ذبحِ عظیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم٭
فلما اسلماو تلہ للجبین٭و نادینہ ان یا ابراہیم ٭
قد صدقت الرؤیا ٘ انا کذلک نجزی المحسنین ٭
ان ھذا الھو البلٰؤ المبین ٭و فدینہ بذبح عظیم ٭
و ترکنا علیہ فی الاخرین٭ صدق اللہ العلی العظیم
( پ 23 رکوع 6 )
تو جب وہ ہمہ تن اطاعت پر تیار ہو کر آئے اور انھوں نے ان کو پیشانی کے بل لٹایا۔ اور ہم نے انھیں صدا دی کہ ائے ابراہیم ! تم نے خواب سچ کر دکھایا ‘ بلا شبہ ہم یونہی جزا دیتے ہیں نیک افراد کو ۔ یقینا یہ کھلی ہوئی آزمائش تھی۔ اور ہم نے اس کا فدیہ قرار دیا ایک عظیم قربانی کے سبب سے۔ اور ہم نے اس کی یاد قائم کردی بعد والوں میں۔
ان آیات میں حضرت ابراہیم ؑ کی اُس قربانی کا تذکرہ ہے جو انھوں نے اپنے فرزند کے ذبح پر تیار ہو کر پیش کی۔
ان آیات میں ’’ذبح عظیم ‘‘ کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس کے بارے میں بعض غیر مستند تفاسیر میں وہ دنبہ مراد لیا گیا ہے جو جنابِ اسماعیل ؑ کی جگہ قربان ہونے کو بھیجا گیا تھا اور اس کے لیے لفظِ عظیم کا آیت مبارک میں آنا اُس کی جسامت کی بنا پر لیا جاتا ہے‘ کسی نے اُس کے جنت سے آنے کو وجہ بتایا ہے اور کسی نے لکھا ہے کہ ابراہیم ؑ کے بیٹے کا فدیہ ہونے کی وجہ سے لفظِ عظیمکا اطلاق ہوا ۔
مگریہ باتیں ظاہراً عقل کے خلاف ہیں کیوں کہ عظیم کے لفظ سے ذہن میں صرف مرتبہ ہی کی عظمت آتی ہے ، ایک دنبہ کا خواہ وہ کتنا ہی موٹا تازہ کیوں نہ ہو اور اسے جنت ہی سے کیوں نہ بھیجا گیا ہو ایک نبی زادے جو خود بھی نبی ہے اور ذبیح اللہ کا ملقب ہے کی بہ نسبت اس کا عظیم ہونا محال ہے ۔ وہ دنبہ صرف قربان ہونے ہی کے لیے آیا تھا اور جو فدیہ قرار پایا وہ اور ہے کیوں کہ چیز کا عوض اس کا ناقص نہیں ہو سکتا ۔ جانور خواہ کیسا ہی کیوں نہ ہو وہ کسی نبی کا تو کیا کسی انسان کا بھی بدلہ نہیں ہوسکتا ۔ پھر یہ بات بلاغتِ قران کے منافی ہے کہ ایک ناچیز جانور پر ایسے پُر عظمت الفاظ کا اطلاق ہو۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ابراہیم خلیل ؑاللہ کے بیٹے کا فدیہ ایسا ہو جو کم از کم ان ہی جیسا ورنہ ان سے بھی بڑھ کر عظیم المرتبہ اور مقبولِ خدا ہو۔
اس مقام پر مناسب ہو گا کہ دورِ حاضر کے بلند پایہ عالمِ اہلِ سنت اور مفسرِ قران پروفیسر محمد طاہرالقادری صاحب دام ظلہ کی کتاب ۔ ۔ ۔ ’’ ذبحِ عظیم (ذبحِ اسماعیل ؑ سے ذبحِ حسین تک)‘‘ سے اِس سلسلے میں ایک اقتباس پیش کیا جائے :
کتاب کے صفحہ نمبر 30 پر زیرِ عنوان ذبح عظیم کا مفہوم فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابراہیم ؑ کی حیاتِ مقدسہ میں حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کا واقعہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی وجہ سے انہیں بارگاہِ خداوندی سے شرفِ امامت بھی عطا کیا گیا‘ الخ۔
اور زیرِ عنوان ذبح اسماعیل ؑ اور شہادت امام حسین کا باہمی تعلق صفحہ نمبر 30 تا 31 پر تحریر فرماتے ہیں کہ اگر شہادت حسین کا تعلق ذبح اسماعیل سے نہ جوڑا جائے تو بات مکمل نہیں ہوتی ، شہادت کا عمل ادھورا رہ جاتا ہے اور بات مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آتی ۔
حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کو صرف ذبح کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے ‘ ان کی جگہ مینڈھے کی قربانی ہوئی تو اُسے ذبح عظیم کہا گیا ۔ اب یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مینڈھے کی قربانی کو ذبح عظیم اور پیغمبر کے بیٹے کی قربانی کو محض ذبح کہا جائے ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ذبح عظیم سے مُراد کون سی قربانی ہے ؟ ذبح عظیم یقینا وہی قربانی ہو گی جو ذبح اسماعیل ؑ سے بڑی قربانی کی صورت میں ادا ہو گی۔
اسماعیل ؑ حضرت سیدنا ابراہیم کے فرزند تھے جب کہ سیدنا حسین حضور سرورِ کونین (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے لختِ جگر اور نورِ نظر تھے ۔ قطع نظر اس کے کہ نبی اور صحابی کے مرتبے میں بہت فرق ہوتا ہے لیکن نسبتِ ابراہیمی سے نسبتِ مصطفوی یقینا ارفع و اعلیٰ ہے علاوہ ازیں سیدنا حسین کو سبطِ پیغمبر اور پسرِ بتول و حیدر(علیہم السلام) ہونے کے ساتھ ساتھ نسبتِ ابراہیمی بھی حاصل ہے ۔
نیزشہادتِ امام حسین چونکہ سیرتِ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ہی باب ہے اس لیے کائنات کی اسی منفرد اور یکتا قربانی کو ہی ذبح عظیم ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ لہٰذا بڑی صداقت کے ساتھ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کے ضمن میں جس ذبح عظیم کا فدیہ دیا گیا وہ ایک مینڈھا نہ تھا بلکہ وہ لختِ جگرِ مصطفی ؐ حسین ابنِ علی رضی اللہ عنہما (علیہ السلام) کی قربانی تھی ۔ حکیم الامت علامہ اقبال نے اس حقیقت کو بڑے خوبصورت شعری قالب میں ڈھالاہے
اللہ اللہ بائے بسم اللہ پِدر معنیء ذبحٍ عظیم آمد پِسر
پروفیسر صاحب کی تقریبا 140 صفحات پر مشتمل اس کتاب ( جس کو پڑھنے کی ہر ایک کو گزارش کروں گا ) سے صرف ان دو صفحات کے اقتباس کو پیش کیا گیا ہے ‘ لہٰذا صرف انہی دو صفحات کے چند نکات کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرنی چاہوں گا :
1۔ اسماعیل ؑ نبی ہیں اور حسین ؑامام ہیں‘ مگر ابراہیم ؑ کو امامت اسی امتحان میں کامیابی کے بعد عہدئہ نبوت کے بعد نصیب ہوئی یعنی کم از کم حضرت ابراہیم ؑخلیل اللہ کے معاملہ میں امامت کا عہدہ نبوت کے بعد مِلا یعنی اُس سے اونچا عہدہ ہے ۔ ( یہاں پر یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ ایک عام شیعہ عقیدہ ہے کہ امام نبی سے افضل ہوتا ہے بلکہ یہ ایک ایسی قرانی حقیقت ہے جس کو پروفیسر قادری صاحب نے بھی بیان فرمایا شیعہ عقیدہ کے مطابق افضلیت اس شخصیت کی ہے‘ جس کو خدا تعالیٰ عطا فرمائے مثلاً علی ؑ امام ہیں اور ان سے افضل تر محمد مصطفی ؐنبی اللہ ہیں لیکن اس مقام پر آپ ؐ کی صرف دو احادیث مبارکہ جن کے ماخذ کتبِ اہلِ سنت ہیں بطور نمونہ اور برائے اتمامِ حجت پیش کی جاتی ہیں تاکہ شیعہ عقیدہ انہی کتب کی روشنی میں واضح ہو جائے :
علی احب خلق اللہ اِلی اللہ و رسولہ۔ علی ؑاللہ اور اُس کے رسول ؐ کے نزدیک اللہ کی ساری مخلوق سے زیادہ پیارا ہے۔
٭المناقب لابن المغازلی219۔ کنز العمال 5!33۔ الریاض النضرۃ 2!212 ۔ البیھقی۔
علی خیر البشر فمن ابیٰ فقد کفر۔ علی ؑنسل نوع
انسانی میں سب سے بہتر ہیں جو انکار کرے وہ کافر ہے۔
٭المناقب لابن المغازلی129۔ تاریخ بغداد للخطیب البغدادی 5!37۔
الخوارزمی 235۔ )
2۔ اسماعیل ؑ کے عملِ قربانی کو امام حسین ؑ کی قربانی نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
3۔ اسماعیل ؑ کے ذبح سے امام پاک ؑ کی ذبحِ عظیم کا درجہ بلند تر
ہے۔
4۔ اسماعیل ؑ کو بے شک نسبتِ ابراہیمی کا شرف حاصل ہے مگر اس شرف میں
حسین ؑ برابر کے حصے دار ہیں۔
5۔ لیکن نسبتِ مصطفوی نسبتِ ابراہیمی سے افضل ہے ‘ علاوہ ازیں حسین ؑ کا بتول ؑ جیسی ماں اور حیدر ؑجیسے باپ کا پسر ہونا ان کے اضافی فضائل ہیں ‘ لہٰذا مراتب کا فرق از خود واضح ہو جاتا ہے۔
قربانیِ اسماعیل ؑ کا یہ فدیہ 61ھ ماہِ محرم کی دسویں تاریخ بروز جمعہ کربلا کے قیامت زار میں وقوع پذیر ہوا‘ اُسی طرح جیسے اسماعیل ؑ کی قربانی کا اہتمام کیا گیا تھا‘ یعنی سجدہ کی حالت میں‘ جیسے آیتِ مبارکہ میں ارشاد ہے کہ ابراہیم ؑ نے اسماعیل ؑ کو ان کی پیشانی کے بل لٹایا تھا ۔ امام حسین ؑ اُسی طرح سجدہ میں ذبح کیے گئے مگر کچھ فرق بھی ہے دونوں قربانیوں میں مثلاً :
1۔ ابراہیم ؑ کا بیٹا کمسن تھا اور امام حسین ؑ کی عمر 57 سال سے زیادہ تھی۔
2۔ اسماعیل ؑ کو خود ان کے والد نے قربان کرنے کا عزم کیا مگر امام حسین کی شہادت تیس ہزار سے زیادہ مسلح ا فواجِ دشمنانِ ملعونین کے ہاتھوں ہوئی۔
3۔ اسماعیل ؑ کی قربانی کو منظور فرما کر اللہ پاک نے دنبہ بھیج کر ان کی جان محفوظ فرمائی جبکہ امام پاک ؑ کی قربانی انجام پذیر ہوئی ۔
4۔ اسماعیل ؑ اکیلے قربان ہونے گئے تھے اور حسین ؑ اپنے سارے خانوادہ سمیت اپنے دوستوں کے ساتھ گئے تھے ۔
5۔ اسماعیل ؑ کی قربانی فردِ واحد کی وہ قربانی تھی جو ہوئی بھی نہیں اور امام حسین ؑ کی قربانی 72 سے زیادہ افراد کی قربانی تھی جو تکمیل کوپہنچی۔
6۔ اسماعیل ؑ کی قربانی کا اہتمام ان کے والد نے کیا، امام حسین ؑنے خود اپنے فرزند اور اپنے دوست قربانی کے لیے بھیجے اور اپنا سر اپنی مرضی سے خوشنودیِ پروردگار کے لیے سجدہ میں رکھا۔
7۔ اسماعیل ؑ پیاسے نہ تھے جب کہ امام عالی مقا م ؑ اور ان کے اصحاب تین روز کے بھوکے اور پیاسے تھے۔
8۔ اسماعیل ؑ زندہ سلامت گھر اپنی ماں کے پاس واپس آگئے مگر امام حسین کی شہادت کے بعد بھی مصائب ختم نہ ہوئے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر قیامت بہنوں ‘ بیٹیوں اور دیگر پس ماندگان کو جھیلنی پڑی۔
9۔ اسماعیل ؑ کی قربانی کا دن ان کی جان بچ جانے کی خوشی میں عید کا دن قرار پایا مگر امام پاک ؑ کی قربانی کا دن رونے پیٹنے اور سوگ
منانے کا دن مقرر ہوا۔
اور چونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام میں یہ فرمایا ہے کہ اس واقعہ کی یاد بعد میں آنے والی نسلوں میں قائم رہے گی (و ترکنا علیہ فی الاخرین) اس لیے ابراہیم ؑ کے اس انتہائی درجہ کے مظاہرئہ صبر ‘ خدا تعالیٰ کی اطاعت گزاری کے لیے اپنے لختِ جگر کو بے دریغ تہہ تیغ لٹا دینے کے ساتھ ساتھ۔ ۔ ۔
امام حسین ؑ کا مقصدِ خدا کے تحفظ کے لیے اپنی اولاد اور رفقا کو یکے بعد دیگرے قربان ہونے کے لیے بھیجنا، اپنے چھ ماہ کے شیرخوار کو اپنے ہاتھوں میں اُٹھائے راہِ خدا میں نثار کرنا اور خود اپنی جان کے نذرانہ کے بعد اپنے گھر یعنی رسولِ خدا کے خاندان کو مصائب کی بھٹی میں توکّل اللہ کے ساتھ بھیج دینا بھی امت مسلمہ تا قیامت یاد رکھے گی‘ کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