انا النَّبِیُّ لاکَذِبْ انا اِبْن ُ عَبْدَ الْمُطَّلِبغزوۂ حنین کے دوران سرکار ختمیء مرتبت کا اپنے دادا حضور،سیدنا عبدالمطلب علیہ الصلاۃو السّلام پر اظہار تفاخر ،آپ کے اجداد اطہار کی عظمت کا خورشیدخاور ہے۔اجدادِمصطفٰی کریم علیہم الصلاۃوالسلام میں از آدم تا خاتم ،تمام آباء و امہات کے فضائل و مناقب کے بحر بیکراں کو ذہن انسانیت کے قطروں میں سمونے کے لئے ہر ہستی کے احوال و آثار سے متعلق ہزاروں جلدوں پر محیط کتب تحریر کی جائیںتو پھر بھی شائد حق ادا نہ ہو سکے۔
یہ وہ شجرۂ طیبہ ہے ،جس کی شاخیںآسمانوں میں ہیںاور جڑ مستحکم ہے۔کلام الٰہی ان کی فضیلت و مدارج کے تذکرے سے لبریز ہے۔یہ اللہ کے نام پر ذبح ہونے والے اور حکم ربّانی پر سر تسلیم خم کرنے والے،مقبول بارگاہ ایزدی ہیں۔تاریخ انسانیت میں عالی نسب ،والا حسب اور برگزیدہ ذوات مقدسہ ،جنہوں نے انسانیت کو جینا سکھایااور آفتاب ہدایت کو غبارِ باطل سے محفوظ رکھااور انسانیت کے لئے کامل و اکمل ترین پاکیزگی و طہارت کا خانوادہ، سوائے اجدادِ مصطفٰی کے اور کوئی نہیں۔
معلمِ کائنات فرماتے ہیں،
انَّ اللہَ اصْطفٰی مِنْ وَلَدِِ ابْراہیم ْ اسْمٰعِیل، وَاصْطَفٰی مِنْ وَلَدِ اسْمٰعِیلَ بَنِیْ کِنانَہ، وَاصْطَفٰی
مِنْ بَنِیْ کِنَانَہ قُرَےْشاًً،وَاصْطَفٰی مِنْ قُرَیْشِِ بَنِیْ ہَاشِمْ ، وَاصْطَفَانِیْ مِنْ بَنِیْ ہَاشِمْ۔
بے شک اللہ نے چن لیا اولادِ ابراہیم سے اسمٰعیل کو،ان سے بنی کنانہ کو ،بنی کنانہ سے قریش ،قریش سے بنی ہاشم اور بنی ہاشم سے مجھے۔
آپ خلاصۂ موجودات اور اشرف الانبیا ء ہیں۔اس حدیث مبارکہ میںپانچ مرتبہ لفظ اصطفٰی وارد ہوا ہے۔جتنے قبائل و بطون سے آپ کا تعلق ہے وہ سبھی اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور مقبول بندگان اور پسندیدہ خاندان و قبائل ہیں۔اصطفٰی کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے۔حضور نے اس فعل کی خبر دی ہے۔یہ اسم صفت ،قرآن کریم میں15 دفعہ وارد ہوا ہے اور جہاں کہیں اس کا استعمال ہوا ہے ،سرداری اور سیادت کے مفہوم میں ہوا ہے۔سرداری اور سیادت وہ ،جواللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ہے۔سرورِ کونین کے تمام آباء و اجداد ،حریم اصطفٰی میں صفت مصطفائی سے متصف ہیں۔
اپنے خانوادۂ عالیہ کے متعلق فخر موجودات فرماتے ہیں،
قالَ النَّبِیُّ اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِ فِرَقِھِمْ وَ خَےَّرَ الْفَرِیْقَیْنِ ثُمَّ خَیَّرَ الْقَبَائِلَ فَجَعَلَنِیْ فِیْ خَیْرِ بُےُوتِھِمْ فَانَا خَیْرُھُمْ نَفْسًا وَ خَیْرُھُمْ بَیْتاًحضور نے فرمایا ،بے شک اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ساری مخلوق کو اور مجھے ان سب گروہوں سے اچھے گروہ میں پیدا کیا اور پسند کیا دو گروہوں کو یعنی اولاد اسحٰق اور اولاد اسمٰعیل کو پھر چنا قبیلوں سے اور مجھے بہتر قبیلہ میں کیا،پھر چنا گھروں کو اور مجھے سب سے بہتر گھر میں کیا،سو میں ان سب سے ذات میں بھی بہتر ہوںاور گھرانے میں بھی۔فَقَالَ اَنَا مُحَمَّدْ اِبْنِ عَبْدِاللّٰہِ اِبْنِ عَبْدُ الْمُطَّلِبْ، اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِیْ فِیْ خَیْرِ خَلْقِہْ، ثُمَّ جَعَلَھُمْ فِرْقَیْنِ فَجَعَلَنِیْ فِیْ خَیْرِ فِْرقَۃِ، خَیْرَخَلْقِ الْقَبَائِلِ فَجَعَلَنِیْ فِیْ خَیْرِ قَبِیْلَتِہِ، فَجَعَلَھُمْ بُےُوْتًا فَجَعَلْنِیْ خَیْرُھُمْ بَیْتَا۔آپ نے فرمایا،میںمحمد ابن عبد اللہ بن عبدالمطلب ہوں۔خدا نے خلقت کو پیدا کیا اور مجھے اپنی بہترین خلقت میں گردانا۔پھر ان کے دو گروہ بنائے اور مجھے ان کے ہر گروہ سے بہترین گروہ میںسے بنایا۔پھر ہر فرقہ سے قبائل بنائے اور مجھے ان میں بہترقبیلہ میں بنایا۔پھر ان کے گھر بنائے اور مجھے ان میں سے اچھے گھر میں اٹھایا۔
حضور کے آباء و امہات اقدس کے اسمائے گرامی ،درود شریف کے ورد کے ساتھ تلاوت کیجئے۔
سےّدنا عبداللہ ذبیح اللہ سیدتنا آمنہ فرمانِ رسالت ہے کہ آپ کامقام و مرتبہ سیدنا اسمٰعیل ذبیح اللہ کے برابر ہے۔انا ابن الذبیحین،میں دو ذبیحوں کافرزند ہوں۔ چہرۂ اقدس پر بے پناہ انوار وتجلیات کے باعث آپ کو’’ مِصْبِاحُ الْحَرَِمْ‘‘کہاجاتا تھااور آپ مخدوم ملائک تھے۔ شجاعت و سخاوت میں بے مثل تھے۔ ماہر تیر انداز تھے۔
بن سےّدناعبدالمطلب سیدتنا فاطمہ والد گرامی کے انتقال کے وقت آپ اپنے ننھیال یثرب میں تھے۔آپ کے چچاحضرت مطّلب جاکر آپ کوساتھ لے آئے اور اس نازونعم سے پرورش کی کہ آپ ان کی احسان مندی میں تا عمر عبدالمطلب کہلائے۔آپ کو شیبۃالحمد،فیاض اور مطعم الطیر بھی کہا جاتاہے کیونکہ آپ پرندوںکے کھانے کا خصوصی خیال رکھتے تھے۔آٹھ سال حضور کا خیال رکھااور حفاظت فرمائی۔نورِرسالت آپ کے خدوخال میں چمکتا تھا۔570ء ،واقعہ ء فیل آپ ہی کی سرداری کے عہد میں ہوا۔ آپکوسےّدالقریش کہاجاتا تھا۔عمروْ بن حارث جرہمی کے بند کئے ہوئے چاہِ زمزم کو آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا۔
ٍبن سےّدناعمروْالعلاالہاشم سیدتنا سلمیٰ والد کے انتقال کے بعد سردارِقوم ہوئے۔عرب کے بدترین قحط میںاونٹوں کے گوشت کے ساتھ روٹیاں توڑ کر ڈالنے سے ہاشم،یعنی چورا کرنے والے معروف ہوئے۔ہر سال حجاج کرام کو وہی کھلاتے، جسے ثرید کہا جاتاہے۔
بن سےّدنا مغیرہ عبد مناف قمرالبطحائ سیدتنا عاتکہ اپنی سرداری کے ایام میں قریش کو خدا ترسی،حق شناسی، اور عدل وانصاف کی ترغیب دیتے رہے اور نیک کاموں کی وصیت فرماتے تھے۔بے پناہ حسن و جمال کے باعث آپ کا لقب مبارک قمر البطحاء معروف ہو گیا۔
بن سےّدنا زیدالقصی سیدتنا حبّی شام سے تشریف لا کر آپ نے رئیسِ مکہ حلیل کی صاحبزادی سے عقد فرمایا۔آپ نے دوردراز سے اولاد فہر، قریش کو مکہ میں جمع فرما کی اپنی سرداری کا لوہامنوایا۔
ٓبن سےّدنا ابو زہرہ کلاب سیدتنا فاطمہ آپ نے بہت سارے شکاری کتے پال رکھے تھے جن کے باعث آپ کا لقب کِلاب (کتوں والے) معروف ہو گیا۔
بن سےّدنا ابو یقظ مرہ سیدتنا ہند شان و عظمت اور وقار و مرتبہ کے مالک تھے۔
بن سےّدنا ابو ہصیص کعب سیدتنا محشید عرب میں آپ کا سنِ پیدائش جاری ہو گیا تھاجو واقعۂ فیل تک چار سوسال جاری رہا۔ عرب آپ کی سرداری پر فخر کرتے تھے۔
بن سیدناابو کعب لوی سیدتنا ماریہ صاحب عزت، سردارِقریش تھے۔
بن سیدنا ابو تمیم غالب سیدتنا عاتکہ آپ کی وجہ سے مکہ کو الغالب کہا جاتا تھا۔
بن سیدنا فہر القریش سیدتنا لیلیٰ آپ کے زمانہ میں حاکمِ یمن حسّان، فوجِ کثیر لے کر خانۂ کعبہ گرانے کی نیت سے حملہ آور ہوا۔آپ نے بھائیوں کے ساتھ مل کرمقابلہ کیااور حسّان کو شکست دے کر گرفتار کر لیا۔ اس شاندارفتح سے آپ کی ہیبت اور شوکت و عظمت پورے عرب پر بیٹھ گئی۔ لغت عرب میں سمندر کے سب سے بڑے جاندار کوقریش کہتے ہیں۔ اس فتح کے بعد آپ اور آپ کی اولاد کو قریش کہا جانے لگا کیونکہ آپ عرب کے تمام قبائل میں سب سے بڑا اور طاقتور قبیلہ تھے۔
بن سےّدنا ابوالحارث مالک سیدتنا جَتُدلہ اپنے آباؤاجداد کی طرح محترم تھے۔
بن سےّدنا ابو یخلدقیس النضر سیدتنا عکرشہ انتہائی حسین و جمیل ہونے کے باعث عرب آپ کونضرکہتے تھے۔
بن سےّدنا کنانہ سیدتنا برّہ صاحب فضل و درجات تھے۔اللہ رب العزت نے تاجِ اصطفائی سے آپ کو مصطفٰی فرمایا۔
بن سےّدنا ابوالاسد خزیمہ سیدتنا عوانہ آپ کثیرالاولاد تھے اور انتہائی دلیر و بہادر ہونے کے باعث ابوالاسد معروف ہوئے۔
بن سےّدنا ابو ہذیل عمروْمدرکہ سیدتنا سلمیٰ آپ کے والد نے آپ کوبھاگے ہوئے اونٹ پکڑنے پر مدرکہ اورچھوٹے بھائی کو طابخہ کا لقب دیا،جنہوں نے آپُ کے لئے کھانا تیار کیا تھا۔ لقب اصل نام پر غالب آگیا۔
بن سےّدنا ابو عمروْ الیاس سیدتنا لیلٰی آپ کا لقب مبارک کبیر القوم تھا۔آپ کی وفات پر آپ کی زوجۂ عالیہ طویل عرصہ سایہ میں نہ بیٹھیں۔
بن سےّدنامضَر سیدتنا رباب عرب کے ثروتمند ترین انسان تھے۔والد محتر م نے تمام زرو جواہر آپ کودی اور نگران بنایا۔
بن سےّدنا ابو آباد نزار سیدتنا سودہ انتہائی دولتمند تھے۔محتاج و ضرورتمندوں کی خبرگیری فرمایا کرتے تھے۔
بن سےّدنا معد سیدتنا معانہ بخت نصر کے عرب پر دوسرے حملے میں آپ کو حضرت یرمیاہ اپنے ساتھ شام لے گئے۔آپ حضور پاک کی آمد سے1108سال قبل تھے۔
بن سےّدنا عدنا ن سیدتنا فہدہ سیدنا عدنان حضور کے اکیسویں،دادا محترم ہیں۔بارگاہِ ایزدی میں انتہائی محترم ہیں۔بخت نصر کے عرب پر پہلے حملے کے دوران حضرت آرمیا وبرخیا ، انبیائے بنی اسرائیل نے اسے آپ کے احترام کاخصوصی حکم دیا تھا۔
جناب رسول خدا نے فرمایا،’’اے گروہ بنی ہاشم،اس ذات پاک کی قسم ہے جس نے مجھے حق کے ساتھ نبی مبعوث فرمایا ہے،اگر میں نے جنت کے دروازے کی کنڈی پکڑی،تو میںہر گز تمہارے سوا کسی سے اندر داخل کرنے کا آغاز نہیں کروں گا‘‘۔آپ نے فرمایا،’’ہم بنی عبدالمطلب،اہل جنت کے سردار ہیں،میں اور حمزہ،علی اور جعفر ،حسن اور حسین اور مہدی ‘‘۔صحابہ ء کرام فرمایا کرتے تھے کہ بنی ہاشم سے بغض، نفاق کی علامت ہے۔
سےّدالعرب ، سیدنا عبدالْمُطَّلِب ْ علیہ الصلوٰۃُ والسلام:
حضور کے عظیم المرتبت دادا حضور ،سیدنا عبدالمطلب عرب کے نامور سردار تھے۔آپ اہل عرب کے کو مکارم اخلاق اپنانے کی تلقین فرماتے تھے اور ظلم و سرکشی اور غلیظ حرکتوں سے روکتے رہے۔آپ ہی نے چاہ زمزم کو دوبارہ کھدوا کر گہرا کیااور عوام کے لئے مفید بنایا۔ یہ زمانہ فارس کے بادشاہ قباد کا تھا۔آپ ہی نے چاہ زمزم سے وہ طلائی ہرن برامد کئے جو موتیوں اور جواہرات سے مرصع تھے۔وہیں سے دھات کے سات بہت بڑے بڑے تختے دستیاب ہوئے تھے ۔آپ ہی نے ان دھاتی تختوں سے کعبہ کا دروازہ بنایااور سونے کے ہرن اور باقی سامان بیت اللہ شریف کے لئے وقف کر دیا۔سیدنا عبدالمطلب کے سر اقدس کے چند بال پیدائشی سفید تھے۔عربی میںسر کے سفید بالوں کو ’’شیب‘‘کہتے ہیں،اسی باعث آپ کوشیبہ کہا گیا۔آپ کے عادات واطوار دیکھ کر بزرگوں نے رائے قائم کی کہ آپ طویل عمر پائیںگے اور لوگ، آپ کو حمد وثناء کے ساتھ یاد کریںگے۔اس باعث لوگ آپ کو ’’شیبۃ ُالحمد‘‘ کہنے لگے۔آپ کی والدئہ معظمہ سیدہ سلمیٰ بنت عمروبن زید،بنی نجارکے سردار کی صاحبزادی تھیںاور مدینہ کی رہنے والی تھیں۔سیدنا عبدالمطلب،مدینہ میںاپنی ننھیال میںپیدا ہوئے اور سیدنا ہاشم کے وصال کے بعد مدینہ میں ہی رہائش پزیرہوئے اور اپنے ننھیالی رشتہ داروںاور ماموؤں کے ساتھ زندگی گزارنے لگے۔
