10

محرم الحرام 61ہجری کو اہل شام و عراق اور دنیا کے مختلف ممالک کے کرائے کے ہزاروں بد بخت ملعون سپاہیوں نے امیر شام یزید پلید ابن معاویہ کے حکم پر نواسۂ رسول، امام عالیمقام سیدنا امام حسین اور آپ کے جانثار ساتھیوں اور صاحبزادگان کو بے دردی سے شہید کر دیا۔ اہل کوفہ و شام اپنے جہنمی مقتولین کو نہایت احترام سے دفن کرتے رہے مگر خانوادہ رسالت کے سرداران جنت بے گور و کفن ریگزار کربلا میں تمازت آفتاب اور تندوتیز آندھیوں میں پڑے رہے۔
اہلِ بیت رسول جن میں سوائے ایک بیمار کربلا چوتھے تاجدار امامت سیدنا علی بن حسین زین العابدین کے تمام خواتین عصمتِ و طہارت اور چھوٹے چھوٹے معصوم بچے تھے جنہیں قیدی بنا کر کوفہ کے دار الامارہ کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ حسرت بھری نگاہوں سے مخدارت عصمت و عفت، اہلِ بیت رحمت للعلمین نے اپنے وارثوں کی طرف دیکھا جو صحرا کی گرم ریت پر خاک و خون میں پڑے اپنے عزیزوں اور سوگواروں کی راہ دیکھ رہے تھے۔
شہدا کربلا کے وارثوں کا قافلہ کوفہ کی طرف رواں ہے۔ آسمان خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ہر طرف اندھیرا چھایا ہے ۔ سورج کو گرہن لگ چکا ہے۔ سرخ آندھی کے ساتھ خون کی بارش ہو رہی ہے۔ اونٹوں کی گھنٹیاں اور لشکر یزید کا شور و غل صحرا کی خاموشی میں اور بھی واضح سنائی دے رہا ہے۔ چاروں طرف ان درندوں کے گھوڑے ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں جانوروں سے بھی بد تر کہا ہے۔ ان گھوڑ سوار درندوں کے ہاتھوں میں نیزے ہیں اور ان نیزوں پر سبط نبی اور ان کے جانثار ساتھیوں کے سر اقدس ہیں۔ معصوم بچے اپنی ماؤں کی گودوں میں دبکے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کئی دن سے کچھ نہیں کھایا اور نہ کچھ انہیں دینے کے لئے مل سکا۔ ان کی بھوک و پیاس صرف عشقِ حسین ہے۔

قافلہ سادات کوفہ کی جامع مسجد کے قریب آ کر روک دیا جاتا ہے۔ گورنر کوفہ عبید اللہ ابن ذیاد لعنتہ اللہ علیہ مسجد کوفہ میں ایک بہت بڑا سٹیج بنواتا ہے۔ اس کے ارد گرد پچیس ہزار کرسیاں لگواتا ہے۔ اور دائیں بائیں کوفہ، بصرہ ، شام اور ترکی روم کی افواج کو قطاروں میں کھڑا کر دیتا ہے۔
اہل کوفہ کی خواتین اور بچوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ فرزندِ رسول، حسین ابن علی کا قافلہ آ رہا ہے۔ ان کے ساتھ ان کی بہنیں اور بیٹیاں بھی ہیں۔ ان کے تمام بیٹے اور ساتھی آ رہے ہیں ان کا استقبال کرنا ہے۔ اہلِ شام اور اہلِ روم یہ منظر دیکھیں کہ آیت قرآنی میں اللہ نے کہا تھا کہ اے میرے رسول آپ کا دشمن بے نسل ہو گا۔ لیکن اس کے بر عکس آج نسلِ مصطفی ختم ہو گئی۔ آج قرآن جھٹلایا جائے گا۔
بگل بجنا شروع ہوئے ۔ نوبت پر تھاپ لگی۔ کشتی نوح نمودار ہوئی اور اس کشتی نجات کا سردار امام علی بن حسین اونٹ کی مہار تھامے آگے آگے چل رہے ہیں۔
14 محرم الحرام 61 ہجری، سورۂ کوثر کا جواب تحریر کرنے کے لئے ابلیسی نمائندے مسجد کوفہ کے مشرقی دروازے کے سامنے اکٹھے ہوئے۔ اہلِ کوفہ کا جم غفیر ہے۔ عبید اللہ ابن ذیاد مکمل فرعونیت کے ساتھ تخت نشین ہوا۔ اس کی نظر ایک ناتواں اور کمزور قیدی پر پڑی تو اس نے دریافت کیا۔
’’وہ کمزور قیدی کون ہے، جسے کربلا میں قتل نہیں کیا گیا۔‘‘ عمر ابن سعد نے جواب دیا۔ ’’ اے امیر! یہ قیدی علی ابن حسین ہے جو میدان نہیں آ سکا، کیونکہ یہ بیمار تھا۔‘‘ ابن ذیاد نے کہا’’ علی ابن حسین کو تو اللہ نے قتل نہیں کرا دیا۔‘‘
’’میرے پاس جو فہرست بھیجی گئی اس کے مطابق حسین کے تمام علی اور حسن کے تمام محمد قتل ہو چکے ہیں، یہ علی کیسے بچ گیا۔‘‘
قرآن مجید کی آیتوں کی بے حرمتی شروع ہوتی ہے۔ سورۂ کوثر کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ وارثِ کوثر یہ سن کر اہلِ کوفہ سے خطاب کرتے ہیں۔ خطیب منبر سلونی کے وارث، خطیب نوک سناں کے بیٹے کا خطبہ سن کر اہلِ کوفہ پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔
ابن ذیاد نے اعلان کیا، ’’جو اس مجبور و کمزور قیدی کی آواز قطع کرے گا میں اس کو تیس ہزار دینار نقد دوں گا۔ جو اس کا سر لے کر میرے پاس آئے گا میں اسے یزید ابن معاویہ سے جنت کی سند لے کر دوں گا۔‘‘

لالچ کے اندھے ہزاروں لوگ فرزند حسین کی طرف دوڑے۔ پوری فوج امام وقت کے قتل پر ٹوٹ پڑی۔ ہزاروں تلواریں بے نیام ہوئیں۔ سر حسین نے نوک نیزہ سے تلاوت شروع کر دی۔ شیر خدا کی شیر دل صاحبزادیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں لائحہ عمل طے ہوا۔ نسلِ رسول کا آخری چراغ زیر تلوار آنے کو تھا۔ اونٹوں پر سوار پابند رسن سید زادیاں برق رفتاری سے سید سجاد پر سایہ فگن ہو گئیں۔ مخدرات عصمت نے اپنے آپ کو امام وقت پر ایسے گرایا جیسے پرندے اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے ان پر گر جاتے ہیں۔
کئی تلواریں اٹھیں۔ ایک لعین کی تلوار چلی۔ امام کی حفاظت کے لئے اما م کے سر پر جھکی ہوئی سیدہ خدیجہ بنتِ علی بن ابی طالب کا سر اور آپ کی گود میں معصوم سید زادے حضرت حسن ابن محمد بن عقیل کا سر تن سے جدا ہو گیا۔
زمین کوفہ میں زلزلہ آیا۔ اس زور کی آندھی آئی کہ ابن ذیاد ملعون کا دربار اکھڑ گیا۔ ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ یزید پلید سے پروانۂ جنت لکھوانے والے لالچی، عقل کے اندھے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ لوگ سمجھے قیامت آ گئی۔
امام وقت نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا!
’’اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں اپنے والد اور اپنے بھائیوں کے بے گور و کفن لاشے کھلے میدان میں چھوڑ آیا ہوں۔ وہ مرد تھے، لیکن یہ میری اور تیرے پیارے رسول کی غیرت کا سوال ہے۔ میں اپنی پھوپھی معظمہ کا جسد پاک ان بے غیرت مسلمانوں کے سامنے برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘

زمین ایک زبردست گڑ گڑ اہٹ کے ساتھ پھٹی۔ ایک قبر کھدی ہوئی ظاہر ہوئی۔ امام زین العابدین اور مخدرات اہلِ بیت عصمت و طہارت نے سیدہ خدیجہ بنتِ علی اور آپ کے لختِ جگر کو سپردِ لحد کیا۔
یہ سیدہ خدیجہ بنتِ علی ہیں جو حضرت مسلم بن عقیل سفیر حسین کے چھوٹے بھائی حضرت محمد بن عقیل شہیدِ کربلا کی زوجہ محترمہ ہیں۔ آپ خواتین میں بعد شام غریباں پہلی شہیدہ ہیں۔
آپ اور آپ کے صاحبزادے کی قبر اطہر مسجد کوفہ کے باہر والے دروازے کے سامنے نجف جانے والی سڑک کے کنارے چوک میں آج بھی ایک عظیم الشان روضے کی شکل میں موجود ہے۔
یزید اور یزیدیت ہمیشہ کے لئے باطل اور جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں گم ہو چکی ہے۔ نور مصطفیٰ و مرتضی عالمین کو روشن کئے ہوئے ہے۔ مخلوق خدا کی راہنمائی ہو رہی ہے۔ اور لوگوں کے تزکےۂ نفس اور قوت ایمانی کو جلا ملا رہی ہے۔
سیدہ خدیجۂ بنتِ علی نے فرزندِ رسول پر اپنا لختِ جگر قربان کر دیا۔ آپ نے ہمیشہ کی زندگی حاصل کر کے دنیا پر ثابت کر دیا کہ علیاور اولادِ علی دین محمد کے حقیقی وارث و محافظ ہیں۔ بیٹے ہوں یا بیٹیاں، ابو طالب کی پوتیاں ہوں یا پوتے، ذریتِ مخدومۂ کونین، سّیدہ فاطمہ زہرا پر اپنی جانیں نچھاور کر سکتے ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے آل رسول اللہ اور دینِ اسلام پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی، خواہ اس پر نسل ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑے۔
نسلِ یزید ختم ہو گئی۔ آل مصطفی سلامت ہے۔
نہ یزید کی وہ جفا رہی، نہ ستم وہ ابنِ ذیاد کا
جو رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا
سیدہ خدیجہ بنتِ علی نے سورۂ کوثر کی حفاظت کے لئے ایک بہت بڑی جنگ جیت لی۔
آپ کی قبر اطہر پر معجزات:

سیدہ ،طاہرہ، شہیدہ کی قبر اطہر مستجاب الدعوات ہے اور آئے دن وہاں معجزات رونما ہوتے ہیں۔ کوئی سائل دروازہ حیدر کرارسے خالی نہیں جاتا۔
دو سال قبل آپ کے روضۂ اطہر پر امیر کائنات، اسد اللہ الغالب، سیدنا و مولانا و مرشد نا، سید الاولیا حضرت مولا علی مشکل کشا تشریف لائے۔ ترکمانستان کی ایک مومنہ بھی زیارت کے لئے حاضر تھی اور اپنے ویڈیو کیمرے سے فلمبندی کر رہی تھی۔ مولائے کائنات کے لطف و کرم سے آپ کا عکس مبارک ویڈیو فلم میں محفوظ ہو گیا ۔ اہلِ مؤدت ای میل کر کے سی ڈی حاصل کر سکتے ہیں۔