اسی طرح کا ایک لائیو یعینی براہ راست دو گھنٹے کا ایک نہایت کامیاب مشاعرہ چودہ دسمبر جمعہ کی رات آٹھ بجے سے دس بجے تک نشر کیا گیا جو برطانیہ کے علاوہ یورپ بھر کے لگ بھگ پندرہ ممالک میں دکھایا گیا۔
اس لائیو مشاعرے کی نظامت خود جناب فیضان عارف نے کی۔
مشاعرے کی صدارت معروف شاعر،ادیب اور محقق سید عاشور کاظمی نے کی۔
اور وینس ٹی وی کے اس لائیو مشاعرے کے مہمان خصوصی مزاحمتی شاعری کے معروف قلم کار،صحافی،کالم نگار اور براڈکاسٹر صفدر ھمٰدانی تھے۔
سید عاشور کاظمی،صفدر ھمدانی اور فیضان عارف کے علاوہ اس مشاعرے میں عبیدہ سید،فاروق ساغر،آدم چغتائی،شمیلا جمیلی،نرگس جمال سحر اور شبنم بیل نے اپنا کلام سنایا۔ مشاعرے کو سننے کے لیئے ٹی وی ہال میں اردو ادب سے محبت کرنے والے خواتین و حضرات بھی موجود تھے۔
اس مشاعرے کے آغاز میں ناظم اور میزبان فیضان عارف نے اپنئ غزل پیش کی۔
مرے گمان کی حد سے نکلنے والا تھا وہ مجھ سے پہلے ہی رستہ بدلنے والا تھا جہاں پہ قافلہ سالار تھک کے بیٹھ گیا وہیں سے اک نیا رستہ نکلنے والا تھافیضان عارف کے بعد اس مشاعرے کی پہلی مہمان شاعرہ شبنم بیل نے ترنم میں اپنا کلام پیش کیا
دل میں کیا ہے منہہ پر کیا ہے اب تک نہ کوئی جان سکاانسان تیری کیا ہے ہستی اللہ بھی نہ جان سکا شبنم بیل کے بعد
شمیلہ جمیلی نے اپنے مجموعہ کلام
''میٹھی آرزو'' سےغزل پیش کی جسے حاضرین نے بہت پسند کیا
اُس کو سُننا مری عبادت ہے بولتا ہے خموشیوں کی طرح گیلے ساحل سے سیپیاں چُن کر خواب بُنتے ہیں عاشقوں کی طرح شمیلہ جمیلی کے بعد نرگس جمال سحر نے اپنا کلام پیش کیا۔ انکی نظم کے چند مصرعے۔

‘‘اے انجانی روح تو کون ہے اور کہاں سے آئی ہےکیا تو ازل سے ہے مرے ساتھاک سائے کی طرحاک رحمت کی طرحایک خوشبو کی طرحجیسے کوئی ان دیکھا سا سائبان ہو انجانا سااے انجانی روح‘‘نرگس سحر کے بعد برمنگھم سے تشریف لائے آدم چغتائی نے اپنے قطعات اور غزلیں سنائیں
عمر جاوید مانگنے والو زندگی کو کبھی بقا نہ ہوئی
ایسی جنت کو کیا کریں آدم جس میں شامل وہ خوش ادا نہ ہوئی
آدم چغتائی کے بعد معروف افسانہ نگار،شاعرہ اور ریڈیو پاکستان کی کنٹرولر پروگرام
عبیدہ سید نے اپنی نہایت خوبصورت غزل اور نظمیں پیش کیں اور حاضرین سے داد پائی۔
ہے دل کی کتھا گہرے سمندر سے بھی گہریپوری یہ کہانی کبھی ہوتی ہی نہیں ہےعبیدہ سید کے کلام کے بعد پروگرام کے نصف میں ایک مختصر سا وقفہ ہوا جس دوران شعرا اور مہمانوں کی تواضع چائے اور مشروبات سے کی گئی۔
جس کے بعد برمنگھم سے تشریف لائے فاروق ساغر نے اپنی غزلیں سنائیں جن میں پاکستان کے موجودہ حالات کی بھر پور عکاسی تھی۔ حاضرین نے انکے کلام پر بھرپور داد دی۔

فاروق ساغر کے بعد مشاعرے کے مہمان خصوصی معروف شاعر،ادیب،کالم نگار،صحافی اور براڈکاسٹرنے اپنے تازہ قطعات،نظمیں اور غزلیں پیش کیں۔
انکے کلام میں عالمی صورت حال کے ساتھ ساتھ پاکستان کے حالات کی بھرپور عکاسی تھی۔
ہال میں موجود حاضرین نے انکی اشعار پر خوب داد دی۔
صبحِ عدن بھی زہریلی ہے شامِ اودھ بھی ڈستی ہےحاکمِ وقت کے صدقے میں ہر ایک بلندی پستی ہےاُگلتی تھی جس دیس کی مٹی سونااُس دھرتی پہ آجآٹا قہر کا مہنگا ہے اور عزت قہر کی سستی ہے
شب ہو تو گئی رخصت سورج نہیں نکلا ہے ممکن ہے کہ سورج کو تاریکی نے نگلا ہے اُس عہدِ یزیدی سے اس عہدِ یزیدی تک بدلے ہیں فقط چہرے حاکم نہیں بدلا ہےصفدر ھمدانی کے بعد وینس ٹی وی کے اس لائیو مشاعرے کے صدر
سید عاشور کاظمی نے اپنی انقلابی غزلیں سنا کر داد پائی۔

گُل سے خوشبو کبھی شبنم سے گہر مانگے ہےتمکنت عجز کی محنت کا ثمر مانگے ہے۔۔۔۔ہم اندھیروں کا جگر چیر کے سورج لائےوہ دعاؤں کے عوض شمس و قمر مانگے ہےواجب القتل ہے فٹ پاتھ کی ساری مخلوقحوصلہ دیکھئے سرکار سے گھر مانگے ہےسید عاشور کاظمی کے کلام کے بعد‘‘وینس ٹی وی لندن ‘‘ کا یہ دو گھنٹے کا لائیو مشاعرہ اختتام کو پہنچا۔بلاشبہ اس ٹی وی چینل کے ارباب انتظام اور اسکے میزبان فیضان عارف اس کامیاب مشاعرے کے انعقاد پر قابل مبارکباد ہیں