15.10.2026, 08:58pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

دہشت گرد اپنی الگ سیاسی جماعت بنا لیں ۔ڈاکٹر نگہت نسیم
24.01.2011, 01:22am , سوموار (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی

آج پہلی بار مجھے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پاکستان کی “ مدر “ لگیں ۔ یقین جانئے ان کی دعائیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں ہیں ۔ ہم کو چونکہ اپنے ماں باپ سے ناراض رہنے اور ان کے اپنے درمیان فاصلوں کو “جنریشن گیپ “ کہنے کی عادت سی ہو گئی ہے اسی لیئے شائد میں بھی مادر وطن کی “مدر“  سے دور ہی رہی اور ہمیشہ کسی نافرمان اولاد کی طرح انہیں کبھی اپنا خیر خواہ نہیں سمجھا ۔۔ پر دوستو آج مجھے معاف کر دیجئے  کہ میں واقعی اپنی سابقہ رویئے پر افسردہ ہوں ۔۔

 آج کے حالیہ بیان کے بعد مدر ہیلری کے آگے مدر ٹریسا کی بھی کوئی حثیت نہیں رہی ۔۔ انہوں نے تمام مسائل کا حل بتا دیا ۔۔ کمال محبت سے پاکستان کے سر پہ شفقت سے  ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ خبردار جو بھارت کی طرف آنکھ بھی اٹھائی ہو اور رہی دہشت گردوں کی بات تو کیا ہوا ۔وہ بھی انسان ہیں انہیں بھی جینے کا اور اپنی نمائیندگی کا پوار حق ہے سو ان کے سعد مشورے کے مطابق “ اگر دہشت گرد خود کو درست سمجھتے ہیں تو وہ سیاسی جماعت بنالیں “ ۔۔۔

ارے مدر جی “بنا لیں “ سے کیا مطلب ؟؟ ہم پاکستانی تو آپ کی آنکھ کا خفیف سا اشارہ تک سمجھ جاتے ہیں ۔۔ آپ نے تو کہنے کی بڑی تکلیف کی ہماری تو ہر جماعت ہی “دہشت گرد“ ہے ۔شائد آپ کو یقین نہیں آرہا تھا اسی لیئے آج ایک الگ  “سیاسی جماعت “ بنانے مشورہ دے ڈالا ۔۔

مسلہ یہ ہے  مدر جی  کہ آپ جب پاکستان آتی ہیں تو بس پرانی سہیلیوں اور دوستوں سے گپ شپ مار کر چلی جاتی ہیں کبھی انہی سہیلیوں اور دوستوں  کے کارنامے سننے سپریم کورٹ بھی جایا کریں جہاں “این آر او“ پر آپ کی مرحومہ سہیلی  بینظیر کے بے نظیر شوہر زرداری کے سوئس اثاثوں کے کھاتے کھل چکے ہیں ان میں کڑوڑوں کے وہ پیسے بھی ہیں جو انہوں نے آپ سے قوم کے نام پرادھار لیئے تھے اور اب دیکھئے بینکوں میں وہ پیسے سڑ بھن رہے ہیں ۔۔۔۔ کیا فائدہ ہوا بھلا ۔۔ نہ خود خرچ کئے اور نہ قوم پر  ۔۔ اور نہ ہی آپ کو واپس کئے ۔۔کیا یہ کھلی دہشت گردی نہیں ہے ؟ 

اب مدر جی بھلا آپ ہی بتائیں کہ “دہشت گرد “ کی آخر کیاتعریف ہے  ۔۔یہی  نہ کہ  “جو “  کسی کو جینے دیں اور نہ مرنے دیں ۔۔ ارے  وہی لوگ نہ جو کسی سیاسی یا ذاتی مقصد کے لیے ایک دوسرے پر تشدد کریں  یا تشدد کی دھمکیاں دیں ۔ پھر آپ نے ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلمیں تو دیکھی ہی ہونگی جس میں ایک بڑا  گروپ ہوتا ہے “بھائی جی “ ٹائپ کا اور پھر اس بھائی کے خلاف چھوٹے چھوٹے گروپس میں ٹھن جاتی ہے اور  جو آپس میں لڑائی ہوتی ہے  وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ اس میں  بڑے گروپ کے لوگ چھوٹے  گروپ کے غیر مسلح افراد کو نشانہ بناتے ہیں ۔ کیا آپ نے غور کیا ہے کہ اس تمام لڑائی میں صرف ذاتی یا سیاسی مقصد پوشیدہ ہوتا ہے ۔۔ عوام تو بیچاری کچھ  چشم دید گواہ ہونے کی صورت جائے موقع پر شہید ہوجاتی ہے اور کچھ ٹی وی پر سن دیکھ کر اپنے لئے زہر کا بندوبست کرلیتی ہے ۔۔۔باقی ماندہ مرنے والوں کے نوحہ خوان کی صورت زندہ ہی مر جاتے ہیں ۔۔۔اللہ اللہ تے خیر صل للہ ۔۔  

