دو فروری 2008 بمطابق 24 محرم الحرام 1429 ھجری کو لندن میں ‘‘مکتب عباس‘‘ کے روحِ رواں اور دینی اور سماجی کارکن اصغر کرمانی کے گھر پر نصبِ شبیہ علمِ حضرت عباس علمدار کے سلسلے میں ایک مجلس مرثیہ منقعد ہوئی جس میں شاعرِ آلِ عبا مرثیہ نگار صفدر ھمدانی نے مرثیہ پیش کیا۔انکے علاوہ معروف محقق اور شاعر و ادیب سید عاشور کاظمی،بھارت سے تشریف لائے شاعر اہلبیت آغا سروش،سید اکمل حسین،آصف رضا،اشتیاق حسین اور عامر قومی نے بھی کربلا کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
یوں تو پاکستان اور بھارت میں مومنین کے گھروں پر فوج حسینی کے علمدار کے پرچم کی شبیہ لہرانا

کوئی نئی بات نہیں لیکن بیرونی ممالک خاص طور پر یورپی ممالک میں گھر پر نصب علم کوئی بہت زیادہ عام بات نہیں ہے اور بلا شبہ یہ تا نہ بخشد خدائے بخشندہ کے زمرے میں آتا ہے۔
مجلس مرثیہ کے بعد نوحہ و ماتم کی فضا میں علمدار فوج حسینی کے پرچم کی شبیہ کو اصغر کرمانی کے گھر کے باہر بلندی پر نصب کیا گیا اور اس طرح دعاؤں کی گونج میں یہ منفرد تقریب ختم ہوئی جس کے بعد حاضرین میں نیازِ امام تقسیم کی گئی۔
کربلا کے دلدوز واقعات میں بیان ہوتا ہے کہ ‘‘ جب مددگاروں میں نواسہ رسول امام مظلوم حسین علیہ السلام کا کوئی باقی نہ رھا تو عزیزوں کی نوبت آئی- سب سے پہلے حضرت نے جوان بیٹے

علی اکبرکو جو شبیہ پیغمبر بھی تھے مرنے کے لئے بھیج دیا۔ علی اکبر نے جہاد کر کے اپنی جان دین خدا پر نثار کی- امام حسین علیہ السلام کو شبیہ رسول کی جدائی کا صدمہ تو بہت ھوا مگر عمل کے راستے میں آپ کی ھمت کے حوصلے اور ولولے میں کوئی فرق نھیں آیا-
عقیل کی اولاد عبداللہ ابن جعفر کے فرزند ایک ایک کر کے رخصت ھوئے- امام حسن علیہ السّلام کے یتیم فرزند قاسم کی جدائی آپ کو شاق ھوئی مگر اپنے بزرگ مرتبہ بھائی کی وصیت کو پورا کرتے ھوئے قاسم کو بھی رخصت کر دیا-

سب سے آخر میں فرزندان امیر المومنین علیہ السّلام میدان جہاد میں گئے - جب کوئی نہ رھا تو علمدار فوج کی باری آئی- قمر بنی ھاشم ابوالفضل العباس علیہ السّلام کو حضرت کسی طرح اجازت جہاد نہ دیتے تھے کیونکہ ان کے کاندھوں پر اسلام کا علم لھرا رھا تھا- مگر ایک طرف بچوں کی پیاس, دوسری طرف جوش جھاد, عباس پانی لینے کے لئے ایک مشک اپنے ساتھ لے کر فرات کی جانب بڑھے-
انھوں نے علم کی حفاظت بھی کی- دشمنوں سے مقابلہ بھی کیا- فوج کو ھٹا کر نھر کا راستہ بھی صاف کیا اور مشک میں پانی بھی بھر لیا مگر افسوس کہ یہ پانی خیام حسینی تک پھنچنے بھی نھیں پایا تھا کہ عملدار کے شانے قلم ھوگئے- مشک تیر سے چھدی اور پانی زمین پر بہہ گیا-

عباس کی قوت ختم ھو گئی-گرز کے صدمے سے زمین کی طرف جھکے اور علم عباس کے ساتھ زمین پرآ گیا- حسین کی کمر شکستہ ھو گئی- پشت جھک گئی مگر ھمت پھر بھی نھیں ٹوٹی- امام حسین کا اپنے بھائی عباس کی لاش پر آنا مصائب کربلا کا ایسا حصہ ہے جہاں انسان کا حوصلہ دن توڑ جاتا ہے۔
یہ شبیہِ علم انہیں علمدار فوج حسینی حضرت عباس علیہ السلام کی یاد میں لہرایا جاتا ہے۔