گذشتہ قسط میں بات پہنچی تھی مبارکباد کے غیر مباح تصور تک۔
اب ہم آتے ہیں اس بات کی طرف جہاں شبانہ روز کے عبادت گزاروں نے بیک جنبش قلم فتاویٰ صادر فرمادیا کی تعزیہ وغیرہ بت پرستی نہیں تو کیا ہے۔ اولیں تو تعجب خیز معاملہ یہ ہے کہ جو اصحاب جانتے ہیں کہ ان کی علمی استعداد اس لائق نہیں ہے کہ وہ کوئی فتاویٰ صادر فرمادیں، وہ ایسی بات جذبات کی رو میں کہ جاتے ہیں جو ان کے لئے حد ادب بھی ہے اور حد علم بھی۔ عبادت و شب بیداری تو محض خالق و مخلوق کے مابین کا تعلق ہے جس کا عامت الناس سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔
اگر عبادت لوگوں کو مرعوب کرنے کا سبب ہے تو اسکی تشہیر ضرور کی جائے، لیکن اگر اسکا مقصد رضائے الٰہی ہے تو پھر خامشی و استقامت سے اپنا کام بجا لاتے رہنا چاہیئے اور ہمہ وقت دعا یہی کرنا چاہیئے کہ عبادت قبول ہو، ورنہ رائیگانی کا خوف لاحق ہے۔ ابلیس نے بھی توحید کے اقرار میں کمی کی نہ عبادت میں، لیکن اسکی سب کوششیں عبث ہو گئیں جب مقصود خدا کے سامنے سجدہ نہ کیا۔ انسان کو اعمال کے ساتھ اپنے عقائد کی درستگی کی طرف خاص توجہ کی ضرورت رہتی ہے، ورنہ خدا کی قسمیں اٹھانے والوں کے اعمال بھی رائیگانی کی نظر ہو جاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُواْ اھَـؤُلاء الَّذِينَ اَقْسَمُواْ بِاللّہِ جَھدَ اَيْمَانِھْم اِنَّھمْ لَمَعَكُمْ حَبِطَتْ اَعْمَالُہمْ فَاَصْبَحُواْ خَاسِرِينَ (سورہ مائدہ آیت ٥٣) کہ خدا کی قسمیں اٹھانے والے اپنے ایمان سے سر پھٹکتے رہے اور ان کے اعمال ضائع ہوگئے۔
سطور ھٰذا فدوی کسی ملا و مفتی کے طور پر نہیں لکھ رہا، تاہم مجھے یہ بھی خوشی ہے کہ میں قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں اپنا مؤقف ثابت کرنے کی سعی کر رہا ہوں۔ اور نص قرآن کے مقابل ہم نہ کسی مفتی کو اہم جانتے ہیں اور نہ ہی کسی من گھڑت حدیث کو۔ حضور پاک (ص) نے ایک واضح لائحہ عمل عطا فرمادیا تھا کہ جو حدیث قرآن سے متصادم دیکھو اسے دیوار دے مارو کہ یہ جھوٹی حدیث ہوگی۔
خیر اب ہم آتے ہیں یاد اور تعزیہ کے قرآنی تصور کی طرف۔
ہم پچھلی قسط میں قرآن کا ایک اصول بتا آئے ہیں کہ اللہ کی سنت اور اسکا طریقہ کار کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتا۔ یعنی کہ جو اساسی اصول ہائے شریعت آنحضور (ص) نے وضع فرمائے تھے، وہی اصول شریعت موسوی و عیسوی میں بھی مسلمہ قواعد کی حیثیت رکھتے تھے۔ حلال محمدی (ص) شریعت موسیٰ ًمیں بھی حلال ہی تھا۔ تاہم امتوں کی عقل کی پختگی اور زمان و مکان کے سبب فقہی معاملات میں کمی بیشی ہوتی رہی۔ جیسا کہ خود نبی کریم (ص) کی حیات مقدسہ میں کچھ احکامات تبدیل ہوئے، جن میں زانیہ کی سزا ایک مثال کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔ لیکن جب خداوند متعال نے فرمادیا کہ لن تجد لسنت اللہ تبدیلا تو اس مراد یہی ہے کہ اللہ کی سنت کو ہر گز ہر گز بدلا ہو نہیں پاؤ گے۔
اللہ تعالیٰ جب فرماتا ہے کہ ھل جزاء الاحسان الاالاحسان تو خود بھی اسی سنت پر عمل فرماتا ہے اور اپنی راہ میں مشکلات اٹھانے والوں کے عمل کو ابدیت کا جامہ پہنا کر اسے شریعت میں محترم مقام دے دیتا ہے۔ اسکے پیامبر کی حفاظت کی خاطر اگر مامتا کے قدم پانی کی تلاش میں دوڑیں تو وہ اسے شعائر اللہ کا مرتبہ عطا فرمادیتا اور اسکی یاد رہتی دینا تک یوں محفوظ کر دیتا ہے کہ شریعت محمدی (ص) میں حج کا رکن ٹھہرا دیتا ہے۔ یہاں سوال تو یہی بنتا ہے کہ یا للہ حججاج کرام تو تیرے گھر کی زیارت کو آتے ہیں، وہ تو خاص تیرے مہمان ہیں اور تو انہیں ایک عورت کے عمل کی شبیہہ کیوں کر بنا دیتا ہے؟ لیکن قرآن لپک کر کہتا ہے کہ انَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَت مِن شَعَآئِرِ اللّہ۔۔۔۔الخ (البقرہ ١٥٨) کہ صفا و مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔ یہاں آگے بڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ میں لفظ شعائر کی حقیقت بیان کرتا چلوں۔
شعائر ماخوذ ہے عربی لفظ شعر سے جسکا مطلب ہے منبع شعور۔ یعنی ایک ایسی چیز جس سے کسی اور چیز کا پتہ چل سکے۔ مثلا روشن دیا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس میں روغن موجود ہے اور روغن ڈالنے والا بھی کوئی موجود ہے۔ اسی طرح شعائر اللہ سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو دیکھ کر یاد آ جائے کہ اللہ موجود ہے۔ اب پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ صفا و مروہ کی پہاڑیوں میں کیا خاص بات ہے کہ ان کو دیکھ کر اللہ کی یاد آ جاتی ہے؟ نہ یہ پہاڑیاں شادابی میں دنیا کا کوئی خوبصورت مقام ہیں نہ بلندی میں کہیں مذکور۔ اگر بے آب و گیا ہونے کے حوالے سے دیکھیں تو ایسا بھی نہیں ہے؟ پھر وہ کیا خاص ایسا ہے کہ ان پہاڑیوں کو اللہ کے وجود پر اثبات کی دلیل بنا دیا گیا؟ اسکا جواب مذکورہ بالا آیت ہی کے اگلے حصے میں ہے کہ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْہ اَن يَطَّوَّفَ بِھمَا وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَانَّ اللّہ شَاكِرٌ عَلِيمٌ ٠ سبحان اللہ۔ کیا کہنے اس ذات کے کہ بات کی گرہ یوں کھولتا ہے کہ عقلیں دنگ رہ جائیں۔ فرماتا ہے کہ جو اللہ کے گھر کا ارادہ کرے اور اگر ان پہاڑیوں کا طواف بھی کر ڈالے تو تو اس پر کوئی پکڑ نہیں ہے، بلکہ جو یسا کر ڈالے، اس نے خیر کا عمل کیا کیونکہ اللہ پاک شکر گزار اور با خبر ہے۔
اب بات کی گرہ کھل گئی کہ ان پہاڑیوں کا طواف انہیں اسکی یاد بنا دیتی ہیں۔ اور طواف کیا ہے، اس بی بی کے عمل کی یاد ہے جو ننھے اسماعیل (ع) کی جان بچانے کو ان پہاڑیوں کے مابین پانی کی تلاش کر رہی تھی۔ اب جو یہ عمل کر دے، اس نے اچھا ہی کیا کہ اللہ بھی شکر گزار ہے اپنے ان بندوں کو جنہوں نے اس کی راہ میں مشکلات اٹھائی تھیں۔ اب انکی یاد میں اگر گوئی اللہ کے گھر کا زائر ان پہاڑیوں کا بھی طواف کر ڈالے تو ایک صورت شکر گزاری کی بن جاتی ہے کہ ان کی یاد زندہ رہ گئی۔ یہاں ایک دلچسپ نکتہ عرض کرتا چلوں کہ آیت نے ًھکم حکم نے دیا کہ ان پہاڑیوں کا بھی طواف کر لیں،بلکہ کہا کہ جو کر لے، اس پر پکڑ نہیں ہے۔ گویا کہ یہ عمل لوگ خود بخود قبل از اسلام سے ہی انجام دے رہے تھے اور اسکے لئے شریعت کا حلکم نہیں آیاتھا۔ لیکن اللہ کو اپنے بندوں کی یہ ادا پسند آ گئی کہ وہ میرے محبوب بندوں کی یاد منا رہے ہیں تو کیوں نہ اسے سند خیر و خوبی بھی عطا فرما دوں۔