
ماہ مئی کے آخری ہفتے میں مجھے اپنے بزرگ دوست اور معروف قلم کار محترم شمس جیلانی کی دعوت پر کینڈا کے شہر وینکور جانے کا موقع ملا تو میں نے از خود جناب جیلانی سے اس بات کی فرمائش کی کہ میں وہ مرکز دیکھنے کا خواہشمند ہوں جس میں وہ معمر افراد کے لیئے کونسلر کے طور پر رضاکارانہ خدمات سر انجام دیتے ہیں۔
میری اس خواہش کو انہوں نے فوری طور پر پورا کرنے کے لیئے مرکز کی منتظمہ مارگریٹ کورٹس سے رابطہ کیا اور ملاقات کا وقت لینے کے علاوہ 411 نامی اس مرکز کے دورے کا بھی انتظام کیا ۔

اور پھر مقررہ وقت اور مقررہ تاریخ یعنی 26 مئی 2008 کی صبح میں اپنی
ماموں زاد سعیدہ نثارعلی کے ہمراہ رچمنڈ کے مرکزی علاقے میں بلند و بالا عمارتوں کے درمیان گھری ہوئی معمر افراد کے مرکز کی اس عمارت میں پہنچا جسے
411 کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
کئی منزلہ اس عمارت کی دوسری منزل پر 411 کے مرکزی دفاتر ہیں جہاں اسکی منتظمہ مارگریٹ کورٹس کے علاوہ رضاکار کونسلرز اور دیگر شعبوں کے افراد بیٹھتے ہیں۔اس مرکزی علاقے میں گاڑی کی پارکنگ کے لیئے جگہ مل جانا گویا لاٹری نکلنے کے برابر ہے اس لیئے سعیدہ نے مجھے عمارت کے مرکزی دروازے پر اتارا اور خود گاڑی کھڑی کرنے کے لیئے جگہ تلاش کرنے لگی۔

میں نے مرکزی دروازے سے داخل ہو کر استقبالیہ پر بیٹھے ہوئے معمر شخص سے جب دوسری منزل کے بارے میں استفسار کیا تو موصوف نے کچھ اس طرح میری طرف دیکھا کہ میں نے مزید کچھ نہ پوچھنے میں ہی عافیت سمجھی اور سامنے لگی ہوئی ایک
''معمر لفٹ'' میں سوار ہو کر عمارت کی دوسری منزل پر پہنچا۔
معمر افراد کے اس
411 نامی مرکز کے لیئے ایسی ہی لفٹ مناسب تھی کہ شاید یہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے کی ہوگی اور جب یہ منزل مقصود پر رکتی تھی تو یوں لگتا تھا کہ جیسے انسان چاند پر اُتر گیا ہو۔

ہماری اس پریشانی کو بھانپتے ہوئے چوتھی منزل پر جاتے ہوئے اس مرکز کی منتظم اعلیٰ مارگریٹ کورٹس نے بتایا کہ اگلے کچھ عرصے میں اس لفٹ کو جدید بنایا جا رہا ہے۔ ہمارے لیئے واقعی یہ خوش آئیند خبر تھی۔
میں جب دوسری منزل پر پہنچا تو محترم شمس جیلانی سراپا انتظار تھے جنہوں نے فوری طور پر مارگریٹ کورٹس سے میرا تعارف کروایا جنہوں نے نہایت گرم جوشی سے خوش آمدید کہا اور پھر اگلے ہی لمحے کوئی دقیقہ ضائع کیئے بغیر 411 مرکز کا دورہ شروع کروایا۔
اسی اثنا میں
سعیدہ نثارعلی گاڑی پارک کرنے میں کامیاب ہونے کے بعد دوسری منزل پر آ چکی تھیں اور انہوں نے سرکاری فوٹو گرافر کی ذمیداریاں سنبھال لی تھیں۔ یہ مناسب موقع ہے کہ سعیدہ کا شکریہ ادا کیا جائے کہ انہوں نے میرے قیام وینکور کے دوران تصاویر بنانے کے لیئے اپنی خدمات پیش کیں اور میں نے ان خدمات کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
411 کے بارے میں اس تحریر میں اور وینکور کے بارے میں لکھی جانے والی باقی ماندہ تحریروں میں تمام تصاویر سعیدہ نثار علی کی بنائی ہوئی ہیں۔
جناب شمس جیلانی کی معیت میں مارگریٹ کورٹس نے ہمیں اس مرکز کے وہ تمام شعبے دکھائے جو بلاشبہ ایک بہت بڑا کام ہے کہ یہاں معمر افراد کو اپنے ہونے اور صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے۔
ہم نے معمر افراد کے لیئے کھیلوں کے کمرے،ورزش کے کمرے،فنون لطیفہ کے شعبے،ادارے کے نشریاتی کمرے،پرانے کپڑوں کی کمرے، انٹرنیٹ اور کمپیوٹر سیکھنے کے شعبے سے لیکر کینٹین تک دیکھی اوراس دوران مارگریٹ کورٹس سے جو بھی سوال کیا اسکا مفصل اور تشفی آمیز جواب پایا۔

ہمارے ساتھ موجود شمس جیلانی صاحب بھی ساتھ ساتھ ہماری معلومات میں اضافہ کر رہے تھے کہ اسی دوران مارگریٹ نے ہم سے یہ کہہ کر آدھ گھنٹے کی اجازت چاہی کہ وہ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد واپس آئیں گی۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شمس جیلانی صاحب نے ہمیں 411 کی کینٹین میں دوپہر میں کچھ تناول کرنے کے لیئے مدعوکیا اور یہاں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ معمر افراد کو کھانے پینے کی اشیا نہایت سستے داموں ملتی ہے کہ یہ کینٹین مرکز کی اعانت سے چلتی ہے۔
ایک اور خوش کُن بات یہ تھی کہ اس مرکز میں کام کرنے والے رضاکاروں کو یہاں دوپہر کا کھانا مفت ملتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک کامیاب ادارے کو چلانے اور اسے مقبول بنانے میں اس ادارے کے منتظم اعلیٰ کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے اور 411 کے معاملے میں
مارگریٹ کورٹس ایک انتہائی محنتی اور پورے جذبے کے ساتھ کام کرنے والی اور کام لینے والی خاتون ہیں جن کا ایسے اتنظامی امور کا وسیع تجربہ ہے۔
انکے بارے میں اور 411 کے بارے میں ایک خاصہ تفصیلی فیچر القمر آن لائن کے انگریزی روزنامے ون ورلڈ ٹوڈے میں شائع ہوا ہے جسے مزید معلومات کے لیئے وہاں جا کر پڑھا جا سکتا ہے۔411

کا یہ دورہ کوئی تین گھنٹے کا تھا جس دوران یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یہ ادارہ کسی سرکاری اعانت اور گرانٹ کے بغیر نہایت خوبی سے اپنا کام سر انجام دے رہا ہے جہاں شمس جیلانی جیسے بزرگ لوگ بھی اپنے جیسے بزرگ افراد کے لیئے بلامعاوضہ خدمات سرانجام دیتے ہیں۔
کامیاب اور پُر مسرت زندگی کے یوں تو بہت سے فارمولے ہیں لیکن یہ فارمولا سب سے سکون بخش ہے کہ معاشرے کے ان معمر افراد کی خدمت کی جائے جس کی محنت اور کردار کی بدولت آج کے نوجوان مستفید ہو رہے ہیں۔