
ایودھیا کی بابری مسجد کو مسمار کرنے کی سترویں برسی کے موقع پر مسلم تنظیموں پر امن احتجاج کا اعلان کیا ہے۔سماجوادی پارٹی نے ’یوم سیاہ‘ منانے کس فیصلہ کیا ہے،جبکہ بابری مسجد ایکشن کمیٹی،مسلم مجلس اور دوسری تنظیوں نے اعلان کیا ہے کہ بابری مسجد کی مسماری کا بہرحال غم منایا جائےگا۔
آل انڈیا بابری مسجد اےکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی وکیل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ۶دسمبر کو حسب سابق پُرامن طریقہ سے پروگرام کئے جائیں اور ضلع مجسٹرےٹ کی معرفت حکومت کو ممورنڈم دیا جائے۔ ممورنڈم وزیر اعظم ہند و وزیر اعلیٰ اترپردےش کو بھےجے جائیں۔ ممورنڈم میں بابری مسجد کی ملکیت سے متعلق مقدمات و بابری مسجد کی شہادت سے متعلق مقدمات کے جلد فےصل کروانے کے مطالبہ کے ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا جائے کہ لبراہن کمیشن کی رپورٹ و کمیشن میں داخل ثبوت کی بنیادپر C.B.I.کو ہدائت دی جائے کہ جن لوگوں کے خلاف اس رپورٹ کی بنیاد پر الزامات ثابت ہوتے ہوں اور جو ابھی تک C.B.I.کے ذریعہ ملزم نہ بنائے گئے ہوں انکے خلاف مقدمات درج کر کے ان پر بھی مقدمہ چلایا جائے اور بابری مسجد کو شہید کرنے کے لئے ذمہ دارسبھی ملزمان کو جلد سزا دلوائی جائے۔
لبراہن کمیشن کی رپورٹ کی روشنی مےں یہ بھی مانگ کی جائے کہ جن ملزمان کے خلاف N.D.A.سرکار کے زمانہ مےںC.B.I.کے ذریعہ سازش کا چارج ختم کر دیا گیا تھا(جسمےں لال کرشن اڈوانی وغےرہ شامل تھے)ان کے خلاف پھر سے سازش کا چارج لگوانے کے لئے عدالت مےں درخواست دی جائے۔
۶دسمبر کو خصوصی دعاو ¿ں کا بھی اہتمام کیا جائے جسمےں بابری مسجد سے متعلق سبھی مقدموں کے جلد سے جلد فےصل ہونے کی دعا کے ساتھ یہ بھی دعا کی جائے کہ ملک مےں امن و بھائی چارہ کاماحول قائم رہے اور سےکولر اقدار و عدالت کے وقار کے خلاف اعلانات کرنے والوں کو عوام کو ورغلانے کا موقع نہ ملے۔
جن مقامات پر دیگر سےکولر تنظیموں یا بابری مسجد اےکشن کمیٹی کے ذمہ داران کسی دھرنا وغےرہ کا اہتمام ماضی مےں کرتے رہے ہےں وہ مقامی حالات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اس طرح کے پروگرام کا اہتمام اس سال بھی کر سکتے ہےں لےکن اس بات پر ضرور دھیان رکھنا ہوگا کہ اےسا کوئی پروگرام نہ کیا جائے جس سے کسی طرح سے امن وامان کے درہم برہم ہونے کا اندےشہ ہو۔
دریں اثناءسماجوادی پارٹی کے لیڈروں ملائم سنگھ یادو اور امر سنگھ نے نرسمہا راو ¿ کو بابری مسجد کی مسماری کے لئے کلین چٹ دیکر سیکولر ازم کے خلاف ساشز رچی ہے۔ ملائم سنگھ یادو نے لبراہن کمیشن کی رپورٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جنونی ہندوو ¿ں نے ۶ دسمبر 1992ءکو بابری مسجد کو مسمار کردیا اور اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راو خاموشی سے سب دیکھتے رہے۔ملائم سنگھ یادو نے موجودہ وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا پی وی نرسمہا راو ¿ نے ہی من موہن سنگھ کو بطور وزیر مالیات مقرر کیا تھا۔
ملائم سنگھ نے کہا کہ اس وقت پربھات کمار سیکریٹری داخلہ تھےمجبب بابری مسجد کو مسمار کیا گیا تھا،اسی کے بعد پربھات کمار کو کابینی سیکریٹری مقرر ہوا۔جبکہ کانگریس کے ہی دور میں پربھات کمار کو گورنر بنانے کی تجویز پیش کی گئی مگر بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور انکو گورنر بنا دیا گیا۔ ملائم سنگھ یادو کے مطابق دونوں ہی سیاسی پارٹیوں نے پربھات کمار کو انکی ’ خدمات‘ کا صلہ دیا۔ملائم سنگھ نے جسٹس لبراہن پر اعتراض کرتے ہوئے دریافت کیا کہ آخر وہ اپنی رپورٹ میں چاہتے کیا ہیں۔متعدد بار کمیشن کی مدت کار کردگی میں توسیع کی گئی اور کروڑوں روپئے خرچ کئے گئے۔
ملائمم سنگھ یادو نے اعلان کیا ہے کہ ۶ دسمبر کو بابری مسجد کی مسماری کی برسی کے موقع پر سماجوادی پارٹی کے کارکنان احتجاج کے دوران’ ہائے شری راو ‘ اور ہائے کانگریس کے نعرے بلند کریں گے۔
امر سنگھ نے بتایا کہ وہ پارلیمان میں لبراہن کمیشن کی رپورٹ پیش کرنے کے موقع پر دہلی کی وزیر اعلی شیلا دکچھت کا وہ خط پیش کریں گے جس میں انہوں نے راو ¿ سنگھ پریوار سے ہاتھ ملانے کا الزام عائد کیا تھا۔
امر سنگھ کے مطابق شیلا دکچھت کانگریس کی طویل قامت لیڈر ہیں اور پارٹی میں انکی خاصی وقعت ہے۔
ملائم سنگھ نے بتایا کہ کانگریس بابری مسجد قضیے اور مسماری کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت کی نرسمہا سرکار نے یہ وعدہ کیا تھا کہ بابری مسجد کو اسکی اصل جگہ پر دوبارہ تعمیر کیا جائےگا لیکن سرکار یہ قدم کیوں نہیں اٹھا رہی ہے۔
دریں اثناءمایاوتی سرکار نے بابری مسجد کی حمایت اور رام مندر کے طرفداروں کے کسی بھی پروگرام کے انعقاد کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے اور یو پی کے اعلی حکام سے تاکید کی ہے کہ فضا کو کسی بھی صورت میں مکدر ہونے نہ دیا جائے۔