قل خوانی و فاتحہ۔
المیہ یہ ہے کہ آج کا مسلمان شاید ایک اور الہامی کتاب کا خواہاں ہے اور اللہ کی قائم کی ہوئی سنتوں پر خوش نہیں کہ انہی سے سبق سیکھ سکے۔ ہم دنیا بھر میں موجود رسول اللہ کے نعلین شریفین اور انکی دستار و جبہ کو تو تبرکات جانتے ہیں، لیکن انکے خون کو خود پر حلال سمجھتے ہیں۔ ہمیں اپنے ما فی الضمیر پر فکر و غور کی اشد ضرورت ہے کہ ہم کس طرح سے اولاد رسول کو تو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور پانچ یا چھ نسلوں کے واسطے سے اگر کسی کا تعلق آل ِ عبد مناف سے جا ملے تو اسکا شرف بیان کرتے ہم تھکتے نہیں ہیں۔
آخر کیوں ہے ایسا رویہ۔ کہیں خدانخواستہ ہم بنی امیہ کے پرچار کا شکار تو نہیں ہیں، جس کا مدعا لوگوں کو خاندان رسول (ص) سے دور کرنا تھا تا کہ بدر و احد و حنین میں مارے گئے اپنے اکابرین کا بدلہ نسل رسول سے لے سکیں۔
اس سے پہلے کہ اس بحث کو میں یہیں اختتام پذیر کروں، چند جملے اس بابت میں عرض کر دینا بھی ضروری ہیں جہاں اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ وہابیت کے پرچار کا شکار ہو کر یہ کہنے لگتے ہیں کہ قل اور ختم و دعا کا اسلام میں کوئی مقام نپہیں۔ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ ہم لوگ کسی کے بلند بانگ غوغے سے متاثر ہو کر کیوں شرمندہ نکتہ نظر اپنا لیتے ہیں اور اپنے اسلاف کے چھوڑے ہوئے دین پر معذرت خواہانہ رویہ اپنا لیتے ہیں۔ قرآن میں حکم ہو رہا ہے وَلاَ تُصَلِّ عَلَى احَدٍ مِّنْھم مَّاتَ ابَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَىَ قَبْرِہ انَّھمْ كَفَرُواْ بِاللّہِ وَرَسُولِہ وَمَاتُواْ وَھمْ فَاسِقُونَ ( البقرہ آیت ٨٤) کہ اے میرے رسول (وہ لوگ جو جنگ میں آپ کو چھوڑ گئے تھے) نہ تو انکی اموات پر صلوٰت کہیں اور نہ ہی انکی قبروں پر کھڑے ہوں، کہ انہوں انے اللہ اور اسکے رسول کا انکار کیا اور وہ حالت فسق میں مرے ہیں۔
یہاں سوچنے کا مرحلہ تو یہی ہے کہ اگر اللہ کا رسول انکی قبر پر جا کر کھڑا ہوتا ہے تو کیوں؟ اور اسکے کھڑے ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اور اگر انکا کھڑا ہونا کوئی فرق نہیں ڈالتا تو پھر ظاہر داری کے لئے رسول پاک کو انکی قبروں پر کھڑے ہونے ہی دیا جائے کہ جو رسول اپنی بزم سے کسی منافق کو بسب رحمت نہیں اٹھاتا، وہ اگر دلجوئی کی خاطر کسی کی قبر پر لواحقین کی دلجوئی کورک ہی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے، شائد کوئی اور تالیف قلبی کے سبب راجع بہ اسلام ہو جاتا!
نہیں ایسا نہیں کہ رسول پاک کا کھڑا ہونا لا یعنی تھا۔ اس میں باقاعدہ سبب رحمت و مغفرت تھا، جس لئے اللہ کریم نے آنحضور کو منع فرمایا کہ اے میرے رسول تیری رحمت کے سبب مجھے تیرے ہی دشمنوں کو چھوڑنا نہ پڑ جائے۔ قرآن کریم انبیائے کرام ً کی دعاؤن سے بھرا پڑا ہے جس میں خاص قابل ذکر ملت ابراہیمی کا دم بھرنے والوں کے لئے جناب ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا و علیہ الصلوات و التحیات کی دعا ہے کہ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ ( سورہ ابراہیم آیت ٤١)۔ اس آیت میں جناب ابراہیم ً نے صرف اپنی مغفرت کی دعا مانگ رہے ہیں، بلکہ روز اول تا ازل تک کے مؤمنین کی مغفرت کی دعا بھی مانگ رہے ہیں اور اپنے ان والدین کی مغفرت کی دعا بھی مانگ رہے ہیں جنہیں لوگ آج تک کافر سمجھتے ہیں۔
اگر دعائے مغفرت اسلام میں رائج نہ ہوتی تو اللہ کریم اس دعا کے بعد جناب ابراہیم ً کو تنبیہ کر دیتا کہ ابراہیم اپنی اورامت کی دعا مانگ لو، لیکن یہ کیا کہ اپنے مرے ہوؤں کو بھی ہم سے بخشوانا چاہتے ہو؟ جناب نوح ً نے تو اپنے بے دین بیٹے کی زندگی کی آرزو کی تو خالق نے فورا لیس من اھلک کہ کر انہیں روک دیا۔ ایسے میں کیونکر ممکن ہے کہ خلاق دو عالم کسی کافر کی مغفرت کی دعا کو قرآن کے پاروں میں اور مسلمانوں کی نمازوں میں زینت دے دے۔ گویا مرحوم کی مغفرت کی دعا بھی عین اسلام ہے اور جناب ابراہیم ً کے والد (تارخ نہ کہ آزر) اہل ایمان تھے۔
قرآن جب کہتا ہے کہ وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفَاء وَرَحْمَت لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلاَ يَزِيدُ الظَّالِمِينَ الاَّ خَسَارًا (بنی اسرائیل آیت ٨٢) کہ قرآن سے مؤمنین کو شفاء و رحمت ملتی ہے تو اسکو محض زندوں کے لئے مخصوص نہیں کر دیتا۔ قرآن کریم کی تلاوت ہر زندہ و مردہ کو یکساں فیض پہنچاتی ہے اور اسی لئے قرآن خوانی و قل خوانی عین اسلام ہے۔ اگر اپنے اعمال کے علاوہ ، مغفرت کا تصور نہ ہوتا تو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق (رض) اور جناب فاروق اعظم (رض) اپنے مدفن کے لئے پہلوئے رسالتمآب کی خواہش نہ کرتے اور نہ ہی انکے لواحقین اس خواہش کی تکمیل کرتے۔ ان بزرگواروں کی ریاض الجنت میں تدفین اس اسلامی عقیدے کی تصدیق ہے کہ دعا اور مقام تدفین سے بھی مغفرت کا نظریہ عین اسلام ہے۔ خداوند متعال کے فیصلے ہمرای سمجھوں سے کہیں بلند تر ہوتے ہیں۔ اگر ریاض الجنت میں نواسہ ہائے رسول مدفون ہوتے تو آج لوگ کہ سکتے تھے کہ یہ بنی ہاشم کو قبرستان بن گیا تھا، ورنہ اسکی عقیدے میں کوئی گمجائیش نہ تھی۔
لیکن خلفائے دین کا یہاں مدفون ہونا باقاعدہ ایک نظرئیے کی تصدیق کا سبب بن گیا ہے۔ نجانے آج ہم کیوں اسلام کے در پے ہیں اور اپنے اسلاف کے چھوڑے ہوئے نقوش ہائے قدم کو نقش کہن سے زیادہ کچھ نہیں جانتے؟
اس موضوع پر اور بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن اب اس قصہ کو یہیں یہ سمجھ کر کوتاہ کروں گا ہم لوگ قرآن کو بامعانی سمجھ کر ہدایت کے لئے کافی جانیں گے، نہ کہ اس کے وجود کو طاق میں رکھ کر اس کے معارف سے بے تعلق ہو کر اسے کافی و شافی سمجھتے رہیں گے۔