|
علماءو ذاکرین سیاسی بازی گری سے گریز کریں:یا مہدی ادرکنی
18.12.2009, 06:05am , جمہ (GMT+1)
سید جلال حیدر ہلوری
یا مہدی ادرکنی کی ایک خصوصی میٹنگ سید صادق حسین کے فلیٹ برمکان درگاہ حضرت عباس پالا گلی میں منعقد ہوئی۔جس میں محرم الحرام خصوصی طور سے عشرہ اولی میںژاکرین،خطباءاور علماءسے گزارش کی گئی کہ وہ واقعہ کربلا اور امام حسین علیہ السلام اور انکے جانثاروں کی عدیم المثال قربانیوں کو ہی اپنا موضوع گفتگو بنائیں۔فرقہ وارانہ،دل آزارانہ اور مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے والے مضامین سے گریز کریں ۔
میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے خوجہ رضا حسین نے شمالی ہندوستان کے زاکرین اور خطباءسے اپیل کی کہ وہ زبان و بیان پر قابو رکھیں اور کسی بھی صورت میں امام مظلوم اور!انکے جانثاروں کی قربانیوں کی بلندی کو کم نہ ہونے دیں۔ ہمارے لئے ذکر شہادت ایک تحریک ہے اور اس سے دین کی ترقی و ترویج کا پہلو ملحوظ رکھیں۔ہاشم عباس رجوی نے شمالی ہندستان بالخصوص لکھنو اور قرب و جوار کے ذاکرین کے بیانات کو اعتدال پسندانہ نہج پر رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ذاکرین، علماءاور خطباءکے علاوہ لباس علماءمیں ملبوس افراد کی چالبازیوں اور ذاتی مفادات کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ مجلس کی اجرت لینا جتنا برڑاگناہ ہے اتنا ہی آئمہ ءمصومین پر کئے گئے مظالم اور انکے فضائل بیان کرنے کی اجرت دینا بھی بدترین گناہ ہے۔ وقار محسن انجینیر نے نام نہاد علماءکو آٹے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اتر پردیش میں دیکھا ہے کہ گزشتہ دو ۔
تین سال سے علماءاور منبر نشینوں کا ایک گروہ سیاسی پارٹیون کے رحم و کرم پر ہے اور ماتمی انجمنوں کو سیاسی لیڈروں کے حق میں استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ لکھنو جس نے ماضی میں محرم منانے کے طور طریقوں کو دنیا میں پھیلایا،وہاں کے علماءاور زاکرین کا بدترین حال ہے اور ذاتی مفادات نیز اقربا پروری کا جو طوفان ان افراد نے برپا کر رکھا ہے اس سے قوم میں ناراضگی اور نفرت بڑھ رہا ہے۔ اسلئے ضروری ہے کہ منبر نشین افراد آئمہ کرام کی تاسی کریں اور علماءعراق و ایران سے سبق حاصل کریں
عباس علی مہیتا نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا عزاداری کا مرکز لکھنو اب علماءو خطباءو ذاکرین کے غنڈے حاشیہ برداروں کا گڑھ بن چکا ہے اور جس شہر نے تشیع کی ترویج و ترقی میں عدیم المثال کام کیا وہاں کے نام نہاد علماءسیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے رحم و کرم پر ہیں انکی اس حرکت سے کربلا والوں کی سیرت یاد آجاتی ہے جنہوں نے ہمیشہ تخت و تاج کو اپنی ٹھوکروں میں رکھا۔
ایڈوکیٹ اقبال حسین نے علماءکو انکا کردار یاد دلاتے ہوئے کہا کہ یہی افراد ماضی میںسرکاروں کے لئے مصیبت بنے ہوئے تھے اب سیاسی لیڈروں کے قدموں میں پڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے امام مظلوم اور انکے ساتھیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے دنیا کو ٹھوکروں میں رکھا خود کو انکا نائب کہنے کا دعوی کرنے والے دنیا داروں کی ٹھوکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔انکی یہ حرکتیں نہ صرف ناقابل مذمت ہیں بلکہ ہم سب کے لئے بھی عبرت کا مقام رکھتی ہیں۔
رضوان اعظمی نے نام نہاد علماءاور بدزبان خطباءکی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام میں ان افراد کو دوسروں کے احساسات اور جذبات کا بھی لحاظ رکھنا چاہئے،کیونکہ امام حسین صرف ہمار ے ہی نہیں تھے وہ پوری دنیا کے لئے مشعل راہ تھے ۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ علماءکرام سیاسی اکھاڑوں کے پہلوان بنتے جا رہے ہیں اور کبھی کسی فرقہ تو کبھی خود اپنے ہی فرقہ و طبقے سے دو دو ہاتھ کرنے کے سیاسی ہتھکنڈے اختیار کیا کرتے ہیں۔جو مسلمان اور خصوصٰ طور سءشیعوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ اکمل عباس، مزمل حسین،جرار اعظمی، رفیق الحسن نوگانوی نے بھی اپنی مختصر تقریریوں میں عل! ماءسو کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ جس طرح سے لکھنو میں ماتمی انجمنوں کا استعمال سیاست دانوں اور زاتی مفادات کے لئے کیا جا رہا ہے،اسکو بلا تاخیر بند کیا جائے۔ورنہ قوم سے اپیل کی جائے کہ الیکشنوں میں دولت حاصل کر کے اپیل کرنے والے علماءکا سماجی بائکاٹ کیا جائے۔ میٹنگ کے آخر میں ملک کو در پیش دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ انسانیت دشمن عناصر ہی دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں اور ملک و قوم کی بھلائی اسی میں ہے کہ دہشت گردی کے خلاف معرکہ آرائی ہو اور ایسی ذہنیت کو ہرگز پنپنے نہ دیا جائے جو انسانی سماج کو کھوکھلا کرنے کا کام کرتی ہے۔
میٹنگ میں ملک کی سلامتی کے ساتھ ساتھ عراق میں شیعوں پر تشدد اور شہداءکے لئے دعا کی گئی۔
|