15.10.2026, 10:11am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » زرقا مفتی
 

پاکستان کی دستار۔۔۔۔از؛ زرقا مفتی ۔لاہور
07.12.2009, 01:09am , سوموار (GMT+1)

زرقا مفتی ۔لاہور

آ ج چھ دسمبر کو سندھی ٹوپی کا دن منایا گیا۔ اس دن کو منانے کی ضرورت کیوں پیش آئی یا اس کے پیچھے کونسے مقاصد کار فرما ہیں یہ ہم جیسے سادہ لوح پاکستانی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہم جیسے قلم کار تو لکھ لکھ کر تھک گئے کہ اس وقت قوم کو یکسو ہونے کی ضرورت ہے مگر اربابِ سیاست کو دیکھیے ایک معمولی سی بات کا بتنگڑ بنا دیا اور پھر ایک دن منانے کی کال دے دی۔ غیرت کے نعرے بھی لگے اور بھی بہت کچھ کہا اور لکھا جا رہا ہے جسے ہم قلمبند کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ہم تو سمجھتے تھے کہ زرداری صاحب پاکستان کے سربراہِ مملکت ہیں انہیں فکر ہو گی تو پاکستان کی دستار کی۔ وہ دُنیا میں پاکستان کے وقار کو بحال کرنے کی کوشش کریں گے پاکستان کی عزت میں اضافہ کریں گے اس کی آن پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔مگر انہیں فکر ہے تو این آر او کی ۔ انہیں فکر ہے تو اٹھاون ٹو بی کی ۔ پاکستان کی فکر میں گھلنے کے لیے اٹھارہ کروڑ پاکستانی جوموجود ہیں۔

 کیا ہم پاکستان کی دستار کا دن نہیں منا سکتے ؟

کیا ہم یہ عہد نہیں کر سکتے کہ ہم کسی بیرونی طاقت کے آلہ کار نہیں بنیں گے ۔ قوموں کی برادری میں برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کریں گے۔ کسی بھی سپر پاور کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔ قرض کی لعنت سے نجات حاصل کریں گے اہانت آمیز شرائط سے منسلک بیرونی امداد قبول نہیں کریں گے۔ یہ دن منا کر یہ عہد نہیں کر سکتے کہ کسی لٹیرے کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کسی بارسوخ کا قرضہ معاف نہیں کیا جائے گا۔ کسی کو ٹیکس چوری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کسی صدر ، وزیرِ اعظم ، گورنر ، وزیرِ اعلی یا وزیر کو قانون سے مستشنیٰ قرار نہیں دیا جائے گا۔ ملکی مفاد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں گے ۔

پاکستان کی دستار پر کتنے ہی دھبے لگے ہیں ۔ بھارت نے ممبئی حملوں کا الزام ہم پر لگا رکھا ہے ہمیں دہشت گردوں کو پناہ دینے والا ملک کہا جاتا ہے۔دُنیا کے کرپٹ ممالک کی فہرست میں ہمارا نام چوٹی کے پچاس ممالک میں شامل ہے ۔ شاید ہم ہی دُنیا کا واحد ملک ہیں جہاں ملک لوٹنے والوں کو معافیاں دی جاتی ہیں اور لوٹی ہوئی دولت کا حساب نہیں لیا جاتا۔ ہم ہی وہ ملک ہیں جہاں ایک حکومت مقدمہ قائم کرتی ہے تو اسکے بعد آنے والی اسے واپس لے لیتی ہے۔مگر کیا کیجیے
یہ عہد ہے بونوں کا وہ قامت نہ ملے گی

پاکستان کی دستار کی کسے فکر ہے۔ حکومت کے پروردہ دانشور تو یہ لکھتے ہیں کہ پاکستانیوں کو غیرت زیب نہیں دیتی ۔

سبھی غیرت مند محبِ وطن پاکستانیوں سے ایک سوال ہے کہ کیا مملکت کے سربراہ کے لیے کوئی ایسا ضابطہ نہیں ہے جو اسے خاص تقریبات میں قومی لباس پہننے پر مجبور کر سکے۔ کیا اس سے پہلے کسی پاکستانی سربراہِ مملکت نے کسی اور ملک کی سرکاری تقریب میں اپنا علاقائی لباس زیب تن کیا۔ کیا باسٹھ سال میں ہمارے قومی لباس کا تعین نہیں ہو سکا۔ ہم تو یہی سمجھتے آئے تھے کہ پاکستان کے سربراہ مملکت کا سفارتی تقاریب کے لیے لباس شلوار قمیض شیروانی او ر جناح کیپ پر مبنی ہے۔ اگر ہمیں کوئی غلط فہمی ہے تو دور کر دی جائے اعلان کر دیا جائے کہ باسٹھ سال میں ہم اپنے قومی لباس کا تعین نہیں کر سکے۔ سربراہِ مملکت کو ّآزادی حاصل ہے کہ وہ سفارتی تقاریب میں اپنا علاقائی لباس پہن کر شرکت کرے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود حکومت ِ وقت کے زیرِ عتاب ہیں یہ تو سب ہی جانتے ہیں ۔ مگر وہ لگ بھگ تیس نجی تی وی چینلز میں سے ایک چینل کے ایک پروگرام کے میزبان ہیں۔ اور اس پروگرام میں فقط اتنا ہی کہا گیا کہ مملکت کے سربراہ کو علاقائی لباس پہن کر غیر ملک کی سفارتی تقریب میں شرکت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ایک معمولی ٹی وی اینکر کی بات پر اتنا بڑا ردِ عمل ظاہر کرنا ملک کے حکمرانوں کو زیب نہیں دیتا۔ اس تبصرے میں سندھی ٹوپی کی توہین کا کونسا پہلو ہے ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ کچھ روز پہلے سندھ کے وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا اپنے دھواں دھار بیان میں سندھ کارڈ استعمال کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ وہ زرداری صاحب کے قریبی دوست گردانے جاتے ہیں ۔ ان کے اس بیان کے بعد سربراہ مملکت کا سندھی لباس میں ملبوس ہو کر سفارتی تقریب میں شرکت کرنا خود ہی تبصروں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

اس صورتحال میں ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بہت سے حلقے یہ شور کر رہے ہیں کہ قیامِ پاکستان کی تائید کرتے وقت بہت سے سندھی مسلم لیگی سندھی ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ سادہ سی بات ہے کہ یہ پاکستان بننے سے پہلے کا واقعہ ہے اور یہ کوئی سفارتی تقریب بھی نہ تھی۔ اور یہ کوئی جواز نہیں ہے کہاس کی بنا پر پاکستان بننے کے بعد بھی پاکستان کی ترجمانی سندھی ٹوپی پہن کر کی جاسکتی ہے ۔ کیا باسٹھ سال بعد بھی ہم اپنی شناخت کے متلاشی ہیں ۔ کیا ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ پاکستان بننے سے پہلے سندھ ہندوستان کا صوبہ تھا اور اب پاکستان کی ایک اکائی ہے ۔

نہ تو سندھی ٹوپی پورے پاکستان کی ترجمانی کر سکتی ہے اور نہ ہی کسی اور صوبے کی دستار۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ کسی بھی نان ایشو کو ایشو بنا دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ملک کے دو لخت ہونے کی تلخ یادیں دہرائی جانے لگتی ہیں۔ یا یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ ہم بھی علیحدگی پر مائل ہیں۔ حیرت ہے کہ آپ نے بھی تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ بنگلہ دیش نے علیحدہ ہو کر کونسی سپر پاور کا درجہ حاصل کر لیا جو اور صوبے بھی مشرقی پاکستان کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں۔ علیحدگی میں کسی ایک بازو کا نقصان نہیں ہوتا زخم تو ہر علٰیحدہ ہونے والے کے جسم پر بھی آئیں گے جنہیں بھرنے میں تو زمانہ لگے گا۔ علیحدگی کا راگ الاپنے والے سوچیں کیا وہ دشمن کی زبان نہیں بول رہے کیا وہ دشمنوں کی خواہشات کو عملی جامہ نہیں پہنا رہے۔

آپ کال دیجیے دن بھی منائیے ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر یہ بھی دیکھیے کہ ملک کے حالات کس بات کے متقاضی ہیں ۔ آج آپ سندھی ٹوپی کا دن منا رہے ہیں کل بلوچ اپنی حمیت کا دن منائیں گے پرسوں پٹھان اپنی دستار کا اور اسکے بعد پنجابی اپنی پگ لے کر اُٹھ بیٹھیں گے ۔ کیا یہی مسلمان کی پہچان ہے ۔

 ہم تو یہی سمجھتے آئے تھے کہ پاکستان بننے کے بعد سندھی ، بلوچی ، پٹھان ، پنجابی سب پاکستانی بن گئے ہیں ۔ ہم خود ہی اپنے نظریات کی نفی کرنے پر تلے ہیں تو دشمن کو ہماری صفوں میں انتشار پھیلانے کی زحمت نہیں اُٹھانی پڑے گی۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ شاہد مسعود کے تبصرے کے بعد سربراہِ مملکت آئندہ سفارتی تقاریب میں قومی لباس پہننے کا اعادہ کرتے یہ نہیں کر سکتے تو اُن کے تبصرے کو نظر انداز ہی کر دیتے۔ کیونکہ اتنا بڑا عہدہ اتنے ہی بڑے ظرف کا متقاضی ہے۔ جواب ہی دینا ہے تو من موہن سنگھ اور اوبامہ کے مشترکہ بیا ن کا دیجیے جس میں انہوں نے ہمارے ایٹمی اسلحے کو دہشت گردوں سے بچانے کا فیصلہ سنایا ہے۔ دن ہی منانا ہے تو قومی یکجہتی کا دن منائیے ۔ کال ہی دینی ہے تو غربت مٹانے کی کال دیجیے۔ للکار ہی دینی ہے تو دشمن کو دیجیے جس سے آپ کی مسجدیں بھی محفوظ نہیں ۔


:دیگر مضامین
(13.11.2009) احتساب کے بغیر انصاف ۔۔۔۔۔ ناممکن ۔از؛زرقا مفتی ۔لاہور
(02.11.2009) امریکہ سے طلاق ۔از؛ زرقا مفتی ۔لاہور
(01.11.2009) سچ کے سفر پر عالمی اخبار کے ساتھ ۔ از؛ زرقا مفتی
(26.10.2009) ایک ہی لاحقہ ہے جو ایک مقناطیس ہے۔از۔زرقا مفتی
(16.10.2009) مسئلہ اپنی بقا کا ہے۔ از زرقا مفتی،لاہور
(09.10.2009) امریکہ کی ہمدردی ۔ ۔ ۔ ہماری سر دردی۔از؛ زرقا مفتی
(01.10.2009) سچ کے سفر پر عالمی اخبار کے ساتھ ۔ از؛ زرقا مفتی
(09.09.2009) ہنگامہ ہے کیوں برپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از زرقا مفتی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں