|
مولاناسیدسیف عباس کی والدہ کا انتقال اور تدفین
10.01.2010, 01:24am , اتوار (GMT+1)
ظہیر حسن۔لکھنؤ
لکھنؤ ۹ جنوری: اہلیۂ نجم العلماء مولانا سید علی نقوی آل غفرانماب و والدہ ممتاز العلماء مولانا سید سیف عباس نقوی کاآج ایک مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔
مرحومہ کا تعلق الہ آباد کے قصبہ کراری سے تھا۔ انکے والد ماجد جناب ڈپٹی سید عنایت حسین رضوی ایک اعلی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ مرحومہ کو آج دوپہر میں امام باڑہ سید تقی صاحب،جنت ماب میں کثیر مجمع کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔ میت کی نماز امیر العلماء مولانا سید حمید الحسن تقوی نے پڑھائی اور بعد نماز مجلس کو بھی انہوں نے خطاب کیا۔
میت میںعلماء ،معززین اور ماتمی انجمنوں کے ذمہ د اروں کے علاوہ مدارس کے طلاب نے بھی شرکت کی۔ میت شریعت کدہ سرکار نجم العلماء واقع نخاس سے اٹھی اور پاٹا نالہ کے غسل خانہ میں غسل انجام دیا گیا۔سپہر کو جنت ماب کے امام باڑے میں مرحومہ کو سوگواروں کی کثیر تعداد کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔
ممتاز العلماء مولانا سید سیف عباس کے مطابق انکی والدہ کی مجلس سوئم دوشنبہ گیارہ جنوری صبح دس بجے اما م باڑہ تقی صاحب(جنت ماب) میں منعقد ہوگی۔
مرحومہ کے پسمندگان میں مولانا سیف عباس کے علاوہ تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔
یوتھ علی کانگریس کے صدر فیروز آغا نے مرحومہ کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ۔ انہوں نے مرحومہ کے درجات بلند ہونے کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ مولاناسید سیف عباس صاحب کے ساتھ ساتھ مرحومہ کے دیگر پسمندگان کو اللہ صبر جمیل عطا کرے۔
خدیجہ فاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹری علی آغا نے مولانا سیف عباس کی والدہ کے انتقال پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہ مومنہ عاشق عزاداری تھیں ۔اللہ انکے درجات بلند کرے۔
|