|
ممتاز ترقی پسند شاعر و ادیب نامی انصاری کا کانپور میں اِنتقال
12.01.2010, 01:03am , منگل (GMT+1)
ندیم صدیقی۔ممبئی
اُردو کے مشہور و ممتاز ترقی پسند ادیب و شاعر (79 سالہ)نامی انصاری گزشتہ 9 اور 10 جنوری کی شب کانپور میں اِنتقال کر گئے۔
نامی انصاری اِدھر ایک مدت سے مثانے اور دمے کے عارضے میں مبتلا تھے۔ رحمت اللہ نامی انصاری 31 جنوری 1930ءکو پیدا ہوئے تھے اُن کاآبائی وطن اُتر پردیش کا مردم خیز قصبہ جائس (ضلع رائے بریلی) تھا۔ اُن کے والد بھی شاعر تھے جو مولوی محمد بخش مفتوں جائسی کے نام سے معروف تھے۔ نامی انصاری نے ملازمت کے سلسلے میں ایک مدت کانپور میں گزاری اور اسی شہر سے ادبی دُنیا میں اُنہوں نے اپنی ایک شناخت بھی بنائی۔
وہ جواں عمری ہی میں ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوگئے تھے اور اپنی اس وابستگی کو اُنہوںنے آخر تک قائم رکھتے ہوئے وضع داری کو تقویت بخشی۔ انہوں نے شاعری بھی کی، تنقیدی مضامین بھی لکھے۔ اُن کے نام ِنامی سے اُردوکی ادبی دُنیا اچھی طرح واقف ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہند ۔ پاک کے اکثر موقر رسائل میں تواتر سے چھپتے رہے ہیں۔
نامی انصاری خاصے متحرک قلم کار اور قاری تھے ان کی ایک خاص بات جو نئی نسل کےلئے کسی سبق سے کم نہیں کہ وہ اپنے دیار میں اُن گنتی کے چند لوگوں میں سے تھے جولکھنے کے ساتھ ساتھ پڑھنے پر بھی بھرپور توجہ دیتے تھے ۔ نامی انصاری نے ارضِ ادبِ اطفال میں بھی اپنے فن کے پھول کھلائے۔ سمندری لڑکا ،بچوں کے نہرو اورتینالی رمن کی کہانیاں اُن کی ترجمہ نگاری کا بہترین نمونہ ہیں۔ ان کے دو شعری مجموعے برگ ِسبز اور روشنی اے روشنی 1980 اور1994 ءمیں طبع ہوئے تھے۔ لیکن جس کام سے ان کا ایک ادبی وقار قائم ہوا وہ’ آزادی کے بعد اُردو نثر میں طنز و مزاح‘ تھا ۔
تحقیق و تنقید کی اس کتاب کی مقبولیت کا یہ ثبوت ہے کہ اس کے دو ایڈیشن شائع ہوئے نیز’ بیسویں صدی میں طنز و مزاح‘ کے نام سے بھی ان کی ایک کتاب 2002ءمیں منظر عام پر آچکی ہے۔ دیا نرائن نگم اور مرزا فرحت اللہ بیگ کا مونو گراف بھی اُنہی کا مرتب کردہ ہے جسے ساہتیہ اکادیمی نے شائع کیا۔ ’ لہروں کے درمیان‘ اُن کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے
ان کی ادبی خدمات کے پیشِ نظر میر ایوارڈ اور امتیاز ِمیر ایوارڈ جیسے ا عزاز انھیںدیے گئے اور 1999ءمیں وزیر اعظم کے ہاتھوں بھی انھیں ایک ایوارڈ تفویض کیا گیا تھا۔ مرحوم کے پسماندگان میں دولڑکے اور تین لڑکیاں ہیں۔ گزشتہ اتوار کی شام کانپور کے عید گاہ قبرستان میں انھیں سپردِ خاک کیا گیا۔
|