چند روز پہلے انہی صفحات پر ایک گفتگو جاری تھی جس میں عزائے حسین ابن علی کو بدعت اور شبیہہ ہائے خانہ کعبہ و تعزیہ کو بت پرستی کہا گیا۔ بات کوئی نئی نہیں تھی اس لئے محرم الحرام کے اولیں عشرہ کے تقدس کے پیش نظر ہم اس بحث سے الگ رہے۔ تاہم یہ بھی ایک امر مسلمہ ہے کہ احقاق الحق بھی روز ازل سے جاری ہے اور ہمیں یہ فریضہ اس نیت سے نباہنا ہے کہ شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات!
ہمیں تعجب یہ ہوا کہ اہل علم و دانش کا ایک حلقہ سوال کر رہا ہے کہ آغاز محرم میں مبارکباد کا کیا جواز ہے تو دوسری طرف جواب عزاداری پر حملے کی صورت میں برآمد ہو رہے تھے۔ بہر کیف اس گذشتہ بحث کے مندرجات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آج ہم یہ سطریں مختلف حصوں میں بانٹ رہے ہیں جو کہ یہ ہیں؛
١- حقیقت مبارک اور جواز مبارکباد
٢- جواز عزاداری و میلاد ( چونکہ تھوڑا عرصہ پہلے جواز عزاداری کے نام سے ہمارا مضمون اسی اخبار میں چھپ چکا ہے اس لئے اس موضوع پر ہم یہاں بحث کو چھوڑے دیتے ہیں)۔ اسکا لنک یہ ہے
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=specialreport&article=3935
٣- شعائر عزاداری و میلاد
امید ہے اہل علم حضرات اس ادنٰی سی کاوش کو وقت دے کر مطالعہ فرمائیں گے۔
حقیقت مبارک اور اسکا جواز در محرم۔
لفظوں کی حقیقت زبان، محل استعمال اور تمدنی پس منظر میں بدل جایا کرتے ہیں۔ اردو ایک لشکری زبان ہے جس میں کئی زبانوں سے الفاظ کو ورود ہوا ہے، لیکن جب سے وہ اردو میں استعمال ہونا شروع ہوئے ہیں، انکا ہمارے یہاں وہ تصور نہیں رہا جو کہ انکا اپنی اپنے مرکز و مبتداء میں تھا۔ جیسا کہ سیارہ عربی میں گاڑی سمیت ہر متحرک شے کو کہا جاتا ہے، جبکہ ہمارے یہاں اس مراد صرف اور صرف وہ اجسام ہیں جو خلاء میں متحرک ہیں اور اپنے سے بڑے اجسام کے گرد متحرک ہیں۔ اسی طرح کام اردو میں کرنے کی نسبت کے ساتھ دہن کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جبکہ فارسی میں اس سے مراد محض دہن ہے۔ یہی حال لفظ برکت و مبارکباد کا ہے۔ آئیے ذرا اسکا قرآنی مفہوم پہلے دیکھ لیں۔
قرآنی مفہوم-
مبارک عربی کے لفظ بارک اور برکہ سے ماخوذ لفظ ہے جس سے مراد ہے کہ با تقدس و با شرف۔ جیسا کہ سورہ اسریٰ میں ہے کہ سُبْحَانَ الَّذِي اسْرَى بِعَبْدِہ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَى الْمَسْجِدِ الاَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَہ لِنُرِيَہ مِنْ آيَاتِنَا انہ ھوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ( آیت ۱ ) کہ ہم نے مسجد اقصیٰ کے ماحول کو با برکت و شرف بنایا۔ پھر سور ھود میں فرمایا کہ قَالُواْ اتَعْجَبِينَ مِنْ اَمْرِ اللّہ رَحْمَتُ اللّہ وَبَرَكَاتُہ عَلَيْكُمْ اھلَ الْبَيْتِ انَّہ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ (آیت ٧٣) کہ اے اہل بیت اللہ کے امر سے حیران نہ ہوں کہ آپ پر اللہ کمی رحمتیں اور اسکی برکات ہیں۔ یہاں لفظ برکات بطور مہربانی کے آیا ہے۔
پھر سورہ نور میں فرمایا کہ فَاِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى انفُسِكُمْ تَحِيَّت مِّنْ عِندِ اللّہ مُبَارَكَت طَيِّبَت كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّہ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُون (آیت ٦١) کہ جب اپنے گھروں میں جاؤ تو خود کو سلام کہ لیا کرو، یہ اللہ کی طرف سے تمہیں با برکت و پاکیزہ تہنیت ہے، اور اللہ اسی طرح سے اپنی نشانیاں تم پر عیاں کئے جاتا ہے تا کہ تم عقل سے کام لے سکو۔
قرآن مین کم و بیش سات مقامات پر لفظ مبارک استعمال ہوا ہے اور اور محل استعمال سے معانی و مفہوم کی تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ اسکا زیادہ تر مدعا عز و شرف، مہربانی اور تہنیت کی نسبت سے ہوا ہے۔
عربی زبان کے حوالہ سے لفظ برکت اضافے اور زودگی کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ دسترخوان میں برکت سے مراد اللہ کی طرف سے اضافہ شامل ہے۔
لیکن یہ تمام تعریفیں محض قرآنی ماحول میں ہیں۔ اردو میں ہم لفظ مبارک ان مقامات پر استعمال کرتے ہیں جہاں شاید عرب کرتے ہی نہ ہوں۔ جیسا کہ ہم عید مبارک اس نیت سے کہتے ہیں کہ عید کی خوشیاں آپ کو نصیب ہوں، جبکہ عرب لوگ عیدکم سعید کہتے ہیں کہ آپ کی عید خوشی و سعادت سے لبریز رہے۔ عربی میں بھی عید مبارک کہا جاتا ہے اور اس مراد پیغام تہنیت و خوشی کے ساتھ حصول برکات ہے۔ تاہم جب لفظ مبارک کے ساتھ فارسی کا لاحقہ باد لگ جائے تو اسکا تمام تر تعلق اپنے عربی مصدر سے کٹ جاتا ہے اور اسکا اطلاق محض فارسی اور اردو کی حد تک رہ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں مبارکباد کی شکل محض خوشی و نشاط سے مربوط رہ جاتی ہے۔ جیسا کہ پیغام نگار حضرات اپنے اسی پیغام کو انگریزی میں ھیپی برتھ ڈے، اور اے جوائے فُل ائیر کہ کر پیغام کو حصول برکات سے کاٹ کر سراسر نشاط و مستی کے ساتھ منسلک کر دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں جب پیغام انگریزی میں دو ٹوک ہو تو مفہوم تک پہنچنا مشکل نہیں ہوتا۔ تاہم انہی مواقع یعنی ولادت یا سال نو کی نسبت سے اگر یہی پیغام مبارکباد اردو یا فارسی پس منظر میں دیا جائے تو بھی اس سے مراد خوشی و انبساط ہے۔
جواز مبارک۔
اسلام میں مبارک کا پس منظر تو ہم پیش کر ہی چکے ہیں۔ اب ہم آتے ہیں خوشی و انبساط کے پیغامات کی طرف۔ جیسا کہ اوپر ہم بیان کر چکے ہیں کہ عید الفطر کے موقع پر عیدکم سعید کہ کر خوشی کا پیغام اسلامی ماحول میں بھی روا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے کہ جب کوئی جنت میں جائے گا تو اسکی ملاقات کرنے والے اسے تحیہ و سلام کہ کر ملیں گے۔ اوْلَئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَت بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فیھا تَحِيَّت وَسَلَامًا (الاحزاب آیت85 تحیہ عربی کا لفظ جس معانی حی سے ماخوذ ہیں اور اس سے اگر لفظ بہ لفظ مراد لیا جائے تو جیئؤ اور جیتے رہو اردو معانی ہونگے۔ اس طرح تحیہ و سلام گویا زندگی اور سلامتی کی دعائیں ہی ہیں نہ مستی و نشاط کا پیغام۔ ایسی راحت، فرحت، خوشی اور نشاط کو اللہ پاک نے اس دنیا میں مناے کو نا پسند فرمایا ہے کہ اللہ کو خوشی منانے والے پسند نہیں ہیں۔ ملاحظہ ہو
انَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَى فَبَغَى عَلَيْھمْ وَآتَيْنَاہ مِنَ الْكُنُوزِ مَا انَّ مَفَاتِحَہ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَت اولِي الْقُوَّت اْذ قَالَ لَہ قَوْمُہ لَا تَفْرَحْ انَّ اللَّہ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ (سور القصص آیت نمبر 76کہ قارون کے نشاط و خوشی کو دیکھ کر اسکی قوم نے کہا کہ اللہ خوشی منانے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ اسی طرح نا شکرے انسان کے زمر میں فرمایا کہ اذَا اَذَقْنَا الْانسَانَ مِنَّا رَحْمَت فَرِحَ بِھَا وَان تُصِبْھمْ سَيِّئَت بِمَا قَدَّمَتْ ایْدِيھمْ فَاِنَّ الْاِنسَانَ كَفُورٌ ( الشوریٰ آیت 48 کہ جب اللہ پاک اسے نعمتیں دے دیتا ہے تو وہ خوشی مناتا ہے اور جب اپنے کئے کے سبب کوئی مشکل آن پڑے تو نا شکری و کفران کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح سورہ توبہ میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو جنگ تبوک میں رسول اللہ (ص) کو چھوڑ کر بہانے سے پیچھے رہ گئے اور پھر خوشی مناتے رہے کہ ہمارے جان و مال بچ رہے اور گرمی کی حدت سے دور رہے، انہیں وعید ہو کہ نار جہنم کی گرمی اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ملاحظہ ہو
فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِھمْ خِلاَفَ رَسُولِ اللّہ وَكَرھواْ ان يُجَاھدُواْ بِاَمْوَالِھمْ وَانفُسِھِمْ فِي سَبِيلِ اللّہ وَقَالُواْ لاَ تَنفِرُواْ فِي الْحَرِّ قُلْ نَارُ جَہنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا لَّوْ كَانُوا يَفْقَھونَ (التوبہ آیت 81 اسی طرح اللہ کی نعمتیں چھوڑ کی انبساط و خوشی (جوائے فل ائیر) کے شوق میں جو لوگ مشغول ہوجاتے ہیں ان کے لئے حق تعالیٰ سورہ انعام میں فرماتا ہے کہ فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِہ فَتَحْنَا عَلَيْھمْ ابْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى اِذَا فَرِحُواْ بِمَا اُوتُواْ اَخَذْنَاھم بَغْتَت فَاذَا ھم مُّبْلِسُونَ (آیت(44ہ وہ بتائی ہوئی بات بھول گئے اور ہماری نعمتوں کے کھلے در پر خوشیاں منا رہے تھے کہ ہم نے آن کی آن میں ان کو آن دھرا اور وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ تاہم شہداء کا ذکر کرتے ہوئے سور آل عمران میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ وہ جنت میں راحت و خوشی میں ہونگے۔ ملاحظہ ہو فَرِحِينَ بِمَا آتَاھمُ اللّہ مِن فَضْلِہ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُواْ بِہم مِّنْ خَلْفِھمْ الاَّ خَوْفٌ عَلَيْھمْ وَلاَ ھمْ يَحْزَنُونَ ( آیت(70
شہداء اللہ کی نعمتوں پر خوشی مناتے ہونگے۔۔۔الخ۔
مندرجہ بالا بحث سے ہم یہ کہنے کے لائق ہو گئے ہیں کہ مبارکباد اور تہنیت کی جو رسم ہمارے یہاں روا ہے، اسلام میں اسکی کوئی گنجائیش موجود نہیں۔ اس دنیاوی زندگی کو لہو لعب اور مستی و نشاط سے منانے کی سخت ممانعت ہے اور اگر ہم ایسا کر رہے ہیں تو اہم اسکی نا شکری کر رہے ہیں۔ تاہم جنت میں جانے کے بعد حرمت و حلت کے تصورات بدل جاتے ہیں اور چونکہ جنت عالم ِ تکلیف نہیں ہے جہاں گناہ کا تصور ہو، اس لئے وہاں اللہ کی نعمتوں پر خوشی کا تصور موجود ہے۔ اور یہ بہشت بریں کی خوشیاں انہی کا نصیب ہیں جنہوں نے اس عالم ارضی میں تکالیف اٹھائی ہوں اور نشاط و راحت سے دور رہے ہوں۔ اگر ہم یہاں راحت و نشاط کو شوق پورا کر لیں تو پھر خلّاق دو عالم ہمیں نار جہنم کی حدت و تکلیف سے ڈراتا ہے۔
اب رہا سوال یہ کہ کیا محرم میں مبارکباد دی جا سکتی ہے تو واضح رہے کہ ہمارے تمدنی پس منظر میں مبارک کو جو تصور موجود ہے، اسکا اسلام سے کوئی تعلقہ ہے نہیں۔ اور اگر قرآنی مفاہیم کی صورت میں برکت و تقدس کے نظرئیے سے مبارک کہی جائے تو بھی معیوب ہے کہ اہل مصیبت کو تسلیت و پرسہ پیش کیا جاتا ہے نہ کہ مبارک۔ خانوادہ رسول کی مصیبت کو ہمیں اپنی مصیبت جاننا چاہئیے۔ کہ قرآن مجید کہتا ہے کہ فَھلْ يَنظُرُونَ الَّا سُنَّتَ الاوَّلِينَ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّہ تَبْدِيلًا وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّہ تَحْوِيلًا ( سور فاطر آیت(62
کہ (وہ لوگ) کیا دیکھتے نہیں کہ اللہ کا طریقہ نہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ اس میں خم و پیش آتے ہیں۔ اب جبکہ اللہ کی سنت تو بدلتی نہیں ہے اور اللہ پسند نہیں کرتا کہ اسکا رسول لوگوں کے پیچھے بیٹھے رہ جانے سے رنجیدہ ء خاطر ہو تو کیا اللہ یہ پسند فرما لے گا کہ اسکا رسول (ص) تو عالم مصیبت میں ہو اور ہم تہنیت و برکت کے پیغامات دیں۔ قرآن تو مصیبت زدہ کو برکت و تحیہ کی بجائے انا للہ و انا الیہ راجعون کہ کر اظہار تسلیت دیتا نظر آتا ہے اور ہم ان کو مبارکباد پیش کریں؟ ہم کیوں اللہ کی سنت بدلنے کے در پے ہیں؟ اللہ کا رسول کسی پر پتھر پھینکے تو اللہ اسکو اپنا عمل کہتا ہے اللہ کا رسول اگر بات کرے تو جبریل امین ، اللہ کی جانب سے اسکے لئے وحی کی سند لے کر آتا ہے۔ یہی رسول اپنی زندگی میں تو بدر و احد کے شہداء کا سوگ مناتا نظر آتا ہے تو کہا اپنے خانودے کی مصیبتوں پر ہمارا رسول (ص) مبارکباد کو پسند فرمائے گا؟ تاریخ شاہد ہے کہ امام حسین (ع) کی شہادت پر بنو امیہ، اولادِ ہند نے خوشی و مبارک کے ترانے گائے۔ ہم کیوں اسلام پر اتنا بڑا بہتان لگانے پر تلے ہیں کہ اسلام میں سال نو کی آمد پر مبارک کا کوئی تصور بھی موجود ہے۔ کیا اسلام بنی امیہ اور اولاد ہند کی میراث ہے یا اللہ کا عطا کردہ دین ہے جسکے ورثاء آل رسول (ص) کے سوا کوئی اور نہیں۔
اگر اسلام بنی امیہ کی جاری کردہ مبارکباد کو قبول کرتا ہے تو پھر اہل اسلام کو بنی امیہ کی وہ سنت بھی اپنانا ہوگی جس کی مخالفت کے سبب حسین (ع) ابن علی (ع) کو قتل کیا گیا تھا۔شراب خوری، زناء اور پھوپھیوں کے ساتھ نکاح روا رکھنا بنی امیہ کی سنت تھی اور امام حسین ع اسکے مخالف تھے۔ امام عالی مقام کی شہادت پر اولاد آکلت الاکباد نے خوشی کے شادیانے اس لئے بجائے تھے کہ اب اسلام انکی دسترس میں آیا ہوا اک موم کا کھلونا تھا جسے وہ اپنی مرضی سے جیسا چاہتے مروڑ لیتے، لیکن یہ تو سید علی ابن الحسین (ع) اور سیدہ زینب سلام اللہ علیھاکے عالم اسیری کے وہ خطبے تھے تو کوفہ و شام کے بازاروں میں اعلائے کلمت الحق کر گئے اور حسین کی قربانی ابد الآباد کے لئے امر ہو گئی۔ آج اسلام جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ آل رسول کی محنتوں کا ثمرہ اور ترکہء حسین ابن علی ہے، ورنہ بنی امیہ کی سنت آج بھی طالبان کی صورت میں انسانیت کو بند بند زخمی کر رہی ہے۔
پس دریں اثناء و دریں موضوع مبارک، تہنیت اور نشاط و مستی کے پیغامات نہ محرم میں روا ہیں اور نہ ہی بعد میں، اور عنداللہ مواخذے کا سبب بنیں گے۔
(جاری ہے )