17.10.2026, 12:03am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

امریکہ کی پرانی فلم “امن “ کی ری میک ۔اشاعت مکرر. از“ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
10.09.2011, 10:03am , ہفتہ (GMT+1)

نگہت نسیم ۔ سڈنی


جب بھی قلمکار کوئی کہانی لکھتا ہے تو ا سکی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کہانی کا انجام ایسا چونکا دینے والا ہو کہ جو بھی پڑھے اسے مدتوں یاد رکھے ۔ حتی کہ وہ لوگ جو  کہانی کا انجام پہلے پڑھ کر پھر کہانی پڑھنا شروع کرتے  ہیں وہ بھی کہانی کا ایک ایک لفظ  آخر تک پڑھیں ۔۔ یہ بات سچ ہے کہ  کہانی کاآغاز اور انجام متاثر کن نہ ہو تو لکھنے والا کامیاب لکھاری نہیں بن پاتا ۔۔

ایسے ہی دنیا کی تاریخ کے سیاسی باب لکھے جاتے ہیں ۔۔ جس کے سیاسی منظرنامے جب تک اپنے  آغاز اور انجام میں چونکا دینے والے نہ ہوں تو جہاں مورخ کو لکھنے میں کوئی مزہ نہیں آتا وہاں انہی  ملکوں کے اپنے لوگ بھی اپنی تاریخ نہیں پڑھتے    ۔۔ شاید اسی لیئے دنیا کی اسٹیج پر کرپشن ،  قتل و غارت اور جنگوں  کے کئی سین لکھے جاتے ہیں ۔۔اور ملکی تاریخ کو رنگین تر بنانے کے لیئے ہر ممکن جتن کئے جاتے ہیں ۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ امن کا نوبل پرائز لینے کے لیئے  جنگیں لڑی جاتی ہیں ۔۔ ایسی فلموں میں  جنگ کی شوٹنگ کے لیئے ایسے ملکوں کوچناجاتا ہے جہاں انہیں سیٹ اور اداکاروں  پر زیادہ پیسے نہ لگانے پڑیں بلکہ کوشش کی جاتی ہے کہ  انہی ملکوں کے لوگوں سے کام چل جائے ۔

اور اگر غور کریں تو ایسی کہانیوں کو ڈاریکٹر  بڑی محنت سے اپنے ہم خیال لوگوں کے ساتھ  مہینوں مل بیٹھ کر لکھتا ہے تاکہ فلم کا “پیغام امن“  لوگوں کو مدتو ں یاد رہے ۔  

ایسی کئی فلمیں امریکہ کے بینر تلے دنیا کے مختلف ملکوں کے اسٹیج پر لگ چکی ہیں ۔۔ یہ الگ بات ہے کہ  ان کے مطابق سالوں سال چل کر بھی یہ فلم لوگوں تک اپنا پیغام نہیں پہنچا سکی ہیں  ۔۔ اپنی مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے امریکہ  اپنے حواریوں کے ساتھ مل کر آئے دن  ایک بڑی اور ایک نئی کاسٹ اور نئے سیٹ کے ساتھ فلم کی شوٹنگ  شروع کردیتا ہے  اور ہر بار ایک ہی جیسے ٹائیٹل سے فلم کا آغاز کرتا ہے  ، جس میں  سب سے پہلے امریکہ اسی ملک کے امن کو تہس نہس کرتا ہے ۔۔ اس کے داخلی اور خارجی پالیسیوں پر کڑی نظر رکھتا ہے  ۔۔ اس کے ایٹمی اثاثوں کو اپنا سمجھتے ہوئے گھر کی چابیاں تک مانگ لیتا ہے ۔۔اور انکار کرنے پر گولیوں اور بارود سے بھون دیتا ہے ۔۔ملک میں مزید بہتری لانے کے لیئے مہنگائی ، ٹیکس ، غنڈہ گردی اور بدماشی کے لیئے امداد کی مد میں خصوصی مدد کرتا ہے۔ اور یوں   امن کی آڑ میں جنگ جیسی  منافقت کے اس کھیل پر اسے امن کا نوبل پرائز مل جاتا ہے ۔۔

یاد رہے“ امن “ پر بننے والی کئی امریکی فلمیں دنیا کے مختلف ملکوں میں لگی رہیں ، جن میں پانچ مشہور ترین فلمیں ہیں جن کی سالوں سال نمائش جاپان ، ویتنام ، کویت ، عراق اور  افغانستان میں ہوئی ۔۔    ۔۔ آیئے دیکھتے ہیں اس مد میں امریکی  فلموں کی مزید تفصیل ۔۔ اعداد و شمار کے لیے مشہور کالم نگار محترم انور غازی کی شکر گزار ہوں  ۔۔

تاریخ گواہ ہے 1945ء سے 2009ء تک دنیا میں مجموعی طور پر 108بڑی جنگیں ہوئیں جن میں بارود کا کھلم کھلا استعمال ہوا۔  ان سب جنگوں کے پیچھے ایک ہی ملک اور ایک ہی قوم تھی یعنی امریکہ اور امریکی ۔ ان میں سے  بعض جنگیں امریکہ نے براہِ راست لڑیں۔ بعض میں وہ صرف شریک ہوا اور بعض میں اس کا اسلحہ استعمال ہوا۔

 ان 108 جنگوں میں ایک کروڑ نوے لاکھ تہتر ہزار سے زیادہ انسان ہلاک ہوئے۔ جن میں  لاطینی امریکا میں ارجنٹائن، بولیویا، برازیل، چلی، کولمبیا، کوسٹا ریکا، کیوبا، ڈومنیکن ری پبلکن، فاک لینڈ، گوئٹے مالا، ہنڈراس، جمیکا، نکاراگوا، پانامہ، پیراگوئے اور پیرو میں 4 لاکھ 70 ہزار لوگ مارے گئے۔

 مڈل ایسٹ اور شمالی افریقہ میں الجیریا، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، لبنان، مراکش، شام، تیونس اور یمن میں جنگیں ہوئیں جن میں 9 لاکھ 93 ہزار لوگ لقمہٴ اجل بن گئے۔ امریکا کی سازش سے افریقا کے 17ممالک جنگ کی بھٹی میں پگھلتے رہے۔ انگولا، برونڈی، ایتھوپیا، گھانا، گنی بساؤ، کینیا، لائیبریا، مڈغا سکر، موزمبیق، نائیجیریا، روانڈا، ساؤتھ افریقہ، سوڈان، یوگنڈا، زائرے، زیمبیا اور زمبابوے میں جنگیں ہوئیں جن میں 41 لاکھ 64 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

یورپ کے ممالک چیکو سلواکیہ، یونان، ہنگری، رومانیہ اور ترکی جنگوں کا شکار رہے جن میں ایک لاکھ 86 ہزار لوگ مارے گئے۔ ایشیا کے وسطی اور جنوبی ممالک افغانستان، بنگلہ دیش،بھارت، پاکستان اور سری لنکا میں جنگیں ہوئیں جن میں28 لاکھ57 ہزار لوگ مارے گئے۔

 مشرقی ایشیا کے ممالک میں زیادہ خوفناک جنگیں ہوئیں جن میں کمبوڈیا، چین، انڈونیشیا، کوریا، لاؤس، ملائشیا، برما، فلپائن، تائیوان، روس اور ویتنام کی جنگوں میں ایک کروڑ 39 لاکھ 6 ہزار انسان ہلاک ہوئے۔ ان تمام جنگوں کے پیچھے امریکا تھا، ان تمام جنگوں میں امریکی اسلحہ استعمال ہوا۔

 اس وقت بھی دنیا میں 68 ایسے تنازعات موجود ہیں جو دنیا کے 43 فیصد معاشی وسائل کھارہے ہیں۔ میکسیکو امریکی ریاست ٹیکساس کا حصہ ہوا کرتا تھا، دونوں کا کلچر،زبان اور ثقافت ایک ہے۔

ٹیکساس کا سرحدی شہر الپا سو، آدھا میکسیکو اور آدھا امریکہ میں ہے۔ دونوں ریاستیں تجارتی پارٹنر بھی ہیں لیکن میکسیکو کے اندر خانہ جنگی چل رہی ہے۔1996ء تک اس خانہ جنگی میں پانچ ہزارلوگ مارے گئے لیکن امریکہ نے آج تک یہ خانہ جنگی رکوانے کی کوشش نہیں کی۔

 کولمبیا کا تنازع 1963ء سے چل رہاہے۔ اس میں 47 ہزار لوگ ہلاک ہوئے۔ ایکواڈور میں سات ہزار انسان مارے گئے۔ پیرو میں 1995ء میں30 ہزار، لیما، بولیویا اور پیراگوئے میں 11 ہزار، برطانیہ اورآئر لینڈ 1969ء سے لڑ رہے ہیں۔ اس میں تین ہزار لوگ مارے گئے ہیں۔ الجیریا میں 1992ء تک 82 ہزار، مغربی صحرا۔ میں 1975ء سے 88ء تک 19 ہزار۔ گنی بساؤمیں 98-1999ء کے دوران 2ہزار۔ سیرالیون میں 1991ء میں 43 ہزار۔ نائیجیریا میں 1994-95ء کے دوران 5 ہزار۔ کیمرون میں 1994ء میں ایک ہزار۔ سوڈان میں 1983ء میں 52 ہزار۔ یوگنڈا میں 9 ہزار۔ کانگو میں 1996ء کے دوران ایک لاکھ۔ انگولا میں 1992ء تک 61 ہزار۔ روانڈا 1990ء تک 8 لاکھ 13 ہزار۔ سوئزر لینڈ میں 14 ہزار۔ موزمبیق 1976ء سے 1995ء تک 50ہزار۔ صومالیہ 1991ء میں 35 لاکھ 7 ہزار۔ کینیا 1996ء میں ایک ہزار۔ ایتھوپیا 1997ء میں دو ہزار۔ یونان میں 75ہزار۔ بلغاریہ 2 ہزار۔ گوئٹے مالا 1998ء میں ڈیڑھ لاکھ۔ سلواڈور 95ء میں 75 ہزار۔ نکارا گوا 1998ء میں 30 ہزار۔ مالے 1994ء میں دو ہزار۔ چاڈ میں 1996ء کے دوران 13 ہزار۔ یمن 1994ء میں 7ہزار۔ الغازیہ 1994ء میں 6ہزار۔ چیچنیا میں 1996ء میں 35 ہزار۔ 1999ء میں 5 ہزار۔ نگورنو کا را باخ میں 1992ء سے 1994ء تک 22 ہزار۔ شام 1988ء میں 60 ہزار۔

 عراق 1991ء میں 31 ہزار۔ ایران، عراق 1979ء میں مجموعی طورپر 28 ہزار۔ افغانستان 1992ء تک 76 ہزار۔ تاجکستان 1992ء سے 1997ء تک 51ہزار۔ کشمیر 1989ء میں 23 ہزار۔ سیاچن 1984ء میں ایک ہزار۔ نیپال1992ء میں دو ہزار۔ آسام 1989ء میں 3 ہزار۔ برما 1985ء میں 9 ہزار۔ کمبوڈیا 97-1998ء میں ایک ہزار۔ جاوا 1965ء میں 30 ہزار۔ فیجی، جزائر سلیمان، سائیپریس میں 14 ہزار اور فلسطین میں 1978ء میں 30 ہزار انسان جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ شمالی اور جنوبی کوریا کا مسئلہ 1950ء اور تائیوان اور چین کا تنازعہ 1947ء سے مسلسل چل رہا ہے۔

 افغانستان پر 2001ء سے اور عراق پر 2003ء سے تاحال طاغوت کی خونی یلغار پوری طاقت اور شدت سے جاری ہے۔ متعلقہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق ان  سالوں میں عراق میں 10 لاکھ اور افغانستان میں نائن الیون کے بعد سے 6 لاکھ  سے زائد افراد مارے چاچکے ہیں۔

آج کی تازہ ترین صورت حال کے مطابق  امریکہ کی “امن“ فلم پاکستان ، ایران اور کوریا میں ریلیز ہوا ہی چاہتی ہے ۔ بورڈ صحیح تاریخوں کا انتظار کر رہا ہے  جبکہ افغانستان میں بوجہ انگریزی زبان کے  پاکستانی اور افغانی طالبان کو امریکی فلم “امن “ کی سمجھ نہیں آ رہی اور وہ انہیں اپنا دشمن جانتے ہوئے ان سے مستقل لڑ رہے ہیں ۔۔ اسی وجہ سے  دو دسمبر 2009کو امن فلم  کے ڈائریکٹر باراک اوباما نے مزید تیس ہزار فوجیوں کو افغانستان کی سر زمین پر اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ ان کی فلم کی کامیابی یقینی  ہو سکے ۔

امریکہ کی اربوں ڈالرز کی لاگت سے تیار شدہ فلم “امن “ کی  افغانستان میں ابھی تک کی  ناکامی کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ فلم انہی کے علاقے کے ایک سردار “اسامہ بن لادن“ کے ارد گرد گھومتی ہے ۔۔ جس کو “اسکیپ گوٹ “ کی طرح امریکہ استعمال کر رہا ہے ۔۔ اور خامخواہ سسپنس رکھنے کے لیئے اپنی ہی پناہ میں رکھا ہوا ہے اور غریب  لوگوں کو اس الزام پر جان سے مارا جا رہا ہے کہ انہوں نے اسامہ کو پناہ دے رکھی ہے  ۔۔۔ یہاں ایک اور بات پر بھی افغانیوں کو دکھ ہے کہ ان کا سردار اسامہ بن لادن بھی امریکہ سے ملا ہوا ہے اور خود کوغدار کہلوانے کے نہ صرف پیسے کھا رہا ہے بلکہ امن و چین سے بیٹھا ہوا ہے ۔۔ معصوم فلم بینوں کا خیال ہے کہ ان کا سردار واقعی اگر ان کا غیرت مند سردار ہوتا تو اپنے لوگوں کوغیروں کے ہاتھوں کبھی نہ بیچتا اور نہ ہی انہیں جنگ میں مرواتا ۔۔۔

ایسے حالات میں اب امریکہ  اتنا کرنے کا حق تو رکھتا ہے  کہ اگر اس کی فلم افغانستان میں ویت نام کی طرح ناکام ہو جائے تو  اس کے پڑوسی  پاکستان کے صحن  میں بھارت کی ہی  کوئی فلم ریلیز کر جائیں تاکہ ساؤتھ ایسٹ ایشیا میں کوئی نہ کوئی ہل جل ہوتی رہے اور ان کا آنا جانا لگا رہے  ۔۔ اب ہمیں بھی تو ہر روز کچھ نیا دیکھنے اور سننے کی  اتنی عادت ہو چکی ہے کہ جب تک کوئی خودکش دھماکہ نہ ہو ۔۔کوئی چار چھ لوگ نہ مریں ۔۔ تو جینے کا مقصد ہی سمجھ نہیں آتا ۔۔  سو اب چاہے طالبان کی خطرنکیاں ہوں یا من موہن کی دھمکیاں  ۔۔ کچھ تو بہلنے کو چاہئے  ۔۔

 یقین جانئے اس بات کے  لیئے ہم سب کوامریکہ ، اسرائیل ، بھارت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ وہ تینوں مل جل کر ساری دنیا کو تفریح مہیا کرنے کے لیئے ہمہ وقت جٹے رہتے ہیں ۔۔۔ سر جوڑے ڈرون اٹیک ، گولہ بارود کے میوزک میں “امن “ کے گیت گانے کا ہنر سکھاتے رہتے ہیں ۔۔ اور ایک ہم لوگ ہیں کہ ہم ابھی تک اسی کھوج میں ہیں کہ جنگ کی اصل وجہ اور  اس فلم کا اصلی ہیرو تو اسامہ بن لادن تھا ۔۔۔۔ اس کی اینٹری کب ہو گی ۔۔آسمان اور پاتال کی خبر لانے کا دعوی کرنے والا امریکہ شاید سسپنس ڈائجسٹ کی کہانی کی طرح ایک ہزار ایک قسط میں اس کی اینٹری لکھےگا ۔۔۔

لیکن دوستو یقین جانئے  “امن “ فلم کا آخری سین امریکہ لکھ چکا ہے ۔۔ پٹاری سے اسامہ بن لادن نہیں امریکہ خود ہی نکلے گا ۔۔ اس لیے کہ یہ دو نام ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور دونوں ہی دو منہ والے سانپ ہیں جنہیں خود کو زندہ رکھنے کے لیئے دوسروں کو ڈسنا ضروری ہوتا ہے ۔۔


 نائن الیون کے دس برس مکمل ۔۔
یہ خصوصی تحریر میں نے اسامہ بن لاڈن کی موت  سے پہلے لکھی تھی  ۔۔ لیکن ایسے لگتا ہے جیسے اس کے مرنے کے بعد بھی کچھ نہیں بدلا ۔۔


:دیگر مضامین
(09.09.2011) ہمارے ملک میں تو بے شمار ہزاروں ''انے'' ہیں ۔ ہاہاہاہا
(05.09.2011) ٹماٹر پھینکنے کے سالانہ میلے کا آغاز 1945ء میں سپین کے شہر ویلنیسا سے ہوا
(02.09.2011) انسانیت کی دشمن دوسری عالمی جنگ کے آغاز کے 72 سال
(31.08.2011) عالمی اٍخبار اپنے قارئین اور قلم کاروں کو عید الفطر کی دلی مبارکباد پیش کرتا ہے
(29.08.2011) سال کا سب سے مبارک مہینہ رخصت ہورہا ہے ۔از نگہت نسیم
(28.08.2011) ماہِ رمضان کی روانگی کی نوید.... جمعتہ الوداع۔ازمحمد اعظم عظیم
(27.08.2011) لیلتہ القدر کو تلاش کرو رمضان کی طاق راتوں میں۔از؛ محمداعظم عظیم اعظم
(24.08.2011) سویڈن میں شہادت مولائے متقیان حضرت علی علیہ سلام کی مجالس کی رپورٹ
(23.08.2011) اے عباد الرحمن آگے بڑھو ۔ ۔ از؛ محمد احمد ترازی ۔کراچی
(22.08.2011) ہے کوئی خیر کا طالب ۔ رحمت حق بہانہ می جوید ۔از؛ محمد احمد ترازی
(20.08.2011) شہید کوفہ، امام علی ابن ابی طالب علیھما السلام ۔از: سید مصباح حسین جیلانی
(19.08.2011) شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ ۔۔۔ از؛ شمس جیلانی ۔وینکوور ۔ کینیڈا
(17.08.2011) یوم بدر حق و باطل کے درمیان کھلا امتیاز ۔ از؛ محمد احمد ترازی ۔کراچی
(17.08.2011) سویڈن کے شھر لین شوپنگ میں پاکستانی سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی تقریب پرچم کشائی
(16.08.2011) دعائے کمیل آزاد نظم کی صورت میں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(15.08.2011) نواسہ رسول امام حسن مجتبیٰ کی ولادت پندرہ رمضان المبارک
(14.08.2011) پاکستان اور تصور قائد اعظم ۔ اوباما زرداری مشترکہ فکر ۔ از۔صفدر ھمٰدانی
(14.08.2011) پاکستان میں 62 برس میں طے نہیں ہو سکا۔)
(13.08.2011) معروف کارٹونسٹ مظہر شہزاد خان کا عالمی اخبار کے لیئے دوسرا کارٹون
(11.08.2011) کنون آسیہ را خدای جلال ، زند بھرافراد مؤمن مثال ۔از:عبدالحسین کشمیری



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں