منھاج الحسین برلین کے زیر اھتمام 6 دسمبر 2009 بروز اتوار مرکز المجتبٰی برلین میں ایک شاندار جشن کا انعقاد ہوا جس کا آغاز تلاوتِ قران مجید سے میثم علی نے کیا، جس کے بعد شہر برلین کے معروف شاعر شکیل انجم بلوچستانی نے اپنی لکھی منقبت پیش کی- میاں افضل لطیف نے مولا ئے کائنات کی بارگاہ میں ہدیہء عقیدت پیش کیا - برلین کی اردو انجمن کے صدر جناب سید عارف نقوی نے بھارت کز معروف مرثیہ نگار ناصر لکھنوی کے میراثی کے مجموعہ “نعمتِ اشک“ کی رونمائی کی شاعر اور ان کے کلام کا مختصر تعارف پیش کیا
انہوں نے مہمانِ خصوصی جناب سید صفدر ہمدانی اور منھاج الحسین برلین کے کتب خانہ کو “نعمتِ اشک“ کی ایک ایک جلد شاعر کی طرف سے بطور تحفہ پیش کیں
عارف نقوی صاحب نے مولا علی کی شان میں اپنا لکھا ہوا قصیدہ پیش کیا -
بعد ازاں سویڈن سے تشریف لائے معروف سوز اور قصیدہ خوان سائیں رحمت علی تاتھن شاہی نے مولا کی شان میں منقبت پڑھ کر بے حد داد وصول کی، شبیر حیدر اس شام کے آخری قصیدہ خوان تھے جنہوں نے اپنے خاص انداز میں قصیدہ پڑھا
انکے بعد لندن سے تشریف لائےسید صفدر ہمدانی نے اس روز کے پس منظر اور اسلام میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور پھر اپنے چند تازہ کہے قصائد حاضرین کو سنائے، آخر میں مہمانوں کی تواضع مولا علیہ السلام کی نیاز سے کی گئی -
اس محفل کی نظامت حیدر علی جعفری کے ذمہ تھی جنہوں نے نظامت کے ساتھ ساتھ قصائد و منقبت کے منتخب اشعار بھی نذرِ سامعین کیے -اس محفل کے انعقاد میں جن احباب نے خصوصی معاونت کی ان میں جناب اختر عباس اعوان، توکل حسین اعوان، عبدالمناف، ملک صفدر علی اور میاں افضل لطیف شامل ہیں -
اس کی جامع رپورٹ جلد ہی پیش کی جائے گی -
اس محفل کی چند منتخب تصاویر