ہیلری مدر جی ! حیران ہوں کہ آپ کو یہ کہنے کی ضروت کیوں پیش آئی کہ “ اگر دہشت گرد خود کو درست سمجھتے ہیں تو وہ سیاسی جماعت بنالیں “ ۔۔ آپ نہیں جانتی کہ اس بیان سے آپ کی سیاسی بصیرت کو سخت دھچکا لگا ہے ۔۔ ورنہ ماضی میں آپ ہی اپنے قیمتی وقت سے فالتو وقت نکال کر پاکستان آ آ کر پاکستانیوں کو “گائیڈ“ کرتی رہیں ہیں یا واشنگنٹن سے ہی خبردار کرتی رہیں ہیں بلکہ  ایک بار نہیں کئی کئی بار کہتی رہیں ہیں  کہ “  دہشت گرد پاک بھارت جنگ کرانا چاہتے ہیں “ ، یہاں تک بتایا کہ “نیٹو کا مزید سات ہزار فوجی افغانستان بھیجنےگا “ ، ہر مقام پر پاکستانیوں کو حوصلہ بھی دیا کہ “افغانستان کے لئے امریکی امداد پر کڑی نظر رکھی جائے گی “ ، “ قیام امن کیلئے طالبان سے مذاکرات ہوسکتے ہیں “ ، آئندہ گرمیوں میں افغان جنگ کی صورتحال بدل جائے گی“ ۔۔ تھک ہار کر یہاں تک یقین دلایا کہ  افغانستان میں ناکامی جنوبی ایشیا پر طالبان قبضے کے مترادف ہو گی“ ، جبکہ  حال ہی میں آپ کچھ خفا بھی ہوگئی تھیں اور ہر ایک نے نوٹ کیا اور کہا “ہلیری کلنٹن نے امریکی ڈرون حملوں پر بات کرنے سے انکار کر دیا  “ ، کیونکہ آپ کا اصرار تھا کہ “پاکستانی حکام القاعدہ کے رہنماؤں کے ٹھکانوں سے لاعلم نہیں ہیں “ ۔۔۔دیکھا مدر جی یہ دہشت گرد اب آپ کی بھی نہیں سن رہے ۔۔ارے اب سمجھ آیا کہ آپ کا مشورہ انہیں سیاسی جماعت بنانے کا کیوں ہے ۔۔ تاکہ مذکرات یا مذمت کی سیاست کرنے میں طرفین کوآسانی ہو سکے ۔۔ 

اب قارئین آپ سب خود ہی فیصلہ کیجئے کہ اس کھیل میں کون دہشت گرد ہے اور کون  سب سے بڑا کھلاڑی ہے یعنی  “بڑا گروپ“ ہے اور کون سے چھوٹے چھوٹے گروپس ہیں جو اس وقت “بھائی جی اور مدر جی “ کے  قدموں سے لپٹے صرف اپنی سلامتی کی دعائیں  مانگ رہیں ہیں اور انہی چھوٹے گروپس میں سے ایک گروپ ایسا بھی ہے جس کا سربراہ صبح و شام خود کو کوس رہا ہے  کہ “ کاش میں پاکستان کا صدر نہ ہوتا “ ۔ کیا ہی اچھا ہوتا جو موزبیق یا صومالیہ کا صدر ہوتا کم از کم نہ وہاں سپریم کورٹ ہوتی اور نہ  مدر ہیلری کا ڈنڈا ہوتا ۔۔۔ رج رج کے موجیں ہوتیں ۔۔۔

جیسے آوارہ گردی کا اپنا مزہ ہے ویسے ہی طاقت و دہشت کا اپنا ہی نشہ  ہوتا ہے ۔۔ اب یہ کیا کہ “نہ کھایا نہ پیا گلاس توڑا دو آنے “ ۔۔کے مصداق کیا زرداری اب  مدر جی کے آگے روئیں بھی نہ کہ ان کے ساتھ چیف صاحب (چوھدری افتخار ) کتنی زیادتی کر رہے ہیں حالانکہ اعتزاز احسن کو وکیل بھی کیا  ۔۔ ۔۔  لیکن ایک بات سچ ہے دہشت گردی کے اس کھیل میں مشرف اور نواز اپنا کھیل کھیل ہی گئے ۔۔ کیونکہ وہ دونوں مدر جی کے قدموں سے لگے ان کے سایہ شفقت میں اس وقت آرام سے ہیں اور دہشت گردی کی پربہار فصل کاٹنے کے لئے مڈ ٹرم الیکشن میں  اپنی باری آنے کے منتظر ہیں ۔۔۔

آخر میں بس اتنا ہی کہ مدر ہیلری آپ نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو دہشت گردی کرنے پر جو قانونی تحفظ عطا کیا ہے اس پر ہر پاکستانی کو آپ کی سرپرستی پر ناز ہے اور آئیندہ بھی آپ سے اسی  شفقت کی امید رکھتی ہے اور  یقین دلاتے ہوئے گزارش کرتی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی سے غنڈہ گردی تک کے سارے داؤ پیچ “بلیک واٹر اور را“ سے سیکھ لئے ہیں سو اب ان  تنظیموں کی پاکستان کو کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ہمارے حکمران یاسر عرفات ، صدام حسین اور حامد کرزئی سے ہر گز کم نہیں ہیں بلکہ وقت آنے پر “محب امریکہ  “ ہونے کے ان کے بھی ریکارڈ تورٹے ہوئے“  پاکستان “ تک آپ کے قدموں میں رکھ دیں گے  ۔۔


:دیگر مضامین
(21.10.2010) موت نے مسکرا کراپنی لسٹ میں لکھا یومیہ بیس لوگ ۔از؛ ڈاکڑنگہت نسیم
(21.08.2010) اپنے بھائی عاصم نسیم کے خط کے جواب میں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(04.08.2010) اے اسیرانِ قفس منہہ میں زباں ہے کہ نہیں۔از۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(02.07.2010) اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان۔از،نگہت نسیم
(07.06.2010) بات نکلے گی پھر تو دور تلک جائے گی“نگہت نسیم۔سڈنی””
(02.06.2010)  امدای قافلے پر اسرائیلی حملہ ۔ امریکہ اور عرب شرم کریں ۔از۔ نگہت نسیم
(18.04.2010) یو این او کھپے ۔۔ یو این او کھپے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(14.04.2010) جب مفادات ایک ہوں تو ۔۔۔؟ از ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(14.03.2010) یا نبی کہتی تھی ماں فجر میں ۔از۔ نگہت نسیم
(05.03.2010) پولیس کا ہے فرض مرمت آپ کی ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(21.02.2010) خلقت شہر نے ہاتھوں میں اٹھائے پتھر ۔۔۔ از؛ نگہت نسیم
(05.02.2010) زرداری ، بیوی کے قاتل نہیں پکڑ سکے عافیہ کو کیا بچائیں گے۔از؛نگہت نسیم
(30.12.2009) خدا گواہ ہے کہ ہم اپنے دشمن نہیں ہیں ۔از؛ نگہت نسیم۔سڈنی
(20.12.2009) محرم کے آغاز پرمبارکبادوں کا جواز کیا ہے ؟از؛نگہت نسیم
(17.12.2009) دنیا کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔از؛ نگہت نسیم۔سڈنی
(06.12.2009) پاکستان ہماری دستار ہے اسے سر پر سجایئے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(27.11.2009) کئی آنکھیں ہیں جو دعاؤں سے اب بھی نم رہتی ہیں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.11.2009) اللہ تعالی کے نظام میں کوئی این آر او نہیں ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(16.11.2009) سولہ نومبر "عدم برداشت " کا عالمی دن ۔از نگہت نسیم ۔ سڈنی
(06.11.2009) محبت شکر اور شکریہ سکھاتی ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں