|
واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین ۔واقعات و پس منظر ۔۔۔چوتھی قسط
24.12.2009, 01:04am , جعمرات (GMT+1)
عالمی اخبار
جناب مسلم بن عقیل کی کوفہ روانگی
امام کا خط لے کر امام کے چچا زاد بھائی حضرت مُسلم بن عقیل کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اُن کے ساتھ قیس بن مشیر سدوائی ، عمرہ بن عبید اور عبدالرحمٰن بن عبداللہ بھی روانہ ہوئے۔ دو آدمیوں کو حاصل کیا گیا تھا جو کہ کوفے کے راستے سے واقف تھے جو کہ عام شاہراہ سے ہٹ کر تھا۔ بدقسمتی سے دونوں آدمی راستہ بھول گئے اور پیاس کی شدت سے ہلاک ہوگئے۔ حضرت مُسلم بن عقیل بڑی مشکلوں سے ایک نخلستان تک پہنچے جس کا نام وادی خبیط تھا۔ اور ان کی جان بچ پائی۔ جناب مُسلم نے ایک خط لکھا اور امام کو تمام واقعات سے آگاہ کیا۔ اور اس واقعہ کو بُری نشانی سمجھتے ہوئے امام سے واپس آنے کی اجازت طلب کی۔ لیکن امام نے جواب میں لکھا کہ جو کام آپ کے ذمے سپرد کیا گیا ہے وہ ہر صورت میں انجام دیں اور اللہ کی مدد پر توکل رکھیں۔ چناچہ امام کا حکم پاتے ہی مُسلم بن عقیل نے اپنا سفر کوفہ کی جانب دوبارہ شروع کیا۔ اور کوفہ پہنچ گئے۔ کوفہ میں جناب مُسلم بن عقیل نے اپنا قیام مختار ثقفی کے گھر کیا۔ لوگ ان کے ملنے آتے تو جناب مُسلم امام حسین کا خط ان کو پڑھاتے۔ لوگ جذباتی ہو کر رونے لگتے۔ عابس بن ابی شبیب شاکری اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک تقریر کی۔ "میں لوگوں کے بارے میں تو کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن اپنی ضمانت دیتا ہوں کہ میں اپنی جان ابن رسولؐ اللہ کی خاطر قربان کر دوں گا۔ ان کی خاطر لڑوں گا۔ میں اس کا اجر کسی سے کچھ نہیں چاہتا سوائے رضا الہی کے۔" ان کے بعد جناب حبیب ابن مظاہر نے عابس کے جزبات کی تعریف کی اور ان کی موقف کی بھرپور تائید کی۔ ال حنفی نے بھی یہی الفاظ دھرائے۔ لوگوں کا آنا جانا بڑھا تو یہ جگہ نظروں میں آگئی۔
گورنر کوفہ نعمان بن بشیر کا خطاب
کوفہ کے گورنر نعمان بن بشیر کو جب ان حالات کا پتہ چلا تو اس نے مجمع عام سے خطاب کیا۔ " خُدا کی حمد و ثنا کے بعد۔ لوگوں نقص امن اور نافرمانی کرنے میں جلدی نہ کرو۔ کیونکہ اس میں انسانوں کی تباہی اور تمھارا قتل چھپا ہوا ہے۔ اس میں جائدادوں کی ضبطی اور مکانوں کی تباہی ہے۔ میں اس کے خلاف نہیں لڑوں گا جو کہ میرے خلاف نہیں لڑے گا۔ میں اسے نہیں چھیڑوں گا جو مجھے نہیں چھیڑے گا۔ میں لوگوں کو صرف شک و شبہے کی بنیاد پر گرفتار نہیں کروں گا۔ لیکن اگر مجھے تمھارے بارے میں پتہ چل گیا کہ تم نے اپنے امیر یزید کی بیعت توڑی ہے تو پھر میں تم پر اپنی تلوار کی کاٹ آزماوں گا جب تک وہ میرے ہاتھ میں ہے۔ مجھے امید ہے کہ تم میں وہ لوگ زیادہ ہوں گے جو کہ حالات کو سمجھ سکتے ہیں بہ نسبت ان لوگوں کے جو مفت میں اپنی جانیں گنوا دیں گے۔ " اس موقعہ پر بنو امیہ کا ایک فرد عبداللہ بن مسلم بن حدرامی کھڑا ہوا اور بولا "اے گورنر، یہ مسئلہ تشدد کے بغیر حل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ تمہارے الفاظ تمہاری کمزوری کو ظاہر کر رہے ہیں۔ " نعمان نے جواب دیا، "میں کمزور رہنا پسند کرتا ہوں کیونکہ اللہ (جل جلالہ) کی فرمابرداری نہیں چھوڑ سکتا۔ بہ نسبت کہ طاقتور کہلاوں اور اس کے بدلے اللہ (جل جلالہ) کا نافرمان بن جاوں۔" یہ کہہ کر نعمان منبر سے نیچے اتر آیا۔ عبداللہ بن مسلم نے یہ حالات یزید بن معاویہ کو لکھ بھیجے۔ اس نے لکھا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ حالات تمہارے قابو میں رہیں تو ایک جابر آدمی کو کوفہ بھیجو۔ نعمان بن بشیر کمزوری دکھا رہا ہے اور لوگ جوق در جوق مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر امام حُسینؑ بن علیؑ کی بیعت کر رہے ہیں۔ ایک وقت آئے گا کہ کوفہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔" یہ پہلا خط تھا جو کہ یزید کو موصول ہوا۔ کچھ مزید خط بھی موصول ہوئے۔
کوفہ کا نیا گورنر عبید اللہ ابن زیاد یزید بن معاویہ نے صلاح مشورے کے بعد ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر بنانے کا فیصلہ کیا۔ عبید اللہ بن زیاد اور یزید بن معاویہ کی آپس میں ان بن ہوئی ہوئی تھی۔ لیکن یزید بن معاویہ نے مناسب سمجھا کہ اسی کو کوفہ کا گورنر فائز کرے۔ چناچہ اس نے تقرر نامہ عبید اللہ بن زیاد کو بھیج دیا۔ اس میں واضع طور پر یزید بن معاویہ نے لکھا کہ ہر حالت میں مسلم بن عقیل کو تلاش کرو اور قتل کردو۔ عبید اللہ بن زیاد اس وقت بصرہ کا گورنر تھا۔
امام حسین کا خط بصرہ کے لوگوں کے نام
طبری نقل کرتے ہیں : مکہ داخل ہونے کے بعد امام نے قبائل بصرہ کے مختلف سرداروں مثلاً (مالک بن مسمع بکری، مسعود بن عمرو، منظر بن جارود وغیرہ) کے نام خط لکھا جس کا متن درج ذیل ہے اَمّٰا بَعْدُ۔ فَاِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی مُحَمَّدً (ص) مِنْ خَلْقِہِ وَ اَکْرَمَہُ بِنُبُوَّتِہِ وَاخْتٰارَہُ لِرِسٰالَتِہِ ثُمَّ قَبَضَہُ اِلَیْہِ وَقَدْ نَصَحَ لِعِبٰادِہِ وَ بَلَغَ مٰا اُرْسِلَ بِہِ (ص) وَ کُنّٰا اَھْلَہُ وَ اَوْلِیٰائَہُ وَ اَوْصِیٰائَہُ وَ وَرَثَتَہُ وَ اَحَقَّ النّٰاسِ بِمَقٰامِہِ فِی النّٰاسِ فَاسْتَأُثَرَ عَلَیْنٰا قَوْمُنٰا بِذٰلِکَ فَرَضینٰا وَ کَرِھْنَا الْفُرْقَةَ وَ اَحْبَبْنَا الْعٰافِیَةَ وَ نَحْنُ نَعْلَمُ اَنّٰا اَحَقُّ بِذٰلِکَ الْحَقِّ الْمُسْتَحَقِّ عَلَیْنٰا مِمَّنْ تَوَلاّٰہُ وَقَدْ بَعَثْتُ رَسُولی اِلَیْکُمْ بِھٰذَا الْکِتٰابِ وَ اَنَا اَدْعُوکُمْ اِلٰی کِتٰابِ اللّٰہِ وَ سُنَّةِ نَبِیِّہِ فَاِنَّ السُّنَّةَ قَدْ امْیِتَتْ وَ الْبِدْعَةَ قَدْ اُحْییَتْ فَاِنْ تَسْمَعُوا قَوْلی اَھْدِکُمْ اِلٰی سَبیلِ الرَّشٰادِ وَ السَّلاٰمُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰہِ وَ بَرَکٰاتُہُ۔۱ : اما بعد۔ خداوند عالم نے حضرت محمدؐ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کو لوگوں میں سے چنا اور انہیں امر نبوت اور بزرگی بخشی اور رسالت کے لئے منتخب فرمایا۔ پھر جب آنحضرت نے اپنا پیغمبری فریضہ بخیر و خوبی انجام دیا اور آپ بندگان خدا کی ہدایت و راہنمائی فرما چکے تو خدا نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ ہمارا خاندان اولیاء اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارثوں اور امت کے شائستہ ترین افراد کا خاندان تھا اور امت رسول کے درمیان ممتاز ترین خاندانوں میں شمار ہوتا تھا لیکن ایک گروہ ہم پر سبقت لے گیا اور اس نے یہ حق ہم سے چھین لیا اور ہم نے بھی یہ جانتے ہوئے کہ ہم اس گروہ پر بھاری رہیں گے۔ شائستگی کی بنیاد پر امت کو ہر قسم کے فتنے، نفاق اور پریشانی و پراگندگی سے بچانے اور بیرونی دشمن کو تسلط سے باز رکھنے کی خاطر، رضا و رغبت سے خاموشی اختیار کی اور مسلمانوں کے آرام و سکون کو اپنے حق پر مقدم سمجھا۔ البتہ اب میں اپنا نمائندہ تمہاری طرف بھیج رہا ہوں۔ تمہیں کتاب خدا اور سنت رسول کی دعوت دیتا ہوں اس لئے کہ اس وقت ہم ایسے حالات سے گزر رہے ہیں کہ سنت ِرسول ختم ہو چکی ہے اور اس کی جگہ بدعت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ اگر تم نے میری اس دعوت پر لبیک کہی تو میں تمہیں خوش بختی اور سعادت کی طرف ہدایت کروں گا۔ خدا کا درود، اس کی رحمتیں اور برکتیں تم پر ہوں۔
امام نے یہ خط اپنے ایک دوست سلیمان کے توسط سے بصرہ بھیجا۔ سلیمان بصرہ میں اپنا فریضہ انجام دینے (امام کا خط پہنچانے) کے فوراً بعد گرفتار ہوگئے۔ ابن زیاد نے کوفہ کی طرف روانہ ہونے سے پہلے ان کی پھانسی کا حکم صادر کر دیا۔ اس خط میں امام نے بصرہ کے لوگوں کو حق کی دعوت دیتے ہوئے غیر اسلامی حالات سے نبرد آزمائی کے سلسلے میں اہل بیت کا موقف بیان کیا۔ موضوع خلافت، اسلامی راستے سے حکمرانوں کے ہٹ جانے کا ذکر کیا اور اہم اور مہم کا موازنہ کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ کس طرح اہم، مہم پر مقدم ہوتا ہے۔ پھر امام نے خاندان عصمت و طہارت کی خاموشی اور صبر کا تذکرہ کیا کہ ایک خاص دلیل کی بناء پر اور مخصوص حالات کی روشنی میں خاندان عصمت و طہارت نے سکوت اختیار کیا تھا اور پھر ساتھ ساتھ اپنے مسلح قیام کی وضاحت فرمائی کہ اب اگر ان حالات میں مسلح جدوجہد کی بجائے سکوت اختیار کیا جائے تو کیا اثرات مرتب ہوں گے چنانچہ گذشتہ حالات میں اگر سکوت کی بجائے قیام کیا جاتا تو نہ صرف یہ کہ اس خونریزی کا کوئی نتیجہ نہ نکلتا بلکہ دشمنان دین اور منافقین کو اس قیام سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل جاتا۔ ﴿فَرَضینٰا وَ کَرِھْنَا الْفُرْقَةَ﴾ اور یہی وجہ تھی کہ ہم ان دنوں خاموش رہے۔ اپنے گھر کے دروازے خود اپنے اوپر بند کر دیئے اور اس طرح ہم نے فتنوں کو دبایا اور خطرناک ترین حالات کو قابو میں رکھا۔ مسلمانوں کو رہنمائی اور تبلیغات کے ذریعے ترقی کی طرف رواں دواں کیا لیکن اب ایک نیا مرحلہ آن پہنچا ہے۔ اسلام کے منحرف ہو جانے کا خطرہ نہیں بلکہ اسلام کے نابود ہونے کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ ﴿فَاِنَّ السُّنَّةَ قَدْ امْیتَتْ وَ الْبِدْعَةَ قَدْ اُحْیِیَتْ﴾ قانون پیغمبر کو ختم کیا جا رہا ہے اور اس کی جگہ پر بدعتیں زندہ کی جا رہی ہیں۔ ان حالات میں ظلم و فساد کے خلاف جدوجہد ضروری ہے یعنی اگر اس جدوجہد میں امت کے پاک ترین افراد کا خون بھی بہہ جائے تو نہ فقط یہ کہ دشمن اس سے نفع نہیں اٹھا سکے گا بلکہ اس کے بہترین نتائج ظاہر ہوں گے اور اسلام پھیلے پھولے گا۔
عبید اللہ بن زیاد کی کوفہ آمد
عبید اللہ ابن زیاد اپنے اہل و عیال اور ساتھیوں عمر بہلی ، شارق بن عور حریثی کے ساتھ بصرہ سے نکلا اور کوفہ کے لئے روانہ ہوا۔ جب وہ کوفہ پہنچا تو اس نے سیاہ قبا زیب تن کی ہوئی تھی اور چہرہ پر نقاب اوڑھا ہوا تھا۔ ان لوگوں نے جنہوں نے امام حُسینؑ بن علیؑ کی آمد کی خبر سنی ہوئی تھی ان کی انتظار میں تھے۔ جب عبید اللہ ابن زیاد وہاں پہنچا تو لوگ سمجھے امام حسینؑ تشریف لے آئے ہیں۔ لوگوں نے شاندار استقبال کیا اور پورا کوفہ مرحبا کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ "یا ابن رسولؐ اللہ خوش آمدید آپ کی آمد مبارک ہو۔ " ابن زیاد کو لوگوں کے اس رویے سے سخت تکلیف ہوئی۔ ابن زیاد اپنی درشتی اور سختی کی وجہ سے مشہور تھا۔ یہ اس کو اپنے آباواجداد سے وراثت سے ملی تھی۔ جب کہ اس کی ماں گانے بجانے اور شکار کی وجہ سے مشہور تھی۔ ابن زیاد غصے سے بھر گیا لیکن اس نے اپنا نقاب نہیں اتارا جب تک وہ دارالامارہ دربار تک نہیں پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے اپنا نقاب الٹا، لوگ یہ دیکھ کر سخت مایوس ہوئے کہ امام عالی مقام کی جگہ ابن زیاد برامد ہوا۔ ابن زیاد نے لوگوں کو متوجہ کیا اور نماز کے خطبے کے بعد اس نے مجمع عام سے خطاب کیا۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے
بشکریہ۔قمر بخاری۔القلم۔
|