مجھے آج متعدد ای میلز آئی ہیں جس میں مج
ھے نئے اسلامی سال کے آغاز پر کئی مبارکبادیں بھیجی گئی ہیں ۔ میراوہی ایک پرانا رونا اور دکھ ہے جو آج آپ سب کے ساتھ بانٹناچاھتی ہوں کیونکہ یہ ازیت دینے والوں میں ادیب ، صاحب فکرودانش ،وکیل ، ڈاکٹر اور انجنئرز بھی شامل ہیں ۔ میں جان بوجھ کر ایسے لاعلم لوگوں کو اس میں شامل نہیں کر رہی جنہیں اس موقع پر “مبارکباد“ تو کیا انہیں اسلام اور اسلامی مہینوں سے ہی کوئی غرض نہیں ہے ۔
دوستو یہ تو “غم کا مہینہ ہے“ اور غم بھی اس خانوادے کا جن کے زکر کے بغیر درود مکمل نہیں اور وہ درود جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ۔ اس غم میں مبارکباد کیا معنی رکھتی ہے ۔ یہ تو سرا سر دل دکھانے والی بات ہے ۔۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کیا صاحب فکر و شعور کو غم کے آداب بھی نہیں آتے ۔۔ کیا ان کواسلاف سے یہی تربیت ہے کہ جب پوری فضا سوگوار ہو اور غم حسین سے بوجھل ہو ۔۔ اس موقع پر چمکیلے بھڑکیلے مبارکبادکے اشعار والے کارڈ ایک دوسرے کو بھیجے جائیں ۔
میں اکثر سوچتی ہوں کہ آخر ہم مسلمانوں ہی کو کیوں حضرت امام حسین علیہ السلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لیئے دلیل کی ضرورت رہتی ہے ۔۔ جبکہ میرے خیال میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی کو ثابت کرنے کے لیئے یا حضور سے ان کی نسبت کی دلیل کے لیئے یا حضرت امام حسین علیہ السلام کو اولاد علی اور فاطمہ ہونے کے لیئے کسی دلیل اور حوالے کی کوئی ضرروت ہے اور نہ ہی اس کو سمجھنے کے لیئے عالم قران ، مفسر ، محدث یا تریخ داں ہونا ضروری ہے بلکہ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ایک سچے کلمہ گو کی عینک سے اس صورتحال کو دیکھا جائے ۔۔
جہاں تک حضرت امام حسین علیہ السلام اور یزید کے کردار کاتعلق ہے اس کا آپس میں مقابلہ کرنا بھی جہالت ہے ۔ آپ کو اس مسلے کے حل کے لیئے ایک سادہ سی ترکیب بتاتی ہوں جس میں کسی مسالک میں جائے بغیر آپ خود یزید کو باعث دشنام سمجھیں گے ۔۔ بس ایک کام کیجئے کاغذ کے ایک صفحے پر ایک طرف حضرت امام حسین علیہ السلام کا نام لکھئے اور ایک طرف یزید کا نام لکھئے ۔ پھر ایک طرف حضرت امام حسین علیہ السلام کے والد کا نام ،ماں کا نام ، نانا کا نام اور دادا کا نام لکھئے اور اسی طرح یزید کے ماں باپ اور نانا دادا کا نام لکھئے اور اگر آپ چاہے تو اس سے آگے بھی لکھتے جایئے ۔۔ جواب آپ کو وہی ملے گا جو تین مراحل کے لکھنے کے بعد ہو گا ۔ بس حق کا اور ناحق کا فیصلہ کسی ایک عام سی دلیل پر ہو جائے گا ۔۔ جس کے لیئے کسی قرانی آیات ، کسی حدیث اور کسی ہزار جلدی کتاب کی ضرورت نہیں ۔
یہاں ضروت صرف عقل کی ہے ۔۔۔ ورنہ آج ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جوکربلا کی جنگ کو دو شہزادوں کی جنگ کہتے ہیں یا دو خاندانوں کی دشمنی کہتے ہیں اور جو آج دوہزار نو میں بھی ٹی وی پر آ کر یزید کو خلیفہ المسلمین اور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ۔
میں کسی شعیہ گھرانے میں نہیں بلکہ اہل سنت گھر میں پید اہوئی ہوں اور مجھے اپنے حسب نسب پر فخر ہے ۔ اور میں ہمیشہ سے یہی کہتی ہوں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام سمیت ساری اہل بیت شعیوں کی وراثت نہیں ہے اور یہ بھی کہتی ہوں کہ وہ تو مسلمانوں کی وراثت بھی نہیں ہیں بلکہ حضرت امام حسین علیہ السلام تو رب العلمین اور رحمت العلمین کی طرح ان کی قربانی سارے عالمین کے لئے ہیں ۔ اسی لئے دلیل کے طور پر اس بات کو کہہ رہی ہوں کہ کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ ہم حضرت امام حسین علیہ السلام کو بھی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہیں اور یزید کو بھی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔۔۔ ؟
اس موقع پر مجھے بابا (جناب صفدر ہمدانی ) کے کالم کے لکھے ہوئے کچھ جملے یاد آرہے ہیں کہ “ ہم وہ ظالم لوگ ہیں کہ ہم نے نبی پاک کی اس خاتون جنت بیٹی کو شعیوں کے حصے میں ڈال دیا جن کے آنے پر حضور اٹھ کر کھڑے ہو جایا کرتے تھے ، جن کے لیئے انہوں نے فریا کہ فاطمہ میرے دل کا ٹکڑ اہے اور جس نے فاطمہ کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ کو دکھ پہنچایا ۔
ہم نے باب شہر علم حضرت علی کو شعیوں کے کھاتے میں ڈال دیااور سوچ لیا کہ جیسے وہ صرف شعیوں کے مولا ہیں ۔۔ ارے یہ وہی مولا ہے جنہیں “مولا “ نبی پاک نے کہا تھا اور “ غدیر خم “ میں پہلی مبارکباد خلیفہ وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مبارک باد کے یہ الفاظ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں کہ انہوں نے کہا:
”بخٍ بخٍ لک یا بن اٴبِي طالب اٴصبحتَ وَاٴَمسیتَ مولاي و مولاکُلّ موٴمن و موٴمنہ “
ترجمہ
”مبارک ہو ! مبارک ! اے فرزند ابو طالب کہ آپ میرے اور تمام صاحبان ایمان مردوں اورعورتوں کے مولا اور رہبر ہوگئے“
اور جنہوں نے ایک مقام پر یہ بھی فرمایا کہ علی نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو جاتا ۔
ظلم کی انتہا دیکھئے ہم نے حسن اور حسین کو شعیوں کے لیئے رکھ دیا ۔۔ اور کبھی یوں لگتا ہے جیسے حضرت علی اولاد علی اور اہل بیت کو ایک معنی میں جیسے شعیوں نے یرغمال بنالیا ہے ۔ اسی طرح حضور کے زیادہ تر صحابہ اور زیادہ تر ازواج اہل سنت کے ہاں معروف ہیں ۔ گویا شاید ہم مسلمانوں نے نہیں بلکہ ہم مسلمانوں میں صدیوں کی ملوکیت اور آمریت نے اللہ کے نبی کو تقسیم کیا ۔۔ ان کی اولاد کو تقسیم کیا ۔۔ ان کے ازدواج کو تقسیم کیا ۔۔ ان کے اصحاب کو تقسیم کیا ۔۔
اور بابا نے اپنے کالم کے آخر میں لکھا تھا کہ ان تمام باتوں کے باوجود ہم پردگار سے اس کی رحمت اور مغفرت کے خواں ہیں تو کیا یہ اللہ کے رحیم ہونے اور غفور ہونے کا امتحان نہیں ؟ “
غور سے دیکھیں تو مسالک کے تفرقے نے ہم سب کو بانٹ ڈالا ہے ۔۔ ایک دوسرے کا احترام تک مٹا ڈالا ہے ۔۔ اب یہی دیکھئے کہ ہمارے اسلام میں ہجری سال کا آغازاور اختتام دونوں قربانی پر ہوتا ہے ۔۔
کیا نئے سال کے آغاز پر مبارک دینا حکم قرآن یا حدیث ہے؟
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم آج سے نئے ہجری سال کے آغاز پر ایک دوسرے کومبارکباد کی بجائے دعائیں بھیجا کریں اور ایک دوسرے کو لکھیں ۔۔ کہ اسلامی سال کا آغاز اس درس کی یاد دہانی ہے کہ اپنے عہد کے یزید کو پہچانیں یا پھر کچھ ایسا لکھیں کہ “آؤ خود میں فکر حسینی پیدا کریں اور حق کو حق کہنا سیکھیں “ ۔
آج تو بس کچھ مسلمانوں کی بے حسی پر یہی جی چاہتا ہے کہ چیخ چیخ کر زمین اور آسمان کو سر پر اٹھا لوں اور ایک ایک کر کے ان سب سے پوچھوں کہ یہ جو ہندو اور سکھ جس “ حسین “ کو روتے ہیں آخر وہ حسین کون ہے ؟
کیا یہ وہی حسین ہے جو اللہ کے آخری نبی کا نواسہ ہے ؟
کیا یہ وہی حسین ہے جو خاتون جنت حضرت فاطمہ کے دل کا ٹکٹرا ہے ؟
کیا یہ وہی حسین ہے جو شیر خدا حضرت علی کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ؟
کیا یہ وہی حسین ہے جو کربلا کی شیردل خاتوں سیدہ ذینب کا بھائی ہے ؟
اگر میرے ان سوالوں کے جوابات اثبات میں ہیں تو پھر یہ کیسا طرفہ تماشا ہے کہ غیر مسلم تو اس محرم الحرام کے مہینے میں اس حسین کے لیئے روئیں اور کچھ مسلمان اسی حسین کی قربانی کے مہینے میں اپنے ہی مسلمان بہن بھائیوں کو “نئے ہجری سال کے آغاز کے خوشیوں بھرے مبارکبادوں کے پیغام کارڈ اور ایس ایم ایس میں بھیجیں ۔۔
دوستو ! پچھلے لگ بھگ دس سال سے شروع ہونے والی اس بدعت کو اگر آج یہی نہ روکا گیا اور اس کے خلاف “شعیہ سنی “ نہیں بلکہ ہم سب مسلمانوں نے مل کر کوئی تحریک نہ چلائی تو یقین کیجئے کہ وہ دن دور نہیں جب محرم کے آغاز پر یہی مسلمان اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو یہ مبارکبادیں موسیقی اور نغمات کی صورت میں بھی بھیجیں گے ۔۔
پاکستان جیسے ملک میں انگریزی سال کے شروع ہونے پر ہیپی نیویئر کی تقریبات کے خلاف تحریکیں چلتی ہیں اور اسلامی جماعتیں ڈنڈے کے زور پر بھی ایسی تقریبات کو روکتی ہیں ۔ میں حیران ہوں کہ یہ اسلامی جماعتیں اس وقت کس سانپ کے غا رمیں روپوش ہیں جنہیں اس مہینے کی حرمت کی پامالی نظر نہیں آتی ۔