکْ وَ بِمَا جَائَ مِنْ عِنْد مِنْ رُسُل وَ کُتُب، اِنّیْ مُصَدّقَۃُ بِکَلاَمِ جَدّّیْ اِبْرَاہِیْم الْخَلِیْل وَ انہُ بنَیْ اَلْبَیْت الْعَتِیْق ،
فَبِحَقّ الَّذِیْ بنی ھٰذَاالْبَیْت وَ بِحَقّ الْمَوْلُود اَلَّذِیْ فِی بَطَنِیْ لمَا یسرت عَلی ولَادَتی
’’پروردگار !میں تجھ پر ،تیرے رسولوں پر اور تیرے صحیفوں پر ایمان رکھتی ہوں ،اپنے جد ابراہیم کے فرامین پر یقین رکھتی ہوں جنہوں نے
خانۂ کعبہ کی تعمیر فرمائی،اس گھر کے معمار کے واسطے اور میرے آنے والے بچے کے واسطے جو مجھ سے گفتگو کرتا ہے اور میرا محافظ و مددگار و ہمدردہے،میں تجھ سے التجا کرتی ہوں کہ میرے لئے یہ وقت آسان فرما ۔میرا یہ بچہ تیرے جلال و عظمت کی نشانی ہے‘‘۔
آپ کی ولادت کے وقت سیدہ فاطمہ بنت اسد طواف کعبہ میں مصروف تھیں۔ جب سیدہ فاطمہ بنت اسد رکن یمانی کے سامنے
پہنچیں تو دیوارکعبہ ،رکن یمانی کے مقام سے شق ہو گئی اور جب سیدہ فاطمہ بنت اسد، اندر تشریف لے گئیںاور دیوار برابر ہو گئی،
، دیوار در بنے کہ دنیا میں دھوم ہو ظا ہر کمال مادر باب علوم ہو
آپ تین دن کعبۃ اللہ میں قیام فرما رہیں اور حوران بہشت آپ کی خدمت پر ماموررہیں۔حضرت حوا، حضرت مریم، حضرت آسیہ، اورامموسی تشریف لائیںاور خدمات سرانجام دیں۔فردوس بریں سے آپ کی خوراک بھیجی جاتی تھی۔مولائے کائنات تشریف لائے اور فوراًسجدہ میں تشریف لے گئے اور فرمایا،اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلَ اللّٰہ وَاَشْھَدُ اَنَّ عَلِیَّا وَّصِی مُحَمَّدْ رّسُوْلَ اللّٰہ لِمُحَمَّدْ یَخْتِمَ اللّٰہُ الْنَّبُوَّۃْوَبِیْ تَتِمَّ الْوَصِیَّہْ وَاَنَا اَمِیْر الْمُؤْ مِنِیْنحضور کے چچاحضرت عباس بن عبدالمطلب ، نے یہ معجزہ دیکھا ۔آپ اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ خانۂ کعبہ کے دروازے پر پہنچے اور
اسے کھولنے کی کوشش کی کہ کچھ مستورات کو سیدہ بنت اسد کی خدمت کے لئے اندر بھیجا جا سکے مگر وہ اندر سے بند تھا ۔بسیار کوشش کے باوجود کھول نہ پائے ۔قدرت کا عمل دخل دیکھ کر کوششیں ترک کر دیں ۔اس واقعہ کی خبر چند لمحوں میں پورے مکہ میں پھیل گئی۔
سیدنا امام علی ، ،بند آنکھوں اور سربسجود حالت میں تشریف لائے۔سیدہ فاطمہ بنت اسد تین دن خانۂ کعبہ میں قیام فرما رہیںاور چوتھے دن رکن یمانی کے مقام سے دیوار پھر شق ہوئی اور مخدومہ طاہرہ صاحبزادے کو بانہوں میں لئے کعبۃ اللہ سے باہر تشریف لائیں۔رسول
اللہ،نولود کے استقبال کو کھڑے تھے ۔مولائے کائنات نے آنکھیں کھولیں اور عالم فانی میں جس وجہ باقی کی اولیں زیارت فرمائی وہ اللہ کے
رسول محمدمصطفٰی کا مسکراتا چہرہ تھا۔تاریخ میں یہ اعزاز صرف تاجدار اولیاء کا ہے اور کوئی رسول،نبی یا ولی اس سے فیضیاب نہیں ہوا۔
سرکار دوعالم، کے بعد عالم اسلام میں اور کوئی شخصیت سوائے فرزند بنت اسد کے ایسی نہیں جس پر لکھی گئی کتب کی تعداد ہزاروں میں ہے اور ہنوز سلسلہ ء تصنیف و تالیف بارگاہ مرتضوی میں پیش کیا جا رہا ہے ۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور تمام مؤ رخین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ خانۂ کعبہ امیر المؤمنین امام علی کی جائے پیدائش ہے ۔ خانوادۂ ابو طالب کو مبارکباد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔جب بھی کوئی خانۂ ابو طالب میں مبارکباد کو حاضر ہوتا تو دامن رسالت سے نومولود فرزند ابو طالب کو چمٹا دیکھتا ۔خانۂ کعبہ سے دہلیز ابوطالب کا سفر سلطان ولایت نے دست رسالت پر کیا ۔سیدہ فاطمہ بنت اسدنے فرمایا،’’جب میں خانۂ کعبہ میں تھی تو مسلسل ہاتف غیبی کی صدا آتی رہی،ان کا نام علی رکھناکیونکہ یہ بلند ہیں اور میں بلند تر ہوں۔میں نے انہیں اپنا نام عطا کیا ہے اور ان میںاپنے علوم کے راز ودیعت کئے ہیںاور اپنا امر تفویض کیا ہے ۔یہ میرے گھر کو بتوں کی غلاظت سے پاک کریں گے اور انہیں توڑ توڑ کر منہ کے بل نیچے پھینکیں گے۔ یہ میری عظمت و بزرگی اور توحید بیان فرمائیں گے ۔میرے حبیب ،میرے
نبی اور مخلوق میں چنے ہوئے میرے رسول محمد کے بعد امام اور ان کے وصی ہوں گے ۔۔یہ صرف میری عبادت کریںگے اور لوگوں کو میری عبادت کے لئے بلائیں گے۔
جو ان سے محبت کریں گے اور ان کا اتباع کریں گے خوش نصیب ہوں گے اور جو ان سے دشمنی کریں گے بدنصیب ہوں گے‘‘۔
علی ایک پرجوش اور حوصلہ مند نام ہے جو جاہ و تمکنت اور رفعت و سربلندی کا مظہر ہے ۔آپ سے پہلے کوئی اس نام سے موسوم
نہیں ہو اتھا اور نہ آپ سے پہلے اور بعد کوئی ماں خانۂ کعبہ میں اولاد پیدا کر سکی ۔اسی واقعہ کی طرف اشارہ فرماتے مولائے کائنات نے حضرت صعصعہ بن صوحان سے فرمایا،
’’مریم خانۂ خدا میں تھیں ،ولادت عیسیٰ کے وقت انہیں کہا گیا کہ یہ زچہ خانہ نہیں یہاں سے دور چلی جائیں۔ میری آمد کے وقت
میری والدہ اپنے گھر میں تھیں ،انہیں حکم دیاگیا کہ خانۂ کعبہ تشریف لائیں‘‘۔
حدیث جابر بن عبداللہ انصاری:عظیم صحابیء رسول حضرت جابر بن عبداللہ انصاری فرماتے ہیںکہ آپ نے فرمایا،
اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے اور علی کو اپنی ساری مخلوق کی خلقت سے پانچ لاکھ سال پہلے خلق فرمایا۔ہم اللہ کی تسبیح و تقدیس
کرتے رہے ۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو خلق فرمایا توہمیں ان کی صلب میں ودیعت فرمایا۔میں دائیں جانب تھا اور علی بائیں جانب تھے ۔
پھر ہمیں ان کی صلب سے پاک و پاکیزہ اصلاب میںمنتقل فرمایااور پھر ان اصلاب سے پاک و پاکیزہ ارحام میں منتقل فرمایا۔پھر اسی طرح ہوتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے عبداللہ بن عبدالمطلب کی پاک و پاکیزہ صلب تک پہنچایا اور وہاں سے سب سے عظیم رحم حضرت آمنہ میں منتقل فرمایا۔اللہ رب العزت نے علی، کوپاک و پاکیزہ صلب ابو طالب میں منتقل فرمایا جہاں سے آپ پاک و پاکیزہ، عظیم رحم حضرت فاطمہ بنت اسد میں منتقل ہوئے ۔
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے :سیدنا ابو طالب، کے صلب انور سے نور حیدر، ،رحم بنت اسد میں منتقل ہوا تو زمین میں لرزہ طاری ہو گیا۔ بوتراب کی آمد سے زمین
کئی دن تک لرزہ براندام رہی۔قریش خوفزدہ ہو گئے اور سیدنا ابو طالب سے درخواست کی کہ کوہ ابو قبیس پر جا کر دعا فرمائیں کہ ان پر آنےوالی مشکل حل ہو جائے ۔قریش دامن ابو قبیس میں اکٹھے ہوئے تو وہ اور بھی شدت سے لرزنے لگا یہاں تک کہ اس کے پتھر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرنے لگے۔اس زلزلہ میں خانۂ کعبہ میں پڑے بت منہ کے بل ٹوٹ کر گرنے لگے ۔حضرت ابو طالب نے قریش سے فرمایا،
’’اے لوگو!اللہ تبارک و تعالیٰ نے آج رات ایک نئی مخلوق کو خلق کیا ہے ۔جب تک تم اس کی اطاعت نہ کرو گے اور اس کی ولایت کا
اقرار نہ کرو گے اور اس کی امامت کی گواہی نہیں دو گے تو اس وقت تک نہ سکون حاصل ہو گا اور نہ ہی تہامہ تمہارا مسکن بن سکے گا‘‘۔
سب نے کہا ہم آپ کی بات کو قبول کرتے ہیں۔حضرت ابو طالب کوہ ابو قبیس کی چوٹی پر تشریف لے گئے اور دست دعا بلند فرمائے اور دعا کی ،
اِلٰھِیْ وَ سَیَّدِیْ اَسْالُکَ بِالْمُحَمَّدِیَّۃِ الْمَحْمُوْدَہْ وَبِالْعَلَوِیَّۃِ الْعَالِیَۃْوَ بِالْفَاطمِیَّۃِ الْبَیْضَاء الاتفضلت عَلیٰ تِہَامَۃ بِالرَّافَۃ وَالْرَّحْمَۃْولادت علی اور حج بیت اللہ :مولائے کائنات کی آمد خانۂ کعبہ کے عین وسط میں ہوئی۔عبد الباقی العمری کہتے ہیں،اَنْتَ عَلِیْ اَلَّذِیْ فَوْقَ الْعُلَا رَفْعًا بِبَطْنِِمَکَّہْ وَسْطَ الْبَیْتِ اَذُوْ صَنْعَا
آپ وہ علی ہیں کہ جن کا مرتبہ عرش علیٰ سے بھی بلند تر ہے ،آپ کی منزلت میں اس سے بڑھ کر کیا بات ہو کہ آپ وسط کعبہ میں تشریف لائے ۔ جب رسول اللہ نے آپ کو دیکھا تو آپ نے انگڑائی لی ۔سرور کائنات کے چہرۂ اقدس پر مسکراہٹ پھیل گئی۔فخر عیسیٰ نے فرمایا، اے اللہ کے رسول!آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت ہو پھر فرمایا،
بِسْمِِ اللّٰہِ الْرَّحْمٰنِ الْرَّحِیْم ہ قَدْ اْفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ہ الَّذِیْنَ ھُمْ فِی صَلَاتِھِمْ خَاشِعُوْن ہ
بے شک مومنین کامیاب ہوئے جو نمازوں میں خشوع و خضوع کرتے ہیں ۔رسول اللہ نے فرمایا ،’’جو کوئی آپ کے ساتھ ہو گا وہ بھی
فلاح پا گیا۔
پھر آپ نے تمام آیات کی تلاوت فرمائی۔جب آپ ، نے فرمایا ، اُوْلٰئِکَ ھُمُ الْوٰارِثُوْن ہ اَلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ط ھُمْ فِیْھَا خَالِدُوْن ہ رسول اللہ نے فرمایا ،’’خدا کی قسم آپ ان مومنوں کے امیر ہیں ۔انہیں اپنے علوم سے امیر کر دیں گے ۔وہ بھی امارت حاصل کریں گے اور آپ بخدا ان کے لئے دلیل و رہنما ہیں۔وہ آپ سے رہنمائی حاصل کریں گے۔پھر رسول اللہ نے جناب فاطمہ سے کہا ،ان کے چچا کے پاس جائیں اور انہیں ان کی ولادت کی خوشخبری دیں۔بی بی نے کہااگر میں چلی گئی تو انہیں کون سیراب کرے گا ۔رسول اللہ نے فرمایا،میں انہیںسیراب کروں گا ۔سیدہ فاطمہ نے کہا ، آپ انہیں سیراب کریں گے ؟،فرمایا ہاں۔رسول اللہ نے اپنی زبان مبارک آپ کے دہن اقدس میں ڈال دی جس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے ۔ اس دن کو ’’یو م الترویہ ‘‘کا نام دیا گیا ہے ۔
دوسرے دن صبح رسول اللہ تشریف لائے تو مولائے کائنات آپ کو دیکھ کر مسکرائے۔رسول اللہ نے آپ کو اٹھا لیا تو سیدہ فاطمہ نے
فرمایا ،رب کعبہ کی قسم علی نے انہیں پہچان لیا۔وہ دن ’’یوم عرفہ‘‘ کہلایا۔تیسرے دن رئیس بطحاء نے اہل عرب کی دعوت عام فرمائی اور تین سو اونٹ، ایک ہزار گائے ،بکریاں ذبح کروا کر بہت بڑی ضیافت کا اہتمام کیااور اعلان عام فرمایا کہ بیت اللہ شریف کے سات چکر لگا کر طواف
مکمل کریں اور آکر میرے صاحبزادے علی کو سلام کریں کہ اللہ نے انہیں شرف عظیم عطا فرمایا ہے ۔اس دن کو’’ یوم النحر‘‘ یعنی قربانی کا دن قرار دیا گیا۔ اللہ رب العز ت نے ان مقدس ایام کی یاد زندہ رکھتے ہوئے ایام حج کو انہی سے موسوم فرمایا اور مولائے کائنات کی جائے ولادت کی زیارت کو زندگی میں واجب قرار دیتے ہوئے ان تین ایام کی سنت زندہ رکھنے کا حکم دیا۔
سیدتنا ام ہانی بنت ابی طالب ،:
سرکار دوعالم ، شب معراج خانۂ کعبہ سے آپ کے گھر تشریف لائے اور وہاں سے مسجد اقصٰی کو تشریف لے گئے ۔آپ انتہائی شجاع و
بہادر تھیں اور ایک دفعہ شیر خدا حیدر کرّار کی کلائی اس زور سے پکڑی کہ انہیںمحسوس ہوا کہ آپ کی انگلیاں بدن کے اندر پیوست ہو گئی ہیں۔ سفیر حسین حضرت مسلم بن عقیل کو آپ ہی نے پالا اور تربیت فرمائی ۔661 ء میں انتقال فرمایا۔
بیت اللہ اور مقام فاطمہ بنت اسد ، :عربی زبان میں بیت اس مکان کو کہتے ہیں جس میں مکین اقامت پذیر ہوں۔مکینوں سے خالی عمارت بیت نہیں کہلاتی۔سیدہ فاطمہ
بنت اسد ، کے خانۂ کعبہ میں قیام فرمانے سے قبل اسے کعبۃ اللہ کہا جاتا تھا ۔آپ کے مختصر قیام اور ولادت امیر المومنین ؑکے باعث خانۂ کعبہ کو بیت اللہ قرار دیا گیا۔
جنازہ:626
ء،سیدہ فاطمہ بنت اسد ، کی وفات کے موقع پر سید المرسلین، انتہائی غمگین ہوئے ۔انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ جب حضور کو سیدہ فاطمہ بنت اسد کی وفات کی خبر ملی تو آپ فوراًان کے گھر گئے ۔ آپ کے سامنے بیٹھے اور دعا فرمائی ۔اپنا پیراہن آپ کے کفن کو دیا اور فرمایا کہ میں آپ کو خلۂ بہشت پیش کر رہا ہوں۔ جنت البقیع میں قبر تیار کی گئی تو حضور نے اس کا معائنہ فرمایا ۔آپ چند خوشنصیبوں میں سے ہیں جن کی قبر مبارک کا حضور نے معائنہ فرمایا ۔اس میں لیٹ گئے ۔پھر اپنے دست مبارک سے آپ کو سپرد لحد فرمایا۔مادر امیر المومنین کا جنازہ حضور نے اپنے دست رسالت سے اٹھایا اور تاقبر لانے تک جنازہ کے نیچے رہے ۔عرب کا دستور تھا جو شمالی افریقہ کے ممالک میں اب تک رائج ہے کہ میت کا وارث صاحبزادہ ،جنازہ کو کندھا دینے کے بجائے سامنے کے دو کندھا دینے والوں کے درمیان جنازہ کے نیچے رہتا ہے ۔
سرور کونین، نے آپ کا جنازہ ستر تکبیر کے ساتھ ادا کیا۔اصحاب کے دریافت کرنے پر فرمایا، ان پر فرشتوں کی ستر صفوں نے نماز جنازہ ادا کی، پس میں نے ہر صف کے لئے ایک تکبیر کہی۔

حضور نے آپ کا جنازہ قبر کے قریب رکھا۔قبر میں اترے اور لیٹ گئے ۔قبر مبارک کے اطراف ہاتھ پھیرا اور زارو قطار روتے باہر تشریف لائے ۔اپنے دست اقدس سے جسد مبارک اٹھایا اور قبر میں لٹا دیا۔پھر اپنا چہرہ مبارک آپ کے قریب کر کے تادیر سرگوشیاں فرماتے رہے اور کہا،
’’آپ کے فرزند،آپ کے فرزند ‘‘۔پھر قبر سے باہر تشریف لائے اور مکمل قبر تیار فرمائی ۔قبر پر جھکے، لوگوں نے فرماتے سنا ،’’اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلَٰٰہَ اِلَا اللّٰہْ ، پروردگار میں انہیں آپ کے سپرد کرتا ہوں‘‘۔پھر مڑے،صحابہ کبار نے عرض کی،’’یارسول اللہ !آج ہم نے آپ ، کا وہ مشاہدہ کیا جو اس سے قبل آپ نے کہیں نہیں فرمایا تھا ‘‘۔رسول اللہ نے فرمایا ،
’’آج میں نے یادگار ابو طالب کو کھو دیا ہے۔یقینا وہ میرے ساتھ اس درجہ شفیق تھیں کہ جب عمدہ شے پاتیں تو بجائے خود استعمال کرنے یا اپنے بیٹوں کو دینے کے مجھے دیتی تھیں‘‘۔’’آپ ابو طالب ، کے بعد روئے زمین پر اللہ کی بہترین مخلوق تھیں‘‘۔’’خدا نے آپ کو فردوس علیٰ عطا فرمائی ہے اور ستر ہزار ملائک آپ پر درود و سلام پڑھنے کے لئے مقرر فرمائے ہیں‘‘۔
احادیث مبارکہ:حضور فرمایا کرتے تھے ،’’خدا آپ کی مقدس روح پہ برکت نازل فرمائے ۔آپ میرے لئے میری حقیقی ماں تھیں۔آپ نے خود بھوکا رہ کر
مجھے سیر کیا اور ا س میں ہمیشہ رضائے الٰہی آپ کے پیش نظر رہی‘‘ حضورنے آپ کی قبر مبارک میں لیٹ کر فرمایا ،’’میں یتیم تھا ،انہوں نے مجھے اپنایا ۔وہ میرے لئے ابو طالب کے بعد شفیق ترین ہستی تھیں۔ اے اللہ !موت و حیات تیرے اختیار میں ہے ۔صرف تو باقی رہے گا۔ میری ماں ، فاطمہ بنت اسدکی مغفرت فرما اور خلد بریں میں جگہ دے ،بے شک تو ہی ارحم الراحمین ہے‘‘۔
’’میری پیاری ماں ! خدا آپ کو ابر رحمت کے سائے میں جگہ عنایت کرے ۔مجھے سیر کر کے آپ اکثر بھوکی رہیں۔آپ نے خود محرومرہ کر مجھے عمدہ لباس پہنایا اور عمدہ کھانا کھلایا ۔ اللہ رب العزت یقینا آپ سے راضی ہے اور آپ کا عزم ہمیشہ رضائے الٰہی اور عقبٰی کیکامرانی رہا‘‘۔’’انہوں نے اپنے بچوں کو بھوکا رکھا مگر مجھے کھلانے کا یقین کیا ۔اپنے صاحبزادوں کو کنگھی نہ کی ،میرے سر میں تیل لگایا اور بال سنوارے‘‘۔
قربانیاں:جب بھی اسلام خطرات و مشکلات میں گھرا ہے سیدہ فاطمہ بنت اسد اور سیدنا ابو طالب ، کے لخت جگر ہر قسم کے شدائد و تکالیف
اور مصائب و تلخیات سے نبرد آزما رہ کر مضبوط ڈھال اور محکم حصار بن کر جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور دربدری کی ٹھوکریں کھاتے
اسلام کی محافظت سے پیچھے نہیں ہٹے۔اسلام کے ابتدائی ایام میں سیدنا علی اور سیدنا جعفر طیار کی قربانیوں سے کون ناواقف ہے ۔اسلام کےحفاظتی حصار کے اس ہراول دستے نے ہمیشہ خود کو ہر ممکن قربانی کے لئے آمادہ رکھا ۔

سیدہ فاطمہ بنت اسد اور سیدنا ابو طالب کی بے لوث خدمات کا حقیقی عکس نہ صرف ابتدائے اسلام میں نظر آتا ہے بلکہ کلمۂ حق کی
محکم بنیاد سانحۂ کربلا میں بھی قدم قدم پر ان کی پر خلوص قربانیاں اور اس کے بعد بھی طول تاریخ میں بکھری پڑی ہیں۔چمنستان بنت اسد و ابو طالب کے یہ مہکتے پھول اسلام کی بنیادوں کا آہنی حصار بن گئے ۔آج جہاں بھی اسلام زندہ ہے انہی کی قربانیوں کا ثمر ہے ۔
گلستان فاطمہ بنت اسد کے یہ اٹھارہ پھول ریگزار کربلا میں اپنے آقا و مولا سیدنا امام حسین ، کی نصرت میں عظمتوں کی لازوال داستانیں رقم فرما گئے۔
۱۔ سیدنا عبداللہ بن مسلم بن عقیل ، ۲۔ سیدنا قاسم بن امام حسن ، ۳۔ سیدنا جعفر بن عقیل ،۴۔ سیدنا عبداللہ بن امام حسن ، ۵۔ سیدنا جعفر بن عقیل ، ۶۔ سیدنا عبداللہ بن امام علی ،۷۔ سیدنا عبدالرحمٰن بن عقیل ، ۸۔ سیدنا عثمان بن علی ، ۹۔ سیدنا عبداللہ بن عقیل ،۱۰۔ سیدنا جعفر بن علی ، ۱۱۔ سیدنا موسیٰ بن عقیل ، ۱۲۔ سیدنا عباس بن علی ،۱۳۔ سیدنا عون بن عبداللہ بن جعفر ، ۱۴۔ سیدنا علی اکبر بن امام حسین ، ۱۵۔ سیدنا محمد بن عبداللہ بن جعفر طیار ،۱۶۔ سیدنا محمد بن سعید بن عقیل ، ۱۷۔ سیدنا عبداللہ الاکبر بن امام حسن ، ۱۸۔ سیدنا علی اصغر بن اما م حسین ،آپ ہی کی اولاد طیبہ میں اہل اسلام کے بارہ امام اور ان کی ذریت طیبہ، سادات عظام ہیں۔عرب و عجم میں ناموس رسالت پر شہید ہونے والے ہزاروں سادات بنی فاطمہ ،آپ ہی کا فیضان و احسان ہیں۔صَلوٰۃُ اللّٰہ وَ سَلامُہُ عَلَیْہَا وَ عَلیٰ آبَائِھَا وَزَوْجِھَا وَ اَوْلَادِھَا وَ ذُرّیَّتِھَا مِنْ یَوْمِنَا ھٰٰذَا اِلیٰ یَوْمِ الْدّیْنْ وَ لَعْنَۃُ اللّٰہِ دَائِماًعَلیٰ اَعْدَائِھِمْ اَجْمَعِیْن