۔ پھولوں میں بَسر ہوتی
عمر جوانی کی
بچوں میں گزر ہوتی
*
۲۔ بچوں پہ جو پَر آئے
پیچھے وہ نہیں آتے
اک با ر جو اُڑ جائے
٭
۳۔ رہتا ہے بہاروں کا
سوچا تھا کہاں ایسے
وقت کے دھاروں کا
*
۴۔ جاڑے کا موسم ہے
اُداس پھرے پنچھی
سوچ میں گُم سُم ہے
٭
۵۔ اُڑتا ہے وہ دن سارا
پھر بھی نہیں ملتا
تھوڑا سا کہیں چارا
*
۶۔ بھوکا ہے وہ بیچارا
خالی ہیں شجر سارے
ہے زیر ِ برف چارا
٭
۷۔ ڈالے وہ کہاں ڈاکہ
فطرت میں نہیں اُسکے
کر لیتا ہے یوں فاقہ
*
۸۔ یہ وقت بھی گزرے گا
اُمید ِ سحر لیکر
سورج کبھی اُبھرے گا
٭٭٭