آخری نبی حضرت محمد کی وفات کا وقت قریب آیا تو اللہ کا پیغام پیغمبرکو پہنچا کہ نظام مملکت الٰہی کی بقا وامت کی فلاح و بہبود کے لئے جو ہادی اللہ نے معین کیا ہے ۔امت پر اس کا ظہور آپ کے لئے لازمی ہے ۔
رسول اسلام نے آخری حج سے رجعت کے موقع پر مسلمین کی کثیر تعداد میں بحکم پروردگار علی ابن ابی طالب کو نظام الٰہی کی مہار سونپ دی اور’’ انی تارک فیکم الثقلین ‘‘کتاب اللہ و عترتی ۔ الخ حدیث ثقلین کا پیمانہ مقرر کر کے تا قیام قیامت پیش آنے والے خطرات سے باخبر کردیا کہ مسلمانوں !اگر تم نے کتاب ا ور عترت سے جدا راستہ اختیار کیا تو راہ راست سے بھٹک کر منتشر ہوجاؤ گے اور اقوام عالم میں ذلیل و رسوا ہو جاؤ گے ۔ پیغمبر کی وفات کے بعد مسلمان پیغمبر کے الٰہی پیغام سے منحرف ہوگئے ، مفاد پرست اقتدار کے حریص رہنماؤں نے اسلام کو فرقوں میں بانٹ دیا ۔
امت محمدیہ فرقوں میں تقسیم ہوگئی ، امت کے افتراق کے نتیجہ میں مسلمانوں کے حالات اقوام عالم پر عیاں ہیں ۔ آج مسلمانوں کا یہ عالم ہے کہ جب کسی سازش کا شکار ہوتے ہیں تو انہیں فوراً حسینی Revolutionکی آواز سنائی دینے لگتی ہے ۔حسین ؑ مظلوم کے کربلائی نظام سے مسلمانوں کی رگوں میں خون متحرک ہوجاتا ہے ۔انقلاب کی آندھی چلنے لگتی ہے ۔لیکن یہ آندھی مثل حباب چند دن باقی رہتی ہے اور مخالفین اسلام اپنا کا م کر جاتے ہیں، مسلمان پھر راہ راست سے منحرف ہو جاتے ہیں اور دولت و ہوس کے اسیر ہوجاتے ہیں۔حسین ؑ مظلوم اور ان کی عزا کے سلسلہ میںغلط فہمیوں کا شکار بن جاتے ہیں جبکہ مسلمہ حقیقت ہے کہ غم حسین ؑ کو آفاقی حیثیت حاصل رہی ہے اور امت محمدی میں سے کسی ایک فرقہ کو نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کو غم حسین ؑ عظیم اسلامی میراث کی طرح حاصل ہوا ہے جس کی حفاظت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔کیونکہ نواسہ رسول اسلام محمدی کا عظیم محافظ رہاہے ۔
حشر تک چھوڑ گئے درخشندہ مثال
حق پرستوں کو نہ بھولے گا یہ احسان حسین ؑ
مولانا محمد علی جوہر
ان مسلمانوں کو سب کچھ معلوم ہے کہ حق کیاہے اور باطل کیا ، اور یہ بھی معلوم ہے کہ کربلا کے واقعات Historyپڑھ کر کس طرح سے لوگوں نے عبرت حا صل کیا ہے نہ جانے کتنے افراد ایسے ہیں جنہوں نے امام حسین ؑسے عقیدت رکھ کر حسینی بارگاہ سے روحانی مراتب پر فائز ہوئے ہیں اور روحانی انسانوں میں شمار ہوگئے
خوشنودئی فجار کے پیرو ہیں یزیدی
تقلید شہ کرب و بلا میرے لئے ہے
مولانا محمد علی جوہر
کتنے سورما ایسے ہیں جو امام حسین ؑسے متاثر ہو کر اپنے حقوق کو پانے کے لئے کربلائی نظام کو آئیڈیل بنایا ۔ موہن داس کرم چند گاندھی جی نے ہندوستان کی آزادیکے لئے واقعات کربلا کی آئیڈیالوجی سے نرم دل تیار کیا اور ملک کو آزاد کرانے میں کامیاب ہوگئے ۔
گر شہادت کہیں جوہر تجھے مل جائے تو
رہے کوثر پہ بھی وابستہ دامان حسین ؑ
مولانا محمد علی جوہر
آج اگر مسلمان کربلا کے شہیدوں سے عقیدت اور ان کی سیرت پر عمل پیرا ہوں تو پوری دنیا پر حکومت قائم کر سکتے ہیں ۔
( یواین این )