|
اٹھارہ جنوری ۲۰۱۰سعادت حسن منٹو کی پچپنویں برسی
20.01.2010, 01:59am , بدھ (GMT+1)
امین ترمذی۔ ڈیلس
سعادت حسن منٹو اردو زبان کی مختصر کہانیوں کا ایک منفرد مصنف ۱۱ مئی۱۹۱۲ کو پنجاب کے موضع سمبرالہ ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوا۔ کشمیری نسل کا ایک خوبصورت فیشن ایبل صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرنے والا مخصوص سنہری فریم کے چشمے لگانے والا ادباء میں ایک نمایاں شخصیت کا مالک انتہائی کسمپرسی کے حال میں دوستوں سے محرومی اور دشمنوں کے نرغے میں گھرا ہوا شخص ۱۸ جنوری ۱۹۵۵ کو بیالیس سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کرگیا۔
اسکا قلم مخصوص طور پر تحلیل نفسی یا ذہنی ہیجانات اور فطرت انسانی کے امتزاج کی عکاسی کرنے والا ایک نادر نمونہ تھا۔ جس نے اُسے شہرت کے ساتھ ساتھ ذلت و رسوائی سے ہمکنار کیا۔معاشرے کو اپنی ہی تصویر دکھانے والے عکاس کو اسکی بے ساختگی پر جو تازیانے کھانے پڑے وہ ایک انمٹ داستان ہے۔ لیکن اس بات سے کسی کو انحراف نہیں ہے کہ چھوٹے چھوٹے افسانوی نشتروں سے معاشرے کے پھوڑوں کی چیرہ دستی یا علاج کرنے والا یہ افسانہ نگار بیسویں صدی کا سب سے زیادہ متنازع فیہ شخصیت کا اعزاز یافتہ مصنف تھا۔ جس نے طوائفوں پر۔ دلالوں پر ۔اور انسانی فطرت پر قلم اُٹھایا جس کا مقابلہ انگریزی مصنف ڈی ایح لارنس سے کیا جاتا ہے۔ اور لارنس کی طرح منٹو نے بھی ان موضوعات کو مخصوص طور پر ابھارا جو ہند و پاک کی سوسائٹی میں معاشرتی طور پر گناہ تصور کئے جاتے تھے۔
اُس کے مضامین کا دائرہ معاشرتی تقسیم زر کی لاقانونیت اور تقسیم ہند سے قبل انسانی حقوق کی پاما لی رہا۔ اور مزید متنازع فیہ موضوعات ، محبت اور جنس و زناکاری پر کھل کر قلم کھولتا رہا۔ جن پر کئی مرتبہ عدالت کے کٹھرے تک بھی پہنچنا پڑا۔ مگر قانون اسے کبھی بھی سلاخوں کے پیچھے نہ بھیج سکا۔ اس کا ہمیشہ یہ کہنا رہا کہ میں معاشرے کے ڈھکے ہوئے یا پس پردہ گناہوں کی نقاب کشائی کرتا ہوں۔ جو معاشرے کے ان داتوں کے غضب کا سبب بنتے ہیں اگر میری تحریریں گھناونی ہیں تو وہ معاشرہ جس میں آپ لوگ جی رہے ہیں گھناونا ہے کیوں کہ میری کہانیاں اسی پردہ پوش معاشرے کی عکاسی ہیں۔ منٹو کی کہانیاں اکثر مزاح کہ پہلو میں معاشرتی ڈھانچے کی پیچیدگیوں کی تضحیک کرتی محسوس ہوتی ہیں۔
منٹو ۱۹۴۸ کے اوائل میں ہجرت کرکے لاہور آگئے تھے جب کہ ان کے دوستوں نے انہیں ہندوستان میں روکنے کی پوری کوشش کی۔ اس لئے کہ ہندوستان کی فلم انڈسٹری میں بحیثیت کہانی نویس انکا ایک مقام بن چکا تھا۔ جبکہ پاکستان کی فلم انڈسٹری اس وقت تقسیم ہند کے سبب مکمل طور پر اُجڑی پڑی تھی۔ اور وہاں روٹی روزی کمانے کے مواقع خاصے تاریک تھے۔ لیکن برٹش انڈیا دور کے لاقانونیت کے حالات ایک حساس مصنف کے دماغ پر وہ انمٹ نقوش تھے۔ جس نے اسے ایک نئی دنیا ایک نئے ملک اور ایک نئے مکان میں منتقلی پر اکسایا۔ اور اس نے فوری طور پر اپنی فیملی کو اپنے ایک کزن حامد جلال کی معیت میں پاکستان روانہ کردیا ۔ جہاں شہر کے وسط میں لکشمی منشن نامی بلڈنگ میں حامد جلال کے فلیٹ کے برابر والے فلیٹ میں منٹو کی فیملی سکونت پذیر ہوئی اس خبر کے فوراّ بعد منٹو پاکستان آگئے۔ یہ محض ایک اتفاق تھا کہ اس بلڈنگ میں جس میں منٹو کا فلیٹ تھا۔ اہل علم و ادب کا ایک ایسا مرکز ثابت ہوا جہاں پرمقیم منٹو کے کزن حامد جلال ایک معروف میڈیا پرسن یا صحافی بنے ایک اور فلیٹ میں پروفیسر جی ایم اثر رہتے تھے جو گورنمنٹ کالج لاہور میں اردو کے پروفیسر تھے انکا تعلق مدراس سے تھا۔ اور وہ انگریزی میں بھی ماہر مانے جاتے تھے۔
ایک اور فلیٹ میں معراج خالد رہتے تھے جو بعد میں کچھ عرصے پاکستان کے وزیر اعظم بھی رہے ایک اور فلیٹ میں گوالمنڈی سے منتقل ہو کر مستنصر حسین تارڑ کی فیملی بھی آ بسی تھی گو کہ آُس وقت مستنصر حسین تارڑ نو عمر تھے اور انہوں نے مصنفی کی دنیا میں قدم نہیں رکھا تھا۔ اس طرح جب منٹو اہل ادب کی سوسائٹی یا ساتھ چھوڑ کر بمبئی سے لاہور آئے تو انہیں ایک ادبی ماحول یا محلہ اور ساتھ ملا۔ جس کے سبب وہ جلد ہی رسائل میں چھپنے لگے۔۔ اور یوں بھی ہندوستان سے اہل ادب کا ایک بہت بڑا گروہ لاہور منتقل ہوا تھا۔ اس لئے بہت جلد لاہور سے اخبارات و رسائل کا اجراء ہونے لگا۔ منٹونے ابتدا میں ادبی رسائل میں لکھا۔ لیکن اسی دور میں تقسیم ملک کے دوران ہونے والے مظالم نے انکے قلم سے "کھول دو' جیسے افسانے کو جنم دیا۔
جس نے منٹو پر نئے مشکلات کے دروازے کھول دئیے۔ پھر ٹھنڈا گوشت جیسے افسانوں نے چودھری محمد حسین کی سربراہی میں ایک نیا محاذ کھول دیا۔ جس نے رسائل کے دروازے منٹو پر بند کردئیے۔ اس دور کے رسائل کے معروف مدیران احمد ندیم قاسمی۔ ہاجرہ مسرور اور عارف عبد المتین منٹو کے خلاف اس تحریک پر نالاں مگر مجبور نظر آئے۔ پھر منٹو نے مسعود عشر کی ادارت میں نکلنے والے ایک روزنامے 'احسان' کے لئے چند کہانیاں لکھیں لیکن یہ سلسلہ بھی جلد ختم ہوگیا۔ اسکے بعد منٹو نے اپنے بمبئی کے دوست احسان بی اے۔ اور مرتضیٰ جیلانی کے اخبار ' مغربی پاکستان' کے لئے چشم روزن کے نام سے کالم نویسی شروع کی لیکن چند روزبعد منٹو والا کالم بغیر عنوان کے خالی پایا گیا۔ اس کے بعد روزنامہ آفاق میں منٹو نے مخصوص افراد کے خاکے کے عنوان سے شخصی خاکے لکھنا شروع کئے جس میں اشوک کمار۔ شیام۔ نرگس۔ نورجہاں۔ نسیم بیگم کے علاوہ ادبی شخصیات میرا جی۔
آغا حشر کاشمیری۔ عصمت چغتائی کے خاکے لکھے جو بعد میں 'گنجے فرشتے' نامی کتاب میں بھی لکھے گِئے۔ انہی خاکوں میں 'میرا صاحب' کے عنوان سے قائد اعظم محمد علی جناح کا خاکہ بھی لکھا۔ جو انہوں نے منٹو کے قائد اعظم کے بمبئی کے زمانے کے ذاتی ڈرائیور حنیف آزاد کو انٹرویو کر کے لکھا تھا۔ یہی آزاد بعد میں پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف اداکار بھی بنے۔ اس خاکے میں چند سطور دینا جناح کے متعلق تھیں جنہوں نے وادیا سے شادی کرلی تھی بعد میں یہ سطور سنسر کردی گئیں۔
وائی ایم سی اے ہال لاہور کی ایک ادبی محفل میں منٹو نے چراغ حسن حسرت صاحب کی ہارٹ اٹیک سے روبہ صحت ہونے والی مجلس میں حسرت صاحب پر ایک خاکہ پڑھا جس کا عنوان تھا 'بیل اور کتّا' اس خاکے میں مولانا کی شخصیت کے چند پہلوں کی عکاسی منٹو نے اپنے مزاح اور تنقیدی انداز میں کچھ اس طرح کی کہ انتظامیہ نے منٹو کو درمیان میں روک دیا۔ اور اسٹیج سے اُتر جانے کے لئے مجبور کیا۔ مگر منٹو نے ایسا کرنے سے انکار کردیا جہاں محفل میں کافی بدمزگی ہوئی بالآخر منٹو کی بیوی صفیہ انہیں اسٹیج سے اتارنے میں کامیاب ہوئیں۔ جس پر منٹو نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسا کیمرہ نہیں ہے جو مثلا آغا حشر کاشمیری کی تصویر سے ان کے چہرے کے نشانات کو غائب کرسکے۔
یہاں سے منٹو کے زوال اور پریشانیوں کے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ایک وہ وقت تھا جب ۱۹۵۰ میں وہ گورنمنٹ کالج لاہور کی ایک ادبی محفل میں اپنا آرٹیکل 'میں کہانی کیسے لکھتا ہوں' پڑھنے آیا تھا۔ خوبصورت کشمیری رنگ کا چہرہ مہرہ گھنے سرخی مائل لمبے بال۔ گبرڈین کی براون شیروانی۔ سلک کی پتلون۔ سیل شاہی جوتا زیب تن کرنے والا خوبرو نوجوان کچھ عرصے بعد جب وائِی ایم سی اے ہال میں حلقہء اراباب ذوق کی محفل میں شرکت کے لئے آیا تو اس کا چہرہ کمھلا چکا تھا چہرے پر زردی کے آثار نمایاں تھے بالوں پر سفیدی گھر کرچکی تھی اور وہ اپنی عمر سے بوڑھا محسوس ہورہا تھا۔ایک پرانا اور کوٹ پہنے جس کا کالر اوپر کو اُٹھا ہوا تھا۔ اور اس کے گہرے فریم کے چشمے سے اسکی انکھیں زرد نظر آرہی تھیں۔ لیکن جب اس نے اپنے مخصوص ڈرامائی انداز اور آواز کے زیر و بم میں اپنا افسانہ ' ٹوبہ ٹیک سنگھ ' سنایا تو افسانے کے اختتام پر تمام آنکھیں پر نم اور ہال میں مکمل خاموشی تھی۔ ایک وہ وقت تھا جب شہر کے دانشوروں کی شاموں میں پاک ٹی ہاوس واقع انارکلی نزد نیلا گنبد۔ فیض احمد فیض۔ احمد فراز۔ منیر نیازی۔ کمال احمد رضوی۔ ناصر کاظمی۔ پروفیسر سید سجاد رضوی۔ استاد امانت علی خان اور انتظار حسین کے ساتھ منٹو کی موجودگی جان محفل سمجھی جاتی تھی۔کہ وہ اپنے برجستہ جملوں اور سنس آف ہیومر کے لئے مشہور تھا۔ پھر لاہور نے اس منٹو کو بھی دیکھا جو دیوانوں اور مدہوشوں میں گنا جاتا تھا۔دوست اس سے کترا کرگزر جاتے ۔اس لئے کہ وہ ان سے ادھار مانگنے میں دیر نہ کرتاتھا۔ شام کسی رسالے کے دفتر مخصوص طور پر ڈائر کٹر کے دفتر جہاں شباب کرانوی مدیر تھے جا بیٹھتا اور وہیں ایک افسانہ لکھ کر دس روپئے وصول کرتا۔ اپنی مخصوص شراب کی دکان ایڈلجی لکر اسٹور سے ساڑھے پانچ روپئے کی بوتل خریدتا آٹھ آنے تانگے والے کو دیکر تانگے کی پچھلی سیٹ پر اپنے مخصوص انداز میں تھوڑا سا لیٹ کر گھر پہنچتا اور چار روپئے صفیہ کے ہاتھ آتے۔
اپنی عمر کے آخری سات سالوں میں منٹو دی مال لاہور پر واقع دیال سنگھ مینشن میں مقیم رہا۔ جہاں اپنی زندگی کا آخری دور منٹو نے انتہائی افسوسناک گزارا۔ جب وہ خود تباہی کے دور سے گزرا۔ سستی شراب کے بے حد استعمال سے اس کا جگر بے حد متاثر ہوچکا تھا اور آخر۱۸ جنوری کی ایک سرد صبح اہل لاہور بلکہ ہند و پاک کے تمام اہل ادب نے یہ بُری خبر سنی کہ اردو ادب کو تاریخی افسانے اور کہانیاں دینے والا منٹو خود تاریخ ہوگیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہوگا۔ کہ اسی نادار اور مجبور فاقہ کش و قرض خواہ ادیب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ اسکی پچاسویں برسی پر پاکستان پوسٹل آفس نے منٹو کی تصویر کا پوسٹل اسٹیمپ جاری کیا۔
زندگی کے آخری افسانوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ۔ ۔ اس مجدھار میں۔ موذیل۔ اور باپو گوپی ناتھ نامی افسانوں نے شہرت پائی۔
منٹو کی تحریروں کی تفصیل طویل ہے۔ ۱۹۳۶ میں ان کا پہلا افسانہ آتش پارے کے نام سے شائع ہوا۔ ا۱۹۴۰ میں افسانوں کامجموعہ 'منٹو کے افسانے' چھپا۔ ا۹۴۱ میں دھواں۔ ۹۶۲ ۱ میں افسانے اور ڈرامے۔ ۱۹۴۸ میں لذت سنگ۔ ۱۹۴۸ ہی میں سیاہ حاشیے۔۱۹۵۰ میں بادشاہت کا خاتمہ۔ خالی بوتل۔ نمرود کی خدائی۔ اور ٹھنڈا گوشت۔ ۱۹۵۱ میں یزید۔ ۱۹۵۳ میں پردے کے پیچھے۔ سڑک کے کنارے۔ ۱۹۵۴ میں ' بغیر عنوان کے' اور منٹَو کے مرنے کے بعد ۱۹۵۵ میں بغیر اجازت۔ برقے۔ پھندنے۔ سرکنڈوں کے پیچھے۔ شیطان۔ شکاری عورتیں۔ ۱۹۵۶ رتّی ماشہ تولہ۔ ۱۹۶۱ میں کالی شلوار۔ ۱۹۶۳ میں منٹو کی بہتریں کہانیاں۔ ۱۹۷۱ میں طاہر سے طاہرہ شائع ہوئیں۔
|