|
واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین ۔واقعات و پس منظر ۔۔۔تیسری قسط
23.12.2009, 01:07am , بدھ (GMT+1)
عالمی اخبار
امام عالی مقام کی مدینہ سے روانگی
27 رجب 60 ہجری اتوار کی رات کو امام حُسین بن علی نے روضہ رسول کے مزار اقدس پر حاضری دی۔ امام بے حد اُداس تھے اور اپنے نانا سے استغاثہ بلند کرتے تھے۔ لوگوں نے ان کو مختلف مشورے دیے جسے امام نے خاموشی سے سُنا۔ امام نے جواب میں کہا کہ انہوں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب مدینہ کو خیر آباد کہہ دیا جائے کیونکہ یہ اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔ اور وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ان کا خون اس سرزمین پر گرے۔ آخر امام نے طے کیا کہ مکہ کی طرف روانہ ہوا جائے اور وہاں کے حالات کا جائزہ لیا جائے۔
یٰا اُمّٰاہُ وَ اَنَا اَعْلَمُ اِنّی مَقْتُوْلٌ مَذْبُوحٌ ظُلْمًا وَ عُدْوٰانًا وَ قَدْ شٰاءَ عَزَّوَجَلَّ اَنْ یَرٰی حَرَمی وَ رَھْطی مُشَرَّدینَ وَ اَطْفٰالی مَذْبُوحینَ مَأْسُورینَ مُقَیَّدینَ وَھُمْ یَسْتَغیثُونَ فَلاٰ یَجِدُونَ نٰاصِرًا۔۔
: راوندی، بحرانی اور دیگر محدثین نقل کرتے ہیں کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہٴ محترمہ ”ام سلمیٰ“ حضرت امام حسینں کے ارادے سے آگاہ ہوئیں تو فوراً امام کے پاس پہنچیں اور فرمانے لگیں: ﴿لا تَحْزَنی بِخُرُوْجِکَ اِلَی الْعِرٰاقِ۔۔۔﴾ (اے فرزند رسول! عراق کی طرف سفر اختیار فرما کر مجھے غمگین نہ کریں اس لئے کہ میں نے آپ کے جد امجد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ ”میرا فرزند حسین عراق کی سرزمین میں کربلا کے مقام پر شہید کر دیا جائے گا۔“ امام حسین نے حضرت ام سلمیٰ کے جواب میں فرمایا: ﴿یٰا اُمّٰاہُ وَ اَنَا اَعْلَمُ اِنّی مَقْتُوْلٌ مَذْبُوحٌ ظُلْمًا ۔۔۔۔۔﴾ ”(اے مادر گرامی! یہ خیال نہ کریں کہ فقط آپ ہی اس موضوع سے باخبر ہیں کہ) میں آپ سے بہتر جانتا ہوں کہ ظلم و ستم اور عداوت و کینہ توزی کی انتہائی حدود پر میں شہید کر دیا جاؤں گا اور میرا سر تن سے جدا کر دیا جائے گا۔ خدا کی یہی منشاء ہے کہ میرے فرزند شہید کر دیئے جائیں اور میرے اہل بیت اور میرے اہل حرم اسیر بنا لیے جائیں اور انہیں زنجیروں میں جکڑ دیا جائے۔ ان کے استغاثوں کی صدائیں بلند ہوں لیکن کوئی ان کی مدد کرنے والا اور فریاد رس نہ ہو۔“
وصیت امام حُسین بن علی
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ ھٰذٰا مٰا اَوْصٰی بِہِ اَلْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ اِلٰی اَخیہِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّةِ اَنَّ الْحُسَیْنَ یَشْھَدُ اَنْ لاٰ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاٰ شَریکَ لَہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ جٰاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِہِ وَاَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَ النّٰارَ حَقٌّ وَ السّٰاعَةَ آتِیَةٌ لاٰ رَیْبَ فِیْھٰا وَاَنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ وَ اِنّی لَمْ اَخْرُجْ اَشَرًا وَلاٰ بَطَراً وَلاٰ مُفْسِدًا وَلاٰ ظٰالِماً وَ اِنَّمٰا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلاٰحِ فی اُمَّةِ جَدّی (ص) اُریدُ اَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ اَنْھٰی عَنِ الْمُنْکَرِ وَ اَسِیْرَ بسیرَةِ جَدّی وَ اَبی عَلَیِّ بْنِ اَبیطٰالِبٍ فَمَنْ قَبِلَنی بِقَبُولِ الْحَقِّ فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِالْحَقِّ وَمَنْ رَدَّ عَلَیَّ ھٰذٰا اَصْبِرُ حَتّٰی یَقْضِیَ اللّٰہُ بَیْنی وَ بَیْنَ الْقَوْمِ وَ ھُوَ خَیْرُ الْحٰاکِمینَ وَ ھٰذِہِ وَصِیَّتی اِلَیْکَ یٰا اَخی وَمٰا تَوْفیقی اِلاّٰ بِاللّٰہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ اِلَیْہِ اُنیبُ
: امام نے مدینے سے مکہ کی طرف روانگی کے وقت یہ وصیت نامہ لکھا، اس پر اپنی مہر ثبت کی اور اپنے بھائی محمد حنفیہ کے حوالے کیا۔ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ وصیت حسین ابن علی کی طرف سے بھائی محمد حنفیہ کے نام۔ حسین توحید و یگانگت ِپروردگار کی اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ خداد کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد خدا کے عبد اور اس کے رسول ہیں اور آپ آئین حق (اسلام) خدا کی طرف سے لوگوں کے لئے لائے ہیں اور یہ کہ بہشت و دوزخ حق ہے۔
روزِ جزا بغیر کسی شک کے وقوع پذیر ہوگا اور خداوند عالم تمام انسانوں کو اس دن دوبارہ زندہ کرے گا“۔ امام نے اس وصیت نامے میں توحید و نبوت و معاد کے بارے میں اپنا عقیدہ بیان کرنے کے بعد اپنے سفر کے مقاصد اس طرح بیان فرمائے: ”میں خود خواہی یا سیر و تفریح کے لئے مدینہ سے نہیں نکل رہا اور نہ ہی میرے سفر کا مقصد فساد اور ظلم ہے بلکہ میرے اس سفر کا مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ اپنے اس سفر کے دوران امت کے مفاسد کی اصلاح کروں۔ اپنے جد امجد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قوانین اور ان کی سنتوں کو زندہ کروں اور اپنے پدر بزرگوار علیں کا راستہ اور ان کا طرز عمل اپناؤں۔ پس جو شخص یہ حقیقت قبول کرتا ہے (اور میری پیروی کرتا ہے) اس نے گویا راہ خداد کو قبول کیا اور جو شخص بھی میرے اس ہدف اور میری اس آرزو کو رد کرتا ہے (میری پیروی نہیں کرتا) میں صبر و استقامت کے ساتھ اپنا راستہ اختیار رکھوں گا یہاں تک کہ خداوند عالم میرے اور ان افراد کے درمیان فیصلہ کرے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا اور حاکم مطلق ہے۔ بھائی یہ میری وصیت آپ کے لئے ہے اور خداوند تعالیٰ سے توفیق کا طلبگار ہوں اور اسی پر توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف میری بازگشت ہے“۔
چناچہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ جس میں حرم رسول بھی شامل تھا ۲۸ رجب کی رات کو امام مکہ کی جانب روانہ ہوئے۔ گورنر مدینہ ولید نے کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی نہیں کی اور اپنے آپ کو الگ رکھا۔ امام حُسین بن علی کے بڑے بھائی محمد بن حنفیہ ساتھ نہیں گئے۔ امام حُسین بن علی نے اپنی وصیت ان کے حوالے کی اور باقی انتظام سمجھایا۔ امام عالی مقام مدینہ سے روانگی کے وقت یہ الفاظ دہرا رہے تھے
فَخَرَجَ مِنْھٰا خَائِفاً یَتَرَقَّبُ قٰالَ رَبِّ نَجِّنی مِنَ الْقَوْمِ الظّٰالِمینَ۔۱ ترجمہ: ”موسیٰ خوف و ہراس کی حالت میں مصر سے نکلتے وقت کہہ رہے تھے خدایا! مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات بخش“۔ لاٰ وَ اللّٰہِ لاٰ اُفٰارِقُہُ حَتّٰی یَقْضِیَ اللّٰہُ مٰا ھُوَ قٰاضٍ۔ ۲ ”خدا کی قسم میں ہرگز اپنے مشن کو ترک نہیں کروں گا۔ حتیٰ کہ خداوند عالم د نے جو فیصلہ میرے حق میں کیا ہے وہ پورا نہیں ہو جاتا“۔
عقبہ بن سمن کہتا ہے ہم مکہ کی طرف نکلے اور شاہراہ عام پر سفر کرنا شروع کیا۔ کسی نے امام کو مشورہ دیا کہ آپ بھی ابن زبیر کی طرح غیر معروف راستہ اختیار کر لیں تو لوگ آپ کو نہیں پکڑ سکیں گے۔ امام نے کہا کہ واللہ جب تک اللہ (جل جلالہ) کی مشیت یہی ہے میں راستہ نہیں بدلوں گا۔ راستے میں عبداللہ بن مطی عدوائی سے ملاقات ہوئی تو اس نے مشورہ دیا کہ آپ مکہ ضرور جائیں لیکن خدارا کوفہ کا ارادہ نہیں کیجئے گا کیونکہ وہ ایک بدقسمت شہر ہے۔ آپ کے والد بھی وہیں شہید کئے گئے تھے۔ اور آپ کے بھائی کو تنہا چھوڑ دیا گیا تھا حتیٰ کہ ان پر بھی قاتلانہ حملہ کوفہ میں ہوا جس میں ان کی جان جاتی جاتی بچی تھی۔ آپ مکہ معظمہ میں قیام کریں۔ کیونکہ آپ بےمثال حیثیت اور منصب رکھتے ہیں۔ تمام لوگ آپ کے پاس ہر طرف سے نصرت کیلئے آئیں گے۔ اُس سرزمین سے ہرگز نہ کوچ کیجئے گا۔ میرے والدین آپ پر قربان ہوں۔ اگر آپ نہ رہے تو ہم سب غلام بن جائیں گے۔ "
امام حُسین کی مکہ آمد
امام منزلیں طے کرتے ہوئے جمعہ کی شب ۳ شعبان کو مکہ معظمہ میں پہنچے۔ امام نے شعبان ، رمضان ، شوال ، ذوالحج تک وہیں قیام کیا۔ حتیٰ کہ ۹ ذوالحج کو لوگ دور دور سے عمرہ اور حج کیلئے مکہ پہنچنے لگے۔ ابن زبیر نے اپنا ڈیرہ کعبہ شریف کے قریب لگایا اور وقتا فوقتا امام کے پاس آنے لگا۔ کبھی دو دن میں کبھی ایک دن میں دو دو دفعہ ۔ اور ان کی مکہ میں موجودگی کو نہایت بابرکت قرار دیتا تھا۔ کیونکہ امام حُسین بن علی کی موجودگی کی وجہ سے لوگ ابن زبیر کی بیعت نہیں کر سکتے تھے۔ ابن زبیر کو یہ بات بہت چبھ رہی تھی اور وہ چاہتا کہ کسی طرح امام یہ شہر چھوڑ جائیں لیکن یہ بات کرنے کا اُس میں حوصلہ نہیں تھا۔ یہ بات پھیل چکی تھی کہ ابن زبیر اور امام حُسین بن علی نے بیعت سے انکار کر دیا ہے اور حکومت کے خلاف ہو گئے ہیں۔
کوفیوں کی سرگرمیوں کا آغاز
ان باتوں کا کوفہ کے شیعوں پر اثر ہوا اور ان لوگوں نے سلیمان بن صراد خضائی کے گھر مُلاقاتیں شروع کیں۔ اور امام حُسین بن علی کی بیعت کرنے کا عزم کیا۔ دھوں دار تقریریں شروع ہو گئیں اور امام حُسین بن علی کو خطوط کا تانتا بندھ گیا۔ اس وقت ہمارا کوئی امام نہیں ہے۔ واللہ آپ ہماری طرف آئیں اور ہماری سرپرستی کریں۔ تاکہ آپ کی بیعت کر کے ہم سُرخرو ہو سکیں۔ اب ہم کوفہ کے گورنر نعمان بن بشیر کے ساتھ اکھٹے نہیں ہوتے نماز کیلئے۔ اگر ہمیں آپ کے آنے کا یقین ہو جائے تو ہم اس کو شام بھگا دیں۔ یہ خط عبداللہ بن ہمدانی اور عبداللہ بن ولی تمیمی کے ہاتھ بھیجا گیا۔ ۱۰ رمضان کو یہ خط امام عالی مقام کو ملا۔ دو دن کے بعد قیس بن مشیر سداوی ، عبد الرحمٰن بن عبداللہ بن قدن ارہابی اور عمرہ بن عبید سلولی امام کے پاس ۱۵۰ خطوط لے کر پہنچے۔ کچھ ہی عرصے میں کثیر تعداد میں خطوط اکھٹے ہوگئے جن کی تعداد ہزاروں میں پہنچ گئے۔ ایک ہی مطالبہ ہو رہا تھا کہ ہمارا کوئی امام نہیں ہے آپ فورا پہنچیں۔ آخر امام نے ان کو پہلا خط لکھا ۔۔۔۔
"میں نے تمہارے خط پڑھے اور تمہارے سفیر مجھ تک پہنچے اور میں نے تمہار ا مطالبہ سنا۔ میں اپنا بھائیوں جیسا چچا زاد تمہاری طرف بھیج رہا ہوں۔ جس کو ہمارا اعتماد حاصل ہے۔ یہ وہاں پہنچ کر مجھے وہاں کے حالات سے آگاہ کرے گا۔ اگر اس نے مجھے یہ بتایا کہ تم لوگ اپنے قول کے پکے ہو اور دعٰووں میں سچے ہو تو میں تمھاری طرف آ جاوں گا۔ اس کے ہاتھ پر بیعت کرو میرا ہاتھ سمجھ کے۔ امام کا کام کتاب اللہ کے مطابق چلنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ انصاف کو بلند رکھنا، اور سچائی اور حق کو سامنے رکھنا ہے۔ والسلام حُسین بن علی۔۔۔۔۔۔جاری ہے
بشکریہ۔قمر بخاری۔القلم۔
|