جنوری 22، شمس العلام مولانا محمد حسین آزاد کا یوم وفات ۔از ؛ امین ترمذی 22.01.2015, 11:15am , جعمرات (GMT+1)
محمد امین ترمزی
شمس العلماء مولانا محمد حسین آزاد دس جنوری 1830 کو مولوی محمد باقرحسین کے اکلوتے فرزند اور اردو ادب کے قابل فخر فرزند محمد حسین آزاد دہلی میں پیدا ہوئے
محمد حسین کا شماراردو کے عناصر خمسہ میں ہوتا ہے جن کی زبان پروری اور انشاء پردازی مسلم الثبوت ہے۔ ۔وہ حالی شبلی اور سرسید کے ہمعصر تھے اورغالب و ذوق کا زمانہ دیکھ چکے تھے آپ نے جدید اردو نظم کی ترقی و ترویج میں خصوصی حصہ لیا۔ اردو نثر کو نئے اسلوب و آہنگ سے روشناس کیا۔ فن تاریخ نگاری میں ممتاز مقام حاصل کیا۔ اور سب سے بڑھ کر اپنے استاد خاقانیء ہند محمد ابراہیم ذوق کی شاگردی کا حق ادا کیا ورنہ شاید آج ذوق اس مقام پر فائز نظر نہ آتے جہاں آج ہیں۔ استاد ذوق کے تمام تر کلام کی حفاظت۔ ترتیب و طباعت کا سہرا مولانا محمد حسین آزاد کے سر ہے۔
اکبر شاہ ثانی کے اکتیس سالہ دور حکومت کے آخری سال اور بہادر شاہ ظفر کی تخت نشینی سے ایک سال قبل سن ۱۸۳۶ میں مولوی محمد باقر حسین نے دہلی سے ایک اخبار کا اجراء کیا جو شمالی ہندوستان کا پہلا اور ہندوستان کا دوسرا اردو اخبار تھا سر سید احمد خان کے بھائی سید محمد خان نے دہلی سے جو سیدالاخبار جاری کیا تھا وہ ہندوستان کا تیسرا اردو اخبار تھا مولوی باقر کا اخبار سن۱۸۵۷ تک جاری رہا آخری دو سالوں میں اس اخبار کا نام بہادر شاہ ظفر کے نام پر اخبارالظفر رکھ دیا گیا تھا اس دور میں ان اخباروں کی وجہ سے دلی کے عوام میں بیداری کی لہر دوڑ گئی اور وہ دنیا کے حالات سے باخبر ہونے لگے انہی اخباروں کی بدولت عوام کو سیای شعور ملا اور انہیں احساس ہوا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا بڑھتا ہوا اقتدار کتنی خطرناک چیز ہے ۔ انہی اخباروں کی وجہ سے عمل اور رد عمل ایک ساتھ سفر کرتے نظر آنے لگے۔ فراغت کے تکیے میں بے چینی کی چنگاریاں گرم ہونے لگیں۔ دہلی میں انگریزوں کا قائم کردہ دہلی کالج تھا مولوی محمد باقر اس کا لج کے مدرس اور اس دور کے انتہائی فعال ادبی اور سیاسی کارکن تھے
محمد حسین آزاد کی عمر صرف چار سال تھی کہ والدہ کا نتقال ہوگیا۔ محمد حسین کی پھوپھی جو ان کے ساتھ ہی رہتی تھیں انہوں نے محمد حسین کی پرورش کی۔ ابتدائی تعلیم مولوی محمد باقر نے دی پھر دہلی کالج میں داخل کردئیے گئے۔ جہاں اساتذہ کی قابلیت اور ہم جماعتوں کی صحبت نے بہت جلد محمد حسین کے پوشیدہ جواہر کو ابھارا اور کالج میں مخصوص طور پر تقریری مقابلوں میں محمد حسین کا طوطی بولنے لگا۔ مولوی محمد باقرحسین اخبار کے مدیر تھے۔دہلی کالج کے مدرس تھے اس لئے اہل ادب میں انکا اُٹھنا بیٹھنا تھا عموما خاقانیء ہند استاد سلطان ہند محمد ابراہیم ذوق کی محفل میں بھی جانا ہوتا جہاں محمد حسین بھی بحیثیت اکلوتی اولاد ان کے ساتھ ہوتے انہیں بھی علمی ادبی محافل سے کافی شغف تھا۔۔ آہستہ آہستہ آزاد استاد ذوق کے انتہائی عقیدت مند شاگردوں میں شامل ہوگئے محمد حسین نے پہلا شعر جو استاد ذوق کو سنایا۔وہ یہ تھا۔ ع۔ آجائے اگر ہاتھ میں تو کیا چین سے رہئِے۔،۔ سینے سے لگائے تیری تصویر ہمیشہ۔ اس وقت محمد حسین کی عمر سترہ اٹھارہ سال ہوگی اور وہیں قلعہ معلہ میں آزاد کی ملاقات محمد ابراہیم خان داغ دہلوی سے بھی رہی جو آزاد کے ہمعمر و ہمعصر تھے ۔داغ کی والدہ وزیر بیگم کی شادی ولی عہد فخرالدین فخرو سے ہو گئی تھی اور اس طرح داغ قلعہ معلہ ہی میں رہتے تھے۔ آزاد کا استاد ذوق سے ساتھ کوئی سات سال رہا اور انہیں استاد سے بے حد عقیدت ہوگئی۔ اور جب ۱۸۵۴ میں استاد ذوق کا انتقال ہوا تو محمد حسین آزاد نے ذوق کے فرزند شیخ اسمعیل سے استاد کا سارا کلام حاصل کیا ۔ جو مُڑے ہوئے کاغذوں میں مٹکوں میں رکھا تھا۔ محمد حسین نے انتہائی جانفشانی سے مٹے ہوئے حصوں کو درست کیا۔ مختلف شاگردوں کا کلام اس میں سے علیحدہ کیا اور استاد ذوق کا دیوان مرتب کیا۔
آخر ۱۱مئی ۱۸۵۷ کو میرٹھ سے دیسی سپاہ نے دہلی پر چڑھائی کی ۔ کمپنی کی باغی سپاہ انکے ساتھ مل گئی اور انگریزوں کو بھاری جانی نقصان ہوا۔ اس موقع پر دہلی کالج کے پرنسپل مسٹر ٹیلر بھاگتے ہوئَے مولوی باقر کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ مولوی باقر نے انہیں پناہ تو دے دی لیکن دوسرے دن محلے میں یہ بات پھیل گئی کہ مولوی باقر کے ہاں کوئی گورا پناہ گزیں ہے اور اس وقت ایسے گھروں کو آگ لگادی جاتی تھی۔ اس لئے مولوی باقر نے مسٹر ٹیلر کو دیسی کپڑے اور بھیس بدلنے کا سامان پیش کیا کہ آپ بھیس بدل کر دہلی سے باہر نکل جائیں اس موقع پر مسٹر ٹیلر نے ایک لفافہ مولوی باقر کے حوالے کیا کہ اس میں کالج سے متعلق کچھ ضروری کاغذات ہیں انہیں موقع ملتے ہی انگریز سرکار تک پہںچادینا۔ اور جونہی مسٹر ٹیلر باہر نکلے پہچان اور قتل کردئے گئے پھر کئی ہفتے بے چینی اور خون خرابے کے گذرے اور آہستہ آہستہ سکھوں کی مدد سے انگریز سرکار نے اس بغاوت کو کچل دیا اور دہلی کی سڑکیں مسلمانوں کے خون سے سُرخ ہوگئِیں اور اسطرح ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں سفید سرکار کو فتح ہوئی۔۔ جب مولوی باقر نے اس اہم لفافے کو انگریز دفتر میں پہنچایا تو معلوم ہوا کہ مسٹر ٹیلر نے اس خط میں لکھا تھا کہ یہ شخص مجھے بچاسکتا تھا مگر اس نے نہیں بچایا اور مجھے گھر سے نکال دیا۔ محمد باقر اسی وقت مسٹر ٹیلر کے قتل میں گرفتار کرلئے گئے اور ان کے تمام گھر والوں کو دہلی سے بے دخل ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ تمام اہل خانہ جان بچا کر بھاگے اُس وقت محمد حسین نے جو واحد پونجی ہمراہ لی وہ استاد ذوق کے کلام کا پلندہ تھا۔ جن عورتوں نے کبھی گھر سے باہر قدم نہیں رکھا تھا وہ ننگے پاوں ننگے سر دہلی کی سڑکوں پر جان بچانے کو بھاگتی پھررہی تھیں۔ ہر طرف بارود ۔دھواں ۔تلواریں اور آگ تھی۔ ایک گولا قریب آکر پھٹا جس کے دھماکے سے آزاد کی تین ماہ کی بچی بے ہوش ہوگئی۔ ماں کی ممتا اُسے سینے سے لگائے بھاگتی رہی اور دوسرے دن اُس شیر خوار نے دم توڑ دیا۔
دہلی سے باہر نکلتے ہی آزاد نے گھر کے مردوں سے کہا کہ وہ اہل خانہ کو لے کر کسی محفوظ شہر چلے جائیں میں ایک نظر بابا جان سے ملنا چاہتا ہوں جو انگریزوں کی قید میں تھے۔ تمام اہل خانہ نے انہیں باز رکھنا چاہا مگر آزاد کی عمر اُس وقت ستائیس سال تھی جوانی کا جوش و جذبہ انہیں ایک بار پھر دہلی لے گیا۔ چھپتے چھپاتے اپنے والد کے ایک دوست سکھ جرنیل کے ہاں پہنچے اور ان سے درخواست کی کہ میں بابا جان سے ملنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے منع کیا تو آزاد نے درخواست کی کہ ایک نظر انہیں دور سے مجھے دکھادیجئے وہ بہت مشکل سے اس پر تیار ہوئے اس لئے کہ اس میں نہ صرف آزاد کی بلکہ اُن کی اپنی جان کا خطرہ بھی تھا با الآخر یہ طے ہوا کہ آزاد ان کے سائیس کا بھیس بدل کر اُن کے گھوڑے کے پیچھے پیچھے بھاگتے رہیں گے۔ شہر سے باہر کیمپ میں باغیوں کو رکھا گیا تھا سکھ جرنیل دو منٹ کے لئے مولوی باقر کے پاس رُکے کہ اس سے زیادہ رکنے میں جان کا خطرہ تھا ان دو منٹوں میں باپ نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دیکھا اور آزاد نے اپنے باپ کا آخری دیدار کیا۔ گفتگو اور اشارے کنارے کا موقع نہیں تھا۔ اور آزاد وہاں سے رُخصت ہوگئے اندازہ کیجئے دونوں باپ بیٹے کے لئے کس قدر بےچارگی کا وقت تھا۔ دوسرے دن مولوی باقر حسین کو گولی مار دی گئی۔
آزاد یہاں سے چلے تو نہ جیب میں پائی پیسہ نہ اسباب سفر نہ کپڑے اور جان کا خطرہ الگ۔ چھپتے چھپاتے دہلی سے نکلے اور بغیر راہ جانے کسی سمت پیدل روانہ ہوگئے راستے میں کوئی کچھ دے دیتا تو کھا لیتے کسی مسجد میں رات گذارتے اس طرح کئی دن کی مسافت کے بعد لکھنو پہنچے۔ لکھنو ابھی تک فرنگی سرکار کی مکمل گرفت میں نہ تھا۔ گھر والوں کا کوئی پتہ نہ تھا کہ کہاں ہیں نہ خط و کتابت نہ واقفیت۔ بس لکھنو میں ہی بس گئے۔ وہاں میر انیس سے ملاقات ہوئی۔ میر تقی میر اور مرزا سودا کے بچے وہاں رہتے تھے ان سے ملے اور آہستہ آہستہ قدم جمالئے ابھی ایک ماہ ہی ہوا تھا کہ خبر آئی کہ اخبارالظفر میں محمد حسین نے بھی کچھ ایسے مضامین لکھے تھے جو مسلمانوں کو آزادی کی ترغیب دینے اور انگریز سرکار کے خلاف ابھارنے کے زمرے میں آتے ہیں اس لئے آزاد کا وارنٹ گرفتاری جاری ہو گیا ہے اور گرفتاری میں مدد کرنے والے کو پانچ سو روپئے انعام دیا جائے گا۔ یہ خبر سنتے ہی آزاد لکھنو سے ایک بار پھر منزل لا موجود کی طرف روانہ ہوگئے۔ پھر وہی دشت نوردی پھر وہی خار مغیلاں۔ کئی دن کی پیدل مسافت کے بعد مدراس پہنچے اور یہاں ایک مدرسے میں بچوں کو پڑھانے کی نوکری مل گئی۔
یہاں سے کچھ پیسے جمع کرنے کے بعد آزاد ایک بار پھر نئی منزل کی تلاش میں روانہ ہوگئے اور کچھ دن لدھیانہ میں قیام کیا اور پھر لاہور پہںچ گئے اور یہاں اپنے اہل خانہ کو جن میں بوڑھی پھوپھی بھی شامل تھیں سب کو لاہور بلا لیا۔۔۱۸۶۴ میں گرنمنٹ کالج لاہور کی بنیاد پڑی تو آزاد کو وہاں ٹیوٹر کی ملازمت مل گئی۔ یہاں آزاد کو اپنے فن کے جوہر دکھانے کا موقع ملا یہاں انہوں نے انجمن پنجاب کی بنیاد بھی ڈالی۔ مگر کچھ دن میں پھر وہی ٹنٹا کہ یہ تو وہی محمد حسین آزاد ہیں جن کا وارنٹ جاری ہے۔ اب گفت و شنید سے معافی کی ایک ہی صورت نکلی کہ آزاد فرنگی سرکار کے لئے جاسوس کا کام کریں اور افغانستان۔ترکستان اور ایران کا سفر کرکے یہ معلومات اکٹھا کریں کہ روس کا ان ممالک میں عمل دخل کا کیا امکان ہے۔اور یہ ممالک ایسٹ انڈیا کمپنی کے دائرہء اختیار سے کیوں باہر ہیں۔ حکم حاکم مرگ مفاجات۔ آزاد کے پاس کوئی چارا نہ تھا اور مصیبت یہ تھی کہ اس پیش کش کو قبول کرلیں تو بھی کسی کو حتاکہ بیوی کو بھی یہ نہیں بتا سکتے تھے کہ میں اب سرکار کا جاسوس ہوں لہذا بغیر کسی کو بتائے ہوئے غائب ہو گئے اور انتہائی دشوار گذار راستوں سے ہوتے ہوئے اپنے فرض کی ادائیگی پر روانہ ہو گئے۔ ہر جگہ خطرہ تھا کہ جاسوسی کے الزام میں گرفتاری اور گردن زدنی ہوسکتی تھی۔ ایک بار پکڑے بھی گئے جس میں سر بازار انہیں کپڑے بھی اتارنے پڑے غرض یہ کہ اپنی علمیت اور عربی فارسی پر بھرپور عبور انہیں یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گیا کہ وہ ایک طالب علم ہیں اور حصول علم و تحقیق کی خاطر یہاں آئے ہیں۔ یہاں آزاد کا نام بہاوالدین تھا اور تمام کاغذات پر یہی نام درج تھا اس سفر میں آزاد سفر نامہء ایران کی قیمتی معلومات بھی جمع کرتے رہے ۔ نادرکتب کی خریداری بھی جاری رہی اور اپنے فرائض سے بھی غافل نہیں ہوئے تمام ضروری نوٹس اپنے چغے میں چھپاکر محفوظ کرتے رہے۔۔
پندرہ مہینے کے بعد دہلی لوٹے تو گھر والے حیران رہ گئے اس لئے کہ وہ تو ان کی فاتحہ پڑھ چکے تھے۔۔ غرض اس اہم کارنامے پر فرنگی سرکار نے نہ صرف ان کا قصور معاف کردیا بلکہ نقد انعام سے بھی نوازے گئے۔ انجمن پنجاب کے سیکریٹری کی حیثیت سے ان کا تقرر ہوا۔ محکمہ تعلیم نے ان سے تدریسی کتب لکھوائیں۔کالج کی ملازمت بحال ہوئی۔ اور یہ دور آزاد کی زندگی کا سرکاری، ادبی اور تصنیفی دور کہلایا۔ سفر نامہء ایران۔ آموزگار پارسی۔ لغت آزاد۔ قصص الہند۔ فارسی اور اردو قواعد کی کئی کتب اور پھر انجمن پنجاب کے جلسے اسکی گل افشانیء گفتار سے گونج اُٹھے۔ کئی کتب ایسی بھی تھیں جو آزاد کو ناظم تعلیم مسٹر ہیرائلڈ کے نام سے لکھنی پڑیں۔ تمام اہل ادب سے ملاقاتیں رہیں کئی بار دہلی جاکر سر سید احمد خان سے بھی ملے۔غرض اُس وقت کے دانشوروں میں آزاد کا نام نمایاں تھا۔ ملکہ وکٹوریہ کے پنجسالہ جشن کے موقع پرانہیں شمس العلماء کا خطاب عطا ہوا آزاد اپنے معاصرین میں پہلے آدمی تھے جسے یہ اعزاز عطا ہوا تھا۔
آزاد نے اپنی زندگی میں جن مصائب کا سامنا کیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ماں کا انتقال چار سال کی عمر میں ہو گیا۔ باپ کا آخری دیدار بغیر بغل گیری و گفتگو کے۔ آزاد نے ایک دو نہیں چودہ بچوں کو اپنی زندگی میں مرتے دیکھا۔۔لیکن جب آزاد کی اُس بیٹی کا انتقال ہوا جو ان کے تصنیفی ذوق کی معاون و دلدادہ تھی تو آزاد کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔۔ کبھی خود فراموشی و مدہوشی۔اور کبھی عالمانہ دانشوری کا ملا جلا زمانہ کوئی بیس سال پر محیط ہے۔کالج کی نوکری
گھر والوں کو بغیر بتائے دہلی پیدل روانہ ہوگئے۔ تصنیف و تالیف کا سلسلہ پھر بھی جاری تھا۔۔ نہ کپڑوں کا ہوش ۔ نہ کھانے کی فکر ۔ نہ دوستوں کی محفلیں۔۔ لیکن رات ہوئی اور قلمدان و کاغذ ان کا رفیق شب ہوا۔ کئی راتیں بغیر سوئے گذر جاتیں۔ دربار اکبری انہی دنوں مکمل ہوئی۔ مکاشفات آزاد۔ فلسفہ الہیات۔ اور جانوستان اسی دور کی کتب ہیں۔ اس کے علاوہ نواسی ایسے مسودات ان کے ادبی خزانے سے نکلے جو اُسی دور میں لکھے گئے تھے جو اردو ادب کیا عالمی ادب کا نادر نمونہ ہیں۔ آخری عمر میں بیوی کے انتقال کے بعد آزاد بالکل بے قابو ہوگئے کچھ عرصہ پاگل خانے میں بھی گذارا۔ پھر بیٹا انہیں وہاں سے لے آیا۔اور خدمت کی علاج گھر پر ہی ہوتا رہا۔ اور باالآخر وہ وقت آہی گیا جب دوائیں بے کار اور دعائیں بے اثر ہوجاتی ہیں۔ اور بائیس جنوری سن ۱۹۱۰ کی شب کو آزاد قید جنوں سے آزاد ہوکر خالق حقیقی سے جاملا آزاد نے اسی سال بارہ دن عمر پائی۔ دوسرے دن عاشوہء محرم تھا اس لئے تدفین تیسرے دن ہوئی ۔جنازہ اُٹھا تو سارا شہر اُڈ آیا ۔ تمام سرکاری اور غیر سرکاری مدارس کی چھٹی ہوئی اور تمام اہل علم و ادب جنازے میں شریک ہوئے۔ داتا دربار کے عقب میں گامے شاہ قبرستان جسے کربلا بھی کہتے ہیں آزاد کی تدفین ہوئی اور اسطرح علم و ادب کے ایک سنہرے دور کا اختتام ہوا۔ مولانا حالی نے قطعہ تاریخ لکھا
آزاد وہ دریائے سخن کا دُر یکتا۔ جس کی سخن آرائی پہ اجماع تھا سب کا ہر لفظ کو مانیں گے فصاحت کا نمونہ۔ جو اُس کے قلم سے دم تحریر ہے ٹپکا ملکوں میں پھرا مدتوں تحقیق کی خاطر۔ چھوڑا نہ دقیقہ بھی کوئی رنج و تعب کا دیکھا نہ سُنا ایسا کہیں اہل قلم میں۔ تصنیف کا تحقیق کا تدوین کا لپکا صحت میں علالت میں اقمت میں سفر میں۔ ہمت تھی بلا کی تو ارادہ تھا غضب کا۔ فرض اپنا ادا کرکے کئی سال سے مشتاق۔ بیٹھا تھا کہ آئے کہیں پیغام طلب کا۔ آخر شب عاشور کو تھی جس کی تمنا۔ آ پہنچا نصیبوں سے بلاوا اُسے رب کا تاریخ وفات اُس کی جو پوچھے کوئی حالی۔ کہہ دو کہ ہوا خاتمہ اردو کے ادب کا
ناظم تعلیمات مسٹر ہیرائلڈ اور انسپکٹر تعلیم مسٹر پیٹرسن کے ایماء پر آزاد نے اردو نظم کے فروغ کی بہت کوشش کی اور کئی مشاعرے محض نظم کے لئے کئے۔ جس کے لئے آزاد کو بے حد مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان مخالفتوں کو روکنے کی بہت کوششیں کی گئیں۔مسٹر ہیرائلڈ اور مسٹر پیٹر سن نے لوگوں کو بتایا کہ انگریزی ادب غزل سے ناواقف ہے۔ مگر اس میں نظمیں کثرت سے کہی جاتی ہیں ۔ سر سید نے بھی اپنے رسالے تہذیب الاخلاق میں ایک طویل مضمون لکھا۔ جس کا عنوان"علم انشاء اور اردو نظم۔ تھا۔ مگر مخصوص طور پر اہل لکھنو نظم کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھے باالآخر مشاعرے بسلسلہء فروغ نظم کو ختم کرنا پڑا۔ لیکن ان مشاعروں نے آزاد کو اردو شاعری میں ایک خاص مقام عطا کیا۔
آزاد کی چند اہم ادبی تصانیف۔ آب حیات۔ نیرنگ خیال۔ سخن دان فارس۔ نگارستان فارس۔ دربار اکبری۔ دیوان ذوق۔ ڈراما۔ "اکبر اعظم۔ نظم آزاد۔ خم کدہء آزاد۔ نمونہء کلام آزاد۔
عالم ہے اپنے بستر راحت پہ خواب میں۔ آزاد سر جھکائے خدا کی جناب میں پھیلائے ہاتھ صورت امیدوار ہے۔ اور کرتا صدق دل سے دعا بار بار ہے مجھ کو تو ملک سے ہے نہ مال سے غرض۔ رکھتا نہیں زمانے کے جنجال سے غرض یارب یہ التجا ہے کرم تُو اگر کرے۔ وہ بات دے زباں پہ کہ دل پر اثر کرے نمونہء فرد۔۔ چشم نرگس کو بھی گلشن میں بڑے دعوےہیں۔۔ تم ذرا چل کے دکھا دو سر گلزار آنکھیں
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں