پاکستان کی تاریخ میں سولہ دسمبر کو دو واقعات ایسے ہوئے ہیں جنہیں ہر پاکستانی اپنی تاریخ کا حصہ جان کر یاد رکھے گا ۔ ایک واقعہ وہ جو واقعہ نہیں سانحہ تھا اور وہ تھا “سقوط ڈھاکہ “ جو سولہ دسمبر انیسو اکہتر کو ہوا تھا اور اسے گزرے 38 برس ہو گئے ہیں ۔
اور ایک واقعہ وہ جو کل سولہ دسمبر دوہزار نو میں ہوا ، جب سپریم کورٹ کے 17رکنی بنچ نے چیف جسٹس افتخار احمد چوھدری کی سربراہی میں اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ “ این آر او 1973کے آئین میں دی گئی برابری کی سطح سے متصادم ہے اس لئے اسے کالعدم قراردیا جاتا ہے“ ۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سوئس کیسز کی بحالی کیلئے حکومت درخواست دے “ اور اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کی جانب سے این آراو کو کالعدم قرار دیئے جانے کے باعث تمام مقدمات پانچ اکتوبر 2007کی پوزیشن پر بحال ہوگئے ہیں۔
اور آج سترہ دسمبر کی تازہ خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے تاریخی اور عوامی فیصلے کے بعد این آر او سے مستفید افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے لئے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے جس کے بعد ماسوائے صدر کے این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں کے نام ای سی ایل میں شامل کرلیے گئے ہیں۔
کل سے اب تک دنیا کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے ۔ امریکہ خاموش ہے ۔۔ اوباما کوپن ہیگن میں ڈینش مظاہرین کی زد میں ہے اورہیلری سر جھکائے اپنی اپنی ناکامی پر افسردہ ہیں ۔ ادھر صدر زرداری امریکی دست شفقت کو ڈھونڈ رہے ہیں اور گھبرا کر انیس دسمبر کو پی پی پی کا سینٹرل ایگزیٹو میٹنگ بلا بیٹھے ہیں تاکہ مل جل کر سر چھپانے کے ٹھکانوں کا سو چا جاسکے کیونکہ ان کے مشیر خاص پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کو سپریم کورٹ نے عدالتی معاملات میں مداخلت کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے اپنے تمام پچھلے گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا ہے اور شاید اب نظریہ ضرورت کے فیصلے ہمیشہ کے لیئے دفن ہو چکے ہیں۔ اللہ کرے کہ کوئی میر جعفر اور صادق ان فیصلوں کے سامنے نہ آجائے اور انکا نفاذ فیصلے کی روح کے مطابق ہو جائے۔ ویسے یہ نہ بھولیئے گا کہ خنجر اپنے ہی مارا کرتے ہیں اور پھر شاعر یہی کہتا ہے کہ ۔۔۔۔
دیکھا جوتیر کھا کے کمیں گاہ کی طرفاپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی۔
ویسے اسوقت جب میں یہ کالم لکھ رہی ہوں تو ابھی اس عوامی فیصلے کو آئے پورے چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے اور انٹر نیٹ پر ایسی تصاویر آنا شروع ہو گئی ہیں۔ وقت بہت ظالم ہے ،اسکے انصاف کے اپنے طریقے ہیں۔
ذرائع ابلاغ نے ایسی ہی تصاویر کچھ عرصہ قبل اسی چیف جسٹس افتخار چوہدری کی دیکھی تھیں جنکی پولیس نے تضحیک کی تھی اور کسے معلوم تھا کہ منصف وقت اسی افتخار چوہدری کو یہ افتخار عطا کرے گا کہ وہ ایسا تاریخی فیصلہ کرے۔کہتے ہیں برا وقت دیکھ کر نہیں آتا اس لیئے اس میں کوئی ساتھی نہیں بنتا لیکن یہ بھی پاکستانی تاریخ بتاتی ہے کہ جس کا کوئی نہیں اس کی ایم کیو ایم ہوتی ہے ۔
جہاں کہیں وہ اپنا کندھا دے سکیں ضرور دیتے ہیں ۔۔ یار لوگ یونہی کہتے ہیں کہ الطاف حسین تھالی کا بیگن ہے ۔۔کہ کبھی پنجابیوں کو کہتے ہیں گھرو ں سے نکلو تو کبھی مہاجروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ سڑکوں پر نکل آؤ ۔۔ خدا جانے الطاف حسین کو گھر اور ملک سے اتنی الرجی کیوں ہے کہ نہ وہ خود رہتے ہیں اور نہ کسی اور کو اپنے گھر میں سکون سے بیٹھا دیکھ سکتے ہیں ۔
ایک اور بات جو“ آقا ئے غریب الوطن الطاف حسین “ میں خاص ہے کہ وہ خود جو سب سے زیادہ امیر ہیں اور امیروں کے وطن لندن میں برسوں سے شاہانہ انداز میں سکون و عافیت سے رہ رہیں ہیں ۔ لیکن پاکستان کو ھمیشہ محبت کی عینک سے دیکھتے ہیں اور اپنی موجودگی کا احساس کچھ یوں دلائے رکھتے ہیں کہ غریب عوام کے پیسوں پر انہیں ہی کوٹیلی فونک خطاب کر کے انہی کی زندگیوں کے فیصلے کرتے رہتے ہیں ۔
اس لئے کل کی سولہ دسمبر ان کے لئے بھی حیرانگی لے کر آئی کہ پہلی بار کسی نے پاکستان میں ان کے علاوہ بھی پاکستان کی سلامتی کے فیصلے کئے اور پہلی بار وہ عوام سے ٹیلی فونک خطاب نہ کر سکے ۔ لیکن اس سانحہ پر اپنے یار غار صدر زرداری کو ضررو ذاتی پیسوں سے فون کر کے کہا ہے کہ “ یار گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے ، حوصلہ رکھو میرے پاس ایک کمرہ خالی پڑا ہے ۔۔ یہیں آ جاؤ مل کر لندن رہیں گے ۔اتنی بڑی تسلی پا کر صدر زرداری کے زرا سے اوسان بحال ہوئے ہیں اور باقی اوسان اعتزاز احسن کی وکالت سے بحال ہوتے نظر آ رہے ہیں
جی یہ وہی لانگ مارچ والے ، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اعتزاز احسن ہیں جنہیں پاکستانی عوام اب بھی غیر جانبدار اور مخلص پاکستانی کی عینک سے دیکھتی ہے ۔گماں ہے کہ ان کی پی پی پی کی رکنیت اسی لیئے بحال کی گئی تھی کہ وہ ہر پلیٹ فارم پر پی پی پی کے وفاداری کے ترانے چیف جسٹس کی موجودگی میں گا سکیں سو انہوں نے وہی کیا جو انہیں کرنا چایئے تھا یعنی صدر کے آئینی تحفظ کا پرچار ۔۔
حالانکہ اعتزاز احسن بھی جانتے ہیں کہ چور سپاہی کے اس کھیل میں چور کون ہے ۔۔ اور انہیں یہ بھی پتہ ہو گا کہ کس کی پیٹھ پر پتھر مٹی لاد کر کس نے اپنے لئے کہاں کہاں قصر و محل بنائے ہیں ۔۔ کن کے کھیتوں کو اجاڑ کر اپنے گوداموں کو غلے سے بھر اگیا ہے ۔۔ کن کو بھوک و ننگ دے کرکون دن میں چار بار تھری پیس سوٹ بدل کر کانفرنس کرتا ہے ۔۔ کس کے بچے آج سوات اور وزیرستان میں لہولہان ہو رھے ہیں اور کن کے بچے امریکہ اور لندن میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔۔۔
کچھ بھی تو نیا نہیں ہو رہا ۔۔۔دنیا میں سب کچھ بکتا ہے ۔۔ اعتبار ، وفاداری ، پاسداری ، حیا ۔۔ایمان اور انسان سب کی قیمت لگتی ہے ۔۔اعتزاز احسن بھی اگر الطاف حسین کی طرح بک گئے ہیں تو کیا فرق پڑ جائے گا ۔۔ اگر وہ چور لٹیروں کی وکالت کر کے اپنے وقار اور اپنے تشخص کو دھبہ لگانا چاھتے ہیں تو ان کی مرضی ۔۔ پر عوام انہی کی خواہش کے مطابق لانگ مارچ کے بعد سے ابھی تک سوئی نہیں ہے ۔ اور یہ بھی دھیان رہے کہ وہ بجلی کے نہ ہونے سے نہیں جاگ رہی بلکہ بجلی کی چوری کرنے والوں کے نام و مقام جاننے کے لئے جاگ رہی ہے ۔۔ اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جس ملک کی عوام جاگ جائے وہاں صرف انصاف کا بول بالا ہوا کرتا ہے ۔۔۔جن قوموں کو اپنے کردار اور اخلاق پر فخر ہوتا ہے اور وہ ہر حالت میں پر عزم رہتی ہے ۔۔ بڑے سے بڑا سوداگر بھی ان کی ضرورتوں کی قیمت نہیں لگا سکتا ۔ ایسی قومیں دنیا میں آزادانہ راج کرتی ہے ۔ یقین جانئے اس عدالتی فیصلے کے بعد یوں لگا جیسے اسی آزادانہ راج کرنے کے خواب کی پہلی کڑی تھی ۔۔ کل ہم سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے سمندر میں رہ کر مگرمچھوں کو للکارا ۔۔۔ اور انہیں قانون کا پابند کیا ۔۔ اور حالات کی سنگینی کی پرواہ کئے بغیر قانون کی بالادستی اور اس کی عزت و ناموس کے لئے ایسے فیصلے کئے جو نظریہ ضرورت کے تحت نہیں تھے ۔۔
کاش کہ یہی سپریم کورٹ سانحہ مشرقی پاکستان کی فائل بھی کھول دے تاکہ اصل حقائق سے پردہ اٹھایا جا سکے اور ان چہروں کو بے نقاب کر کے قابل تعزیر کیا جا سکے جو پاکستان کی سالمیت کے دشمن تھے ۔۔جانتی ہوں کہ ایسا ہونے کے باوجود بنگلہ دیش اب کبھی پاکستان کا حصہ نہیں بن سکتا لیکن میرا دل کہتا ہے کہ اس سے یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ پھر کوئی نیا بنگلہ دیش نہیں بن سکے گا ۔