16.10.2026, 01:24am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز
 

واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین ۔واقعات و پس منظر ۔۔۔پانچویں قسط
29.12.2009, 08:03am , منگل (GMT+1)

عالمی اخبار
ابن زیاد کا کوفیوں سے خطاب


"بعد حمد اللہ (جل جلالہ) ، امیرالمومنین یزید بن معاویہ نے مجھے تمھارا حاکم منتخب کیا ہے۔ تمھاری سرحدوں کی حفاظت میرے ذمے ہے۔ اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ ان لوگوں سے اچھا سلوک کروں کہ جو اطاعت میں ہیں۔ اور ان سے بےحد سختی کروں کہ جو باغی ہیں۔ میں اس کے حکم کے تابع ہوں اور یہ حکم پورا کرنے والا ہوں۔ میں ہر اطاعت گزار کے ساتھ ایک شفیق باپ جیسا سلوک رکھوں گا۔ لیکن اگر کسی نے میرے خلاف آواز تک اٹھائی تو میرا کوڑا اور تلوار اس کو جواب دے گی۔ لہذا اپنا بچاو خود کرو ، اطاعت گزاری تمھیں ایک سخت سزا سے بچا لے گی۔ " یہ کہہ کر عبید اللہ ابن زیاد منبر مسجد سے نیچے اتر آیا۔ ابن زیاد نے کوفہ میں جاسوسوں کا جال بچھا دیا۔ اس نے شہر میں آنے والے ہر نئے آدمی کی خبر اسے دینے کا حکم دیا۔ قبلیے کے سرداروں کو حکم ہوا کہ وہ یزید کے ساتھ وفاداریوں کے حلف نامے گورنر کو جمع کرائیں۔ تاکہ اگر بعد میں خلاف ورزی ہو تو ان کا قتل حکومت وقت کو معاف ہو۔ اگر کسی حکومتی اہلکار نے کسی باغی کے بارے میں معلومات چھپائیں تو اس کو اس کے گھر کے سامنے سولی پر لٹکا دیا جائے گا۔ اس کی تمام جائیداد بحق سرکار ضبط کر لی جائے گی۔ "

مسلم بن عقیل کی ہانی بن عروہ کے گھر منتقلی اتنے سخت احکامات کے بعد لوگوں میں سخت خوف و ہراس پیدا ہو گیا۔ لوگ ایک دوسرے کے سائیوں سے بھاگنے لگے۔ حکومتی اہلکاروں میں انعام کا لالچ اتنا زیادہ ہوا کہ وہ سب کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگے۔ حضرت مسلم بن عقیل نے جب یہ حالات دیکھے تو وہ جناب مختار ثقفی کے گھر سے جناب ہانی بن عروہ کے گھر منتقل ہو گئے۔ کیونکہ مختار ثقفی کا گھر سب کی نظروں میں آگیا تھا اور حکومتی اہلکار کسی وقت بھی چھاپا مار سکتے تھے۔ جب حضرت مسلم بن عقیل ہانی کے گھر پہنچے تو ہانی گھبرا گئے۔ جناب مسلم نے کہا کہ ہانی میں یہاں پناہ لینے کی غرض سے آیا ہوں اور تمہارا ہمسایہ بننے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ ہانی نے جواب دیا کہ آپ نے مجھ پر بہت بوجھ رکھ دیا ہے۔ اگر آپ کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو شائد میں انکار کر دیتا لیکن میرے گھر کے دروازے آپ پر بند نہیں ہوسکتے لہذا آپ بےخوف و خطر اندر تشریف لے آئیں۔ اب لوگوں نے جناب حضرت مسلم بن عقیل سے ہانی کے گھر ملنا شروع کیا۔ کچھ ہی دنوں میں 18000 لوگوں نے جناب حضرت مسلم بن عقیل کے ہاتھوں بیعت کی۔ لہذا اتنی تعداد کو کافی سمجھتے ہوئے جناب حضرت مسلم بن عقیل نے امام حُسین بن علی کو خط لکھا کہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے آپ کے نام پر میرے ہاتھوں بیعت کر لی ہے۔ آپ کو جیسے ہی میرا خط ملے فوراً تشریف لے آئیں۔ لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور وہ بنو امیہ سے نفرت کرتے ہیں۔ "


ابن زیاد نے اپنے ایک جاسوس معقل کو خاص طور پر حضرت مسلم بن عقیل کو ڈھونڈنے پر لگایا۔ معقل کافی ذھین شخص تھا۔ اس نے تین ہزار درھم لوگوں کو دکھانے شروع کئے اور اپنے آپ کو امام حسینؑ کا ماننے والا بتایا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ کاش مجھے حضرت مسلم بن عقیل جائیں تو میں یہ پیسے ان کے حوالے کر دوں۔ اس دوران اسے پتہ چلا کہ حضرت مسلم بن عوسجہ نے بھی امام حسین کی بیعت کر لی ہے۔ معقل ان کے پاس مسجد میں آیا اور بعد از نماز ان سے کہنے لگا کہ وہ شام سے آیا ہے اور اس کا دل اہلبیت رسول کی محبت میں اور ان کے چاہنے والوں کی محبت میں سرشار ہے۔ وہ اس سے تین ہزرا درھم لے لے اور اس شخص کو دے دے جو کوفہ میں آیا ہوا ہے اور لوگوں سے بیعت امام حسین لے رہا ہے۔ میں اس سے ملاقات کا متمنی ہوں۔ اے مسلم بن عوسجہ تمھارے بارے میں مجھے پتہ چلا ہے کہ تم اس کو جانتے ہو۔ اگر ایسا ہے تو مجھے اس کے پاس لے جاو تاکہ میں بھی بیعت کرسکوں۔ " مسلم بن عوسجہ نے اسے گول مول جواب دیا۔ لیکن جب اس نے ہر قسم کی تسلی ان کو کروا دی تو مسلم نے ان سے کہا کہ تم میرے گھر کچھ دنوں کے لئے آ جاو۔ اللہ (جل جلالہ) یقیناً اہلبیت رسول کو کامیابی دے گا۔ کافی دنوں تک معقل لوگوں سے ملتا رہا اور اپنا اعتبار مزید مستحکم کرتا رہا۔ کہ انہی دنوں جناب ہانی بن عروہ کی طبیعت ناساز ہو گئی۔


ابن زیاد پر حملہ کا موقع


عبید اللہ بن زیاد ہانی کی عیادت کرنے اس کے گھر آیا۔ عمرہ بن سلولی نے ہانی کو کہا کہ ہم لوگوں نے سوچا ہے کہ اس دشمن آل رسول کو ختم کردیں۔ اللہ (جل جلالہ) نے یہ اچھا موقعہ فراہم کیا ہے، اس کو مار ڈالتے ہیں۔ لیکن ہانی نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ابن زیاد ان کے گھر قتل ہو۔ لہذا ابن زیاد آیا اور چلا گیا۔ ایک ہفتہ اور گزرا تھا کہ شارق بن عور بیمار پڑا۔ ابن زیاد نے اسے پیغام بھیجا کہ شام کو وہ اس کے گھر آئے گا۔ شارق نے فوراً حضرت مسلم بن عقیل کو پیغام بھیجا کہ شام کو ابن زیاد اس کے گھر آرہا ہے۔ اس موقعہ سے فائدہ اٹھائیں اور اس کو مار ڈالیں۔ ہانی نے پھر اس بات کو ماننے سے انکار کیا کہ ابن زیاد کو ان کے گھر قتل کیا جائے۔ کیونکہ شارق بھی ان دنوں ہانی کے گھر پر ہی تھا۔ شام کو ابن زیاد آیا اور مسلم بن عقیل اس کو چھپ کر دیکھ رہے تھے۔ شارق انتظار کرتا رہا لیکن مسلم نے حملہ نہیں کیا۔ جب ابن زیاد واپس چلا گیا تو شارق نے تقریباً چلاتے ہوئے پوچھا کہ مسلم آپ نے یہ موقع کیوں گنوا دیا ؟ حضرت مسلم بن عقیل نے جواب دیا اس لئے کہ جن کا گھر تھا انہوں نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی۔ اور دوسری بات یہ کہ ہم اہلبیت رسول کبھی بھی حملے میں پہل نہیں کرتے۔ شارق کو اس بات کا نہایت افسوس ہوا کہ ایسا عمدہ موقع ہاتھ سے گیا۔ وہ بولا بیشک اگر آپ اسے قتل کر دیتے تو دنیا ایک گناہگار اور ناپاک انسان سے پاک ہو جاتی۔ " ادھر معقل آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنا رہا تھا۔ آخرکار اس کو حضرت مسلم بن عقیل سے ملوا دیا گیا جنہوں نے بیعت لی۔ معقل نے ان کی ساری باتیں ابن زیاد تک پہنچا دیں۔

ہانی بن عروہ کی گرفتاری

ابن زیاد نے حکومتی اہلکار اس کے گھر بھیجے انہوں نے ہانی سے پوچھا کہ تم اب گورنر سے ملنے کیوں نہیں آتے۔ ہانی نے بیماری کا بہانہ کیا۔ لیکن اہلکاروں نے کہا کہ تمہیں گورنر نے ابھی طلب کیا ہے۔ ہانی نے پریشان ہو کر اپنے بھتیجے حسن بن اسما بن خارجہ سے پوچھا، "واللہ مجھے اس شخص سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے، تمھارا کیا خیال ہے ؟" "چچا آپک کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ پر الزام کیوں آئے گا جبکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ بےگناہ ہیں۔ " بہرحال یہ لوگ ابن زیاد کے پاس پہنچے۔ ابن زیاد نے سر اٹھایا اور بولا، "اس کی اپنی بےوقوف ٹانگیں اسے میرے پاس لے آئیں ہیں۔ " ابن زیاد کے پاس قاضی شریح بھی موجود تھا۔ ابن زیاد نے یہ اشعار پڑھے۔ " میں اس کی زندگی چاہتا ہوں اور یہ میری موت۔ بنی مُراد میں سے کون تمہاری مدد کر سکتا ہے جبکہ تمہارا دوست ہی تمہارا دُشمن ہو۔


" ہانی نے یہ سُن کر کہا، "اے گورنر ان باتوں سے آپ کی کیا مُراد ہے۔" ابن زیاد بولا، "تمہارے گھر سے یہ کس قسم کے منصوبے نکل رہے ہیں۔ گورنر اور عام مسلمانوں کے خلاف یہ کس قسم کا زہر اگلا جا رہا ہے ؟ تم مسلم بن عقیل کو لے آئے اور اپنے گھر میں پناہ دی۔ تم نے اطراف سے لوگ جمع کئے اور اسلحہ جمع کیا۔ کیا تم یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ سب مجھ سے چھپا رہے گا ؟"، ہانی نے جواب دیا "میں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور مسلم بن عقیل میرے ساتھ نہیں ٹھرے ہوئے۔ " ابن زیاد گرجا "بے شک ایسا ہی ہے۔ " ہانی نے پھر انکار کیا۔ دونوں میں تکرار شروع ہوگئی۔ جب ہانی نے ماننے سے انکار کر دیا تو ابن زیاد نے اپنے جاسوس معقل کو طلب کیا۔ ہانی نے جب معقل کو دیکھا تو سمجھ گیا کہ اس کی تمام باتوں کا علم ابن زیاد کو ہو چکا ہے۔ یہ دیکھ کر ہانی بولا، "میری بات سنو اور یقین کرو جو میں کہہ رہا ہوں۔ میں جھوٹ نہیں بولتا۔ اس اللہ (جل جلالہ) کی قسم ہے کہ جس کے سوا کوئی دوسرا خدا نہیں۔ میں نے جناب حضرت مسلم بن عقیل اپنے گھر دعوت نہیں دی اور نہ ہی مجھے ان کے کسی منصوبے کا علم تھا۔ ایک دن میں نے ان کو اپنے گھر کے باہر بیٹھے ہوئے دیکھا اور انہوں نے مجھ سے پناہ کی درخواست کی۔ ہم کسی کو پناہ دینے سے انکار نہیں کر سکتے۔ لہذا میں ان کو اپنے گھر لے گیا۔ اور ان کو پناہ دی۔ وہاں سے ان کا منصوبہ بڑھا جیسا کہ تم تک اطلاعات پہنچی۔ اگر تم چاہو تو میں تم کو حلف دے سکتا ہوں۔ اور جس قسم کی یقین دہانی تمہیں چاہئیے وہ بھی مل جائے گی۔


ابن زیاد اور ہانی میں بحث

میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ میں مسلم کو اپنے گھر سے جانے کے لئے کہہ دوں گا۔ میری ان کی تحریک سے کسی قسم کا واسطہ یا تعلق نہیں ہے۔ " عبید اللہ ابن زیاد بولا "ہرگز نہیں، تم اس وقت تک یہاں سے نہیں جاسکتے جب تک مسلم کو میرے حوالے نہ کردو۔"، ہانی بن عروہ نے پہلی بار سخت لہجے میں جواب دیا، " ہرگز یہ ممکن نہیں کہ اپنے مہمان کو قتل ہونے کیلئے تمہارے حوالے کر دوں۔ " ابن زیاد نے زور دیا لیکن ہانی نے صاف انکار کردیا۔ جب انکی تکرار کسی نتیجے پر نہیں پہنچی تو مسلم بن عروہ بولا، " اللہ تعالیٰ گورنر کا رتبہ بلند کرے، مجھے ہانی سے اکیلے میں بات کرنے کی اجازت دیں۔" اجازت ملنے پر وہ دونوں ابن زیاد سے دور چلے گئے۔ اتنا دور کہ وہ اس کو نظر تو آرہے تھے اور جب وہ اونچا بولتے تو باتیں ابن زیاد تک پہنچ جاتیں اور اگر آہستہ بولتے تو اسے کچھ پلے نہ پڑتا۔

مسلم بن عروہ نے ہانی سے کہا، "میں تمہاری منت کرتا ہوں اللہ (جل جلالہ) کے نام پر اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اپنے خاندان اور قبیلے پر مصیبتوں کے پہاڑ مت توڑو۔ میں تمہارے قتل کے خیال سے بھی خوفزدہ ہوں۔ یہ جو مسلم بن عقیل ہے یہ اور بنو امیہ آپس میں رشتہ دار ہیں یہ ان کو کبھی قتل نہیں کریں گے۔ لہذا مسلم بن عقیل کو ان کے حوالے کردو۔ اس طرح تم پر کسی قسم کا الزام نہیں آئے گا کیونکہ تم نے سرکاری کام میں امداد کی ہوگی نہ کہ غداری۔" ہانی نے جواب دیا، "واللہ یہ تو بڑی شرم اور ذلت کی بات ہوگی اگر میں اس کو ان کے حوالے کر دوں جو کہ میری پناہ میں ہے۔ جب تک میری سانسیں چل رہی ہیں یہ ممکن نہیں۔ ابھی تو میرے پیچھے بہت مضبوط قبیلے کی طاقت موجود ہے، واللہ اگر میں اکیلا بھی ہوتا تو میں کبھی بھی جناب حضرت مسلم بن عقیل کو اس کے حوالے نہ کرتا۔ " ہانی نے دیکھا کہ اس کے قبیلے والے غصے میں آنا شروع ہو گئے۔ ابن زیاد نے ہانی کو اپنے پاس بلایا اور بولا، "یا تو مسلم کو میرے پاس لے آو یا پھر موت کا سامنا کرو۔ " ہانی یہ سن کر بولے "اگر ایسا ہوا تو بے شمار تلواریں تمہارے محل میں چمکنے والی ہیں۔ " ابن زیاد دھاڑا، "تم مجھے تلواروں کی چمک سے ڈراتے ہو ؟"، یہ کہہ کر ابن زیاد نے اپنی چھڑی سے ہانی کے چہرے پر پے در پے وار کرنا شروع کئے۔ ہانی کی ناک ٹوٹ گئی اور ان کا چہرہ خون سے لتھڑ گیا۔ ہانی کا چہرہ بری طرح سے ادھڑ گیا۔ ہانی نے اپنی تلوار نکالنے کی کوشش کی تو اہلکاروں نے ایسا نہیں کرنے دیا۔ ابن زیاد چیختے ہوئے بولا، "تم نے اپنی تلوار ہم پر نکال کے اپنے خارجی ہونے کا ثبوت دے دیا ہے۔ اور حکومت کی نظروں میں واجب القتل ٹھہرے ہو۔ لے جاو اس کو اور ایک کوٹھڑی میں بند کردو۔ اور باہر پہرہ لگا دو۔" اسما بن خارجہ نے اٹھ کر احتجاج کیا، "کیا ہمیں دھوکہ باز مشہور کرنا ہے ؟ ہانی کو ہم لے کر آئے تھے" ابن زیاد نے اس کی گرفتاری کا حکم دیا۔ سپاہی اس کو بھی مارتے ہوئے لے گئے۔ محمد بن اشعث بولا کہ وہ گورنر کے فیصلے سے خوش ہوا ہے چاہے وہ ان کے حق میں ہو یا خلاف، کیونکہ گورنر ان کی اصلاح کیلئے ہی قدم اٹھائے گا۔

عمر بن حجاج کو خبر ملی کہ ہانی کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اس نے دارالامارہ کے باہر اپنا قبیلہ اکٹھا کر لیا اور سب نے تلواریں نکال لیں۔ محل کے باہر ہزاروں کا مجمع اکٹھا ہوگیا اور کافی شور شرابہ ہو گیا۔ ابن زیاد نے قاضی شریح کو بھیجا کہ دیکھ کر آئے کیا شور ہے۔ عمر بن حجاج نے کہا کہ "میں عمر بن حجاج ہوں اور یہ میرے قبیلے کے معتبر اور معزز لوگ ہیں۔ نہ تو میں باغی ہوں اور نہ ہی خارجی۔ لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ ہمارے ایک سردار کو اندر قتل کر دیا گیا ہے۔ واللہ اس کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ " شریح نے ابن زیاد کو بتایا۔ ابن زیاد نے کہا ان کو یقین دلاو کہ ہانی صرف زخمی ہوا ہے ابھی قتل نہیں ہوا۔ جب لوگوں نے ہانی کو زندہ دیکھا تو احتجاج ختم کر دیا تلواریں واپس نیاموں میں ڈال لیں۔ اندر ہانی کی بُری حالت تھی۔ ھانی قاضی شریح سے بولا کیا میرا قبیلہ ختم ہوگیا ہے ؟ اگر دس لوگ بھی اندر آجائیں تو مجھے نکال کر لے جائیں گے۔ کیا میرے لوگ مجھے بھول گئے ہیں ؟؟"

عبید اللہ ابن زیاد نے مناسب سمجھا کہ اس موقع پر وہ لوگوں سے خود مخاطب ہو۔ لہذا سخت حفاظتی انتظام میں وہ نمودار ہوا اور بولا، " لوگوں اپنی بیعت کو یاد رکھو اور تفرقے میں مت پڑو۔ کسی ایسے کام میں مت حصہ لو جو تمہاری گردنوں کو تنوں سے جدا کردے اور تمہارے خاندانوں کو تباہ کر دے۔ واللہ میں ایک ایک خارجی کو قتل کر دوں گا۔ ہانی زندہ ہے اور میں نے اس کو ہلکی سے سزا دی ہے۔" لوگ یہ سن کر پھر خوفزدہ ہو گئے اور ان کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا۔ عبداللہ بن خظیم نے آنکھوں دیکھا سارا واقعہ جناب حضرت مسلم بن عقیل کو جا کر سُنایا۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔

بشکریہ۔قمر بخاری۔القلم۔

:دیگر مضامین
(24.12.2009) واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین ۔واقعات و پس منظر ۔۔۔چوتھی قسط
(23.12.2009) واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین ۔واقعات و پس منظر ۔۔۔تیسری قسط
(22.12.2009) واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین ۔واقعات و پس منظر ۔۔۔دوسری قسط
(18.12.2009) واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین ۔واقعات و پس منظر
(11.12.2009) عاشق علی میثم تمار کی شہادت نمونہ حق گوئی ہے
(07.11.2009) اداکاری کے بے تاج بادشاہ دلیپ کمار
(01.11.2009) عالمی اخبار کے لیئے جناب جلیل عباس جیلانی کا خصوصی انٹرویو
(25.09.2009) تاریخ اسلام کا ایک روشن ستارہ۔حضرت عمار بن ياسر
(19.09.2009) شاعر مشرق علامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد
(09.09.2009) حضرت علی علیہ السلام دینی تقویٰ اور خدا تعالیٰ کی عبادت میں یگانہ روزگار
(02.09.2009) علامہ محمد اقبال کی والدہ ماجدہ امام بی بی
(27.08.2009) ماضی کےشاہ ایران کے بیٹے رضا شاہ پہلوی
(12.08.2009) پاكستان كا نام تجويز كرنے والے ايك مخلص سیاستدان
(11.08.2009) راجہ صاحب محمود آباد۔تحریک قیام پاکستان کا فراموش نام
(18.07.2009) امیر کبیرسیدعلی ہمدانی اور مؤدّت فی القربیٰ
(09.06.2009) نوشاد علی ۔۔سنگیت کا مغلِ اعظم۔از عارف نقوی۔برلن
(27.05.2009) مرزا داغ دہلوی کا یوم پیدائش 25 مئی
(13.05.2009) بادلوں جیسے لوگ“عالمی اخبار سپیشل”
(15.04.2009) حکیم محمد سعید شہید کی سچی کہانی۔از۔محمد ادریس
(25.03.2009) نامور بلند پایہ موسیقار ماسٹر عنایت حسین



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی۔وینکور   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں