|
الحاج مرزا جاوید مرتضیٰ طاب ثراہ کی مجلس چہلم منعقد ہوئی۔
14.12.2009, 08:05pm , سوموار (GMT+1)
عون نقوی
امامباڑہ حسین آباد مبارک میں الحاج مرزا جاوید مرتضیٰ طاب ثراہ کے چہلم کی مجلس کا آغاز قاری معصوم نے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔مجلس کو خطاب کرتے ہوے مولانا حمید الحسن صاحب تقوی نے کہا کہ مظلوم اظہار جرائت کی کمی کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں اور ظالم ان پر مظالم کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کو پیدہ کرتا ہے جس میں جرائت اظہار ہوتی ہے اور پھر ظلم کی بساط ظلم لپٹ جاتی ہے یہی کچھ فرعون ،نمرود اور یزید کے ساتھ ہوا۔الحاج مرزا جاوید مرتضیٰ طاب ثراہ بھی ایک ایسے شخص تھے جن میں ظلم کے خلاف جرائت اظہار تھی۔ مولانا نے الحاج مرزاجاوید مرتضیٰ طاب ثراہ کی قومی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جاوید مرتضیٰ مرحوم قومی حالات پر بہت گہری نظر رکھتے تھے اور اپنی قانونی لیاقتوں اور کوششوں کا ہی ثمرہ تھا کہ عزاداری کے جلوس بحال ہو سکے اور انہوں نے دین کی تبلیغ کی اور ابھی قوم کو انکی شدید ضرورت تھی۔مولانا نے جاوید مرتضیٰ صاحب مرحوم کے والد جسٹس مرتضیٰ حسین صاحب کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ انکی تربیت کا اثر ہے کہ ایسے نیک،سچے وہونہار بیٹے انہوں نے دنیا کو دئے۔انہوں نے کہا کہ بیٹے کی موت بوڑھے باپ کے لئے بہت بڑی مصیبت ہے اور امام حسین ؑ نے نہ صرف اپنے کڑیل جوان فرزند کی موت کاصدمہ برداشت کیا بلکہ اُن کی پارہ پارہ لاش اٹھاکر خیام تک بھی لائے۔مجلس خواندگی سے قبل سوز و سلام پڑھے گئے اور طاہر نقوی صاحب نے اپنی نظم ۔''علمائے سو کے رستہ کا پتھر نہیں رہا ''بھی پڑھی ۔مجلس میں معززین شہر، علماء ،ہائی کورٹ کے جج صاحبان اور وکلا کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں دانشور طبقہ موجود تھا۔ مجلس کے بعد جاوید مرتضیٰ صاحب کی کتاب فکر و فہم ،مسائل کا بنیادی حل اور شیخ مفید ؒ کی کتاب کا ترجمہ سیرت و شہادت امام حسین ؑکی تقسیم کی گئی۔اسکے علاوہ الحاجہ روبینہ جاوید مرتضیٰ کی ترتیب کردہ کتاب '' تاکہ سند رہے ''بھی تقسیم کی گئی۔''تاکہ سند رہے'' ان خبروں اور مراسلوں کا مجموعہ ہے جو الحاج مرزاجاوید مرتضیٰ طاب ثراہ کی علالت سے کچھ قبل اخباروں میں شایع ہوئے تھے۔تنظیم علی کانگریس کے ترجمان نے بتایا کہ اس کتاب میںتنظیم علی کانگریس کے وہ بیانات جو تنظیم نے اسکے سلسلہ میں محراب و ممبر سے بولے جانے والے جھوٹ کی مخالفت میںدئے تھے شامل ہیںاور تنظیم پر بہتان تراشیاں کرنے والوں سے جو مطالبات کئے تھے جو آج تک پورے نہیں کئے گئے ہیں وہ بھی شامل ہیں۔ اس سلسلہ میں مخالفین نے انتہائی ذلیل اور رکیک طرز بیان کا استعمال کیاتھا اس لئے کتاب میں ان مراسلوں کو بھی شامل کر دیا گیا ہے تا کہ قارئین خود ہی شیعت کے ان دونوں کو دیکھ کر فیصلہ کر لیں کہ حق کا حامی کون ہے اور مجرمین کا جرگہ کون ہے۔ بتایا گیا کہ اس کتاب کا ہندی ایڈیشن بھی بہت جلد شایع کیا جائیگا۔
|