ایک دفعہ شاعررسالت،حضرت حسّان بن ثابت کے والد ثابت بن منذرکا گذرہوااور آپ نے کچھ بچوںکوتیراندازی کرتے دیکھا۔آپ،ان بچوں کا کھیل دیکھنے رک گئے۔آپ نے دیکھا کہ ایک لڑکا،صحیح نشانے پر تیر لگا رہا ہے اور جب اس کا تیر نشانہ پر لگتا تو وہ بے ساختہ کہتا، ’’اَنا اِبْنُ عَمروْالْعُلیٰ اَنا اِبْنُ سَےّدُ الْبَطْحَا‘‘،میںبلند مرتبہ عمرو کا فرزند ہوں،میںبطحا کے سردار کا فرزند ہوں۔ثابت اس بچے کے پاس گئے اور نام ونسب دریافت کیا۔جب ثابت مکہ پہنچے تو انہوں نے حضرت ہاشم کے بھائی،جناب مطلب سے پورا واقعہ بیان کیاجسے سن کر جناب مطلب نے بھتیجے کو لانے کے لئے فوراًمدینہ جانے کا قصد کیا۔مدینہ پہنچ کر جناب مطلب نے ایک جگہ قیام کیا اور بھتیجے کو تلاش کرکے اپنے بارے میںبتایا۔جب سیدہ سلمیٰ کوجناب مطلب کی آمد کا علم ہوا تو آپ نے انہیںاپنے ہاں آنے اور قیام کرنے کی دعوت دی ۔جناب مطلب نے اپنی آمد کا مقصد بیان کیا۔پہلے تو سیدہ سلمیٰ نے اپنے عزیز صاحبزادے کو بھیجنے سے انکار کیا لیکن جب آپ کا اصرار دیکھا تورضامند ہو گئیں۔ جناب مطلب ؓنے تین روز ان کے ہاں قیام کیا، پھرسیدنا شیبۃُالحمد کو اپنے ہمراہ لے کر مکہ آگئے۔آپ ،کی بے پناہ شفقت و محبت اور پیار کے باعث شیبۃُالحمد ،اپنے آپ کوہمیشہ عبدالمطلب یعنی مطلب کا غلام کہلاتے رہے۔یہ لقب اسقدر معروف ہوا کہ لوگ آپ کااصل نام بھول گئے اور لقب ہی ہر جگہ استعمال ہوااور کتب تاریخ کی زینت بنا۔
سیدنا عبدالمطلب،معاملات قوم کاانتظام فرماتے، جو ان کے آباؤاجداد کیا کرتے تھے۔انہوں نے اپنی قوم میں اس قدر بلند مقام حاصل کر لیاکہ ان کے بزرگوں میںسے کوئی اس رتبہ پر نہ پہنچا تھا۔قوم ان سے بیحد محبت کرتی اور عرب میںان کی عزت بہت بڑھ گئی۔آپ کے بہت سے کارہائے نمایاں،کتب تاریخ کے اوراق کی زینت ہیں۔
حیات مبارکہ کے آخری دورمیںسیدنا حضرت عبدالمطلب ،حضور کو دیکھ کربڑھاپے کے دن گزار رہے تھے۔سیدہ آمنہ کے انتقال پرملال کے بعد حضور سے الفت نے ایک طوفان کی صورت اختیار کر لی۔کبھی انگلی پکڑ ے حرم کی طرف جا رہے ہیں تو کبھی کندھوں پر
اٹھائے کعبہ کے گرد طواف فرما رہے ہیں ۔اپنے فرزند کی درازیء عمر کے لئے مصروف دعا ہیں،کبھی صورت دیکھ کر تصدق ہو رہے ہیں۔کھانا کھاتے ہیںانہیں ساتھ بٹھا کر ۔سوتے ہیں توپہلو میں لٹا کر۔ایک لمحہ بھی جدا کرنا گوارا نہیں۔
حضرت عبدالمطلب،جب حرم شریف حاضری کے لئے جاتے تو ظلِّ کعبہ میں ان کے لئے مخصوص نشست گاہ بنائی جاتی۔کسی بڑے سے بڑے سردار کی مجال نہ تھی کہ اس پر قدم رکھ سکے۔حتّٰی کہ ان کے فرزندان گرامی قدربھی ازراہ ادب اس نشست گا ہ سے دورہٹ کربیٹھتے لیکن جب حضور تشریف لاتے تو بے جھجھک اپنے ذی وقاردادا جان کی نشست پر بیٹھنے کے لئے آگے بڑھ جاتے۔حضور کے چچاآپ کو روکتے تو سیدنا عبدالمطلب انہیں فرماتے، دَعُواابنیْ فوَاللہِ انَّ لہ ُ لشاْنُہ ،میرے بچے کو مت روکو۔آگے آنے دوبخدا اس کی شان بہت بلندہو گی۔آپ ہمیشہ حضورکواپنے ساتھ بٹھاتے۔پیار سے ہاتھ پھیرتے،معصوم ادائیںدیکھتے اور خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔اپنے عظیم دادا حضور کی بے پایاں شفقتوں اور محبتوں کے گھنے اور خنک سایہ میں حضور کے دو سال بسر ہو گئے۔سنِ اقدس آٹھ برس ہوا تو قدرت خدا نے اپنی دوررس حکمتوں کے پیش نظرحضرت عبدالمطلب کو واپس بلا لیا۔آپ کا دنیاوی سنِ اقدس 140برس ہوا اور وقت وفات قریب آیاتو آپ کے دل و ذہن کی تمام تر توجہ ،حضور نبی کریم اور آپ کے امور تھے۔دونوں جہانوں سے ہاتھ جھٹک کر فرماتے تھے کہ اس فرزند کا میرے بعد کیا حال ہو گا۔انتہائی محبت سے رحلت کے وقت آنحضرت کو طلب فرمایااورسینے پربٹھایا۔اپنے بیٹوں ابو لہب،سیدنا حمزہ، سےّدنا عباس اور سےّدنا ابوطالب کو طلب فرما کر کہا،
’’عباد سے میری رحلت او ر رب العباد سے ملاقات کا وقت قریب ہے اور اس فرزند کے علاوہ میرے دل میں کوئی حسرت نہیں ہے۔ کاش میری عمر وفا کرتی اور میں خود اس کی تربیت کرتااوراس پر ذیادہ شفقت و رحمت کرتا۔ کیا کروں، عمر ساتھ نہیں دیتی۔اب میں حسرت کے ساتھ عزم رحلت رکھتا ہوںاور جان شیریں اس اندوہ میں دیتا ہوں،میں دیکھناچاہتا ہوں کہ تم میں سے کون اس فرزند دل پسند کی دیکھ بھال اور نگرانی کرتا ہے جو کما حقہ ُ اس کی تربیت سے عہدہ برا ہو سکے‘‘۔
سارے چچا ،ایک ایک کر کے اپنی خدمات پیش کرتے رہے مگر سیدنا عبدالمطلب نے مختلف وجوہات بیان کر کے قبول نہ کیا۔
سےّدنا ابوطالب نے اپنے پدرگرامی کی مجلس پر دعاؤں کے جواہرات نچھاور کئے اور کہا،’’اے سردارِ قریش!اور اے اہل عیش کی راحتوں کے سرمایہ!مجھے ان کے اہتمام اور اس مقسد کوپوراکرنے میں مکمل خوشی ہو گی۔لیکن بڑے بھائیوں کی عزت کا خیال دامن گیر تھا۔ اس لئے سب سے آخر میں گزارش کی ہے۔اس مقسد کا عشق مجھے سب سے ذیادہ ہے۔اس امر کی دوستی،سلطنت دنیا سے ذیادہ ہے لیکن اگر سعادت موافقت کرے۔امیدوار کے دامن میں دست مراد کی طرح محمد کو کہتا ہوں‘‘۔
یہ سن کر حضرت عبدالمطلب نے فرمایا،’’اس خدمت کے لائق اور اس دولت کے حقدار آپ ہی ہیں۔کیونکہ آپ نرم دل اور شیریں گفتار ہیںاور عہدوپیمان نبھانے والے ہیں۔لیکن تمام امور کلیہ و جزیہ میںمیرے معاون ومددگار اور مشیر محمد تھے۔میں جب عاجز آجاتا ،تو انہیں بلاتا۔ ان کے ارشادات و مراعات کو غور سے دیکھتا ااور ان کی باتوں کوغور سے سنتا۔جب میں ان کے اشارے پر عمل کرتا ،اس مہم کو سر کر لیتا۔اب اس مہم میں مَیں محمد کوحَکم بناتا ہوں ،اپنے چچاؤں میں جسے وہ اختیار کریں، میں ان کے سپرد کر دوں گا‘‘۔
پھر آنحضرت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا،’’ اے میری آنکھوں کے نوراور میرے پسندیدہ فرزند! میں آپ کا داغ حسرت سینہ میں لگائے دنیا سے رخصت ہوتا ہوں۔آپ اپنے چچاؤں میں کس کو اختیارکرتے ہیں؟‘‘۔ آنحضرت اٹھ کر سیدنا ابوطالب سے بغلگیر ہوئے اور ان کے زانوں پر بیٹھ گئے۔ حضرت عبدالمطلب نے فرمایا،’’الحمدُ للہ!میری پسندمحمد کی پسند کے موافق آئی‘‘۔
پھر حضرت ابوطالب کو وصیت فرمائی اور حضور کی تربیت کی نسبت تعلیم دیتے ہوئے کہا ،’’ اے ابو طالب !خیال رکھنا اس در گراں مایہ کی کسطرح حفاظت کریں گے جسے باپ کی ہوا تک نہیں لگی اور والدہ کی شفقت کو نہیں دیکھا۔اے ابوطالب ٬اس فرزند کو ا پنے جسم و دل کی مانند سمجھئے ۔میںباقی اولاد کے متعلق وصیت موقوف کر کے خصوصیت کے ساتھ آپ کو صرف انہیںکے متعلق وصیت کرتا ہوںکیونکہ آپ اور ان کے والد ایک ہی ماں سے ہیںاور آپ اور محمد کے درمیان اس قدر ذیادہ محبت ہو گی کہ آپ دوسرے اعمام سے ممتاز ہوں گے‘‘۔
اے ابو طالب !اگر آپ کو زمانۂ بعثت مل جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ اس فرزند ارجمند کے اوصاف وکمال اور عظمت و جلال کے متعلق جو کچھ میں نے کہا ہے، دانش و فراست کی رو سے کہا ہے۔مجھے ان کے حالات تمام مخلوق سے زیادہ علم ہیں۔ اگر ہو سکے تو ان کا اتباع کرنا اور قطعاً تقصیر نہ کرنا۔کماحقہُ ان کی مدد و اعانت کرناکیونکہ وہ جلد ہی قوم کے سردار ہو جائیں گے اور وہ سعادت و نیک بختی ،جس تک ہمارے آباء واجداد میںسے کسی کو رسائی نہیں ہو سکی اور اس کا عشر عشیر بھی نہیں دیکھاہو گا، وہ حاصل کریں گے اور اس کی بلندیوں کو پا لیں گے۔آپ کو چاہئے کہ ان کی یتیمی و تنہائی پر شفقت و مہربانی کریں‘‘۔
پھر فرمایا،’’ کیا آپ نے میری وصیت کوقبول کیا ہے؟‘‘۔سیدنا ابو طالب نے فرمایا،’’میں نے قبول کیا‘‘۔انہوں نے کہا !’’میرا خدا گواہ ہے اور عالم الغیوب دلوں کے رازوں سے آگاہ ہے‘‘۔ پھر کہا،’’میری طرف ہاتھ بڑھاؤ‘‘۔ابو طالب نے ہاتھ بڑھا دیا۔حضرت عبدالمطلب نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا،’’ اب موت میرے لئے آسان ہو گئی ہے‘‘۔پھر آنحضور کے سر اور چہرہ کوبوسے دیئے اور آپ کی عنبر شمیم خوشبو کو سونگھااور فرمایا،’’میںاس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے کسی بھی فرزند کے سر سے ایسی عمدہ اور بہترین خوشبو نہیں سونگھی ہے‘‘۔پھر آپ نے اس دنیا سے رخت سفر باندھا۔
حضرت ام ایمن کہتی ہیںکہ حضرت عبدالمطلب کی وفات کے روز میں نے ان کا جنازہ لے جاتے ہوئے دیکھاکہ رسول اللہ ان کے جنازے کے پیچھے چل رہے تھے اورزاروقطار رو رہے تھے۔پھر حضرت ابو طالب آپ کی دیکھ بھال کے لئے کمر بستہ ہوئے۔
آپ کی وفات پر کئی دنوں تک بازار بند رہے اور منڈیوں میںکاروبار معطل رہا۔آپ کی چھ صاحبزادیوں نے اپنے عظیم والد کے انتقال پر مرثیئے کہے جن میں آپ کے محامد و کمالات کے ذکر کے ساتھ ساتھ اپنے عمیق حزن و ملال کا اظہار کیا۔جب آپ کا جنازہ اٹھا تو لوگوں نے آپ کے آٹھ سالہ پوتے کو بھی دیکھا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ سیدنا عبدالمطلب کو آبائی آرام گاہ ’’ حجون‘‘ میں آپ کے دادا حضور ، سیدنا زید القصی کے پہلو میں ابدی فردوس بریں کے سپرد کر دیا گیا۔اس مقام عالی کو جنت المعلّٰی کہا جاتا ہے۔
حضرت عبدالمطلب کی تحریر:ابن ندیم نے لکھا ہے کہ مامون الرشید کے کتب خانہ میں ایک دستاویز دیکھی تھی جو حضرت عبدالمطلب بن حضرت ہاشم کے دست اقدس کی تحریر کردہ تھی۔اس کے الفاظ یہ تھے،
حَقُّ عَبْدَالْمُطَّلِبِْبِِِِنْ ہَاشِمْ مِنْ اَھْلِِِمَکَّہْ فُلاںِْبِِنْ فُلاںْاَلْحَمِیْریْ مِنْ اَھْلِِوذل صُنْعَا،
عَلَیْہِ اَلفُ دِرْہَمْ فِضَّۃْ کَیْلَاِبِالْحَدِیْدَہْ وَ مَتٰی دَعَاہُِبھَا اِجَابَہْ، شَھِِِدَاللّٰہ وَالْمَلَکَانْ۔
’’عبدالمطلب بن ہاشم جو مکہ کا باشندہ ہے،کا یہ قرض فلاں بن فلاں حمیری شخص پر ہے جو صنعاء کا رہنے والا ہے۔یہ چاندی کے ایک ہزار درہم ہیں۔عند الطلب یہ قرض ادا کرے گا۔اللہ تعالیٰ اور دو فرشتے اس امر پر گواہ ہیں‘‘۔ ابن ندیم کہتے ہیں کہ انتہائی خوبصورت اور خوشخط طرز تحریر تھا۔
احادیث مبارکہ در شان عبدالمطلب:رسول خدا نے فرمایا،’’ قیامت کے دن حضرت عبدالمطلب ،امت واحد کی حالت میں اٹھیں گے کہ ان کی شان و شوکت بادشاہوں کی سی ہو گی اور پیشانی پیغمبروںکی طرح چمکتی ہو گی‘‘۔
آنحضرت نے فرمایا ،’’حضرت عبدالمطلب نے زمانہ جاہلیت میںپانچ طریقے مقرر کئے تھے اور اللہ نے انہیں اسلام میں جاری کیا،
۱۔عبدالمطلب نے باپوں کی بیویوں کو بیٹوں پر حرام کیا تھا ،پس اللہ تعالیٰ نے اس کے موافق آیت نازل فرمائی،
وَلَاتَنْکِحُوْمَا اَنکَحَ ابٰائکُمْ مِنَ النِّسَاء ، اورجن عورتوں سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے تم ان سے نکاح نہ کرو۔
۲۔عبدالمطلب نے کہیں سے کچھ مال پایا، اس میں سے پانچواں حصہ نکالااور راہِ خدا میں تصدق کیا،پس اللہ تعالیٰ نے اس کے موافق آیت نازل کی، وَاعْلَمُوا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَئَیِِِِِِِِفَاِنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہُ ، اور جان لو کہ جو مال تم غنیمت میں پاؤ اس کا پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ کا ہے اور رسول خدا کا ہے۔
۳۔جب حضرت عبدالمطلب نے چاہ زمزم کھودا تو اس کا نام سقایۃالحاج رکھا۔اسی کو خدا نے آیت اَجَعَلْتُمْ سقَاےَۃَ الْحَاجِ میں نازل کیا۔
۴۔آدمی کے قتل کا خون بہا ایک سو اونٹ مقرر کئے۔اللہ تعالیٰ نے وہی طریقہ اسلام میں جاری فرمایا۔
۵۔قریش میں طواف کی تعداد نہ تھی ۔عبدالمطلب نے سات شوط طواف مقرر کئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اسلام میں جاری کیا۔
جناب رسالتمآب پر جبرائیل نازل ہوئے اور عرض کی کہ آپ کا پروردگار بعد تحفہ درودوسلام کے ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے آتش دوزخ کو حرام کر دیا ہے،اس پشت پر جس نے اے حبیب !آپ کورحم مادر میں اتارا،اور اس شکم پر جس نے آپ کو اٹھایااور اس گود پر جس نے آپ کی پرورش کی۔
سیدنا عبدالمطلب کا خواب:سیدنا ابو طالب نے فرمایا، ’’ میرے والدِ محترم نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ میں نے خواب میںدیکھا کہ میری پشت سے ایک درخت پیدا ہواجس کی بلندی آسمان کو چھو رہی تھی اور اس کی شاخوں نے مشرق و مغرب کا احاطہ کر رکھا تھا۔اور فرمایاکہ میں نے ایک ایسا چمکتا ہوا نور دیکھا کہ اگر ستّر آفتاب بھی بیک وقت طلوع ہوںتو یہ روشنی ان پر غالب رہتی اور وہ اس کے سامنے مدہم رہتے۔اور میں نے دیکھا کہ اس نور کے حضور میںعرب و عجم کے تمام لوگ سجدہ ریز ہیںاور یہ نور ایک لمحہ پوشیدہ رہنے کے بعد دوبارہ ظاہر ہو جاتا ہے۔اور میں نے قریش کے ایک گروہ کو اس درخت کی شاخوںسے لٹکتے ہوئے دیکھا۔ اور کچھ لوگوں کو اسے کاٹنے کے درپے پایا۔مگر جب وہ قریب آئے تو انہیںایک نوجوان نے پکڑ لیا،جو ایسا پیکر حسن و جمال اور خوبصورت ترین جوان ہے ،جس کے رخ انور کی مثال میں نے کبھی کوئی حسین نہیں دیکھااور نہ ہی میں نے کبھی اس قسم کی خوشبو سونگھی ہے جو اس کے جسم مشکبار سے پھو ٹ رہی تھی۔پھر میں نے دیکھا کہ اس خوبرو جوان نے ان لوگوں کی پشتیںتو ڑدیںاور آنکھیں پھوڑ دیںجو اس درخت کو کاٹنا چاہتے تھے۔بعد ازاں میں نے اس درخت کی طرف ہاتھ بڑھا کر اپنا حصہ لینا چاہامگر کامیاب نہ ہوا۔پھر میں نے پوچھا کہ یہ کس کا حصہ ہے،تو لوگوں نے بتایاکہ یہ انہی لوگوں کا حصہ ہے جو اس درخت کے ساتھ لٹکے ہوئے ہیں۔میںنے یہ خواب دیکھا تو خوفزدہ ہو کر بیدار ہو گیااور قریش کاہنہ سے تمام ماجرا بیان کیا۔
کاہنہ کا چہرہ متغیر ہو گیااور اس نے کہاکہ اگر میں آپ کے خواب کی تصدیق کروںتو آپ کی پشت انور سے ایک ایسا شخص پیدا ہو گا جو مشرق و مغرب کا مالک ہو گااور لوگ اس کی اطاعت کریں گے۔ پھر جب حضور دنیا پر تشریف لائے حضرت عبدالمطلب نے حضرت ابوطالب سے فرمایا،یہ وہی مولود ہے۔حضرت ابوطالب،اکژیہ حدیث مبارکہ بیان فرمایا کرتے تھے۔جب حضور رسالت مآب کی بعثت مبارکہ ہوئی تو سیدنا ابوطالب فرماتے،خدا کی قسم یہ وہی شجر نور،ابوالقاسم اور امین ہے‘‘۔
سیدنا عبدالمطلب کے اس خواب میںسیرت النبی کا پورا نقشہ ہے
میلاد مصطفٰی:سرکار دو عالم کا پہلا جشن میلاد ،سیدنا عبدالمطلب اور سیدنا ابو طالب نے منایا۔رئیس مکہ،سیدنا عبدالمطلب نے اپنے سجّادہ نشین اور نگہبان رسالت،سیدنا ابوطالب کو حکم دیاکہ اونٹ اور بکریاںذبح کر کے اہل مکہ کی ضیافت کریں۔تین دن تک شہر مکہ کاشانہ ء نبوت کا مہمان رہا۔انسانوں کے ساتھ چرند،پرند،درند بھی ہاشمی دستر خوان پہ مہمان ہوئے اور مستفید ہوتے رہے۔تاریخ عرب میں کسی کی ولادت پر اس سے قبل یہ اہتمام نہ ہوا تھا۔اسطرح پہلی میلاد مصطفی کی محفل سیدنا عبدالمطلب اور سیدناابوطالب نے سجائی۔
عام الفیل اور دعائے عبدالمطلب :570ء،مکہ پر حملہ سے قبل ابرہہ نے سیدنا عبدالمطلب کے اونٹ قبضہ میںکر لئے تو سیدنا عبدالمطلب اپنے اونٹوں کی بازیابی کے لئے ابرہہ کے پاس تشریف لے گئے۔بادشاہ نے اٹھ کر تعظیم کی ، عزت احترام سے بٹھا کر آنے کاسبب پوچھا۔آپ نے فرمایا،’’ تو مجھے میرے اونٹ واپس کر دے۔بیت اللہ کا مالک خود اس کی حفاظت فرمائے گا‘‘۔ ابرہہ نے حیران ہو کر کہا،’’میں سمجھا،آپ حرم کعبہ کو بچانے کی سفارش کریں گے‘‘۔حضرت عبدالمطلب نے فرمایا،’’اونٹ میرے ہیں،کعبہ جانے اور کعبہ کا مالک ‘‘۔ابرہہ نے اونٹ واپس کر دیئے۔ حضرت عبدالمطلب، کوہ حرا پر تشریف لے گئے اور بارگاہ الٰہی میں دعا کی،
اللّٰھُمَّ اِنَّ الْمَرئُ ےَمْنَعُ رَحْلَہُ فامْنَعْ حَلَالَکَ ، لاَےَغْلَبَنَّ صَلِیْبُھُمْ وَ مَخَالُھُمْ غَدْوَامُحَالَکَ،اِنْ کُنْتَ تَارِکُھُمْ وَ قَبِِیلَتَنا فَاَمْرُ،مابَدَائَ لَکَ
اے ہمارے اللہ ،انسان اپنے سامان کی حفاظت کرتا ہے ،تو اپنے متاع کی حفاظت فرما۔ان کی صلیبیںاور ان کے فریب اور حیلے تیری حرمت اور قوت پر غالب نہیں آسکتے۔اگر تو انہیں چھوڑنے والا ہے کہ ہمارے قبیلے کے ساتھ جو چاہیں کریںتوتجھے اس کا اختیار ہے۔
اس دعا کے بعد سمندر سے ابابیل آئے اور سارے لشکر اور ہاتھیوں کو تباہ و برباد کر دیا۔اسی واقعہ کو سورۂ فیل میں بیان کیا گیا ہے۔
اَلَم ْےَجِِدْکَ ےَتِیماًَ فَاَوٰی:
ارشاد ربانی ہے کہ، ’’ اے میرے حبیب،کیا اس نے نہیں پایا آپ کو یتیم اور اپنی آغوش رحمت میں پناہ دی‘‘۔
579ء میں سیدنا عبدالمطلب کی وفات کے بعد آغوش ابوطالب میں،درّ یتیم کی پرورش کا آغاز ہوا۔ ذات قدرت نے نور رسالت کو
ابو طالب کے گھرانے میں ضم کر دیا اورسیدنا ابوطالب نے آپ کی حفاظت و خدمت گزاری کا حق اد کر دیا۔اپنے بچوں سے بڑھ کر حضور کوپیار فرمایا۔ ایک لمحہ بھی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیا۔رات اپنے پہلو میں سلایا۔کھانے کے وقت حضور سے پہلے کسی کو کھانا نہ کھانے دیا۔قلت خوراک ہوئی تو اپنی اولاد کو بھوکا رکھااور حضور کوسیرفرمایا۔ انہی باتوں کا تذکرہ فرما تے حضور آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔ قادر مطلق نے اسی آغوش ابوطالب کا قرآن میں ذکر فرمایا ہے اور اپنی آغوش رحمت سے تشبیہ دی ہے۔ یہ ایسی موزوں اور مامون پناہ تھی کہ جس کی بدولت دین متین کی تبلیغ و اشاعت ہوئی۔
ابوطالب،جن کی رفاقت و نصرت، اسلام کا محکم حصار بن گئی۔ ابو طالب،جنہوں نے شجر اسلام کی آبیاری کی۔ ابوطالب ،جن کی قربانیوں سے محسن انسانیت کے بازو مضبوط ہوئے۔ ابوطالب ،جن کے آہنی ارادوں اور کارگزاریوں سے جمعیتِ کفار و مشرکین لرزہ براندام رہی۔ ابوطالب ،جن کی حکمت عملی سے کفار کی نیندیں حرام تھیں۔ ابوطالب ،جو گلشن رسالت کی حفاظتی دیوار تھے۔ابوطالب ،جو حضور کے شفیق چچا اور کفیل تھے۔ ابوطالب ،جو مولائے کائنات علی مرتضیٰ شیر خدا ،جعفر طیاراور عقیل کے والد تھے۔ابو طالب ،جو سید الشہداء، امیر حمزہ ،شیر رسالت کے بھائی تھے۔ابو طالب ،جو حسنین کریمین ،سرداران جنت کے داداحضور تھے۔ابوطالب ،جو سیدہ زینب وام کلثوم کے دادا تھے۔ابوطالب ،جو شہدائے کربلا، شہدائے فخ، شہدائے بغداد، شہدائے شیراز، اصفہان و ساوِہ اور شہدائے نیشاپورکے مورث اعلیٰ تھے۔
ابو طالب ،جن کی اولاد نسبِ رسول ہے۔ ابو طالب ،جنہوں نے ہزاروں فرزندان، اسلام پر قربان کر دیئے۔ وہ فرزندان جو حافظِ قران و حدیث، شب بیدار، تہجد گزار، عابد، زاہد، عالم، فقیہ، محدث اور مفسر قران و شارح اسلام تھے۔ جن کی آغوش کو ذات قدرت نے اپنی پناہ قرار دیا وہ سوائے سیدنا ابو طالب کے اور کون ہے؟۔
سیدنا ابو طالب نے آنحضرت کے لئے جو جانثاری فرمائی ،اس سے کون انکار کر سکتا ہے؟۔ اپنے جگر گوشے آپ پرنثار کر دیئے ۔ آپ کی محبت میں تمام عرب کو اپنا دشمن بنا لیا۔ فاقے اٹھائے،شہر بدر ہوئے، تین برس تک آب و دانہ بند رہا۔ تاریخ کے دھارے جدھر موڑ دیئے جائیں ’’شعب ابی طالب‘‘کے حصار کا تمغہ کس کے سینے پر سجے گا۔کائنات کی ہر چیز مل کر ابدالآباد تک نعت گوئی کرتی رہے تو حضور کی نعلین مبارک پر جلوہ نما ذرہ خاک کی تعریف کا حق ادا نہیں کر سکتی۔ شہنشاہ انبیاء و مرسلین کے غمگسار اور محافظ،سیدنا ابوطالب کے فضائل و مناقب اور شان و عظمت کو کون بیان کر سکتا ہے۔
وصیت عبدالمطلب کا جواب:جب سیدنا عبد المطلب نے سیدنا ابوطالب کو نبی کریم کا خیال رکھنے کی وصیت فرمائی تو آپ نے جواباًفرمایا،
لاَ توَ صِیْنِیْ بِلَازِمِِوَاجِبْ اِنّیْ سَمِعْت ُاَعْجَبْ اْلْعَجَائِب
ِمنْ کُلِّ حِبْرِ عالمِِ وَّ کاَتِبْ بِاَنْ ےَّحْمَدَاللہ ُقَولَ الرَّاھِبْ
اے میرے پدر عالی قدر،جو کام میرے لیئے پہلے سے واجب و لازم ہے ،اس کے بارے میں وصیت فرمانے کی ضرورت نہیں۔میں نے تو محیر العقول باتیں سنی ہیں۔اہل کتاب کے علماء،لکھنے والے اور خدا بھلا کرے،ایک راہب کے قول سے۔
ناصر رسول:اللہ رب العزت نے فرمایا ، لَتُوء مِنَنَّ بِہِ وَ لَتَنْصُرُ نَّہُ ،تم ضرور ایمان لانا اور ضرور ان کی مدد کرنا۔حضور نبی کریم نے بیالیس سال خانۂ ابوطالب میں گزارے اور جس طرح نصرتِ رسول کا فریضہ سیدنا ابو طالب نے ادا فرمایا اور بعد ازاںآپ کی ذریت طیبہ نے ادا فرمایا ،تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔آپ بلاشبہ ناصر رسول ہیں اوریہ اعزاز صرف آپ ہی سے متعلق ہے۔
نکاح خوانِ رسالت:
جب حضور نبی کریم کادنیاوی سن اقدس پچیس برس ہوا تو آپ نے ملیکۃُ العرب،اُم الزھرا،ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ صلوٰۃاللہ و سلامہ علیہا سے عقد فرمایا۔ سیدہ طاہرہ عرب کی نجیب ترین،ثرو ت منداور انتہائی پرہیزگار خاتون ذی وقار تھیں۔ سیدہ طاہرہ سن دنیا کے اٹھائیسویں برس میں تھیں اور مبشرات ایزدی کے تحت ، وقت مقررہ کا انتظار فرما رہی تھیں۔مقررہ تاریخ پر قبیلہ ء مضر کے رؤسا،مکہ کے شرفاء و امرا ء اکٹھے ہوئے۔سیدہ خدیجہ کی طرف سے عمروْبن اسد وکیل بنے۔سرکار دوعالم کی وکالت رئیس بطحا،سیدنا ابوطالب نے فرمائی۔حضور کے نکاح کا خطبہ زبان ابوطالب سے اسطرح ادا ہوا،
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلْنَا مِنْ ذُرِّےَّۃِ اِبْرَاہِیْمَ وَذَرْعِ اِسْمَاعِیْلَ وَضِئضِئی مَعْدَوَ عُنْصُرِ مَضَرِِ،وَجَعَلْنَاحَضَنَۃَبَیْتِہِ وَسَوَّاسَ حَرْمِہِ وَجَعَلَنَا بَیْتًا مَحْجُؤجاَوَحَرَمًا اٰمِنَا وَجَعَلَنَا الْحُکَّامَ عَلَی النّاسِ۔
ثُمَّ اِنَّ اِبْنَ اَخِیْ ھٰذَامُحَمَّدُ اِبْنُ عَبْدِ اللّٰہ لَا ےُؤْ زَنُ بِرَجُلِِ اِلَّارَجَحَ بَہِ وَاِنْ کَانَ فِیْ الْمَالِ قُلَّا وَاِنَّ الْمَالَ ظِلّ ُُُ زَائِلُُ وَاَمْرَ حَائِلُ وَمُحَمَّدُُ مَنْ قَدْ عَرَفْتُمْ فَرَابَتَہُ وَ قَدْ خَطَبَ خَدِیْجَۃَ بِنْتَ خُوَیْلَدِِ۔وَ قَدْ بَذَلَ لَھَا مِنْ الصِّدَاقِِمَاٰاَجَلَہُ مِنْ مَالِیْ اِِثْنَا عَشَرَۃَ اَوْقِےَۃَذَھَبَا۔وَنَشَاءَوَ ھُوَوَاللّٰہِ بَعْدَ ھٰذَالَہُ نَبَائُُ عَظِیْمُ وَ خَطَر ُُجَلِیْل
سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے ہمیں حضرت ابراہیم کی اولاد سے، حضرت اسماعیل کی کھیتی سے ،معد کی نسل سے اور مَضر کی اصل سے پیدا فرمایا۔ نیز ہمیں اپنے گھر کا پاسبان اور اپنے حرم کا منتظم مقرر فرمایا،ہمیں ایسا گھر دیاجس کا حج کیا جاتا ہے اور ایسا حرم بخشا جہاں امن میسر آتا ہے۔نیز ہمیں لوگوں کا حکمران مقررفرمایا۔
حمد کے بعد ،میرا یہ بھتیجاجس کا اسم گرامی محمد ابن عبداللہ ہے،اس کا دنیا کے بڑے سے بڑے آدمی کے ساتھ موازنہ کیا جائے گا تو اس کا پلڑا پھر بھی بھاری ہو گا۔اگرقلت مال ہے تو کیا ہوا،مال تو ایک ڈھلتی چھاؤں ہے ا ور بدل جانے والی چیز ہے اور محمد جس کی قرابت کو تم جانتے ہو ،اس نے خدیجہ بنت خویلد کا رشتہ طلب کیا ہے اور بارہ اوقیہ سونا مہر مقرر کیا ہے۔اور اللہ کی قسم ،مستقبل میں اس کی شان بہت بلند ہو گی،اس کی قدر ومنزلت بہت جلیل ہو گی۔
اس جلیل الشان خطبہ کے بعد جس میں اللہ رب العزت کی ثنا،انبیاء کی نبوتوں کا اقرار،خاندان بنی ہاشم کی سرداری،عظمت خانۂ کعبہ،اور عظمت نبوت کے واضح مضامین ہیںاور سیدنا ابو طالب واشگاف الفاظ میں فرماتے ہیںکہ میرا اخی افضل الناس ہے اور آپ نے بنی ہاشم کی سیادت و قیادت کا سکہ بٹھا دیا،سیدہ خدیجۃالکبریٰ کے چچاذادبھائی حضرت ورقہ بن نوفل نے تقریر فرماتے ہوئے حضرت ابو طالب کو مخاطب کر کے کہا،
سب حمد و ستائش اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیںوہ سب کچھ بنایا جس کا آپ نے اپنے خطبہ میں ذکر فرمایا ہے اور ان لوگوں پر ہمیں فضیلت عطا فرمائی ہے جن کا ذکر آپ نے کیا ہے۔بلاشبہ ہم عرب کے سردار اور سربراہ ہیںاور آپ ان تمام باتوں کے اہل ہیں اور عرب کا کوئی خاندان بھی آپ کی اس بزرگی اور فضیلت کا انکار نہیں کر سکتا ہے۔کوئی شخص آپ کے اس افتخار اور شرف کو مسترد نہیں کر سکتا ہے۔ ہم لوگوں نے آپ کے شرف کے ساتھ ناطہ جوڑنے کو پسند کیا ہے۔
بنی ہاشم نگاہ ابو طالب میں:بنی ہاشم کے متعلق حضرت ابو طالب نے فرمایا،
اگر کبھی تمام اہل قریش اپنی اپنی قابل فخر باتوں کو لے کر جمع کریںتو جناب عبد مناف کے خاندان کے کارنامے سب سے ممتاز اور منور نظر آئیں گے اور جب جناب عبد مناف کے خاندان کے اشراف کو جمع کیاجائے تو جناب ہاشم سب سے بلند واشرف نظر آئیں گے۔اگر جناب ہاشم کی اولاد فخر کرے تو جناب محمد مصطفی کی ذات گرامی سب سے مکرم و محترم،قابل فخر ہستی دکھائی دے گی۔
جن کے مقابلہ میں قریش کے برے بھلے لوگ اکٹھے ہو گئے ہیںلیکن یہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہ لوگ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں۔زمانۂ ماضی مین بھی ہم نے کبھی ظلم برداشت نہیں کیااور اگر کوئی شخص ہمارے خلاف اپنا جبڑا ٹیڑھا کرے گا تو ہم اسے سیدھا کرنے والے ہیں۔ہم لوگ حضور کی حفاظت کی خاطر ہر روز میدان جنگ میں کود پڑنے کو تیار ہیںاور پتھر جس طرف سے بھی آئے گا اسی طرف اسے پلٹا دیں گے۔سوکھے ہوئے پتوں کو بھی ہماری حمایت ونصرت کی بنا پر شادابی نظر آنے لگے گی اور وہ ہرے بھرے ہو جائیں گے۔
ہمارے ہی خاندان کے لوگ ہر دور میں سید و سردار رہے ہیں ،جن کی عظمت کو کوئی للکار نہیں سکا۔ ساری دنیا ان کی اطاعت کے آگے سرنگوں ہو گی اور زمین کے چپہ چپہ پر ان کی عزت و احترام کے نشانات رقم ہوں گے۔
وارث انبیاء:سیدنا ابو طالب ،تمام انبیاء کرام کی وراثت کے وارث تھے۔آپ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ اور سیدنا اسمٰعیل ذبیح اللہ ، کی متروکہ امانتوں کے امانتدارتھے۔ان سب امانتوں میںسب سے بڑی امانت سرکارِرسالت ،حضرت محمد مصطفی کی امانت تھی۔آپ آسمانی و زمینی برکات کا سرچشمہ،نسل خلیل کابقیہ اور خاندان ذبیح اللہ کے وارث تھے۔
قصیدۂ لامیہ شریف:سیدنا ابو طالب کے ایمان پرور، نورانی کلام کو آپ کے مجموعہ ء سخن ’’دیوانِابو طالب ‘‘میں اکٹھا کیا گیا ہے جو سردار عرب کی طرح، تمام شعرائے عرب کے کلام کا سردار ہے۔آپ کایہ قصیدہ انتہائی بلند مرتبہ، ازحد بلیغ ہے ۔آپ کے علاوہ اور کوئی ایسا قصیدہ نہیں لکھ سکتا،یہ سبع معلقات سے بھی ذیادہ پرمغز اور پرمعنی ہے۔سیدنا ابو طالب نے یہ قصیدہ اس وقت لکھا جب آپ،شعب ابی طالب میں محصور کر دیئے گئے تھے۔
۱۔ اے میرے دوستو!ایسا نہیں ہے کہ حق و باطل کے معاملہ میں ،پہلی ملامت سنتے ہی میرے کان ،منحرف ہونے لگیں۔
۲۔ اے میرے دوستو!اہم اور دوررس معاملات میں صحیح اور بابصیرت رائے ،باہمی مشورے کے بعد ہی ملتی ہے۔
۳۔ اور جب میں نے دیکھا کہ قوم نے ہم سے ہر قسم کے تعلقات توڑلئے ، وسائل و روابط منقطع ہو گئے اور ان لوگوں کے دلوں میں ہمارے لئے کوئی محبت نہ رہی ۔
۴۔ بلکہ کھلم کھلا وہ لوگ ہماری عداوت اور ایذارسانی پر اتر آئے اور ہمارے دشمنوں کی بات ماننے لگے۔
۵۔ اور جو لوگ ہم سے بدگمان تھے ان سے ان لوگوں نے عہدوپیمان کر لیااور ہم سے بھرپور دشمنی کرنے لگے۔
۶۔ تب بھی میں نے صبر سے کام لیا اور اپنے گندم گوںنیزوں اور آبدار تلواروں کو،جو ہمیں ورثہ میں ملی تھیں روکے رکھا۔
۷۔ اور خانۂ خدا کے پاس اپنے اہلِ خاندان اور برادران کو جمع کیا،اور تمام معاملات کے نشیب و فراز کو ان کے سامنے رکھا۔
۸۔ سب لوگ خانۂ خدا کے دروازے کی طرف رخ کر کے کھڑے تھے،جہاں عبادت گزار لوگ مصروف عبادت رہتے ہیں۔
۹۔جس کے قرب و جوار میں زمانۂ جاہلیت میں بت رکھے جاتے تھے اور جہاں حج کے لئے آنے والے لوگ اپنے اونٹوں کو ٹھہراتے تھے۔
۱۰۔ وہ اونٹ ہر سن و سال کے ہوتے تھے ،ان پر انواع و اقسام کے سامان بھی لدے ہوتے تھے۔
۱۱۔ اور ان کی آرائش بھی گونا گوں طریقوں سے کی جاتی تھی،جو انگور کے خوشوں کی طرح ایک دوسرے سے پیوست ہوتی تھی۔
۱۲۔ میں خدا کی پناہ چاہتا ہوںہر اس شخص سے جو ہماری طرف کسی برائی کی تہمت لگائے یا کسی باطل اور غلط بات پر اصرار کرے۔
۱۳۔ اور ہر اس دشمن سے جو ہماری عیب جوئی کرے یا دین میں ایسی بات شامل کرے جس کا ہم نے کوئی اقدام نہ کیا ہو۔
۱۴۔ میں اس پروردگار کی پناہ چاہتا ہوںجس نے مکہ کے پہاڑوں ،ثور ،ثبیر،عیر،اور حرا کو ان کی جگہ پر قائم کیا ہے اور اس نبی ء اکرم کی پناہ طلب کرتا ہوں جو کوہ حرا پر جاتے اور آتے ہیں۔
۱۵۔ اور مکہ کی سرزمین پر اللہ کاجو گھر ہے اُس گھر کی اوررکن و مقام کی پناہ مانگتا ہوںاور سب سے بڑھ کر خداوند ذوالجلال کی پناہ مانگتا ہوں۔
۱۶۔ اور میں تما م دینی شعائر،جیسے حجر اسود ،جسے لوگ چھوتے اور چومتے ہیںاور دن رات اس سے لپٹتے رہتے ہیں۔
۱۷۔ مقام ابراہیم یعنی وہ پتھر جو اتنا نرم ہو گیاکہ جناب ابراہیم نے اپنے کھلے ہوئے پیروں کو اس پر رکھا تو اس پتھر کے اندر نشانات قدم ثبت ہو گئے۔
۱۸۔ وہ قدم جو صفا و مروہ کے درمیان اٹھائے جاتے ہیں،جہاں اس وقت ہر قسم کی تصویریں نظر آتی تھیں۔
۱۹۔ اور وہ تمام لوگ جو نذر کر کے یا بغیر نذر کر کے ،خانۂ خدا کا حج کرنے سواریوں پر یا پیدل آتے ہیں۔
۲۰۔ اور عرفات کی وہ بلند جگہ جہاں دینی پیشوا کھڑا ہو کر خطبہ دیتا ہے۔
۲۱۔ اور اس کی وہ وادیاں اور نشیبی علاقے جو پانی کی گزرگاہ ہیں۔
۲۲۔ اور حاجیوں کا ۹ذی الحجہ کو شام کے وقت تک عرفات کی پہاڑیوں پر وقوف کرنا۔
۲۳۔ جہاں وہ اونٹنیوں پر ٹھہرے رہتے ہیں۔خدا کی بارگاہ میں اتنی تیزی سے قربانی کرتے ہیں،جیسے کوئی شخص بارش سے بھاگ رہا ہو۔
۲۴۔ اور اس منیٰ کے اندر یہ لوگ بڑے شیطان کے پاس پہنچ کر کنکریوں سے اس کے سر پر ضرب لگاتے ہیں۔
سیدنا ابوطالب نے کس خوبصورتی سے حج کے ان تمام ارکان کو اپنے اس قصیدہ کے اندر قلمبند فرمایا ہے اور ان شعائر اسلام کی اہمیت کو بھی آشکار فرما یا ہے۔اس کے بعد آپ قریش کے ان دو قبائل کا ذکر کرتے ہیں ،جنہوں نے بنی ہاشم کے خلاف بائیکاٹ کا عہد و پیمان کیا۔
۲۵۔ جُمرات کے پاس ،رات کے وقت ،جب حجاج وہاں سے گزر رہے تھے،بنی کندہ اور بنی بکر بن وائل۔
۲۶۔ دو حلیفوں نے باہمی مشاورت کے بعدایک مضبوط عہد و پیمان کیااور اس کے لئے ہر قسم کے وسائل کو کام میں لائے۔
۲۷۔ اور انہوں نے یہ بھی طے کیا کہ اسے گندم گوں نیزے اور تلواریں ہی تو ڑسکتی ہیں۔
۲۸۔ اور خوفناک شمشیر زنی ہی ختم کر سکتی ہے ا ور وہ لوگ اپنے بہادروں کے اردگرد اس طرح تیزی سے چل رہے تھے،جیسے تیزرفتارسواری چلتی ہے۔
اس کے بعد سیدنا ابوطالب،تمام لوگوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ، اب جب کہ قریش کے قبائل نے ہمارے بائیکاٹ کا فیصلہ کر ہی لیا ہے،
۲۹۔کیا اس کے بعد بھی کوئی عذر باقی رہتا ہے اور دنیاوی طور سے کسی کی پناہ لینے والے کے لئے پناہ کی جگہ رہ گئی ہے۔
۳۰۔کیا کوئی انصاف پسند ایسانہیںرہ گیاہے جو خدا سے ڈرے اور ان لوگوں کو سمجھائے کہ رسول خدا کو اذیت نہ دیں۔
۳۱۔ ہمارے دشمنوں کی اطاعت کی جا رہی ہے اور ہماری بھرپور مخالفت کی جارہی ہے، بلکہ یہ لوگ توچاہتے ہیںکہ ہمیں مکہ سے نکال دیا جائے اور ترک وکابل کے دروازے بھی ہمارے لئے بند کر دیئے جائیں۔
۳۲۔ نزدیک و دور کی ہر زمین ہمارے لیئے تنگ کر دی جائے، لیکن رب کعبہ کی قسم !یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم لوگ مکہ چھوڑدیں،ان قریش کے لوگوں کے تمام ارادے لغو اور بیکار ہیں۔
۳۳۔ خدا کی قسم یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ہم رسول خدا کاساتھ چھوڑدیں،بلکہ ہم تو ان کی حمایت میں تم سے تلواروںاور نیزوں سے مقابلہ کریں گے۔
۳۴۔ ہم ان کی مدد و نصرت کرتے رہیں گے ، یہاں تک کہ ان کی نظروں کے سامنے جان دے دیں اور اپنے اہل و عیال سے جدا ہو جائیں۔
۳۵۔ اور ہمارے مرنے کے بعد بھی ایسے لوگ اٹھیںگے جو اسلحوں میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور سیلِرواںکی طرح تم پر چھا جائیں گے۔
۳۶۔ یہاں تک کہ کینہ پرور لوگوں کے کینوں کو اپنے نیزوں کے ذریعے ختم کر دیںگے اور دشمن منہ کے بل زمین پر گر پڑیںگے۔
۳۷۔ اور خدا کی قسم !میری نگاہیں دیکھ رہی ہیںکہ عنقریب ہماری تلواریںقریش کے بزرگوں سے ٹکرانے والی ہیں۔
۳۸۔ اور ہماری یہ تلواریںایسے بہادروں کے ہاتھوں میں ہوں گی جو شہاب ثاقب کی طرح دشمن پر ٹوٹ پڑیںگے۔ حق و حقیقت کی حمایت کرنے والے اور شجاع ہوںگے۔
۳۹۔ صنادید عرب کے ساتھ ہمارے یہ مقابلے اتنے طویل ہوں گے کہ، دن مہینوں میں،مہینے کامل سال میں،تبدیل ہوں گے اور ایک سال کے بعد دوسرا سال آجائے گا۔
۴۰۔ یاد رکھو،چاہے کچھ ہوجائے ،ہم لوگ اپنے نبی کونہیں چھوڑسکتے کیونکہ،قوم کا اپنے عالی وقار سید و سردار کو چھوڑنا تو نہایت بری بات ہے۔
۴۱۔ اور سےّدوسردار بھی ایسا نبیء مکرم،درخشاںچہرے والا،جس کے رخِ زیبا کا واسطہ دے کر بارش کی دعا کی جاتی ہے۔جو یتیموں کی پناہ گاہ اور بیواؤں کا والی وارث ہے۔
۴۲۔ بنی ہاشم کے ستم رسیدہ افراد اسی کی پناہ چاہتے ہیں،کیونکہ وہ ان کے لئے اللہ کی ایک بڑی نعمت اوربہت بڑا احسان ہے۔
۴۳۔ اور جہاںتک اُسید اور اس کے خاندان کے طرز عمل اور بائیکاٹ کا تعلق ہے تو میری جان کی قسم!ان لوگوں نے ہماری عداوت میںایسا اقدام کیا ہے کہ پوری قوم سے کاٹ کر گویا کھانے والوں کے لئے ہمیں لقمہ بنا دیا ہے۔
۴۴۔ جیسا کہ سبیع بن خالد اور نوفل بن خویلد جیسے شیطان صفت لوگوںسے ہمیں اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا،یہ سب لوگ منحرف ہیں،کوئی بھی حسن سلوک پر آمادہ نہیںہے۔
۴۵۔ لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ان لوگوں سے ہماری مڈبھیڑہوگئی اور خدا نے موقع دیا تو ہم بھی ان لوگوں سے پورا پورا بدلہ چکائیںگے۔
۴۶۔ اسی طرح ابو عمروْ،قرظہ بن عبد عمروْ بھی مسلسل ہمارے ساتھ دشمنی کرتا ہے اور اس کی پوری کوشش یہی ہے کہ ہم اپنے جانوروں پر بیٹھ کر یہاں سے چلے جائیں۔
۴۷۔ یہ شخص صبح و شام باتیں کرتا ہے،ہمارے پاس آتا بھی ہے ،پھر بھی دھوکہ بازی کرتا ہے۔
۴۸۔ قسم کھا کرہم سے کہتا ہے کہ دھوکہ نہیں دے گا ،لیکن پھر بھی کھلم کھلا مخالفت کرتا ہے اور اسے کوئی شرم بھی نہیں آتی۔
۴۹۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری عداوت کی بناء پر اس کی نگاہوں میںمکہ سے لے کر عراق و شام تک کی زمینیں تنگ ہو چکی ہیں۔
۵۰۔ اے لوگو!ابو ولید،عتبہ بن ربیعہ سے دریافت کرو کہ تم جو ایک دھوکہ باز کی طرح مسلسل ہمارے خلاف کوششیںکرتے رہتے ہو، تمہاری ان باتوں کا ہمارے لئے کیا نتیجہ نکلا ؟۔
۵۱۔ جبکہ تم ایک صاحب رائے انسان سمجھے جاتے تھے اور ہم سے ناواقف نہیںتھے۔
۵۲۔ اے عتبہ! خدا کے لئے ہمارے خلاف کینہ پروروں،حاسدوں،جھوٹوں،عداوت رکھنے والوں اور دغابازوں کی بات مت سنو۔
۵۳۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر تم نے ان لوگوں کو نہ روکااور یہ اسی روش پہ چلتے رہے تو ہم اور تم ،کسی بڑے معرکے میںآمنے سامنے نظر آئیںگے۔
۵۴۔ اور ابوسفیان تو اپنے غرور و تکبر کی وجہ سے ہم بنی ہاشم کے پاس سے یوں منہ موڑ کر گزرجاتا ہے،جیسے وہ یمن کا کوئی بہت بڑا آدمی ہے۔
۵۵۔کبھی وہ، نجد کی طرف بھاگتاہے ،کبھی اپنے کنوؤںکی طرف تا کہ لوگوں کو ہمارے خلاف ورغلائے،لیکن اسے یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ ہم اس سے غافل ہیں۔
۵۶۔ میںاچھی طرح جانتا ہوں کہ برائی سے غفلت نہیں کی جا سکتی اور دشمن کی عداوت بھی واضح ہے،لہذاحق وباطل میں اس سے بھلائی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
۵۷۔ اے قریش کے لوگو!جنہوں نے ہمارا بائیکاٹ کیا ہے،تم سب مل کر ہم لوگوں پر حملہ آور ہو جاؤتب بھی ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے اور نہ تم ہمیںکوئی نقصان پہنچا سکتے ہو،بلکہ تمہارا حملہ کرنا ایسا ہو گاجیسے تیز ہوا ،بارش کے ساتھ کسی پر حملہ آور ہو جائے۔
۵۸۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ کچھ لوگ ہمدردی ظاہر کرنے کے لیئے خود کو شفیق و مہربان کے انداز میں پیش کر رہے ہیںجبکہ ان کے دلوں میں عداوت چھپی ہوئی ہے۔
۵۹۔ اے مطعم!تم آج ہم سے کنارہ کشی کر رہے ہولیکن جب تم ایک اندوہناک پریشانی میںپڑے تھے تو ہم نے تم سے کنارہ کشی نہیں کی ۔
۶۰۔ اور نہ اس دن تمہارا ساتھ چھوڑا تھا جب لوگ بڑی تعداد میںتمہارے خلاف اکٹھے ہوئے تھے اور سخت دشمنی پر آمادہ تھے۔
۶۱۔ اے مطعم! لوگوں نے تمہیں اپنے پھندے میںگرفتار کر لیا ہے جبکہ تم مجھے اچھی طرح پہچانتے ہو کہ جب تک زندہ ہوں مغلوب نہیں ہو سکتا۔
۶۲۔ بنی عبدالشمس اور بنی نوفل نے ہمارے خلاف جو برااقدام کیا ہے ،خداوند عالم بہت جلدانہیں اس کی سخت سزا دے گا۔
۶۳۔ اور اس کی سزا میزانِعدل کے مطابق ہو گی،اس میں کوئی کمی نہیں ہو گی جسے دیکھ کر خود ان کا نفس گواہی دے گاکہ یہ حق ہے۔
۶۴۔ اور وہ لوگ تو بہت کم عقل ہیںجنہوں نے صرف ہماری عداوت کی بناء پر بنی خلف اور بنی غیطلہ کو ہم سے منحرف کر دیا ہے۔
۶۵۔ جبکہ ہم لوگ خاندان بنی ہاشم کے اعلیٰ ترین افراد ہیںاور قصی،جیسے صاحب کمالات کی اولاد ہیں،جن کی عظمت زمانۂ قدیم سے تسلیم شدہ ہے۔
۶۶۔ حاجیوں کو سیراب کرنے کی ذمہ داری بھی ہمارے پاس رہی ہے اور قریش وعرب کے درمیان ہمیشہ ہم ہی لوگ بلند مرتبہ رہے ہیں۔
۶۷۔ اور اب جو ہمارے خلاف لوگ ایک دوسرے سے عہد و پیمان کر رہے ہیں،کینہ و عداوت کا اظہار کر رہے ہیںاور خونریزی کی باتیں کر رہے ہیں،یہ صرف چند قبیلوں کی شرارت ہے۔
۶۸۔ بت پرست بنی امیہ جو ہماری دشمنی میں پاگل ہو گئے ہیں،بنی جُمع،جو قیس بن عاقل کے غلام اور بے حیثیت لوگ ہیں۔
۶۹۔ بنو سہم اور بنومخزوم ،جو ہم سے روگرداں ہیںاور فتنہ پرور اور اوباش لوگوں کو اکٹھا کر کے ہماری عداوت پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔
۷۰۔ اور بنی لوئی بن غالب کے کچھ نکمے ا فراد،جنہیںسرداران قریش نے ہمیں اذیت پہنچانے کے لئے بھیج دیا ہے۔
۷۱۔ اور جہاں تک بنی نفیل کے خاندان کاتعلق ہے تو ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ بنی مُعد کے جو لوگ بھی زمین پر چل رہے ہیں ،اُن میں سب سے زیادہ بد سرشت یہی بنی نفیل ہیں۔
۷۲۔ لیکن اے عبد مناف کے لوگو!تم قوم کے بہترین افراد ہو،لہٰذا اپنے معاملات میں غلط اور برے لوگوں کو شریک نہ کرو۔
۷۳۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر توفیق الٰہی تمہارے شامل حال نہ ہوئی اور تمہارے حالات درست نہ ہوئے تو تمہارے درمیان بھی بنی وائل جیسے حالات رونما ہو سکتے ہیں،جن کی اولاد آپس میں ہی لڑ پڑی تھی۔
۷۴۔ میری جان کی قسم ،تم لوگ کمزوری دکھا رہے ہواور نقصان دہ راہوں پر چل رہے ہو۔
۷۵۔ ماضی میں تو تم ایک ظرف کے ایندھن تھے ،اب تو مختلف ظروف کے ایندھن بنتے جا رہے ہو۔
۷۶۔ اے عبد مناف کے خاندان کے وہ لوگ ،جو لوگوں کی ناراضگی ،ہمارا ساتھ چھوڑنے اور ہمیں شعب میں محصور کر دینے کا باوجود ہمارا ساتھ دے رہے ہو ،مبارک ہو۔
۷۷۔ اگر کسی قوم کو اہل حق کا ساتھ دینے کی بناء پر خوشیاں حاصل ہوئی ہیں اور ایسا بکثرت ہوا ہے تو یاد رکھو کہ تم لوگوں نے جو حسن سلوک کیا ہے ،اس کا فیض تمہیںعنقریب حاصل ہو گا۔
۷۸۔ قُصی یعنی قریش کے لوگوں کو بتا دو کہ ہمارا دین یقیناپھیلے گااور ان لوگوں کو یہ بھی بتا دو کہ جو ہم سے الگ رہے گا ،رسوا ہو گا۔
۸۰۔ لیکن انہیں اطمینان دلا دو کہ اگر جناب قُصی کے خاندان پر مصیبت کی کوئی رات آئی تو جس طرح انہوں نے ہمارا ساتھ چھوڑا ہے ،ہم ان کا ساتھ نہیں چھوڑیںگے۔
۸۱۔ اور اگر کوئی ان کے گھروں میں شمشیر زنی کرتا ہوا داخل ہو جائے تو ہم ان کی عورتوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔
۸۲۔ اگر اس وقت کعب بن لوئی کے خاندان کے لوگ ہماری دشمنی میں اکٹھے ہو گئے ہیں تو ایک نہ ایک دن،ان میں پھوٹ بھی پڑے گی۔
۸۳۔ اور اگر اس خا ندان کوماضی میں بہت بڑا شرف و مجد حاصل رہا ہے تو پیغمبراکرم کی مخالفت کی بناء پر ایک روز یہ لوگ ذلیل و خوار بھی ہوں گے۔
۸۴۔ ہمارے وہ سب دوست اور ننھیالی رشتہ دار ،جن سے ہماری توقعات وابستہ تھیںانجام کار کے لحاظ سے سب بے فائدہ ثابت ہوئے۔
۸۵۔ سوائے کلاب بن مرہ کے ایک خاندان کے جو اس بات سے پاک ہیں کہ انہوں نے ہمیں اذیت پہنچائی ہو یا ساتھ چھوڑدیا ہو۔
۸۶۔ اے شیروں کی اولاد!جس وقت لوگوں کی زبانیں حق کا ساتھ دینے کے لئے کھلنے پر آمادہ نہ ہوں ،تم لوگ اپنی آنکھیں بند نہ رکھنا۔
۸۷۔ بہترین راست گو بھانجہ زُھیر ہے ،جو دشمنوں کے خلاف نیام سے نکلی ہوئی تلوار کی حیثیت رکھتا ہے۔
۸۸۔ وہ بڑے جواں مردوں سے بڑھ کر جواں مرد وسردار ہے اور حسب و نسب کے لحاظ سے بھی عالی قدر اور بلند مرتبہ ہے۔
۸۹۔ خدا کی قسم !مجھے حضرت محمدمصطفی سے بے پناہ محبت ہے۔ان کی اور ان کے چچا ذاد بھائیوں ،علی و جعفر کی الفت میرے دل میںرچی بسی ہوئی ہے،کیونکہ یہ دونوں ہر وقت حضور اکرم پر اپنی جان نثار کرنے کے کئے تیار رہتے ہیں۔
۹۰۔ میں رسول خدا ، محمد مصطفی کی مدد و نصرت میںثابت قدم ہوںاور ضرورت پڑے گی تو ان کی حمایت و نصرت کرتے ہوئے ان کے دشمنوں سے نیزوں اور دیگر ساز و سامان حرب کے ساتھ مقابلہ کروں گا۔
۹۱۔ پروردگار عالم کی قسم !انکی ذات ہمیشہ سے سر چشمۂ جمال و کمال رہی ہے اورہر محبت کرنے والے کے لئے وہ باعث عزت ہیں۔
۹۲۔ تمام دنیا کے انسانوں میں ان جیسا کون ہے جس سے لوگوں کی امیدیں وابستہ ہوں؟اور فضل و کمال کون ہے جس سے ان کا موازنہ کیا جا سکے۔
۹۳۔ صاحب عقل و دانش ،منبع عدل و انصاف ،حلیم و بردبار، ہمیشہ یادِ خدا میں مشغول رہنے والے اور اس سے محبت کرنے والے۔
۹۴۔ خداوند عالم اپنی مدد و نصرت کے ذریعہ سے ان کی تائید کرنے والا ہے۔اور انہوں نے ایسا دین پیش کیا ہے جو برحق ہے اور قائم رہنے والا ہے۔
سیدنا ابو طالب کے یہ جملے ،اسی حقیقت کبریٰ کا اعلان کر رہے ہیں،جس کو مالک دوجہاں نے قرآن مجید میںسورہ الصف کی ان آیاتِمقدسہ میں بیان کیا ہے، کَتَبَ اللہ ُ لَاغْلَبَنَّ اَنَا و رُسُلِیْ، اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی آخر کار غالب رہیںگے۔
۹۵۔ دنیا والے بھی اس بات کو خوب جانتے ہیںکہ میرے بھتیجے محمد نے کبھی ان لوگوں سے کوئی غلط بات نہیں کی اور نہ وہ لغو بات کہ سکتے ہیں۔
۹۶۔ ان کے خاندان کے لوگ بھی معزز و بلند مرتبہ ہیں،بزدل و کمزور نہیںہیں۔اور اپنے عالی وقارآباؤاجداد کے ذریعہ سے ان لوگوں نے شرف پایا ہے۔
۹۷۔ جو لوگ بھی محمد کی مخالفت کر رہے ہیں،ہم لوگ ان سب کو مار بھگائیں گے۔ان کا شیرازہ منتشر کر دیںگے اور ہر بغاوت و جہالت کرنے والے کی حسرت کو خاک میں ملا دیںگے۔
۹۸۔ بنی ہاشم اور مطےَّبین کے جوانمرد ،آبدار تلواروں کی مانند ہیں۔
۹۹۔ جب یہ جوان شمشیر زنی کریں گے تو پھاڑکھانے والے شیروں کی طرح دشمنوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔
۱۰۰۔ اور ہم لوگ تو ایسے کریم اور عالیمرتبت شخصیتوںکی نسل سے ہیں،جن سے نسبت کو ساری دنیا کے بزرگان باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔
۱۰۱۔ کینہ پرور لوگوں کو عنقریب پتہ چل جائے گا کہ کون کامیاب اور سربلند رہنے والا ہے ۔
۱۰۲۔ اور دیکھیںمقابلے کا وقت آتا ہے تو کون ہمارے مقابلے پر تلوار اٹھاتا ہے اور ہم میں سے کون اس مقابلے میںاسطرح سرخرو ہوتاہے کہ پوری کائنات میں ا س کی حمد و ثناء ہو رہی ہے۔
۱۰۳۔ حضرت محمد مصطفی ؐتو شرف کے اعتبار سے اتنے بلند ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا آدمی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
۱۰۴۔ اور میری چشم بصیرت تو یہ دیکھ رہی ہے کہ مکہ کے یہ تمام لوگ جو آج لغوطریقہ سے ان کی مخالفت کر رہے ہیں،کل محمد ان کے قائد و رہنما ہوںگے۔
۱۰۵۔ میںان کی حمایت میںاپنی جان کی بازی لگاتا رہوں گا اور بڑ ے سے بڑے جُغادریوں اور چوہدریوںکا مقابلہ کرتا رہوں گا۔
۱۰۶۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خداوند عالم ،حضرت محمد مصطفی کے پرچم کو بلند رکھے گا ،انہیںدنیا کے اندر بھی رفعت و برتری عطا کرے گا ،اور روزِقیامت بھی وہی سربلند رہیںگے۔
قریش کا وفد سیدنا ابو طالب کی بارگاہ میں پیش ہوااور حضور کے لئے مختلف پیشکش کیںکہ آپ،پیغام خدا کی تبلیغ بند کر دیں۔یہ سن کر سیدنا ابوطالب نے سب کو دھتکار دیا اور ایک قصیدہ پورے جاہ و جلال سے حضور اکرم کی بارگا میں پیش کیاجس کے چند اشعار کا ترجمہ یہ ہے،
۱۔ یہ لوگ مجھ سے مطالبہ کر رہے ہیںکہ میںاس ذات گرامی کی مدد ونصرت ترک کر دوںجوہدایت کا پیغام لے کر آیا ہے۔
۲۔اور یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیںکہ میں اپنے نورنظر،احمد مجتبیٰ کوان کے سپرد کر دوںاور انکے کسی فرزند کی حفاظت و نصرت کر کے اسے دنیا کے مصائب و آلام سے بچاؤںاور اپنے فرزند ارجمند کو ان کے سپرد کر کے مصائب و آلام سے دوچا ر ہو جانے دوں۔بخدا یہ کبھی نہیں ہو سکے گا اور اس راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی میں پرواہ نہیں کر سکتا۔
۳۔میں نے ان لوگوں کو صاف صاف بتا دیا ہے کہ اللہ جومیرا رب ہے ،وہی میرا مددگار ہے اور قریش میں سے لوئی بن غالب کی اولاد میں سے جو بھی رسول خداکے خلاف بغاوت کا علم بلند کرے گا ، ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔
۴۔ خداکی قسم !یہ مشرکین و کفار قریش ،اپنے جتھوں کے باوجود، اس وقت تک آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ،جب تک میں زمین کے اندر دفن نہ کر دیا جاؤں۔
۵۔آپ اپنی بات زور و شور سے کہئے ،کوئی آپ کو گزند نہیں پہنچا سکتا، آپ خوش رہیں ، آپ کی آنکھیں ٹھنڈ ی رہیں۔
۶۔ آپ نے مجھے دعوت دی ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ مخلص بھی ہیں،سچے بھی اور امانتدار بھی۔
۷۔ اور آپ نے تو ایسا دین پیش کیا ہے ،جس کے بارے میںمجھے علم ہے کہ یہ کائنات کے ادیان و مذاہب کے درمیان سب سے اچھا دین ہے۔
ایک دفعہ قریش مکہ کی سنگین مخالفت کے دوران فرمایا،
۱۔ رات کے آخری حصہ میںجو فکر و اندیشہ مجھے لاحق ہوتا تھا وہ بہت سخت تھا،کیونکہ قوم پراگندہ ہو چکی تھی،اور ہمارے اپنے قریش ہی کے لوگ ہمارے ساتھ ناانصافی کر رہے تھے۔
۲۔ اور لوئی بن غالب کے لوگوں میںمجھے یہ نظر آرہا ہے کہ اخلاقی بیماریاںبہت ذیادہ پھیل چکی ہیں،یہاںتک کہ ان کے صحیح لوگ بھی بیمار ہو رہے ہیں۔
۳۔ جب قوم کے درمیان دعوت الٰہی پیش کرنے والا کھڑاہواتو سب اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے اور چیخ وپکار کرنے لگے۔
۴۔ لیکن جو شخص لوگوں کو خداند عالم کی وحدانیت کی طرف بلا رہا ہے،اس کا گناہ کیا ہے؟،جبکہ دین قدیم ہے ،وہ بھی جانا پہچاناہے۔
۵۔ اس وقت جبکہ ہر طرف برائیاں عام ہو چکی ہیں،جوشخص نیکی اور تقویٰ اور پرہیزگاری کی دعوت دے رہا ہے ،اس نے کوئی ظلم تو نہیں کیا ہے۔
۶۔ اور یہ لوگ وہ ہیں جن کا اس سے پہلے بھی تجربہ کیا جا چکا ہے،اور جو شخص،تجربہ کی منزل سے نہیں گزراوہ نہیں سمجھ سکتا۔
۷۔ ان لوگوں کویہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ،حلف نامہ کی جو دستاویزدرحقیقت اپنی عداوت اور تنگ نظری کی وجہ سے ان لوگوں نے تیار کی تھی ،اس میں بھی ان کے لئے نصیحت کا کافی سامان موجود ہے۔
۸۔ خداوند عالم نے ان کفار قریش کی نافرمانی اور عناد پر مبنی تحریر کو مٹا دیا،اور یہ لوگ محمد جیسے صادق القول انسان سے جو عداوت کر رہے تھے ،یہ اپنی دشمنی پر جمے رہے۔
۹۔ چنانچہ ان نے جو باتیں کہی تھیں،سب لغو ثابت ہو گئیں،اور یہ بات واضح ہے کہ جو شخص بھی حق کے خلاف کوئی بات ایجاد کرے گا ،اس کا جھوٹ واضح ہو جائے گا۔
۱۰۔ عبداللہ کے فرزند ارجمند ہمارے درمیان صادق اور امین رہے ہیں،اور قوم کی تمام ناراضگیوںکے باوجود وہی بات سچی ہوئی جو انہوں نے فرمائی تھی۔
۱۱۔ تم لوگ کبھی یہ وہم و گما ن بھی نہ کرناکہ ہم لوگ محمد کا ساتھ چھوڑ دیں گے،چاہے ہم میں سے کوئی نزدیک ہو یا دور۔
۱۲۔ خاندان بنی ہاشم کے مضبوط وتوانا بازو ،ان کا بھرپور دفاع کریںگے،جنہیںشرف و بزرگی میںاس ذات پروردگار نے سنوارا ہے،
جوبہترین سنوارنے اور آراستہ کرنے والا ہے۔
۱۳۔اور پھر یہ کہ خداوند عالم جو ان کا پالنے والا ہے، وہی دنیا کے لوگوں کو حضور کی طرف راغب کرے گا پھر بحرین کے لوگ یا مدینہ منورہ کے باشندے ،ان کا بھر پور ساتھ دیں گے۔
۱۴۔ ذات واجب کی قسم!مکہ معظمہ کے قرب و جوار کی وادیاں،محصب کا علاقہ اور دور دراز کی جگہیں،ان کے سامنے سرنگوں ہوں گی اور ہم لوگ ایسے نہیں ہیںکہ خانۂ کعبہ ،بیت اللہ کی بلاوجہ قسم کھائیں اور جب ہم قسم کھاتے ہیں ،تو پروردگار عالم اس کی تصدیق و تائید کرتا ہے۔
۱۵۔ خدا کی قسم ہم حضور کا ساتھ نہیں چھوڑسکتے، یہاں تک کہ ان کی حمایت و نصرت کرتے ہوئے قتل کر دیئے جائیں،اور ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ مقرب نبیء اکرم کوجھٹلاتے ہیں۔
۱۶۔ اے قریش! ہم پر ظلم و ستم مت کرو،کیونکہ اگر ہمیںقبیلہ کے ظلم سے ڈرایا گیا، تو ہم غضبناک ہو جائیں گے۔
۱۷۔ اپنے لغو وباطل خیالات اور بیجا امیدوں کو ختم کر دو، اِدھر اُدھر کی باتیں مت سوچو۔
۱۸۔ ہم پر ظلم کی ابتدا مت کرواور نہ ہمیںاذیت پہنچانے میںپہل کرو۔کیونکہ اگر تم نے ہمارے ساتھ ظلم و ستم جاری رکھاتو چاہے تم ہمارے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، ہم تمہیںدُھرامزا چکھائیں گے۔
ایک دفعہ کفار کے بڑ ے سرداروںکے بگڑے تیور دیکھ کر دوٹوک فرمایا،
۱۔ رب کعبہ کی قسم ! یہ نہیں ہوسکتاکہ ہم لوگ حضور نبی کریم کا ساتھ چھوڑدیں، چاہے ہمیں اس کے لیئے ہمیشہ ہمیشہ ، شعب ابی طالب میںرہنا پڑے۔
سیدنا امیر حمزہ سید الشہداء کے اعلان قبول اسلام پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے فرمایا،
۱۔ اے ابا یعلی، حضرت احمد مجتبیٰ کے دین پر ثابت قدم رہنا۔ دین کا اظہار کرتے رہنا، توفیق الٰہی تمہارے شامل حال رہے گی۔
ٍٍ ۲۔ حضرت محمد ، جو اپنے پروردگار کے پاس سے دین حق لے کر آئے ہیں۔ اے حمزہ ،عزم و صداقت کے ساتھ ان کا ساتھ دینا۔
۳۔ جب تم نے یہ کہا کہ’’ میںایمان لے آیا ہوں‘‘تو بہت خوشی و مسرت ہوئی، دیکھو اب خدا کی راہ میںحضرت رسول خدا کی مدد و حمایت کرتے رہنا۔
۴۔ اور جس دین کو تم نے قبول کر لیاہے ،قریش کے مجمع میںپورے زور و شور سے اس کا اعلان کرو اور سب کو بتا دو کہ حضرت محمد کو ئی جادوگر نہیںبلکہ وہ خدا کے برگزیدہ رسول ہیں۔
حضور اکرم کی حفاظت و پاسبانی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا،
۱۔ ہم نے رسول اللہ کی حفاظت کی ، جو اللہ کا پیغام لے کر آئے تھے اور ان کے دشمنوں کا ایسی تلواروں سے مقابلہ کیا جو برق کے مانند چمکنے والی تھیں۔
۲۔ ہماری ضرب ایسی تھی جو انسان نما حیوانوں کو بھگانے والی تھی، لوگوں کے ہجوم کا بھی مقابلہ کرنے والی تھی اور سرکشوںکا بھی خاتمہ کرنے والی تھی۔
۳۔ ہم ان تلواروں کے ذریعہ سے خدا کے رسول کی حفاظت و پاسبانی کر رہے تھے اور ہماری یہ پاسبانی ،ایک شفیق و مخلص کی پاسبانی تھی۔
۴۔ ہم ان کے دشمنوںکی طرف اس طرح نہیںگئے تھے جیسے اونٹنی ڈرتے ڈرتے اونٹ کی طرف قدم بڑھاتی ہے بلکہ ہم دشمنوں کی طرف اس طرح بڑھے، جیسے شیر غضبناک حالت میںچنگھاڑتا ہوا اپنے شکار پر جھپٹتا ہے۔
صحابہ کبار کی سیدنا جعفر طےّار، کی زیر قیادت ہجرت حبشہ کے بعدسیدنا ابوطالب نے عمروْبن عاص ا ورعبداللہ بن ربیعہ کے حبشہ جانے کا سن کر اچانک ہی حبشہ کا قصد فرمایا۔ آپ کی صاحبزادی، سیدہ ام ہانی نے اس اچانک تیاری کا پوچھا تو آپ نے فرمایا،
۱۔ میری بیٹی مجھے آمادۂ سفر دیکھ کر پوچھتی ہے کہ کہاں تشریف لے جانے کاارادہ ہے؟۔ میںاکثرسفر پرجاتاہوںاور بیٹی سے جدا ہوتا رہتا ہوں۔
۲۔ تو میں نے نورچشم سے کہا، مجھے جانے دو۔ میںجعفرکی حمایت و نصرت کے لئے نجاشی کے پاس جانا چاہتا ہوں۔
۳۔ تاکہ میںوہاںپہنچ کرعمروبن عاص کی مکاریوںکا جواب بھی دے سکوںاور اس کے غرور اور نخوت کا سر بھی کچل سکوں۔
۴۔ میںعمرو بن عاص کو بتا دوں کہ میرا تعلق جناب ہاشم جیسے باعظمت انسان سے ہے اور میںحتی الامکان غیب وشہود میںہر وقت
اسی نسبت کا خیال رکھتا ہوں۔
اہل اسلام کی ہجرت حبشہ کے موقع پر آپ نے شاہ حبشہ، حضرت نجاشی کوکومراسلہ روانہ فرمایااور حکم دیا کہ ان مسلمانوں کا احترام کرنااور ان کی عزت واکرام کا خیال کرنا، آپ نے لکھا،
۱۔کاش میںسمجھ سکتاکہ حبشہ میںمیرے بیٹے جعفر اور ان کے دشمن عمروْ کا کیا حال ہے اور کتنے تعجب کی بات ہے کہ نبیء اکرم کی مخالفت وہ قریش کررہے ہیںجو ان کے قرابتدار بھی ہیں۔
۲۔ پتہ نہیںنجاشی نے جعفر اور ان کے ساتھیوںسے اچھا سلوک کیا یا وہ بدسرشت عمروْرکاوٹ بن گیا۔
۳۔ اے نجاشی ! خدا کرے تم ہمیشہ برائی سے دور رہو، یاد رکھو تم صاحب مجدوکرامت ہو، صاحب جاہ و حشم ہو۔
۴۔ کہیںایسا نہ ہو کہ تمہارے پڑوسی جنہوںنے مشرکین مکہ سے جان چھڑا کر تمہارے پاس پناہ لی ہے سختی میںمبتلا ہوں۔
۵۔ اور یہ بھی یاد رکھناکہ پروردگار عالم کے کرم سے، تمہیںحکومت و سلطنت کی وجہ سے بہت اختیار حاصل ہیں، لہٰذا تمام نیک کاموںمیں تمہیںپابندی سے حصہ لینا چاہئے۔
۶۔ اور تم تو سخی و فیاض بھی ہو،جس سے دوست دشمن دونوںہی فیضیاب ہوتے رہتے ہیں۔
حضور پرنور کی زیارت کرتے فرمایا کرتے، اَنتَ الرّسُوْلُ، رَسُوْلُ اللہَِنعْلَمُہُ عَلَیْکََنزَلَِمنْ ذِالْعِزَّۃِالْکتابْ
ہم جانتے ہیں،آپ،اللہ کے رسول برحق ہیںجنہیںخداوند عالم نے مبعوث بہ رسالت فرمایاہے اور اس صاحب عزت وجلال رب کی جانب سے آپ پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے۔
ایک جگہ فرماتے ہیں،
میںجراء ت وہمت کا نمونہ، اخولاء کی جدائی پر گریہ کر رہا ہوںجس کے ایام بہت لائق تعریف تھے اور میںوہ معزز انسان ہوںجس نے سر پر خودپہن رکھا ہے اور میدان جنگ میںبھرپور شمشیر زنی کرنے والا ہوں۔
اپنے صاحبزادے ،امیر المؤمنین سیدناعلی کو خصوصی تاکید کرتے فرمایا،
۱۔ اے نورِنظر! یاد رکھوکہ سب سے ذیادہ پراعتماد بات یہی ہے کہ حضرت محمد کے دامن سے وابستہ رہا جائے۔ لہٰذاتم ہمیشہ ان کے ساتھ رہواور جس طرح سے بھی ہو سکے ، ان کی مدد و نصرت کرتے رہو۔
کفار و مشرکین کی بڑھتی ہوئی مخالفت کے پیش نظر اپنے عزم و ہمت اور متوقع حالات کامقابلہ کرنے پر آمادہ یوں اعلان جہاد فرماتے ہیں،
۱۔ یا رسول اللہ !چاہے جس قسم کی بھی آزمائش پیش آئے میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میںہو گااور اگر کوئی بھی معرکہ پیش آیاتو میںآپ کوبچانے کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دوںگا۔
حضور نبی کریم کا اشعار ابوطالب کو یاد کرنا:عہد نبوت میں ایک دفعہ شدید قحط پڑا۔ ایک اعرابی حاضر ہوا اور عرض کی ! یا رسول اللہ ،خشک سالی کے باعث ہم بھی ہلاک ہو گئے اور ہمارے مویشی بھی ہلاک ہو گئے۔حضور نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے، اس سے پیشترکہ دست مبارک نیچے آتے، بارش شروع ہوگئی اور اس کی بوندیںریش مبارک کو تر کر کے نیچے ٹپکنے لگیں۔ پورا ہفتہ بارش ہوتی رہی۔ دوسرے جمعہ کوپھر اسی اعرابی نے آکر بارش کی کثرت سے ہلاکت کی شکایت کی ۔ حضور نے اشارہ فرمایااور اسی وقت بادل چھٹ گئے، بارش رک گئی۔ حضور نے تبسم فرمایا، یہاںتک کہ دندان مبارک ظاہر ہو گئے، پھر فرمایا،
’’اگر ابوطالب ، زندہ ہوتے تو یہ منظر دیکھ کر ان کی آنکھیںٹھنڈی ہوتیں،کون ہے جو ان کا شعر سنائے‘‘،سیدنا مولا علی مشکلکشا نے عرض کی،کَاَنَّکَ تُرِیْدُ قَوْلَہ ، وَاَبْےَضُ ےُسْتَسْقَی الْغَمَامَ بِوَجْھِہِ، کیاحضور کی مراد، آپ کے یہ اشعار ہیں، اُن کی سفید رنگت، رخ انور کا واسطہ دے کربارش کی بھیک مانگی جاتی ہے۔ حضور نے فرمایا، بے شک۔
وَابْےَضَ ےُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْھِہْ ثِمَالُ الْےَتَامیٰ وَعِصْمَۃً لِلْاَرَامِلْ
ےَلُوْزُ بِہِ الْھَلَاکُ مِنْ اٰلِ ھَاشِمِِ فَھُمْ عِنْدَہُ فِیْ نِعْمَۃِِ وَ فَوَاضِلِ
ان کی رنگت سفید ہے، ان کے رخ ا نورکا واسطہ دے کر بارش کی بھیک مانگی جاتی ہے ۔ وہ یتیموںکی پناہ ہیںاور بیواؤں کی عصمت کے محافظ ہیں۔ خاندان ہاشم کے مسکین ،ہلاک ہونے سے ان کے دامن کرم میںپناہ لیتے ہیں۔ پس وہ لوگ آپ کے پاس ہر قسم کے انعامات اور احسانات سے مالامال کر دیئے جاتے ہیں۔
آب کوثر:حضرت ابو طالب بیان کرتے ہیںکہ میں حضور کے ساتھ وادیء ذی الحجاز میںتھا۔ مجھے شدید پیاس محسوس ہوئی اور میں نے اپنی پیاس کی شکایت ، حضور رسالتمآب سے کی۔ وہاں پانی کا کوئی نشان موجود نہیں تھ۔ آپ نے زمین پر اپنی ایڑی مبارک دبائی تو وہاں سے پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا۔ آپ نے مجھے فرمایا،’’چچا جان!پانی پی لیجئے،چنانچہ میںنے خوب سیر ہو کر پانی پیا‘‘۔ سبحان اللہ !حضور کی ایڑی مبارک
کی رگڑ سے زمین سے برامد ہونے والا پانی ،آب کو ثر وزمزم سے یقینا افضل واعلیٰ ہے اور جس ہستی کو یہ مقدس پانی پیش کیا گیا وہ سوائے سیدنا ابو طالب کے اور کون ہیں
وارث ابو طالب :جب خانہ خدا میںشیر خدا ، علی المرتضٰی کی آمد ہوئی تو انہیں ہاتھوں پہ بلند کر کے فرمایا،
سَمَّیْتُہُ بِعَلِیِِِ کَیْ ےَقدُوْمُ لَہُ مِنَ الْعُلُوِّوَ فَخْرِ الْعِزِّ اَدْوَمَہُ
میں نے ان کا نام علی رکھا ہے تا کہ دائمی طور سے علو و بلندی اور فخر و شرف ان کے شامل حال رہے۔
وصیت ابو طالب :
سیدنا ابوطالب نے خاندان بنی ہاشم اور تمام متعلقین بنی ہاشم کواکٹھا فرمایااور وصیت فرمائی،
’’حضرت نبی ء اکرم کی مدد و نصرت کے لئے میںآپ سب لوگوں،اور خصوصاًاپنے فرزندعلی اور پیغمبر کے چچا عباس کو وصیت کرتا ہوں،اور شیرِ بیشۂ شجاعت حمزہ کوجن کی ہیبت سے سب ڈرتے ہیں، اور اپنے بیٹے جعفرکو وصیت کرتا ہوںکہ لوگوںکے مقابلہ میںحضور کا پورا ساتھ دینااور ان کی طرف سے دفاع کرنا۔ نیز بنی ہاشم کے تمام لوگوں کو وصیت کرتا ہوںکہ اگر لوگ جنگ پر کمربستہ ہو جائیںتو تم لوگ رسول خدا کی مدد کرنا۔ اور جب بھی خطرات کا سامنا ہو ،توتم سب لوگ حضرت محمد مصطفی کے لئے سینہ سپر ہو کر ان پر اپنی جا ن نثا ر کرنا، میری جان اور میری اولاد سب تم پر قربان ہو۔ پیغمبر اکرم کی مدد و نصرت کے لئے وہ چمکدار اور آبدار تلوار یںلے کر میدان میںآنا جو رات کی تاریکی میںشعلہ کی طرح لپکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں‘‘۔
اپنے صاحبزادے ، سیدنا جعفر طےّار ،شہید موتہ جو آپ کی اولاد میں حضور کے پیغام پر جان قربان کرنے والے پہلے صاحبزادے ہیںاور شیر خدا ،علی المرتضیٰ کو وصیت فرمائی،
۱۔جب زمانہ کی چیرہ دستیاں بڑھ جائیں اور معاملات بہت سخت ہو جائیںتومجھے علی اور جعفر پربہت ذیادہ اعتماد ہے۔
۲۔مجھے یقین ہے کہ جب بھی اپنی بلندیوںیا خاندان کے شرف کی نسبت آواز دوںگا تو یہ دونوںمیری طرف سے آمادہ ء پیکارنظر آئیں گے۔
۳۔دیکھو میرے بیٹو! میرے مادری پدری بھائی کے بیٹے ،محمد مصطفی جو تمہارے چچا ذاد بھائی ہیں،کسی وقت ان کا ساتھ نہ چھوڑنا بلکہ مسلسل مدد و نصرت کرتے رہنا۔
۴۔ اور میں خداند عالم کی قسم کھا کر کہتا ہوںکہ نہ تو میںنبی کریم کو کسی حال میںچھوڑسکتا ہوں،اور نہ کسی شریف خاندان کا ،کوئی آدمی اُن کا ساتھ چھوڑسکتا ہے۔
نبوت کے دسویںسال، سید البطحا، کی طبیعت عالیہ میںتغیر ہوااور آپ سفرآخرت کوتیا ر ہوئے۔اس موقع پر آپ نے بنی عبدالمطلب کو بلایااور وصیت فرمائی،
’’اے گروہ قریش !اللہ تعالیٰ نے تمہیںاپنی مخلوق میںبزرگی و سرداری بخشی ہے۔ میںتمہیںبیت اللہ کی تعظیم کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ اسی میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ میںتمہیں وصیت کرتا ہوںکہ حضرت محمدکے حق میںبھلائی کرنا، اسلئے کہ وہ قریش میں الامین اور عرب میںالصدیق ہیں۔ اور ان میںہرحسن و خوبی جمع ہے، ان کے بارے میںتم کو وصیت کرتا ہوں۔ بلاشبہ وہ ایسی باتیںلائے ہیںجن کو ہر دل مانتا تو ہے مگر زبانیںملامت کے خوف سے انکار کر رہی ہیں۔ میںخدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں،کہ میںدیکھ رہا ہوںکہ عرب کے فقیروں، درویشوں، بادیہ نشینوںاور کمزور و ناتواں لوگوں کو کہ وہ سب ان کی دعوت قبول کرتے، ان کے کلمہ کی تصدیق کرتے اور ان کو اپنا بزرگ و رہنماجانتے ہیں۔ پھر قریش اور ان کے بڑوں کے سر جھک گئے ہیںاور ان کے مکان ویران ہو گئے ہیں۔ ان کے کمزور ،صاحب ثروت اور عظیم ترین ہو گئے ہیںاور جو اِن میںبزرگ اور بڑے تھے ، وہ ان میںذلیل و خوار اور حقیر بن گئے ہیںاور جو ان سے بہت دور تھے ، وہ ان کے نزدیک، نصیبہ وراور بہرہ مند ہو گئے ہیں۔ بلاشبہ انہوںنے عرب کو خالص بنا دیا ہے اور اپنی محبت ، ان کے دلوںمیںرچابسا دی ہے اور وہ سب ان کی اطاعت و فرمانبرداری کررہے ہیں۔
تو اے گروہ قریش! تم ان محبت کرنے والے اور ان کی نصرت و حمایت کرنے والے بن جاؤ، خدا کی قسم جو بھی ان کی پیروی کی راہ اختیار کرے گااور ان کی مطابقت کرے گا، یقینا وہ ہدایت یافتہ اور کامیاب ہو گااور کوئی نیک بخت ان کی سیرت و خصلت کا انکار نہیںکرے گا۔ خدا کی قسم ! جو ان کے دین کو قبول کرے گا نیک بخت بن جائے گا۔ اگر میںکچھ عرصہ اور زند ہ رہااور میری اجل میںکچھ تاخیر ہے تو یقینا میںان کی حفاظت و حمایت ہی کرتا رہوںگااور ہر حادثہ اور برائی کو ان سے دور رکھوںگا‘‘۔
یہ وصیت فرما کر آپ نے ابدی استراحت کے لئے آنکھیںبند کر لیںاور جزوِنور، اَسّی سال سے زائد، عالم فانی میں ضیاپاشی فرماکر اصل کولوٹ گیا۔ سیدنا محمد مصطفٰی، آپ کے سرہانے کھڑے تھے۔آپ کی منوّر پیشانی کو بوسہ دے کر فرمایا، ’’چچا! اللہ آپ پررحمت نازل کرے،آپ نے میرا خیا ل رکھا ،جب کہ میں یتیم تھا اور ہر ممکن تحفظ دیا۔اللہ آپ کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے‘‘۔اس کے ساتھ ہی آپ کے آنسو جاری ہو گئے اور آپنے ساتھ کھڑے سیدنا علی مرتضٰی کوگلے سے لگا لیااور بچپن کے واقعات یاد کرتے دونوں زاروقطار روئے۔
عام الحزن:
اعلان نبوت کے دسویںسال ، محافظ وغمگسار ، ناصررسول ، نکاح خوان رسالت، جد الشہداء، سیدنا و مولاناو مرشدنا ،حضرت ابوطالب عمران بن عبدالمطلب ، بارگاہ ایزدی میںابدی حاضری کے لئے پیش ہوئے۔ آپ کے دنیا سے جاتے ہی کفار و مشرکین مکہ اور منافقین کی چیر ہ دستیاں اور انسانیت سوز مظالم کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ نہ صرف اصحاب کبار کوبدترین مظالم کا نشانہ بنایاگیابلکہ حضورکے
عظیم الشان محافظ اور پاسبان اسلام ،سیدنا ابوطا لب کی شان اقدس میںہرزہ سرائی کرکے ،جہنم کے بھڑکتے شعلوںکارخ ان ازلی بدبختوں کی طرف پھیردیا گیا جو آپ کے متعلق کفریہ عقائدرکھتے ہیں۔
بعدازاں،اسی سال،چند روز بعد، ام ا لمو منین، سیدہ خدیجۃالکبریٰ سلام اللہ علیہا کے وصال پرملال نے حضور سیدالمرسلین کی لسان وما ینطق سے ’’عام الحزن‘‘ یعنی غم کا سال سنا۔
سیدنا ابو طالب کا جنازہ:اسلام کے ناصر اول کا جنازہ، اصحاب رسول کے کندھوں پر اٹھا۔ آگے آگے جنازہ اور پیچھے پیچھے پیغمبر اسلام ، اللہ کے پیارے نبی، محسن اسلام کا مرثیہ پڑھتے مشایعت فرما رہے ہیں،
’’چچا،آپ نے صلۂ رحم کیا، آپ نے مجھے پالا، میری ذمہ داری لی اور بڑا ہونے کے بعد بھی میری نصرت کی اور میرا ہاتھ بٹایا۔ خدا آپ کو جزائے خیر دے‘‘۔
ابھی رسول کریم کا یہ مرثیہ ختم نہیںہوا تھا کہ آہ وبین کا نوحہ شروع ہو گیا۔حضور کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیںاور آپ ان الفاظ میںگریہ فرما رہے ہیں،
’’چچا، آخر کس طرح صبر کروں، آپ نے بچپنے سے پالا، بڑا ہونے کے بعد محبت و شفقت سے سلوک کیا، میںتو آپ کی آنکھوں کا نور اور آپ کے لئے رو ح رواںتھا‘‘۔ پھر آپ نے فرمایا،
’’خد اکی قسم ، میرا چچاقیامت کے د ن ایسی شفاعت کا مالک ہو گا کہ ثقلین انگشت بدنداںرہ جائیںگے ‘‘۔
باب مدینۃالعلم کا مرثیہ:
شاہ عرب کے انتقال پرملال کے موقع پر باب مدینۃالعلم، مولائے کائنات، سلطان الاء ولیاء، سیدنا و مولانا ومرشدنا، اسد اللہ الغالب،
علی ابن ابی طالب علیہم الصلاۃ والسلام نے ان مقدس الفاظ میںاپنے سوگ کا اظہار فرمایا ہے،
ابو طالب ! اے پناہ لینے والوں کی پناہ گاہ! اور اے رحمت کی زوردار بارش! اور اے اندھیروں کی روشنی ،
سچ تو یہ ہے کہ آپ کے نہ رہنے سے غیرت مندمردوں کے دل ٹوٹ گئے اور وہ سست پڑگئے ہیں،
اور نعمتوں کے مالک پروردگار نے آپ پر نعمت نازل کی اور آپ کو اپنی خوشنودی سے نوازتا رہا،
کیونکہ آپ ،پیغمبر کے لئے واقعی بہترین چچا تھے۔
اس کے بعد آپ نے فرمایا،
رات گئے بولنے والے پرندے کی آوازوں پر میرا دل بھر آیا، انہوں نے پھر سے مجھے وہ سخت دکھ یاد دلایا،
ابوطالب کے اٹھ جانے کا دکھ، کہ بڑے سخی اور فقیروںکی پناہ گاہ تھے ، قبیلہ ء قریش کے لوگ ان کی وفات پر خوش ہوئے ہیں،
اور میںنے تو کوئی ایسا شخص نہیںدیکھاجو ہمیشہ زندہ رہا ہو،
قریش اپنے اس منصوبے پر عمل کرنے لگے جو ان کی آرزوء وں کا آئینہ دار تھا،
اور یہ ناروا آرزوئیں جلد ہی انہیںایک ناپسندیدہ مقام پر لے آئیں گی،
وہ رسول اکرم سے جھوٹی باتیںمنسوب کرنے اور انہیںقتل کرنے کے خواہشمند ہیں،
اور آنحضرت کی گزشتہ زندگی کے بارے میںافترا باندھتے ہیں،
قسم ہے خدا کے گھر کعبہ کی! کہ تم جھوٹ بولتے رہو گے،
یہاں تک کہ ہم تمہیںنیزوں کی نوکوںاور ہندی تلواروںکا مزہ چکھائیں،
پس یا تم ہمیںنابود کر دو گے یا ہم تمہیںنابود کر دیں گے،
یا یہ کہ تم رشتہ داروںکے ساتھ صلح کو بہتر پاؤ گے ورنہ حقیقی زندگی تو فقط محمد کے پہلو ہی میںمل سکتی ہے ،
اور ہم بنی ہاشم ،بہترین اور ممتاز ترین انسان، رسول اکرم کے ساتھ ہیں۔
آپ فراق ابو طالب کا اظہار فرماتے ہوئے کہتے،
جب رات کا آخری پہر ہواتومیںبلند آواز سے نوحہ کرتا ہوا اٹھااور اس سردار کی یاد میںآنسو بہانے لگاجس کی اندوہناک رحلت کی خبرمجھے مل چکی تھی، وہ عمر رسیدہ اور سرداروں کے سردار تھے۔
ان کا اسم گرامی ابو طالب ہے جو انتہائی سخی، غریبوںاور بے کسوںاور یتیموںکی جائے پناہ ہیں،
صاحب حلم ہیں، سست اور بیکار نہیں، ہمہ صفت موصوف ہیں،
سردار قوم نے اپنی موت سے حکومت و سیادت میںایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جسے پورا کرنا ، دشوار تر ہو گیا ہے،
اب بنو ہاشم کے لئے دو راستوںمیں سے ایک کو اختیار کرنا ہو گا، یا تو حکومت وسرداری سے دستکش ہو جائیںگے،
یانبی مکرم اس کو مباح فرما دیںگے،
اب تو قریش کے راستے میں کوئی رکاوٹ ہے ہی نہیں، یہی وجہ ہے وہ حضرت ابو طالب کی وفات حسرت آیات سے خوشیاںمنا رہے ہیں،
لیکن یہ خوشیاں کب تک رہیںگی،کل وہ بھی لقمۂ اجل بن جائیں گے،
قریش نے اپنے برے ارادوںسے کام کرنا شروع کیااور ان کی عقلوںنے رہنمائی کی کہ اسلام کی مخالفت اچھا کام ہے،
لیکن انہیں بہت جلداپنی دشمنیوں اور گمراہیوںکا بدلہ مل جائے گا، بہت جلد اسلام کا غلبہ عالمگیر ہو جائے گا،
اللہ کا دین پھیل کر رہے گااور قریش کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گااور عنقریب وہ اموران کو گمر اہی کے گھاٹ اتار دیںگے،
قریش کا ارادہ اور کام یہ ہے کہ وہ حضور نبی کریم کو شہید کریںگے، لیکن انہیںمعلوم ہونا چاہئے کہ ان کے کئے کا وبال انہی پرنازل ہو گا، بیشک وہ دین حق سے انکار کریںاور جو چاہے کریں،
خانۂ خدا کی قسم، ایسا کبھی نہیںہوسکتاکہ تم اپنے ارادوں میںکامیاب ہو جاؤ، ابھی تو ہم تمہیںنیزوںکی نوکوںاور ہندی تلواروں کے زخموںکا مزہ چکھانے والے ہیں،
اے قریش اگر تم نے اپنی شرارتوںکوجاری رکھاتو ہم ہتھیار بند ہو کرتمہارے مقابلے میںنکلیںگے تو وہ منظر پیش کریںگے ، جسے دیکھنابھی تم کودشوار اور گراںبار ہوگااور تمہاری نجات مشکل ہو جائے گی،
تو اس منظراور گھمسان کی جنگ کا نتیجہ یہ ہو گاکہ یا تم ہمیںشہید کرڈالو گے یا ہم تمہیںکیفرکردار تک پہنچا دیںگے،
ہاںاگر اسلام کی مخالفت ترک کر کے صلح کر لوتو یہ صلح اپنے ہی قبیلے سے ہو گی،
اور اگر صلح بھی تمہیں پسند نہ ہوتو حضور کی حفاظت اور نصرت کے لئے ابھی بنو ہاشم زندہ ہیں،
جو بحیثیت حسب و نسب اور بلحاظ مخلوق سب سے افضل ہیں،
اور حضور کی نصرت و امداد کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مددگار ہے جو تم ہی میںموجود ہے،
اور میںجب بھی اللہ تعالیٰ کے محبوب سے ملا تنہا نہیںہوںگا، بلکہ میرے ساتھ بنی ہاشم کا سارا قبیلہ ہو گا،
وہ ایسے نبی ہیں، جن پر نازل ہونے والی کتاب کا ایک مقصداور الگ بیان ہوتا ہے،
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا اسم گرامی ، قران حکیم میںمحمد یعنی تعریف کا مالک رکھا ہے،
حضور کا چہرۂ انور چودہویںرات کے چاند کی طرح روشن اور خوبصورت ہے،
ابر نے بھی آپ ہی سے روشنی حاصل کی ہے اور اس سے بجلی چمکتی ہے، دنیا کی ہر چیز نور محمد ی سے روشن و فیضیاب ہے،
اللہ تعالیٰ نے جو بھی وحی آپ پر نازل فرمائی آپ اس کے امانت دار اور محافظ ہیں،
آپ کی بارگاہ سے جو بھی فرمان جاری ہوتا ہے وہ سچااور منجانب اللہ ہوتا ہے،
سیدنا ابوطالب کے پردہ فرمانے کے صرف چند ہی دن بعد ام المومنین، سیدتنا خدیجۃالکبریٰ بھی رحمت ایزدی سے پیوست ہو گئیں،
مولائے کائنات فرماتے ہیں،
میری دونو آنکھو، تم پر اللہ کی رحمتیںاور برکتیںنازل ہوں، تم ان دو بزرگ ہستیوںکے وصال پر خوب آنسو بہاؤ،
کیونکہ ان دونوںنے اسلام کے لئے بہت ہی جانبازی، غمگساری اور خیر خواہی سے کام کیا ہے، ان دونوںکا کوئی ثانی اور مثل نہیں،
ایک تو اس سردارِمکہ ، حضرت ابوطالب پر روء وجورئیس مکہ ہیںاور رئیس مکہ حضرت عبدالمطلب کے لخت جگراور نور نظر ہیں،
دوسرے سیدۃالنساء حضرت خدیجۃالکبریٰ پر آنسو بہاؤ، جنہوں نے طبقہ نسواںومرداںمیںسب سے پہلے نماز ادا فرمائی،
سیدہ خدیجۃالکبریٰ کو اللہ تعالی نے پاکیزہ فطرت عطا فرمائی، آپ کو زمانۂ جاہلیت میںبھی طاہرہ کے لقب سے پکارا جاتا تھا،
آپ بہت بابرکت اور طیب طاہر تھیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے درجات و فضائل بلند فرمائے ہیں،
ان دونوںکافراق، پگھلا دینے والی مصیبت، ان دونوںکی جدائی اور فراق نے میرے لئے ہوا اور خلا و فضا کو غم والم کے اندھیرے میںبدل دیا ہے، پس میںان کی جدائی کی وجہ سے رنج و الم میںڈوبا ہوامشکل سے راتیں گزارتا ہوں، غم کے پہاڑٹوٹ پڑے ہیںاور رات کی نیندیںاچاٹ ہو گئی ہیں،
بلاشک وشبہ،حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہ طاہرہ نے حضور کے دین کی اشاعت کے بارے میںمددوحمایت کی،
اور ہر اس آدمی کا مقابلہ کیاجس نے بھی سرکشی اور بغاوت اور مخالفت کی،
اور اپنی حمایت کے عہد و پیمان کاپاس کیا۔
سیدنا محمد مصطفٰی کے تفاخر پدری کے الفاظ سے ابتدا ہوئی اور سیدنا علی المرتضٰی شیر خدا کے تفاخر پدری کے الفاظ پر اختتام کرتے ہیں،جوآپ نے ولید بن عتبہ ملعون کی دھمکی کے جواب میںارشاد فرمائے،
ُ
یھَدِّدْنِیْ بِاِلْعَظِیْمِِالْوَلِیْد فَقُلْتُ اَنا اِبْنُ اَبِِیْ طَالِبْ
مصادرتحقیق:۱۔ السبل الجلیہ علامہ جلال الدین عبدالرحمٰن السیوطی متوفی ۹۱۱ ھ۲۔ التعظیم والمنہ علامہ جلال الدین عبدالرحمٰن السیوطی متوفی ۹۱۱ ھٍ ۳۔ مسالک الحنفائ علامہ جلال الدین عبدالرحمٰن السیوطی متوفی ۹۱۱ ھ ۴۔ نشر العٰلمین المنیفین علامہ جلال الدین عبدالرحمٰن السیوطی متوفی ۹۱۱ ھ۵۔ الدرج المنیفہ فی الآبائِ الشریفہ علامہ جلال الدین عبدالرحمٰن السیوطی متوفی ۹۱۱ ھ۶۔ الرسائل التسعہ علامہ جلال الدین عبدالرحمٰن السیوطی متوفی ۹۱۱ ھ۷۔ البیان عم خیرۃالرحمٰن علی بن بلال مہلبی ازدی۸۔ غنیۃالطالب فی ایمان ابی طالب واعظ یزدی۹۔ مقصدالطالب فی ایمان ابائِ النبی وعمہ ابی طالب شمس العلماء مرزامحمد گرگا نی۱۰ ۔شہاب الثاقب لرجم مکفّر ابی طالب شیخ مرزا نجم الدین۱۱۔ الحجۃعلی المزاہب شمس الدین معد۱۲۔ ضیاء العٰلمین شریف فتونی۱۳۔ اسنیٰ الطالب فی نجات ابی طالب علامہ برزنجی، مفتیء اعظم حجاز مقدسخلاصہ، علامہ قاضی احمد بن زینی دھلان مکی، امام و مفتی حرمین الشریفین۱۴۔ ابوطالب موء من قریش عبداللہ الخنیزی الحنفی۱۵۔ ایمان ابی طالب ابو سعید بن احمدخزاعی۱۶۔ القول الواجب فی ایمان ابی طالب شیخ محمدبن مرزا فصیح ہندی متوفی ۱۳۰۶ھ۱۷۔ شیخ الابطح محمدآل شرف الدین متوفی ۱۳۷۳ ھ۱۸۔ ابو طالب ابو عبداللہ محمدبن نعمان متوفی ۴۱۳ ھ۱۹۔ المقالۃالعلویہ ابوالفضائل احمد متوفی ۶۷۳ ھ۲۰۔ مواہب الواہب شیخ ابن محمد نقدی۲۱۔ بعیۃالطالب فی ایمان ابی طالب مفتی شریف تستری ہندی متوفی۱۳۰۶ ھ۲۲۔ ایمان ابی طالب ابونعیم ابن حمزہ بصری تمیمی متوفی ۳۷۵ ھ۲۳۔ ایمان ابی طالب احمد ابن عمار الکوفی متوفی ۳۴۶ ھ۲۴۔ فضائل عبدالمطلب، عبداللہ، ابوطالب ابوالقاسم سعد بن عبداللہ اشعری متوفی ۳۰۱ ھ۲۵۔ طبقات الکبریٰ ابن سعد۲۶۔ تاریخ مسعودی ابوالحسن علی بن حسین المسعودی متوفی ۳۴۶ ھ۲۷۔ دلائل النبوہ حافظ ابو نعیم۲۸۔ الملل والنحل علامہ شہرستانی۲۹۔ صحاح الستّہ۳۰۔ تفاسیرالقران معارف القرآن،جلالین،در منثور،خازن،مظہری،نعیمی،الکبیر،روح المعانی، صاوی،کشاف،معالم التنزیل،حقانی،