کل ہی جرمنی سے طاہر ملک بھائی نے بڑے دکھ سے بابا صفدر ہمدانی سے فون پر بات
کرتے ہوئے کہا تھا کہ سندھ میں اجرک اور ٹوپی کاجلوس نکل رہا تھا اور پنڈی میں نمازیوں پر گولیاں برس رہی تھیں ۔۔ اس وقت سے بس یہی سوچ رہی ہوں کہ سندھ والے اگرجلوس اور ریلیاں ملک میں ہونے والی بہیمانہ قتل و غارت اور دہشت گردی پر نکالتے تو اپنے ملک کی دوسری قوموں سے ان کا اظہار یک جہتی کتنا حوصلہ افزا ہوتا ۔۔پاکستان میں رہنے والے تو کیا باہر بسنے والے پاکستانی بھی سڑکوں پر آ جاتے ۔۔ محبتوں کی سانجھ بڑھتی اور سب اجتماعیت کو وقت کی ضرورت سمجھتے ہوئے اکائی بن کر حکمرانوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ۔۔
لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ۔۔ حاکم وقت اپنی چال پھر چل گیا ۔۔ لوگوں کی موجودہ مسائل سے توجہ ہٹانے میں کامیاب ہو گیا ۔۔ یعنی روم جل رہا ہے اور نیرو بانسری بجا رہا ہے ۔۔
سندھیوں نے اس نازک وقت میں سندھی ٹوپی کاجلوس نکال کر یہی ثابت کیا ہے کہ “ اپنی اپنی آگ جلاؤ اور اپنی اپنی روٹی سینکو “ ۔۔۔ ایسی خودغرضی کے حالات میں جہاں سندھی اپنی گم گشتہ میراث ٹوپی اجرک میں ڈھونڈنے میں لگے ہوں وہاں جو نہ ہو کم ہے ۔۔ کاش یہ جلوس نوجوانوں نے اپنی بےروزگاری پر نکالا ہوتا ۔۔ کاش یہ جلوس روز آئے دن کی قیامت صغری پر ہی نکالا ہوتا ۔۔۔کاش سندھی ، پنجابی ، بلوچ اور پٹھان واقعی یک جہتی کا مطلب جان سکتے ۔۔ مسلمان تو ایک جسم کی طرح ہوتے ہیں ۔۔ کانٹا کہیں بھی چھبے تکلیف پورے بدن کو ہوتی ہے ۔۔ کاش ہم ایک دوسرے کے سچے غمخوار ہوتے ۔۔
زرداری اور اس کے حواریوں کو سندھی اپنا غمخوار سمجھ رہے ہیں جبکہ زرداری نے تو رہے سہے پاکستان کو بیچنے کے لیئے سندھی ٹوپی اور اجرک اوڑھ کر پاکستان کھپے کا نعرہ لگایاتھا ۔۔۔ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھئے تو کچھ نہیں بدلا ۔۔ ایک بار پھر ہم عوام کو احمق سمجھا گیا اور ہماری توجہ کوگھمبیر مسائل سے ہٹا کر ٹوپیاں اور اجرک کی خریداری میں الجھا کر ہٹانے کی گہری سازش کی گئی ہے ۔۔ آہ ہماری قوم کے جوشیلے جوان ۔۔۔اجرک اورٹوپی میں اپنی شناخت ۔۔ اپنی ثقافت تلاش کر رہے ہیں ۔۔ یہ لوگ بھول رہے ہیں کہ انہوں نے جن کی ایما پر ، جنہیں خوش کرنے کے لیئے یہ جلوس نکالا ہے وہ بالا ہی بالا ان کی غیرت ، ثقافت اور شناخت کے سودے کر رہے ہیں ۔۔
اب آپ سب جو بھی مجھے کہیں لیکن صرف ایک بات تحمل سے سوچیں کہ آخر زرداری نے سندھی ٹوپی پہننے کے لیئے افغانستان کی صدارتی تقریب ہی کیوں چنی ۔۔ کیا کسی نے زرداری کو اسلام آباد کی سڑکوں پر سندھی ٹوپی میں دیکھا ہے ۔۔؟
اگر زرداری اور اس کی جماعت کو سندھی ٹوپی اتنی ہی عزیز ہوتی تواسلام آباد کی سڑکوں پر کوئی جلوس ، کوئی ریلی ضرور نکالتے ۔۔
کیا ہی اچھا ہوتا جو وہ حامد کرزئی کی صدارتی تقریب میں صرف پاکستان ہی کے صدر کی حثیت سے جاتے نہ کہ علاقائی شناخت کے ساتھ سندھی ٹوپی پہن کر دنیا کے سامنے آتے ۔۔ کیا یہ پاکستان کے تشخص کے لیئے مناسب تھا کہ زرداری ملک کے سربراہ ہونے کی حثیت سے علاقائی شناخت کو ملکی شناخت کا نام دیتے ۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں جبکہ این آر او کامسلہ عدالت میں ہے اس وقت سندھ کارڈ استعمال کر کے “ کسے “ اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے ۔۔ یہ بات تو آپ سب جان ہی چکے ہونگے ۔۔ اور اگر جان ہی گئے ہیں ۔۔ تو خدا کے لئے ہوش کریں ۔۔ اور سمجھیں کہ خلیج اور دوریوں کو ہوا کس جانب سے مل رہی ہے ۔۔
تفرقہ بازی کا یہ شعلہ سربراہ مملکت نے خود کیوں بھڑکایا ہے ۔۔۔؟ اور وہ بھی اس وقت جب پورا پاکستان دوسروں کی لگائی ہوئی آگ میں جل رہا ہے ؟؟
التجا ہے کہ مجھے آپ سندھ کامخالف نہ سمجھیں ،کیونکہ ہمارے ملک میں دو باتیں بہت ہی آسان ہیں ۔ ایک تو کسی کو بھی کافر قرار دے دینا اور دوسرا کسی کو بھی غدار کہہ دینا ۔۔ میں تو صرف ایک دردمند پاکستانی ہونے کے ناطے موجودہ حالات کی بات کر رہی ہوں ۔۔ جہاں چینی آٹا بجلی نہیں ہے ۔۔ جہاں دہشت اور وحشت درودیوار پر ناچ رہی ہے وہاں پر اجرک ٹوپی کے جلوس کیوں نکل رہے ہیں ۔۔ یہ کسی کے ساتھ بھی اظہار یکجہتی نہیں ہے ۔۔
یہ وقت ان فرقہ وارانہ باتوں کو ہوا دینے کا نہیں ہے ۔۔ یہ وقت تو اپنی علاقائی شناخت سے بالا تر ہو کر صرف“ پاکستانی“ ہو کر سب کے ساتھ مل بیٹھنے کا ہے ۔جیسے آج لوگوں نے مہنگے داموں ٹوپی اجرک خریدی ہے اسی طرح سے پاکستان کو اپنوں اور غیروں کے سازشی ہاتھوں سے مہنگے داموں میں خرید لینے کا وقت ہے ۔
یقین کیجئے پاکستان نہ تو سندھیوں کا ہے اور نہ پنجابیوں ، بلوچیوں اور پٹھانوں کاہے ۔۔ ۔۔پاکستان ہم سب کا ہے ۔۔ پاکستان ہی ہماری دستار ہے ۔۔ بس اسے ہی سر پر سجایئے ۔۔