
امریکی انتخابات کے نتائج سامنے آ گئے۔باراک اوبامہ امریکہ کے چوالیسویں صدر منتخب ہو گئے اور انہوں نے جنگ ویت نام کے ایک ہیرو جان میکین کو شکست دیدی اور جمہوری قوتوں کی سب سے بڑی خوبصورتی کہ شکست کھانے والے نے اپنی شکست کھلے دل سے قبول کر لی اور فتح پانے والے کو فون کر کے مبارکباد دی اور قومی مسائل کے حل میں مدد دینے کا وعدہ کیا۔
یہی ایک ایسا عمل ہے جو جمہوریت اور آمریت کو یا جمہوریت کا لباس پہنے ہوئے آمریت کو ایک دوسرے سے ممیز کرتا ہے ورنہ ہمارے ملکوں میں خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایک طویل عرصہ فوجی حکمران ملک پر قابض رہے ہیں وہاں اصل دشمنی تو انتخابی نتائج کے بعد شروع ہوتی ہے۔
مجھے اسوقت ذاتی طور پر اس فقرے سے سخت نفرت اور اختلاف ہے کہ پچانوے فیصد ذرائع ابلاغ بار بار یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ‘‘ امریکہ میں سیاہ فام اوبامہ کی فتح یا امریکہ کا پہلا سیاہ فام صدر‘‘ سیاہ فام کہنا اور بار بار لکھنا بذات خود نسلی تعصب کی ایک بہت بڑی نشانی ہے اور شاید لاشعوری طور پر ہم سب اس تعصب کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کہنے میں کیا حرج ہے کہ ‘‘بارک اوبامہ کی تاریخی فتح یا امریکہ کے نئے صدر بارک اوبامہ‘‘ یا تو اس سے پہلے امریکہ کے جو گورے صدر منتخب ہوتے چلے آئے ہیں کیا پوری دنیا میں کسی نے کبھی یہ لکھا ہےکہ امریکہ کے سفید فام صدر بش کی کامیابی یا سفید فام کلنٹن کی فتح۔ جی نہیں کسی نے یہ الفاظ ہر گز نہیں لکھے۔تو پھر مسلسل بارک اوبامہ کو سیاہ فام لکھنا؟ اس سے کس جذبے کی تسکین ہورہی ہے یہ علم نہیں۔
اوبامہ کی فتح کوئی ایک دو سال یا یا عشرے بھر کی تحریک کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے اور لوگوں کی کئی سال کی تحریک کا سفر ہے جنہوں نے امریکہ میں انسانی حقوق کی قلعی کھولی اور چیلنج کیا کہ اس سر زمین پر رہنے والے سب کے حقوق ایک جیسے ہیں اور اس تحریک کو مہمیز مارٹن لوتھے کنگ جونیئر نے دی۔

آج لمحے بھر کو ایک بار یوں لگتا ہے کہ بارک اوبامہ کی تاریخی فتح مارٹن لوتھر کنگ کے اس خواب کی تعبیر ہے جسکا اظہار 1963 میں I have a Dream کے عنوان کے تحت اس نے اپنی اس تقریر میں کیا تھا جو پہلے واشنگٹن میں اور پھر دنیا بھر میں گونجی اورپھرنسلی مساوات کےلئے امریکی اصلطلاحات کا ایک نشان بن گئی۔
امریکی تاریخ پر اگر آج ایک نظر ڈالیں تو یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ امریکہ کے اصل بیٹوں کے ہاتھ آج پہلی بار اقتدار آیا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ پسماندہ رہنے والے یا اقلیت میں زندگی گزارنے والے جب اقتدار میں آتے ہیں تو وہ اپنے جیسوں کا مستقبل سنوارنے کے لیئے کیا کرتے ہیں۔ امریکہ تو یوں بھی اسوقت دنیا کی واحد سُپر پاور ہے جس نے اپنی طاقت کے شور پر آدھی سے زیادہ دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر خود دہشت گردی

پھیلا رکھی ہے۔جس نے عراق اور افغانستان کے بعد اب پاکستان پر اپنی طاقت آزمانا شروع کیا ہوا ہے،جو ایران کو وہ بنیادی حقوق بھی دینے کوتیار نہیں جو ایک آزاد ملک کے طور پر اسکا حق ہے، جو ساری دنیا کی جوہری طاقت صرف اپنے قبضہ قدرت میں رکھنا چاہتا ہے،جو کسی طور پر کہیں بھی اپنی شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں، جو ساری دنیا کو جمہوریت اور انسانی حقوق کا درس دیتا ہے لیکن اپنے گریبان میں نہیں جھانکتا،جو معرہ جمہوریت کا لگاتا ہے لیکن پاکستان جیسے ممالک میں آمروں اور جمہوریت دشمنوں کی مدد کرتا ہے اور وردی والے فوجی جرنیل کو بھی جمہوریت دوست کہتا ہے۔
امریکہ میں نسلی تعصب ماضی کی طرح اب نظر نہیں آئے گا۔ اب نسلی تفریق، ڈھکے چھپے طریقے سے نظام کی حصہ ہے۔ اوپر سے آپ کو سب اچھا نظر آئے گا، لیکن غور سے اندر دیکھیں گے تو حکومتی پالیسیوں سے لے کر نجی اداروں میں نسلی تعصب محسوس کیا جا سکتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اوبامہ جس نے ‘‘تبدیلی‘‘ کے نعرے کے ساتھ اپنی انتخابی مہم چلائی اور ملک کے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اسی تبدیلی کے نام پر تاریخی فتح حاصل کی اب وہ امن دشمن لوگوں کے مقابلے میں خود اپنے ملک میں اور دنیا بھر میں کیا تبدیلی لاتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ امریکی عوام کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں حکومتوں کی ان سے بہت سی توقعات وابستہ ہو چکی ہیں۔ لیکن یہاں اس بات کو بھی سامنے رکھنا ہو گا کہ امریکہ جیسے ممالک میں خارجہ سمیت سمیت دیگر پالیسیاں افراد کے گرد نہیں بلکہ ملکی مفادات اور اداروں کے گرد گھومتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس بار کسی ایک فرد کی وجہ سے یہ سب کچھ تبدیل کرنا پڑے۔
یہ بھی سچ ہے کہ جس طرح پاکستان میں آمر مطلق جنرل ضیا الحق کے بعد جنرل مشرف نے پاک فوج کو ایک ادارے کے طور پر رسوا کروایا اور لوگوں کے دلوں میں فوج کی عزت کم کروائی اسی طرح بڑے بش اور چھوٹے بش نے

امریکہ کو عالمی سطح پر جو نقصان پہنچایا یہ اعزاز بھی ان باپ بیٹے کو جاتا ہے۔ دنیا بھر میں امریکہ اور امریکیوں کے خلاف اتنی نفرت پہلے کبھی نہیں تھی جتنی ان باپ بیٹے نے پیدا کروائی۔ اب دیکھنا ہو گا کہ اوبامہ اپنے انتخابی نعروں کو کسیے عملی جامہ پہناتے ہیں اور امریکہ کے ساتھ ساتھ امرکی عوام کا امیج بہتر بناتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس کام میں انہیں کچھ وقت لگے گا تا ہم اسکے اشارے فتح کے بعد شکاگو کے ایک پارک میں پہلے عوامی اجتماع میں کی گئی تقریر سے ملتے ہیں۔ اوبامہ نے کہا۔
’’ہیلو شکاگو!کیا ابھی بھی کوئی ایسا شخص ہے، جسے اس بات کا یقین نہیں ہے کہ امریکہ میں کچھ بھی ممکن ہے!۔۔۔ کیا ابھی بھی کوئی ایسا ہے، جوامریکہ کی جمہوریت کی طاقت میں یقین نہیں رکھتا؟ آج رات آپ لوگوں نے اس کا جواب دیا ہے۔ آپ سب لوگوں نے، سفید فام اور سیاہ فام، گیئز اور سٹریٹ، تندرست اور اپاہج، سب نے۔۔

’ہم سب امریکہ ہیں، اور ہم ہمیشہ یونائٹڈ سٹیٹس آف امریکہ رہیں گے۔‘ امریکہ میں تبدیلی آگئی ہے، تبدیلی کا آغاز ہوچکا ہے، میں سب کا شکرگزار ہوں۔ میں اپنی انتخابی مہم کے منیجر، اور چیف سٹریٹیجسٹ کا شکر گزار ہوں۔ اور سب سے اہم، میں آپ سب کا، لوگوں کا شکر گزار ہوں۔ فتح آپ کی ہوئی ہے، یہ فتح آپ کے نام ہے۔ آج امریکہ میں جس تبدیلی کا آغاز ہوا ہے، اُس کا فیصلہ وائٹ ہاوٴس کے ہالوں میں نہیں ہوا بلکہ وہ آپ نے کیا ہے‘‘۔
اللہ کرے کہ امن عالم کے لیئے ایسے خیالات کا تسلسل جاری رہے۔
بات ہو رہی تھی امریکی تاریخ کی۔ اس تاریخ کا ایک باب مارٹن لوتھر کنگ کے نام بھی ہے جس نے گورے کالے کے فرق کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور اسکی آواز نے واشنگٹن کے درودیوار ہلا دیئے۔
مارٹن لوتھر کنگ کو دنیا نسلی تفریق کی نفی کرنے‘ رنگ و نسل کے امتیازی سلوک کے خلاف جدوجہد کرنے‘ اور شہری حقوق کے سب سے بڑے علم بردار کے طور پر جانتی اور پہچانتی ہے۔ساٹھ کی دہائی میں مارٹن لوتھر کنگ نے امریکہ میں سیاہ فاموں یا عرفِ عام میں Blacks کے حقوق کےلئے‘ سب سے بڑی تحریک شروع کی تھی۔

اس تحریک کو امریکی عوام میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ لیکن چار اپریل انیس سو اڑسٹھ کو، مارٹن لوتھر کے سیاسی قتل کے بعد پورے امریکہ میں نسلی بنیادوں پر فسادات کی ایک لہر دوڑ گئی۔ چند روز تک جاری رہنے والے ان پر تشّدد واقعات میں کئی علاقے تباہ ہوگئے‘ اور فسادات کے نتیجے میں چالیس سے زائد افراد مارے بھی گئے۔
انیس سو چھپن میں منٹگمری کے بس بائیکاٹ اور پر امن مظاہروں نے مارٹن لوتھر کو نسلی مساوات کی تحریکوں کا چہرہ بنا دیا تھا۔ کنگ نے ان امتیازی امریکی قوانین کے خلاف جد و جہد کا آغاز کیا تھا جن کے تحت امریکی سیاہ فام افراد حقِ رائے دہی کے علاوہ اور بہت سی سہولیات سے محروم تھے۔ 1963 میں I have a Dream کے عنوان کے تحت انکی تقریر واشنگٹن میں گونجی اورنسلی مساوات کےلئے امریکی اصلطلاحات کا ایک نشان بن گئی۔
مارٹن لوتھر کنگ کے سیاسی قتل کے برسوں بعد امریکی سیاست میں اس وقت براک اوبامہ کی شکل میں ایک کنگ کا ایک بیٹا صدراتی عہدے پرفائز ہے۔ ایک زمانے میں نسلی تفریق کے شکار امریکی معاشرے میں آج صورتحال کیا ہے۔ امریکی کنسنسس بیورو کے جائزے کے مطابق امریکی آبادی کا 13 فیصد حصہ سیاہ فام ہے لیکن آج بھی ان کی اکثریت تعلیمی لحاظ سے بہت پیچھے ہے۔ سیاہ فام آبادی کا پچیس فیصد حصہ انتہائی غربت کی زندگی بسر کر رہا ہے اور سیاہ فام نوجوانوں کو روزگار کی تلاش میں بھی بے حد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دو ہزار تین میں باراک اوباما کے سابق خاندانی پادری جیرمی رائٹ نے اپنے ایک اور وعظ میں امریکی سیاہ فاموں کی حالتِ زار کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خدا امریکہ کو غارت کرے جس نے اپنے ہی شہریوں کو انسانیت کا درجہ نہیں دیا۔‘
پادری جیرمی رائٹ کے اس فقرے کے بعد شاید کسی تبصرے کی گنجائش نہیں رہتی کہ دنیا بھر میں مساوات،انسانی حقوق اور جمہوریت کا درس دینے والے امریکہ کے اندر خود حالت کیسی ناگفتہ ہے۔