16.10.2026, 10:10pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

خدا گواہ ہے کہ ہم اپنے دشمن نہیں ہیں ۔از؛ نگہت نسیم۔سڈنی
30.12.2009, 06:04am , بدھ (GMT+1)

نگہت نسیم۔سڈنی

پاکستان میں اٹھائیس دسمبر دوہزار نو بروز پیر یوم عاشور کے موقع پر کراچی میں جو کربلا برپا ہوئی اور اس کے بعد سیاستدانوں نے جو تفرقے کی آگ لگائی تو یوں لگا جیسے یزیدیوں نے غم حسین کے مقابلے میں اپنا جلوس نکالا ہو ۔۔ اور اسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پہلے تو خود ہی  آگ و خون کی ہولی کھیلی اور جب شہیدوں کے سر ان کو کٹے ملے تو کہہ دیا کہ ہائے ہائے یہ کیا کر دیا ۔۔ میں نے تو صرف یہ کہا تھا کہ حسینیوں کو ڈرانا اور دھمکانا ۔۔۔

کیا کسی نے غور کیا کہ  ۔۔ دھماکے سے پہلے کے تمام مسلمان بلاتفریق سنی شعیہ کے سب صرف حسینی تھے اور دھماکے کے دو گھنٹے بعد منظر بدل جاتا ہے اور پاکستان کے سارے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے خودکو  مسلکوں  میں بانٹ لیتے ہیں ۔۔۔۔ یہ بلکل ایسے ہی ہوا جیسے ہالی ووڈ کی تھری ڈی فلم ہو جسے  خاص عینک سے دیکھنا پڑتا ہے تاکہ فلم کا پورا لطف لیا جا سکے ۔۔۔ اسی طرح یزید وقت نے خود کش دھماکے کے بعد ایک ایک بندے کو مسلک کی تھری ڈی  عینک دی تاکہ حکمران یہ ثابت کر سکیں کہ  یہ شعیہ سنی فساد تھا اور پاکستان کو توڑنے کی ایک سازش  ۔۔۔

کوئی مجھے بتائے گا کہ ایک سال سے امریکہ کی بچھائی ہوئی بساط پر اپنے ہی ہم وطنوں کو دہشت گردی کی آڑ لے کر اپنے ہی فوج سے مروانے سے پاکستان کی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔۔ اس بار کراچی کے ہنگاموں میں آخر ایسی کیا بات ہے کہ پاکستان کی سالمیت کو خطرہ پڑچکا ہے ۔۔۔

کئی مکتبہ فکر کے لوگ دھماکے کے بعد نزر آتش ہونے والی املاک کے نقصانات کا تخمینہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سب مشتعل عوام کا کیا دھرا ہے ۔۔ یا دوسرے لفظوں میں عوام نے اپنا گھر خود ہی جلایا ہے ۔۔۔ مجھے یقین نہیں ہوتا کہ عاشور کے دن دھماکے کے بعد اس خوف و ہراس کے عالم میں جب غم حسین میں ڈوبے لوگ اپنے بچوں کو ڈھونڈ رہے تھے   ۔۔ جب وہ پلٹ پلٹ کر اپنے  بھائیوں کوتلاش کر رہے تھے  ۔۔ جب وہ بے بسی سے  اپنے  خاندانوں کے نشان ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے ۔۔ کیا  وہ اس کرب و بلا میں املاک کو نذر آتش کرتے ۔۔ ایسی باتیں کرنے والوں نے شاید خوف ، دہشت اور وحشت کبھی دیکھی ہی نہیں ورنہ یہ کبھی نہ کہتے کہ “کوئی ہمارا دشمن کیوں نہ ہو جب ہم خود اپنے دشمن ہیں؟ “ہم سے بڑا دہشت گرد کون ہوگا ؟“

بھئی ایک بات تو طے ہے کہ میں دہشت گرد نہیں ہوں اور نہ ہی اپنی دشمن خود ہوں ۔۔۔ اور میرا خیال ہے کہ جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں وہ بھی ایسے نہیں ہیں اور میرے ساتھیوں میں سے بھی دور دور تک کوئی ایسا نہیں ہے ۔۔ پھر یہ تیسرا بیچ میں کون ہے جو یہ ان لوگوں سے لکھوا بھی رہا ہے اور برملا کہلوا بھی رہا ہے ۔۔ جبکہ ہونا تو یہ چاھیئے تھا کہ سارے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ یہ لکھتے اور یہ کہتے کہ  ہمارے درمیان آخر یہ دہشت گرد کون ہے ؟ ۔۔

اور یہ بھی دہائی ڈالتے کہ دہشت گردوں کو پکڑنے میں حکومت کیوں ناکام ہے ؟؟ ۔۔ ۔۔

ہم تو وہ مسلمان ہیں جنہوں نے بتسیس جنگیں بے سروسامانی میں لڑی ہوئی ہیں اور ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے بہتر افراد کی مجموعی  طاقت پر یزید کو شکست دی ہوئی ہے ۔۔۔۔ پھر یہ مٹھی بھر دہشت گرد آج اتنے طاقت ور کیسے ہوگئے کہ پاکستان کی فوج سے بھی قابو میں نہیں آرہے ۔۔ اور شہر شہر آزادانہ گھوم رہے ہیں ۔۔ اور لوگ ہاتھ پر ہاتھ رکھے صرف زبانی جمع خرچ کر رہے ہیں کہ یہ غیر ریاستی عناصر ہیں جو ملک کو توڑ رہے ہیں  ۔۔۔ دہشت گردوں کو پکڑنا اور غیر ریاستی عناصروں کو کیفر کردار تک پہنچانا  نہ میراکام ہے اور نہ ہی عوام میں سے کسی کا  ۔۔ یہ کام تو حکومتوں کا ہوتا ہے جنہیں ہم اپنے خون پسینے کی کمائی سے پالتے ہیں اور اپنے ووٹوں سے منتخب کرتے ہیں تاکہ ہم سکون و چین سے رہ سکیں ۔۔

 لیکن ایسا ہوناہمارے نصیب میں نہیں ہے ۔۔ ورنہ قائد ملت سے لے آج کراچی کے عاشور کے سانحے تک حکومت کو کوئی بھی قاتل مل سکا ہے ۔۔ آج وزیرستان سے لے کر کراچی دہشتگردوں کی آماہ جگاہ بن چکا ہے ۔۔کیا کسی کو کوئی سراغ مل سکا کہ ان کا سرغنہ کون ہے اور کہاں ہے ۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستانی حکمران بھی امریکی تقلید میں کسی ماورائی اسامہ کی تلاش میں ہے جو سلیمانی ٹوپی پہن کر پوری دنیا پر راج کر رہا ہے ۔۔اور لوگوں کو اس کام پر لگا دیا ہے کہ دن رات  یہی ورد کرو کہ “کوئی ہمارا دشمن کیوں نہ ہو جب ہم خود اپنے دشمن ہیں؟ ہم سے بڑا دہشت گرد اور کون ہو گا؟۔۔

 بھلا میں یہ کیسے مان لوں کہ میرے وہ ساتھی  جو دن رات لوگوں کی لعن طعن سن کر بھی اپنے سچ کے مشن کو جاری رکھیں ہوئے ہیں وہ ملک  دشمن ہیں یا دہشت گرد ہیں ۔۔خدا گواہ ہے کہ ہم اپنے دشمن نہیں ہیں ۔۔ اگر ہم آپ میں سے کوئی نہیں ہے تو پھر یہ دہشت گرد اور ملک دشمن کون ہے ؟؟

دہشت گرد اگر سنی ہے ، شعیہ ہے ۔مہاجر ہے ، سندھی ہے ، پنجابی یا کوئی اور ۔۔ ۔۔ اب اسے بے نقاب ہونا چاھیئے ۔۔ لیکن یہ کون کرے گا ۔۔ زرداری کی  حکومت جو اپنی قائد اپنی راہنما جس کو سیڑھی بنا کر سب برسر اقتدار میں آئے ۔ اس کے قاتلوں کو دو سال سے  نہ پکڑ سکی ہے ۔۔ وہ معصوم بے گناہ عوام کی معیشت اور انسانیت کے قاتلوں کو کیا پکڑے گی ۔۔ حکومت کی تو رات دن ایک ہی رٹ ہے کہ آگ لگانے والوں کی فوٹیج مل گئی ہے ۔۔ ارے اگر مل گئی ہے تو ٹی وی پر دیکھاتے کیوں نہیں ہو ۔۔۔شائد اس فوٹیج میں ان کے اپنے ہی سنگی ساتھیوں کے چہرے ہیں اسی لیئے بے نقاب نہیں ہو رہے ۔۔۔اپنی اہلیہ بیظیر بھٹو کے لیئے زرادری صاحب تو انکی پہلی برسی پر خود کہہ چکے ہیں کہ انہیں قاتلوں کا علم ہے۔ کاش کوئی عدالت انہیں طلب کر کے استفسار کرے اور پوچھے کہ قاتل کون ہیں؟ کیا ہمارے ہاں ایسی عدالت کبھی ہو سکے گی؟

حکومت جانتی تھی کہ پورے پاکستان کی معشیت کا بوجھ کراچی کے کاندھوں پر ہے ۔۔ پھر بھی اس شہر کو کیوں نہ بچایا جا سکا ۔۔۔ساری دنیا جانتی تھی کہ ماتمی جلوس نکلے گا اور ان ان راستوں سے ہوتا ہوا جائے گا ۔۔ یہ حکومت کی زمہ داری تھی آگ بجھانے والے عملے مستعد رکھتے اور پورا انتظام کرتے ۔۔ لیکن دنیا نے دیکھاکہ بم دھماکے کے دو گھنٹہ کے بعد املاک کو جلایا گیا ۔۔ کسی بھی غم کا ردعمل دو گھنٹے بعد نہیں ہو تا ۔۔ یہ سازش خود رچائی گئی ہے ۔۔ ورنہ جس کے اپنےگھرمیں آگ لگی ہو وہ گوادر میں جا کر کیبینٹ کا اجلاس نہیں بلاتے ۔۔ خدا کے لئے سوچیں  سارے وزیروں کو وہاں جمع کرنے پر اتنا ہی خرچ آیا ہوگا جتنے کی املاک جلی ہیں ۔۔۔

یہ وقت پاکستان کو تفرقے سے بچانے کا تھا نا کہ اس میں جھونکنے کا ۔۔ زرداری اور گیلانی کو جائے وقوع پر پہنچنا چاھیئے تھا اور الطاف حسین سے پہلے انہیں تقریر کرنی چاھیئے تھی کہ وہ صدر اوروزیراعظم  تھے اور الطاف حسین صرف خود غرض اور موقع پرست سیاستداں ۔۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کو یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ بغیر کسی تحقیق کے کہہ دیں کہ یہ شعیہ سنی فساد ہے اور ملک توڑنے کی سازش ہے ۔۔۔ خدا کے لئے ہم حسینیوں کو شعیہ سنی میں بانٹ کر اپنی ناکامیوں کو مت چھپائیں ۔۔ ہمت ہے تو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہیں کہ ہم اپنی عوام کی حفاظت میں ناکام ہو گئے ہیں اور اپنے اپنے عہدوں سے  استعفی دیتے ہیں ۔۔

اور وہ سارے سیاستداں جو  لندن اور رائے ونڈ سے بیٹھے بیٹھے اپنی سیاسی دوکانیں چمکا رہے ہیں ۔۔ اور آگ لگانے میں جلتی پر تیل کاکام کر رہے ہیں  ۔۔ عوام ان سے بھی آگاہ ہے ۔۔ اور سراپہ احتجاج ہے کہ  ملک کے دشمن اور دہشت گرد یہی سیاستداں ہیں جو فرینڈلی اپوزیشن کی آڑ میں عوام کو لوٹنے اور بے بسی کی موت مارنے میں   برابر کے حصہ دار ہے ۔  اگر ملک کی بربادی اور حالیہ دہشت گردی کے پلان میں یہ تمام یزید وقت ملوث نہیں ہیں تو اپنی اپنی تنخواہوں اور اثاثوں کا ایک فیصد حصہ ان تباہ شدہ املاک زدگان کو کیوں نہیں دے دیتے ۔۔

میں نے کبھی  بد دعا نہیں دی ۔۔ لیکن پھر بھی کسی وقت یہ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ حکمرانوں کے اگر گھر جلیں اور ان کو بھی اپنے بھائی بیٹے کی  مرگ کہ خبر سننا پڑے ۔۔۔ اور ان کو پھر عوام پانچ پانچ لاکھ فی لاش دیں  …۔۔اور کہے کی دہشت گردوں کی فوٹیج مل گئی ہے ۔۔ اور تمہیں انصاف ضرور ملے گا ۔۔۔ “
تو ان پر کیا گزرے گی؟۔


:دیگر مضامین
(20.12.2009) محرم کے آغاز پرمبارکبادوں کا جواز کیا ہے ؟از؛نگہت نسیم
(17.12.2009) دنیا کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔از؛ نگہت نسیم۔سڈنی
(06.12.2009) پاکستان ہماری دستار ہے اسے سر پر سجایئے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(27.11.2009) کئی آنکھیں ہیں جو دعاؤں سے اب بھی نم رہتی ہیں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.11.2009) اللہ تعالی کے نظام میں کوئی این آر او نہیں ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(16.11.2009) سولہ نومبر "عدم برداشت " کا عالمی دن ۔از نگہت نسیم ۔ سڈنی
(06.11.2009) محبت شکر اور شکریہ سکھاتی ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(03.11.2009) خون آشام وادیوں میں زیتون کے پھل ۔از؛ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.08.2009) دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دورُخی۔۔از نگہت نسیم
(09.08.2009)  کیا کریں بھئی ۔۔ ھم تو اندھے ھیں ۔۔۔ !از ڈاکٹر نگہت نسیم
(18.06.2009) جو امریکہ کے ساتھ وہ اصلاح پسند ۔از۔ نگہت نسیم
(28.05.2009) خاندانی جمہوریت دان اور جیالے ۔از۔نگہت نسیم
(28.04.2009)  انٹرنیٹ جرنلزم یا سرقہ جرنلزم ۔از۔نگہت نسیم
(16.03.2009) اور عوام جیت گئے ۔۔۔۔ از؛ نگہت نسیم
(25.02.2009) نا اہلی ایسے آتشیں حروف ھیں کہ پورا پاکستان جل رھا ھے ۔از ۔ نگہت نسیم
(19.02.2009) اعتزاز احسن کا اعزاز۔از۔نگہت نسیم
(03.02.2009) رجب طیب اردگان سے عالم بےایمان تک ۔از۔ نگہت نسیم
(15.01.2009) پاکستان میں بے خبری اور جہالت کا اندھیرا۔از نگہت نسیم
(15.01.2009) طاقت نظریے کو کبھی شکست نہیں دے سکتی ۔از نگہت نسیم
(04.01.2009)  سرحد پار سنا ھے کل رات گولی چلی تھی ۔از۔ نگہت نسیم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں