میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا
ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا
اگرچہ آج عبد الحمید عدم ہمارے اجتماعی ادبی شعور سے محو ہو گئے ہیں، لیکن ایک دور ایسا بھی گزرا ہے کہ برِصغیر میں عدم کا طوطی بولتا تھا۔ عدم بھی اپنے زمانے میں مشاعروں کے بہت مقبول شاعر تھے، ان کی شاعری عام فہم، بیان سیدھا سادا اور الفاظ عام ہوتے تھے، اس لیے ان کی بات دل پر اثر کرتی تھی۔ ایسی شاعری کو عام اصطلاح میں سہلِ ممتنع کہا جاتا ہے۔
اس دور کے تقریباً تمام گلو کاروں نے عدم کی غزلوں کو اپنی آواز دی تھی۔ چونکہ جلسوں میں گلو کاروں کے ذریعہ جو غزلیں گائی جاتی ہیں۔ ان کا مقصد سامعین کو محظوظ کرنا ہو تا ہے اور سامع انہیں اشعار سے محظوظ ہوتا ہے جو اس کے ذہن کو چھو سکیں۔ ایسے اشعار کا آسان ہو نا ضروری ہے اور عدم کی غزلیں اس معیار پر پوری اترتی ہیں۔ عدم کی شاعری کی ایک اور نمایاں خصوصیت ان کے اندر پائی جانے والی ’کیفیت‘ ہے۔ کیفیت روایتی کلاسیکی شاعری کی اصطلاح ہے اور اس سے مراد ایسی شاعری ہے جس میں جذبات کا وفور ہو اور شعر سن کرسامع پر وہی کیفیت طاری ہو جائے جس کے تحت شاعر نے شعر لکھا تھا۔
عدم دس اپریل 1910ء کو گوجرانوالہ کے قریبی قصبے تلونڈی موسیٰ میں پیدا ہوئے تھے، تاہم تعلیم کی غرض سے وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ایف اے کرنے کے بعد فوج میں اکاؤنٹنٹ بھرتی ہو گئے۔ جب دوسری جنگِ عظیم چھڑی تو ان کا تبادلہ عراق ہو گیا، جہاں انھوں نے ایک عراقی لڑکی سے شادی کر لی۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی وہ اسی شعبے سے وابستہ رہے۔ عدم کا انتقال چار نومبر 1981ء کو ہوا۔
عدم بہت پرگو اور زود گو شاعر تھے۔ ان کے درجنوں شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں، جن میں سے خرابات، نگار خانہ،چارہ درد اور رم آہو وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب ان کے پاس شراب خریدنے کے پیسے ختم ہو جایا کرتے تھے تو وہ جلدی جلدی غزلیں لکھ کر اپنے پبلشر کو دے کر اس سے ایڈوانس معاوضہ لے آتے تھے۔ ان کی اکثر شاعری اسی طرح سے لکھی گئی ہے۔
تاہم جو غزلیں عدم نے اپنے لیے لکھی ہیں ان میں ان کا مخصوص انداز جھلکتا ہے، جس میں ہلکا ہلکا سوز بھی اور عشق و محبت کی دھیمی دھیمی آنچ ہے۔ انہوں نے روایتی موضوعات، خم و گیسو، گل و بلبل، شمع و پروانہ، شیشہ وسنگ کا استعمال کیا ہے۔ کوئی نیا پن نہ ہونے کے باوجود یہ سامع کو نیا ذائقہ ضرور دے جاتی ہیں اور ایک طرح سے انہوں نے روایتی غزل کو مزید آبدار کیا ہے۔
جہاں ہم ہیں وہاں ربط و کشش سے کام چلتا ہے
سمجھنے اور سمجھانے کی گنجائش بہت کم ہے
محبت ہو گئی ہے زندگی سے اتنی بے پایاں
کہ اب گھبرا کے مر جانے کی گنجائش بہت کم ہے
گل و غنچہ کو ہے ان سے عقیدت اس لئے گہری
تیری زلفوں میں مرجھانے کی گنجائش بہت کم ہے
زمانہ ہنستا ہے ہم بے نوا فقیروں پر
یہ غفلتیں تو مناسب نہیں غریب نواز
وہ زلف ویسے تو آتش ہے اے عدم یکسر
مگر اثر کی رعایت سے ہے نسیم حجاز
اے زیست کی تلخی کے شاکی صرف ایک نصیحت ہے میری
آنکھوں کی شرابیں پیتا جا زلفوں کی پناہیں لیتا جا
اے موسم گل جاتا ہے اگر پھر اتنا تکلف کیامعنی
غنچوں کے گریباں لیتا جا پھولوں کی کلاہیں لیتا جا
ہنس کے آپ جھوٹ بولتے ہیں
دل میں کتنی مٹھاس گھولتے ہیں
دنیا کتنی حسین لگتی ہے
آپ جب مسکرا کر بولتے ہیں
اسی موضوع پر عدم نے مزید طبع آزمائی کی ہے:
یہ سمجھ کے سچ جانا ہم نے تیری باتوں کو
اتنے خوب صورت لب جھوٹ کیسے بولیں گے
عدم بعض اوقات اشعار کے پردے میں سماجی اور سیاسی معاملات پر بھی طنز کر جاتے ہیں۔ ان کا یہ شعر اپنے دور میں بے حد مشہور ہوا تھا:
کس قدر بوجھ تھا گناہوں گا
حاجیوں کا جہاز ڈوب گیا
عدم بھاری تن و توش کے مالک تھے۔ایک بار بھارت سے مجاز لکھنوی تشریف لائے۔ انھوں نے پہلے عدم کو نہیں دیکھا تھا، لیکن ان کی شاعری کے مداح تھے۔ جب ان کا تعارف کروایا گیا تو بے اختیار ان کے منھ سے نکلا:
اگر یہی ہے عدم تو وجود کیا ہو گا؟
عدم نے 1960ء میں عمر خیام کی رباعیات کا اردو زبان میں ترجمہ کیا تھا جسے خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ خیام اور عدم کا فلسفہٴ زندگی اور شاعری کا انداز ملتا جلتا تھا۔ اس مجموعے سے چند رباعیاں پیشِ خدمت ہیں:
سلسلہ تیری میری باتوں کا
پسِ پردہ ہے جو بھی جاری ہے
پردہ اٹھا تو آگہی ہو گی
پردہ داری ہی پردہ داری ہے
اور
نوجوانی کے عہدِ رنگیں میں
جز مےِ ناب اور کیا پینا
ایک ہی خاصیت ہے دونوں کی
تلخ ہے جام، تلخ ہے جینا
بشکریہ وائس آف امریکہ کی ویب سائٹ