نعت رسول مقبول(ﷺ)
وصلی اﷲ علیٰ نورٍ کزوشد نورہا پیدا زمیں اَز حُب ِ اُ ساکن فلک در عشق ِ اُ و شیدا
(درود اُ س نور پہ جس سے ‘ ہوئے سب نور ہیں پیدا زمیں ساکن ہوئی حُب میں‘ ہواہے آسماں شیدا)
محمد ، احمد و محمود (ﷺ)وَے را خالقش بِسطور کزوُ شد بُود ہر موجود ، از و شد دیدہ ہا بینا
(محمد ، احمد و محمود (ﷺ) انھیں خالق نے فرمایا کہ جن سے ہر کوئی موجود ، ہوا ہے دیدہ¿ بینا)
اگر نام محمد (ﷺ) را نیاوُردِ شفیع آدم(علیہ السلام) نہ آدم یافت توبہ ، نہ نوح (علیہ السلام) از غرق نجینا
(اگر آدم(علیہ السلام) شفاعت کو محمد (ﷺ)نام نہ لیتے قبول ہوتی نہ یوں توبہ ، نہ نوح(علیہ السلام)پاتے نجات آخر)
دو چشم ِ نرگسینش را کہ مازاغ البصر خانن دو زلف ِ عنبرینش را کہ واللیل ِ اذا یغشیٰ
(وہ اُن کی نرگسی آنکھیں کہ مازاغ البصر خانن وہ اُ ن کی عنبریں زلفیں کہ واللیل ِ اذا یغشیٰ)
زِ سِرّ سینہ اش جامی الم نشرح لک َ بَرخیٰ زِ معراجش چہ می پُرسی کہ سبحان الذی اسریٰ
(ہے اُن کے سینے سے جامی الم نشرح لک برخیٰ جومعراجِ نبی (ﷺ) پوچھے تو سبحان الذی اسریٰ)