15.10.2026, 03:38am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 

رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

عبد زھراء ۔۔خطبہ مبارکہ لُمََّہْ
04.10.2008, 01:11am , ہفتہ (GMT+1)

پیر سید علی عباس شاہ
 

3جمادی الثانی بنت رسول سیدہ طاہرہ فاطمہ الزہرا کی تاریخ وفات اور 20جمادی الثانی تاریخ ولادت ہے۔اسی مناسبت سے سجادہ نشین آستانۂ عالیہ کندھانوالہ شریف، ضلع منڈی بہاؤالدین کی ایک منفرد تحریر۔

عربی ادب میں جہاں مردوں کی فصاحت اپنے عروج پر ہے وہیں مستورات نے بھی اپنی بلاغت سے عرب کی اس خصلت کو دوام بخشا ہے۔ سیدۃالنسائِ العٰلمین، خاتون جنت ، بنت رسول اکرم ،سیدہ فاطمہ الزھراء کے انوارات سے مزین یہ نورانی کلمات، نہ صرف نساء العرب کے سر کا تاج ہیںبلکہ جمیع نساء العٰلمین کے افکار و خیالات کے لئے بھی رشد و ہدایت کے دمکتے موتی ہیں۔ لُمّہ ْ، عربی زبان میں مونس مستورات کی جماعت کو کہتے ہیں۔تاریخ عالم میں طوالت کے لحاظ سے باب مدینۃالعلم کے اٹھائیس اوراق پر مشتمل خطبہ کے بعد یہ دوسرا طویل ترین خطبہ مبارکہ ہے ،جسے فرزندِ سیدنا اما م زین العابدین ، حضرت زید شہید نے اپنے والد کے حوالے سے نقل کیا ہے، جنہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی پھپھی معظمہ،عقیلۂ بنی ہاشم ،سیدہ زینب الکبریٰ  سے یہ مقدس الفاظ سنے تھے۔ اس خطبہ کی ادائیگی کے وقت سیدہ خاتون جنت ، مستورات کے جھرمٹ میں تھیں ،اس لئے اسے خطبہ لُمََّہْ کہا جاتا ہے۔

بِِسْمِِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِِ الرَّحِیْم
’’ حمد و ستائش ہے پروردگا رکی اس کی نعمات پر،شکر ہے اس کا ان افکار و معارف پر جو اس نے الہام کئے۔میں شہادت دیتی ہوں کہ میرے والد محمد ،خدا کے بندے اور رسول ہیں۔اللہ نے انہیں تخلیق جبلت سے بھی پہلے چن لیااور مبعوث کرنے سے قبل مصطفٰی کیا اور ظاہر کرنے سے پہلے مسمٰی کیا،جب تمام مخلوق پردۂ غیب میں تھی اور سرابِوجودکے حجاب میں گم تھی اور عدم کے پرلے کنارے پر کھڑی تھی۔ اللہ عزوجل کو تو ان امور کا علم تھا اور اللہ اپنی تقدیر کی تقسیم کو جانتا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ عزوجل نے مبعوث کیا تا کہ اس کا امر تمام ہو جائے اور اس کا پختہ ارادہ تھا کہ میں اپنے حکم کو جاری و ساری کردوں۔

میرے بابانے جب آکے نگاہ کی تو امتیں مختلف فرقوں میں بٹی ہوئی تھیں،لوگ اپنے ہی ہاتھوں جلائی ہوئی آگ کے گرد طواف کر رہے تھے،اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کی عبادت کر رہے تھے، جاننے کے باوجود خداکے منکر تھے۔پس اللہ عزوجل نے تمہارے اندھیروں کومحمد صلّی اللہ علیہ سے منور کر دیااور تمہارے دلوں سے کفر و الحاد کی چٹانوں کو مٹا کر ریزہ ریزہ کر دیااور تمہاری آنکھوں پہ پڑے ہوئے پردوں کو ہٹا دیا،اس کے بعد خود اللہ نے اپنے ہاتھوں سے اپنے نبی کی روح، ان کی مرضی کی بنا پر انتہائی محبت کے ساتھ قبض فرمائی۔میرے بابا اس داردنیا سے ملائکہ ابرار کے لاتعداد ہجوم وجلوس میں جوار ملک الجبار میں پہنچے۔

اور ہم ان کے بعد تم پراللہ اور رسول کے نائب خلیفہ تھے اور ہمارے ساتھ اللہ کی کتاب ہے، جس کی بصیرتیں واضح ہیںاور اس میں ہمارے حق میں ایسی آیتیں ہیں جن کی تفسیر کی ضرورت نہیں،جس کے دلائل کے ظواہر روز روشن کی طرح عیاں ہیں،جس نے مخلوق عالم کی سماعت کی کھڑکیاںکھول دی ہیں،جس نے اس کا اتباع کیا رضائے الٰہی کی طرف جانے والے قافلے کا قائد بنا، جس کا سننا نجات کی یقینی ضمانت ہے ، جس میں اللہ کی روشن حجتوں کا ذکر ہے اور واضح عزائم کا بیان ہے اور ڈرانے والے محرمات کا بیان ہے اور وہ بیان ہے جو محارم الٰہی کی طرح درخشندہ نظر آتا ہے، اور اس میں کفایت کرنے والے جملے ہیںاور اس میں اللہ کی حجتوں کے وہ فضائل ہیں جو اسے خود پسند ہیںاور جسے نزاکت سے عطا کیا گیا۔اور جس میں شریعت کے احکامات لکھے ہیں۔

پس اللہ نے تم پر ایمان فرض کیا ہے تا کہ تمہیں شرک سے پاک کرے۔اور نماز کو، تاکہ تکبر سے پاک کرے اور روزوں کو تاکہ خلوص ثبت کریںاور زکوٰۃتا کہ رزق میں اضافہ کرے اور حج کو دین کا تسلیہ قرار دیا اور عدل کو دلوں کا سکون اور ہماری اطاعت کو نظام اور ہماری سرداری کو بیگانگیء دین سے نجات اور ہماری محبت کو عزت اسلام اور صبر وجہ عزت اور قصاص کو خون کا بدلہ،نذرذریعۂ مغفرت۔ اور شراب خوری سے اجتناب، نجاست سے دوری اور لعنت سے اجتناب ہے۔ چوری سے دوری باعث عفت ہے۔اور اللہ عزوجل نے شرک کو حرام کیا ہے تا کہ تم اس کی ربوبیت سے مخلص رہو۔اور اللہ سے ڈرتے رہوجیسا کہ ڈرنے کا حق ہے اور بحالت اسلام دنیا سے جانا۔اور اس کے احکامات کی اطاعت کرواور جن باتوں سے روکا ہے رک جاؤ،بے شک اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو اس کے بندوں میں علم رکھنے والے ہیں۔

یہاں تک کہ اللہ نے اپنے حبیب  کے لئے وہ گھر پسند کیا جو اس نے اپنے انبیاء کے لئے بنا رکھا ہے ۔ (ان کے جانے کے بعد)دلوں میں چھپے ہوئے نفاق کی عادت ظاہر ہو گئی اور دین کی چادر بہت جلد پرانی ہو گئی،گمراہوں کا گونگا بول اٹھا،باطل پرستوں کے بے زبان اونٹ کو بھی زبان مل گئی ،اس نے تمہارے گھروں کے صحن میں کھڑے ہو کر اپنی دم کو اٹھا کے بار بار اپنی رانوں پہ مارنا شروع کیا ، شیطان نے بھی اپنے گڑھے سے سر نکالا ،چیخ مار کر تمہیں اپنی طرف متوجہ کیا ،وہ تمہیں آزما چکا تھا کہ جب بھی اس نے تمہیں بلایا، تم نے اسے مایوس نہیں کیا ، اس نے تو تمہیں بہت ہی ہلکا پایا، اسے تمہیں اٹھانے کے لئے کوئی زور نہ لگانا پڑا،اس نے تمہیں چٹکی لی اور تم غضب میں بپھر گئے اور فتنہ کے خوف کا عذر تراشااور قریبی زمانے کی بات ہے لیکن زخم بہت گہرا ہے اور یہ زخم مندمل ہونے والا نہیں۔ اور یہ اللہ کی کتاب تمہارے سامنے تھی جس کی نشانیاں بڑی واضح تھیںاور جس کی گوا ہیاں،روز روشن سے زیادہ عیاں تھیںاور جس کے اوامرواضح تھے،یہ امر تو ایسا ہے کہ جس کی بنیاد ہی ظاہر ہے ،جن سے وہ محبت کرتا ہے اور جن سے کبھی اس نے بلند آواز میں بات نہ کی ،ان سے بھی فرمایا، اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے میرا پیغام پہنچایا ہی نہیں۔اتنی بڑی ، واضح اور گہری بات کو تم سمجھ نہ پائے۔جہنم نے تو کافرین کو پہلے ہی سے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ کیا تم دور جاہلیت کے فیصلے کرنا چاہتے ہو اور خدا سے ڈرنے والی قوم کے لئے اللہ سے بڑا حاکم اور منصف ہو ہی کون سکتا ہے ۔کیا تمہیں دبدبۂ شیطانی نے گنگ کر دیا ہے ؟کیا تم شیطان کے اس کردار سے واقف نہیں کہ وہ پہلے آدمی کو بڑے رنگین جال میں الجھاتا ہے ،بہلا پھسلا کر دعوت کفر دیتا ہے اور جب آدمی کافر ہو چکے تو منہ موڑ کر کہتا ہے کہ جو کچھ تم نے کیا ہے میں اس سے بری ہوں ، میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ اس نے تمہیں علی سے پھیر تو لیا لیکن شیطان ہو کر بھی وہ علی  کا منکر نہیں ہو سکا۔ اس نے تمہاری آخرت کو تو تباہ کر دیالیکن علی  کا انکار وہ بھی نہیں کرتا۔اس نے تمہیں تو اپنے جال میں، دام میں پھنسا لیالیکن وہ خود اس چیز کا قائل نہیںجس کے تم قائل ہو۔

کیا تم نے یہ منظر اپنی آنکھوںسے کئی بارنہیں دیکھا تھا کہ بچپن میں جب کبھی میں محفل نبوت میں آئی ،میرے بابا میرے استقبال کے لئے کھڑے ہو گئے ،نبوت کو اپنے قدموں پہ اٹھنا پڑا، رسالت کو میرا احترام کرنا پڑاحالانکہ وہ خاتم النبیین تھے۔کل اور آج میں فرق تو یہی ہے،تم نے کیا سیکھا میرے بابا سے،کل میں آئی ،میں بیٹھی،رسالت کھڑی ہوئی اور آج تم بیٹھے ہو ،میں کھڑی ہوں۔کیا قرآن میں تم نے یہ پڑھا ہے کہ تم تو باپ کی وراثت پا سکتے ہو ،میں نہیں پا سکتی ؟لو تھام لو ،اس ناقہ کو ،نکیل بھی ڈلی ہوئی ہے ،اس پہ کجاوہ بھی سجا ہو ا ہے ،سوار ہو جاؤ ،یہ تمہیں گھیر کے روز حشر خود ہی لائے گی۔جس دن فیصلہ دینے والا حکم خدا ہو گا اور وکیل محمد مصطفٰی ہو گااور قیامت کے دن کا وعدہ ہے اور اس وقت یہ باطل پرست خسارے میں ہوں گے۔ہر خبر کا کہیں نہ کہیں ٹھکانا ہے،کچھ عرصے بعد تمہیں پتا چل جائے گا۔
کیا تم نے ا للہ کی کتاب کو صرف میرے بابا کی ذمہ داری پہ چھوڑ دیااور اسے پس پشت ڈال دیا۔کیا تم نے قرآن میں نہیں پڑھا ؟ اللہ کہہ رہا ہے،داؤد کے بعد سلیمان ان کے وارث ہوئے۔ داؤد کا وارث سلیمان ہے ،میں محروم کیوں؟۔ جب یحییٰ بن ذکریاکا واقعہ سنایا خدانے ، بیت المقدس کے محراب میں بیٹھے ہیں اور کہہ رہے ہیں ، پروردگار !میں اپنے رشتہ داروں سے خوف رکھتا ہوں اور میری زوجہ بانجھ ہو چکی لیکن میں تیری رحمت سے ناامید و مایوس نہیں ہوا ،مجھے وارث عطا کر ،کیا خیال ہے تمہارا ، وہ کس چیز کا وارث مانگ رہے تھے؟اپنے رشتہ داروں سے کیوں خوفزدہ تھے؟کیا انہیں نبوت کا خوف تھا؟کیا نبوت ایسی شے ہے جو رشتہ دار چھین لیتے ہیں؟۔کیا رسالت ایسی چیز ہے جو کسی کے جبر کے نتیجے میں کسی اور کے پاس چلی جاتی ہے ؟یا زکریا کو امر الٰہی پر بھروسہ نہ تھا کہ وہ کسی نااہل کو نبی بنا دے گا۔پھر خوف کیوں ہے ؟رشتہ داروںکے بارے میں یہ کیا کہا؟کہ میں اپنے رشتہ داروںسے خوف رکھتا ہوں ۔خوف نبوت کا نہیں تھا ،املاک دنیا کا تھا کہ سلسلۂ نبوت تو چلتا رہے گا لیکن میرے رشتہ دار میری جاگیر پہ قبضہ کر لیں گے۔تو قرآن تو یہ بتاتا ہے کہ نبیوں کے مال کے وارث بھی ہوتے ہیں،

میں اپنے باپ کی وارث کیوں نہیں؟تم نے کیسے کہہ دیا کہ نہ کبھی کسی نبی کی وراثت ہوتی ہے اور نہ کوئی نبی کا وارث ہوتا ہے ۔ خدا نے فرمایا، صاحبان قرابت ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیںاورکیا خدا نے یہ نہیں فرمایا،اے لوگو!اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ اولاد کو حق سے محروم نہ کرنا ،بیٹے کا حصہ دگنا ،بیٹی کا اس سے آدھا ۔یا میرے والد کا بیٹا میرے سامنے لاؤ، دو حصے اس کے سپرد کر دو،آدھا مجھے دے دو،بیٹانہیں لا سکتے سارا مجھے دے دو۔کیا اللہ نے قرآن میں یہ ارشاد نہیں فرمایا ، کہ وصیت کرنے والا ،اگر کسی ایسے کے حق میں وصیت چھوڑ جائے کہ جس کا اس کی میراث سے حق نہیں نکلتا تھا ،لیکن مرنے والا ،کسی بات پہ خوش ہو کے ،راضی ہو کے اپنی جائیداد میں سے کچھ دینا چاہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ بعد کے جو اہل تقویٰ لوگ ہیں اُن پر واجب ہے کہ اس کی وصیت پر عمل کریں۔

جو وراثت کے حقدار نہیں ، صرف وصیت کی بنیاد پر ،مرنے والے کی میراث سے حق لے سکتے ہیں اور میں تو وہ مانگ رہی ہوں جو میری ماں کا قرض ہے، میں اپنی ماں کا قرض مانگنے آئی ہوں۔ کیا میں اور میرے بابا ایک ملت واحدہ سے نہیں ہیں، اللہ نے تمہیں اس آیت (وراثت) سے مخصوص کیا اور میرے والد کو محروم کر دیا، یا شایدتم قرآن کی خصوصیت و عمومیت کو میرے والد سے زیادہ جانتے ہو۔ تم مجھے محروم کر رہے ہو اور رسول اللہ مجھے لکھ کر دے گئے ہیں ،شاید تم علوم قرآن کو میرے بابا سے زیادہ سمجھتے ہو، یا میری میراث ،ظلم و جور کی بنا پر غصب ہو رہی ہے۔ عنقریب ظالموں کو خبر ہو گی کہ وہ کس طرف لوٹائے جائیں گے۔

خود کو اسلام کے مددگار کہنے والو!ملت اسلامیہ کا قوت بازو سمجھنے والو!اسلام کا قلعہ سمجھنے والو!تم بھی دیکھ رہے ہو اور میرا حق بھی غصب کیا جا رہا ہے ۔میرے حق کے معاملے میں تمہاری آنکھیں کیوں بند ہو گئیں اور میرے غصبانہ قبضے کے معاملے میں تم کیوں اونگھنے لگے ہو؟۔کتنی جلدی تم قحط ذدہ زمین کی طرح ہو گئے ہو۔ نہ تم حقیقت کو قبول کرتے ہو اور نہ حقیقت باہر نکلنے دیتے ہو۔ اور کتنی جلدی تم یہ کہہ کر توہین رسالت کرتے ہو کہ رسول مر گیا۔
یاد رکھو انصار!میرے والد کے جانے کے بعد کل جو چھوٹا شگاف تھا ،آج وہ پھیل کے دریا بن گیا ہے۔ ساری طاقت و قوت خدا کے پاس ہے اور تمہارا ہمارا وعدہ ایک گھڑی ہے ،ایک ساعت ہے‘‘۔

مصادر تحقیق:
۱۔ بلاغات النساء احمد بن ابو طاہر بغدادی مروزی المتوفی 280ھ۔
۲۔ اعلام النساء فی عالم العرب والاسلام عمر رزاق الحالہ طبع دمشق۔
۳۔ شرح نہج حدیدی علامہ ابن ابی الحدید معتزلی طبع دارالاحیاء الکتب العربیہ،مصر۔
۴۔ السقیفہ والفدک حافظ ابو بکر الجوہری طبع مکتبہ اہل الحدیثہ۔
(0) آپکی رائے        پرنٹ        احباب کو بتائیے        اُوپر


:دیگر مضامین
(04.10.2008) آغوش پنجتن پاک
(04.10.2008) سن پینسٹھ کی جنگ کی کہانی
(04.10.2008) حضرت علی کرم اللہ وجہ
(04.09.2008) ۔اور ١٤۔اگست ١٩٤٧ کی رات قیام پاکستان کی نوید سنانے والی آواز، مصطفیٰ علی ھمٰدانی
(23.04.2008) عظمتِ آبائے رسول
(15.04.2008) ’’ شہادتِ سیدہ خدیجہ بنتِ علی ‘‘
(08.04.2008) پاک ڈچ نیشنل فورم کایادگار مشاعرہ
(25.03.2008) پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اور باب تحریر ہوا
(18.03.2008) امام حسن عسکری کے حالات زندگی
(10.02.2008)  سڈنی میں ایک خوبصورت موسیقی کی شام
(22.01.2008) لکھنؤ عزاداری کا تاریخی مرکز
(04.01.2008) فرینکفرٹ میں جشن عید غدیر
(24.12.2007) ڈاکٹر نگہت نسیم کا‘‘مٹی کا سفر‘‘
(16.12.2007) وینس ٹی وی لندن کا مشاعرہ
(12.12.2007) برلن میں اردو ادب کی ایک تقریب
(01.01.1970) کہکشاں۔ علی سردار جعفری کی ایک کامیاب ادبی وڈیو سیریز
(01.01.1970) خدا کے پیارے نبی کے چچا ، امیر حمزہ امیر حمزہ۔از۔پیر سید علی عباس شاہ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں